The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Episode 9

0
دی مسٹری آف ڈیتھ از جاناں مبین – قسط نمبر 9

–**–**–

ارم گھر پہنچی تو رات کے گیارہ بجنے والے تھے ایک تو آج کے حادثے کا اثر دوسرا موت کا خوف اس کے اعصاب بری طرح شل ہو چکے تھے
تھکن اور کمزوری کی وجہ سے اس کا دماغ بوجھل ہو رہا تھا
لیکن وہ اپنا کام پورے کیے بنا سونا نہیں چاہتی تھی اپنے ڈیڈ کے روم کی طرف دیکھا
کمرے کی لائٹ آن تھی
جس کا مطلب تھا کہ وہ جاگ رہے تھے
ارم نے دوسری ممی کے جانے کے بعد انھیں اکثر رات کو جاگتے ہی دیکھا تھا
بہت کم ایسے ہوتا کہ وہ پوری رات سوئے ہوں اگر جلدی سو گئے تو آدھی رات کو اٹھ کر بیٹھے ہوتے کبھی کبھی تو پوری پوری رات کروٹیں لیتے گزار دیتے ارم کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ڈیڈ کیوں جاگتے رہتے ہیں جبکہ اسے تو اتنی نیند آتی تھی کہ دل کرتا رات دن سوئی رہے
جب ارم ڈیڈ کے جاگنے کی وجہ سے اٹھ کر بیٹھ جاتی تو اس کے ڈیڈ نے اسے الگ کمرے میں آیا کے ساتھ شفٹ کر دیا تاکہ وہ آرام سے سو سکے
اور پھر ارم نے بھی اس بارے میں سوچنا بند کر دیا
لیکن آج اسے سمجھ آیا تھا کہ ڈیڈ ممی سے کتنی محبت کرتے تھے
اس کی سگی ماں حسد کا شکار تھی اسے اپنے سابقہ شوہر کی خوشگوار زندگی برداشت نہیں ہو سکی اور اس نے اپنی ہی بیٹی کو استعمال کر کے ان کی ہنستی بستی زندگی کو آگ لگا دی
تاکہ ارم کے باپ کو یہ جتا سکے کہ وہ اس کے بغیر کبھی خوش نہیں رہ سکتا
حالانکہ طلاق کا ارم کی ممی کا تھا ڈیڈ بالکل نہیں چاہتے تھے کہ وہ ایسا کرے مگر ان پہ پتہ نہیں کیوں دن رات ایک ہی جنون سوار تھا طلاق دے دو مجھے بس طلاق طلاق طلاق_____
اور جب ڈیڈ نے ارم کی دادی کے دوبارہ زور دینے پہ علیشبہ سے شادی کر لی تو علیشبہ نے اپنے اچھے اخلاق اور رویے سے جلد ہی ڈیڈ کے دل میں جگہ بنا لی وہ ارم کا بھی بہت خیال رکھتی تھی شاید اس کی سگی ماں بھی اتنا نہ رکھتی ہو
ڈیڈ سے تو وہ بہت محبت کرتی تھی ارم کو یاد تھا کہ جب ڈیڈ کے آفس سے گھر آنے کا وقت قریب ہوتا تو ممی کیسے بے چینی سے بار بار کلاک کی طرف دیکھتی
شاید نہیں یقیناً ڈیڈ بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے تبھی ان کے جانے کے بعد
ان کی یاد میں پوری پوری رات بے چین رہتے
اس کے ناسمجھی میں کیے گناہوں کی سزا اس کے ماں باپ کو مل رہی ہے
اور اس نے آج دل میں تہیہ کر لیا تھا کہ اپنے باپ کو سچ بتا کے رہے گی
وہ آہستہ آہستہ اپنے باپ کے کمرے کی طرف چل دی
تھوڑا سا دروازہ کھول کے جھا نکا تو ڈیڈ بیڈ پہ بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے
آ جاؤ ارم اندر میں جاگ رہا ہوں
انہوں نے دیکھے بنا آواز دی
کمال ہے ڈیڈ آپ آج بھی میری آہٹ سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ میں دروازے میں کھڑی ہوں
ارم نے حیرت سے پوچھا
نہیں بیٹا جانی آپ کی آہٹ سے نہیں آپ کی خوشبو مجھے آ جاتی ہے
جب آپ میرے پاس آتی ہو تو ہوا میں بسی آپ کی مہک مجھے سندیس دیتی ہے کہ ارم میری جان آ گئی ہے
ڈیڈ نے محبت سے گلے لگاتے ہوئے کہا
ڈیڈ آ پ یہاں اکیلے بیٹھے بیٹھے بور نہیں ہوتے؟
ارم نے سوال کیا
نہیں بیٹا اب تو اکیلے رہنے کی عادت سی ہو گئی ہے
ڈیڈ ایک پرسنل سوال پوچھوں؟
ارم نے ان کے قریب ہوتے ہوئے کہا
جی پوچھیں بیٹا ایک نہیں دس پوچھیں
آپ کی علیشبہ جی کی یاد نہیں ستاتی
اتنی اچھی تھی وہ آ پ انھیں ایسے ان کی مما کے گھر چھوڑ کے آئے کہ پھر انھیں پلٹ کر پوچھا ہی نہیں ؟
بیٹا میں اس دنیا میں کسی ایسے انسان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا جو جھوٹ بولے
اور جو میری بیٹی کو دکھ پہنچاۓ
باپ نے بیٹی کی طرف شفقت سے دیکھتے ہوئے کہا
ڈیڈ علیشبہ جی بہت اچھی ہیں آپ انہیں واپس گھر لے آئیں مجھے یقین ہے کہ آ پ کہیں گے تو وہ آ جائیں گے
نہیں بیٹا چھ سال ہو گئے اتنے سالوں میں اسے اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوا تو اب کیا ہو گا ؟
علیشبہ نے ایک بار بھی مجھ سے معافی مانگنے کی کوشش نہیں کی
ڈیڈ نے دکھ سے کہا
ڈیڈ معافی تو وہ انسان مانگتا ہے جس نے غلطی کی ہو علیشبہ جی نے کوئی غلطی نہیں کی تھی وہ سچی تھی تو پھر وہ کس چیز کی معافی مانگتی
ارم نے نظریں جھکا کر کہا
کیا مطلب وہ اس دن تمھارا انہیں بھوکا پیاسا کمرے میں بند کر دینا
وہ نوکروں کی طرح تم سے کام کروانا پتہ ہے جب تم ٹیبل پہ کھڑی اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے چائے بنا رہی تھی تو میرا کلیجہ کٹ کے رہ گیا تھا
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ علیشبہ اتنی بڑی منافق ہے
میرے سامنے اچھائی کا ناٹک کرتی رہی اور در پردہ میری بیٹی سے ایسا سلوک کرتی
ڈیڈ خاموش ہو گئے
ڈیڈ اس دن نہ تو علیشبہ جی نے مجھے کمرے میں بند کیا تھا
اور نہ ہی وہ مجھ سے گھر کے کام کرواتی تھی
ارم نے ہمت کر کے کہہ دیا
کیا مطلب ہے تمھاری اس بات کا؟
ڈیڈ نے الجھ کر کہا
ڈیڈ مجھے میری سگی ماں فون پہ یہ سب حرکتیں کرنے کو کہتی اور میں بیوقوف ان کی باتوں میں آ کر یہ سب کرتی چلی گئی
مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ اس بات کا کیا نتیجہ نکلے گا
اور ممی یہ سب میرے بھلے کے لیے نہیں بلکہ آپ سے اور علیشبہ جی سے انتقام لینے کے لیے کر رہی ہیں
ارم نے بالآخر حوصلہ کر کے اپنا جرم قبول کر لیا
کیا بکواس کر رہی ہو تم اور یہ بات تم نے مجھے اس وقت کیوں نہیں بتائی ؟
وہ شدید غصے سے بولے
ڈیڈ مجھے ممی جی نے کسی کو بھی کچھ بتانے سے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ علیشبہ جی بہت بری ہیں وہ تم سے تمھارا باپ چھین لے گی
اور تمھیں بھی ایسے ہی گھر سے نکال دے گی جیسے مجھے گھر سے نکالا ہے
اس لیے اس سے پہلے کہ وہ تمھیں گھر سے دھکے دے کر نکالے تم اسے یہاں سے جانے پہ مجبور کر دو
ارم نے تمام سچائی ان کے سامنے رکھی
وہ خاموشی سے ارم کی شکل دیکھ رہے تھے
ڈیڈ آ پ انھیں جا کر لے آئیں اب آ پ کو پتہ چل گیا ہے کہ وہ بے قصور ہیں
میں ان سے بھی معافی مانگ لوں گی اور انھیں سب سچ سچ بتا دوں گی
ارم نے روتے ہوئے کہا
بیٹا یہ سب اتنا آ سان نہیں ہے
غلطی کرنا تو بہت آ سان ہوتا ہے لیکن اس کو سدھارنے میں عمر گزر جاتی ہے
کیا اب میں وہاں جا کے سب کے سامنے اپنی ہی بیٹی کے بارے میں یہ کہوں کہ اس نے جھوٹ بول کے یہ سب کیا
سب میرے اوپر تھوکیں گے کوئی بھی پھر کبھی تمھارے اوپر اعتبار نہیں کرے گا
لوگ تمھارے کردار پہ انگلی اٹھائیں گے
اور ایک باپ یہ سب برداشت نہیں کر سکتا
انہوں نے ارم کو سمجھاتے ہوئے کہا
مگر ڈیڈ کوشش تو کر کے دیکھیں مجھے پورا یقین ہے کہ علیشبہ جی مان جائیں گے پلیز ڈیڈ
ارم نے التجا کی
نہیں بیٹا بہتر ہے جو گزر گیا اسے بھول جاؤ اور ماضی کو بھلا کر آ نے والے کل کے بارے میں سوچو
علیشبہ کا اب دوبارہ میرے سامنے ذکر بھی مت کرنا
وہ اگر اپنی دنیا میں خوش ہے تو ہم بھی اس کے بغیر خوش رہ سکتے ہیں
ڈیڈ نے بات ختم کی اور دوبارہ کتاب اٹھا کے پڑھنے لگے
ارم وہاں سے مایوس ہو کے اپنے کمرے میں آ گئی
اوہ خدا اب میں کیا کروں
کیسے علیشبہ جی کو واپس لاؤ ں گی
یہ کام تو میری سوچ سے بھی زیادہ مشکل ہے
دلوں میں لگا دوری کا زنگ اتنی جلدی نہیں اترتا
کچھ اور سوچنا پڑے گا اس بارے میں ۔
ہادی کو کال کر کے پوچھتی ہوں
شاید وہ کچھ مدد کر سکے
دو تین بل کے بعد ہادی نے کال ریسیو کر لی
ارم نے ساری بات اسے بتائی
ارم یہ تو واقعی کافی مشکل صورت حال بن گئی ہے
ارم تمھارے پاس علیشبہ جی کا کوئی فون نمبر ہے تو تم اس سے بات کرو
ہادی نے مشورہ دیا
نہیں ہادی مجھے نہیں پتہ نہ فون نمبر نہ اڈریس
ڈیڈ مجھے کبھی علیشبہ جی کے گھر لے کر نہیں گئے تھے
ارم نے مایوسی سے کہا
ارم اور کسی کو علیشبہ کے بارے میں پتہ ہو کہ وہ کہاں رہتی ہے تو میرا خیال ہے کہ تم خود ان کے پاس جا کے انھیں منانے کی کوشش کرو
ہادی نے مشورہ دیا
اور کون ہو سکتا ہے
ارم نے سوچتے ہوئے کہا
ہاں یاد آیا دادی جان انھیں ضرور پتہ ہو گا ان کے گھر کا میں ان سے پوچھتی ہوں
ارم نے خوش ہوتے ہوئے کہا
اور فون بند کر کے دادی کو کال ملائی جو کہ ملک سے باہر رہتی تھیں
دادو اتنی باتیں آپ نے مجھ سے پوچھ لیں ایک بات مجھے بھی بتائیں
ارم نے محبت سے کہا
جی پوچھو بیٹا کیا پوچھنا ہے
دادو آ پ کو علیشبہ جی کے گھر کا پتہ ہے کہ وہ کہاں رہتی ہیں میرا ان سے ملنے کو بہت دل کر رہا ہے آپ کو تو پتہ ہے کہ ڈیڈ ان سے ناراض ہو کر بیٹھے ہیں اس لیے وہ مجھے کبھی ان سے ملانے نہیں لے کر جائیں گے آ پ مجھے ان کا اڈریس دے دیں میں خود ان سے مل آ ؤ ں گی
ارم نے دادو کو قائل کرتے ہوئے کہا
اچھا ٹھیک ہے مگر اکیلے نہ جانا آ یا کو ساتھ لے جانا اور انھیں زیادہ تنگ بھی نہ کرنا
دادو نے اڈریس بتا کے کہا
اور ارم نے خدا حافظ کہہ کے فون بند کر دیا
ارم صبح سویرے ہی تیار ہو گئی
آیا کو بھی صبح اٹھتے ہی ساری بات بتا کے تیار کر لیا تھا
دونوں ڈیڈ کے گھر سے جاتے ہی روانہ ہو گئیں
دادو کے بتائے ہوئے اڈریس پہ پہنچتے پہنچتے انھیں گاڑی میں چار گھنٹے لگ گئے
راستے میں ارم کے دماغ میں ہزار قسم کے وسوسے آ رہے تھے
پتہ نہیں علیشبہ جی کا مجھے یوں دیکھ کر کیا رد عمل ہو گا
وہ مجھ سے بات بھی کریں گی یا کھڑے کھڑے ہی رخصت کر دیں گے
غصہ تو بہت ہوں گی
آخر میرے جھوٹ نے ان کی زندگی اجاڑ کے رکھ دی تو انھیں میرے اوپر پیار تو نہیں آ ئے گا غصہ ہی آ ئےگا ارم نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی
ارم بی بی یہاں سے کس طرف مڑنا ہے
ڈرائیور کی آواز سے ارم چونکی اور اسے اڈریس سمجھانے لگی
آخر کار وہ طویل سفر کے بعد ایک گیٹ کے باہر کھڑے تھے اور گھنٹی بجانے کے بعد ارم کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی کہ پتہ نہیں اب یہاں ان کے
ساتھ کیا سلوک ہو گا
تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد ایک چار پانچ سال کا بچہ باہر نکلا
اور اپنی گول مٹول آنکھوں کو ملتے ہوئے بولا
جی فرمائیے کیا مسئلہ ہے آپ کو کس سے ملنا ہے؟
پتہ نہیں ارم کو وہم ہو رہا تھا یا یہ حقیقت تھی کہ بچے کی شکل اس کے باپ سے بہت مل رہی تھی ویسی ہی آ واز ویسی آنکھیں ناک ہونٹ
ارم تو خاموش رہی مگر آ یا سے چپ نہ رہا گیا
ارم بی بی یہ بچہ صاحب جی سے کتنا ملتا ہے کہیں یہ آ پ کا بھائی تو نہیں ؟
کون ہے بیٹا دروازے پہ ؟
ارم کو اندر سے علیشبہ جی کی آ واز سنائی دی اور وہ اپنے آپ کو آنے والے حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنے لگی
جی کون ہیں آپ اور کس سے ملنا ہے علیشبہ باہر گیٹ پہ اجنبی لوگوں کو دیکھ کر پریشانی سے بولیں
اتنے سالوں میں ان کی شخصیت میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی تھی
صرف رنگ ذرا سا زرد اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمایاں تھے
بالکل ڈیڈ جیسے حلقے
ارم نے سوچا
وہ ہمیں علیشبہ سے ملنا ہے
ارم نے آخر زبان کھولی
جی اندر آ جائیں میں ہی ہوں علیشبہ
صرف صورت ہی نہیں سیرت بھی ویسی ہی تھی
جی اب بتائیں کیا کام ہے آپ کو مجھ سے
چائے پانی کے بعد علیشبہ نے ڈرائنگ روم میں ان کے قریب رکھی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہا
وہ بات یہ ہے کہ
ارم نے ہچکچاتے ہوئے کہا
علیشبہ جی وہ میں
میں ارم ہوں آپ کی سوتیلی بیٹی جس کو آپ چھوڑ کے یہاں آ گئی ________
ارم تم اتنی بڑی ہو گئی مجھ سے پہچانی ہی نہیں گئی
علیشبہ نے یکدم خوشی سے اچھلتے ہوئے کہا
میری بچی ماشاءاللہ ماشاءاللہ
کس کلاس میں ہو گئی ہو؟ گھر میں سب کیسے ہیں؟ تمھارے ڈیڈی ٹھیک ہیں دادو کا کیا حال ہے
علیشبہ جی نے ایک ہی سانس میں کتنے سوال پوچھ لیے
اور ارم انھیں آہستہ آہستہ سب جواب دینے لگی
مما بھوک لگی ہے کھانا بنا لیں
اسی چھوٹے سے گول مٹول بچے نے علیشبہ کا پلو کھینچتے ہوئے کہا
ارم سوری بیٹا میں تمھارا اس سے تعارف کروانا بھول گئی یہ عمر ہے تمھارا چھوٹا بھائی
علیشبہ نے عمر کو گود میں لیتے ہوئے کہا
مگر علیشبہ جی آپ نے ہمیں اتنے عرصے سے بتایا کیوں نہیں کہ ہمارا ایک بھائی بھی دنیا میں آ چکا ہے
ارم نے عمر کی گال چھوتے ہوئے کہا
بیٹا میں بتانا چاہتی تھی لیکن تمھارے ڈیڈی میری آواز سنتے ہی کال بند کر دیتے تو میں کیسے بتاتی
علیشبہ جی نے گہرے دکھ سے کہا
اب علیشبہ جی ایسا نہیں ہو گا
بہت کچھ ٹھیک ہو گیا ہے اور باقی بھی انشاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا
ارم نے علیشبہ جی کی بات سن کر کہا
انھوں نے کوئی جواب نہ دیا
میں یہاں دراصل ایک خاص مقصد سے آئی تھی
اور ارم نے ساری بات
تفصیل سے ان کے گوش گزار کی
علیشبہ جی میں اپنے رویے پہ بہت شرمندہ ہوں
میں خود یہاں آ کے آپ سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگنا چاہتی تھی
نہیں بیٹا اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں تم تو بہت چھوٹی تھی ناسمجھ تھی
تم نے تو وہی کیا جو تم سے کہا گیا
بہرحال مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں میرے لیے یہ
کافی ہے کہ تمھیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے
علیشبہ نے ارم کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے کہا
تو علیشبہ جی ایک احسان ہم پہ اور کر دیں
ہم یہاں بڑے مان سے علیشبہ جی کو نہیں ایک بیٹی اپنی ماں کو لینے آئی ہے کیا آپ اپنی بیٹی کے ساتھ اس کے گھر جائیں گی؟
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ رہنے ؟
ارم نے بالآخر اپنے دل کی بات زبان سے کہہ دی
ارم مجھے تو کوئی اعتراض نہیں اگر تمھارے ڈیڈ کو میرا وہاں جانا اچھا نہ لگا تو؟
علیشبہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
مما انھیں میں نے سب بتا دیا ہے
وہ آپ سے مل کے یقیناً خوش ہوں گی
اور بالفرض انھیں کوئی پرابلم ہوئی تو آپ کی جوان بیٹی میں ابھی ہمت ہے کہ اپنی ماں اور بھائی کا بوجھ اٹھا سکے
ارم نے فلمی ڈائلاگ مارا
شیطان کہیں کی
علیشبہ جی نے پیار سے ہلکی سی چپت ارم کے گال پہ جڑی
اور بولی
اچھا تم لوگ بیٹھو میں تیاری کرتی ہوں جانے کی
گھر واپس پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی تھی
گیٹ سے داخل ہوتے ہی ارم نے ڈیڈ کے کمرے کی طرف دیکھا لائٹ آف تھی جس کا صاف مطلب تھا کہ ابھی وہ آفس سے نہیں لوٹے تھے
ارم علیشبہ اور عمر کو ساتھ لے کر اپنے روم کی طرف چل دی
رات نو بجے کے قریب ارم کے ڈیڈ نے گھر میں قدم رکھا
اور حسب معمول کھانا گرم کرنے رکھ کے کمرے کی طرف کپڑے تبدیل کرنے چلے گئے
علیشبہ جی کھڑکی سے یہ سب دیکھ رہی تھی
ارم میں کھانا گرم کر کے ان کو دے کے آتی ہوں
شاید ایک مشرقی بیوی کی طرح ان سے برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ اس کا شوہر کام سے تھکا ہوا لوٹا ہے تو آرام کرنے کی بجائے کام کرتا پھرے
جی شیور ممی جان
ارم نے ممی کے گود میں سوئے عمر کو پکڑ کر اپنے پاس لٹاتے ہوئے کہا
ارم کو بہت دنوں کے بعد اتنی گہری نیند آ رہی تھی
علیشبہ کے باہر جاتے ہی اس نے لائٹ بند کی
اور عمر کو کھینچ کر اپنے قریب کیا اور چند لمحوں میں ہی سو گئی
صبح اس کے موبائل کے الارم نے اسے جگایا
تو ارم نے اٹھ کر آس پاس دیکھا عمر وہاں نہیں تھا
شاید ممی اٹھا کے لے گئی ہوں گی
ارم نے اندازہ لگایا اور سکول جانے کی تیاری کرنے لگی
ناشتے کی میز پہ پہنچتے ہی علیشبہ نے گرما گرم تازہ ناشتہ بنا کے لگا دیا تھا
ارے ممی اس کی کیا ضرورت تھی میں جوس پی کے چلی جاتی
آپ اتنا سفر کر کے آئیں تھیں تو آج کے دن تو آرام کرتی
ارم نے اتنا پر تکلف ناشتہ دیکھ کر کہا
نہیں بیٹا مجھے بالکل بھی تھکاوٹ نہیں ہوئی
اور پھر میرا یہ اپنا گھر ہے
میں یہاں مہمان نہیں ہوں جو آرام کرتی پھروں چلو تم جلدی سے ناشتہ ختم کرو سکول کے لیے لیٹ ہو رہی ہو
ممی ڈیڈ اور عمر کہاں ہیں
ارم نے ادھر ادھر دیکھ کے پوچھا
وہ دونوں باپ بیٹا ابھی تک بیڈ پہ لیٹے شرط لگا کے سو رہے ہیں دیکھتے ہیں کہ باپ پہلے اٹھتا ہے یا بیٹا
علیشبہ نے مسکراتے ہوئے کہا
ارم نے آج علیشبہ میں ایک تبدیلی خاص طور پر نوٹ کی تھی
جس دن وہ یہ گھر چھوڑ کے گئیں تھی تو اگرچہ انھوں نے اپنی زبان سے کچھ نہیں کہا تھا لیکن ارم کو ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کی آنکھیں ان کا دل ان کا چہرہ ان کے بدن کا ایک ایک حصہ ارم کو بددعا دے رہا ہو
اور آج اسے لگ رہا تھا کہ انھوں نے زبان سے تو کچھ نہیں کہا لیکن ان کے ہونٹوں کی مسکان ان کے آنکھوں کی چمک سب ارم کے اس احسان پہ اس کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے لیے دعا بھی کر رہے ہیں کہ یا اللّٰہ جیسے اس نے میرے ہونٹوں کی مسکراہٹ لوٹائی ہے تو بھی اسے ہمیشہ مسکراتے رکھنا ہر غم اور ہر بلا سے اس کی حفاظت کرنا
ارم کو اب پتہ چلا تھا کہ زندہ نیکی کیا ہوتی ہے
وہ نیکی جس کے کرنے پہ کوئی انسان دل سے اس کے لیے دعا کرتا ہے
اور یہی دعا ہر بلا سے اس کے لیے ڈھال بن جاتی ہے
ارم بریک کے دوران سکول کی گراؤنڈ میں بیٹھ کے سب کو اپنی کامیابی کے بارے میں بتا رہی تھی
اب باری تھی ولید کی
کہ وہ اپنی کہانی سنائے
ارم کے چپ ہوتے ہی سب اس کی طرف دیکھنے لگے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: