The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Episode 8

0
دی مسٹری آف ڈیتھ از جاناں مبین – قسط نمبر 8

–**–**–

کیسی نیکی بابا جی ؟
ولید نے بے چینی سے پوچھا
اتنی دیر میں ارم کو بھی ہوش آ چکا تھا
اور وہ اپنی بڑی سی چادر ٹھیک کرتی ہوئی اٹھ کے بیٹھ گئی تھی
ہم نماز پڑھیں گے روزے رکھیں گے زکوٰۃ دیں گے حج کریں گے
یہ سب نیکیاں ہم پوری زندگی کریں گے ہم آ ج سے عہد کرتے ہیں بس اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا کر دے
ہادی نے سوچتے ہوئے کہا
اور سب نے سر ہلا کے ہادی کی بات کی تائید کی
یہ سب نیکیاں تو حساب کتاب کے رجسٹر میں لکھ کے جمع کر لی جائیں گی تمھیں کیسی ایسی نیکی کی ضرورت ہے جو حساب والے رجسٹر میں جمع ہونے کے بعد بھی زندہ رہے اور تمھارے اس مشکل میں تمھارے کام آ سکے
بابا جی نے گول سا جواب دیا
زندہ نیکی یہ کیا ہوتی ہے؟
ارم نے سوال کیا
بیٹا میری نماز کا وقت ہو گیا ہے تم لوگ بھی نماز پڑھ لو پھر میری بات پہ غور کرنا تمھیں سمجھ آ جائے گی
اس بزرگ نے اٹھتے ہوئے کہا
چاروں اس بزرگ کے کمرے سے اٹھ کر باہر آ گئے اور وہاں مزار کے احاطے میں وضو کر کے نماز ادا کی اور کافی دیر تک وہاں بیٹھ کے بابا جی کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ شاید سو گئے تھے
اس لیے وہ نہیں آئے تھی
مزار پہ ابھی لوگوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری تھا
اس لیے مزار کے اندر جانے کی بجائے وہ باہر ہی بیٹھ گئے
یار سوچو یہ زندہ نیکی کیا ہوتی ہے
ارحم نے پھر سے سوال کیا
تو سب سوچ میں پڑ گئے
جو سانس لیتی ہو وہ زندہ نیکی ہوتی ہے
ولید کو مذاق سوجھا
شٹ اپ یار اتنی سریس سچویشن میں تجھے جوک کی سوجھ رہی ہے
ارم نے ڈانٹتے ہوئے کہا
ایک منٹ مجھے سمجھ آ گئی کہ یہ زندہ نیکی کیا ہوتی ہے
ہادی نے پرجوش ہوتے ہوئے کہا
کیا ہوتی ہے ؟
جلدی بولو ولید نے بے چینی سے پوچھا
مطلب جو زندہ ہو سانس لیتی ہو یعنی انسان کے جیسی
جو نیکی ہم کسی انسان سے کریں گے وہ زندہ نیکی کہلائے گی ہادی نے کہا
ہاں بالکل ٹھیک یہی بات ہے
یعنی جب ہم کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو وہ زبان سے چاہے خاموش رہے مگر اس کا دل اس کا دماغ اس کے جسم کا ایک ایک ذرہ خوش ہو کے ہمارے لیے دعا کرتا ہے اور جب تک وہ انسان زندہ رہتا ہے وہ نیکی بھی زندہ رہتی ہے
اسے کہتے ہیں زندہ نیکی
ارم نے مزید وضاحت کی
بالکل ہمیں اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں کہ ایسا ہمارے اس پاس کون ہے جو کسی مصیبت میں پھنسا ہے ہم اس کی اس مشکل میں اس کی مدد کر کے اس کا ساتھ دے کے یہ نیکی کما سکیں
ہادی نے سوچتے ہوئے کہا
سب سے پہلے ولید بولا
میرے ماں باپ بہت لالچی اور خود غرض ہیں ان کےلیے دولت ہی سب کچھ ہے کسی رشتے ناطے کی کوئی اہمیت وہ نہیں جانتے ان کے ایک سوتیلے بھائی تھے جن سے وہ کبھی نہیں ملتے تھے
لیکن ان کی ایک بیٹی ہے فوزیہ جو کہ ایک دو بار میں نے چچا کے ساتھ دیکھی تھی
بدقسمتی سے میرے چچا اور چچی کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا تو میرے ممی پاپا اسے اپنے ساتھ گھر لے آئے
اور سب کو یہی بتایا کہ وہ انھیں اپنی بیٹی بنا کے رکھیں گے اور میرے ساتھ اس کی شادی کروا دیں گے
لیکن اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں اسے سکول سے اٹھا کر گھر میں بند رکھتے ہیں اس کے باپ کے کاروبار پہ قبضہ کر کے بیٹھے ہیں
اس معصوم لڑکی پہ ہر طرح کا ظلم کرتے ہیں تاکہ وہ جوان ہونے سے پہلے ہی مر جائے اور اس کی ساری جائداد ان کے ہاتھ لگ جائے
ولید سانس لینے کے لیے رکا
میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میں اس مجبور لڑکی کو اس اذیت سے نکلنے میں مدد کروں گا اس کا پورا ساتھ دوں گا اور اگر وہ بڑی ہو کے رضامند ہوئی تو اسے اپنی زندگی کی ساتھی بھی بنا لوں گا
ارحم اب تمھاری باری تم بتاؤ تم کیا کرو گے ہادی نے اس سے کہا
جب میں پانچ چھ سال کا تھا تو مجھے تھوڑا تھوڑا یاد ہے کہ میرے دادا دادی تھے
اور وہ ہمارے گھر رہتے تھے مجھے تھوڑی ان کی شکلیں یاد ہیں
پھر وہ پتہ نہیں کہاں چلے گئے اور کیوں چلے گئے
دوبارہ کبھی وہ ہم سے ملنے نہیں آئے ایک بار میں نے اپنے گھر کے پرانے ملازم سے سنا تھا کہ میرے پیرنٹس انھیں کسی اولڈ ہوم میں جمع کروا آئے ہیں
میں آج یہ عہد کرتا ہوں کہ انھیں تلاش کر کے انھیں تمام عمر اپنے ساتھ رکھوں گا اور ان کی خدمت کروں گا
ارحم کے بات ختم کرتے ہیں ارم بولی
جب میں چھوٹی تھی تو میری ممی نے میرے پاپا سے طلاق لے لی
وجہ کا مجھے نہیں علم
اس کے کچھ عرصے بعد میرے پاپا نے دوسری شادی کر لی
میری دوسری ممی بہت اچھی تھی وہ میرا بہت خیال رکھتی تھی
لیکن میری سگی ممی مجھے روز کال کر کے الٹی سیدھی باتیں سکھاتی کہ تم بابا سے کہو کہ تمھیں یہ مارتی ہے
اسے ایسے تنگ کرو یہ کرو وہ کرو
مجھے علم نہیں تھا کہ میری ان باتوں سے ممی بابا کے بیچ دوریاں پیدا ہو جائیں گی
میں تو اپنی ممی کا کہنا مان رہی تھی
اور ایک دن ان دونوں کے بیچ میری وجہ سے شدید لڑائی ہوئی اور وہ گھر چھوڑ کے چلی گئی
بابا ان سے بہت محبت کرتے تھے لیکن میری وجہ سے انھیں منانے نہ گئے
میرا ایک چھوٹا بھائی بھی پیدا ہوا مگر بابا پھر بھی اسے دیکھنے نہیں گئے
اور میں بہت خوش تھی کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی
آج مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے
میں ابھی عہد کرتی ہوں کہ میں اپنے بابا کو سب سچ بتاؤں گی اور ان کے ساتھ جا کے ممی کو منا کے لاؤں گی
ارم کے بعد ہادی بولا
میرے باپ نے میری خاطر ہر طرح کی قربانی دی مجھے یہاں تک پہنچنے کے لیے اپنی ہر خواہش قربان کر دی لیکن میں نے انھیں بدلے میں کیا دیا
ایک نافرمان بیٹا
جو ایک سال سے ان سے بول چال بند کر کے بیٹھا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ اس کی بے جا فرمائشوں کو پورا نہیں کر سکتے
میں آج سے عہد کرتا ہوں کہ میں اپنے والدین کا فرمانبردار بیٹا بنوں گا اور اپنے سابقہ رویے کی ان سے معافی مانگوں گا
ہادی نے سب کے سامنے اعتراف کیا
میرا خیال ہے کہ ہمیں ابھی سے اس نیک کام کا آغاز کر دینا چاہیے ارم نے مشورہ دیا
ٹھیک ہے ہمیں گھر چلنا چاہیے اور اس زندہ نیکی کو حاصل کرنے کی ابتدا کر سکیں
یاالہی مجھ سے جتنا ہو سکا میں نے کر دیا
اب یہ بچے تیرے سپرد تو ان کی ہر بلا اور مصیبت سے حفاظت فرمانا اور انھیں ان کے نیک مقاصد میں کامیابی عطا کرنا
سفید داڑھی والے بزرگ نے نماز کے بعد ان سب کے لیے دعا کی اور جائے نماز کو تہہ لگانے لگے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: