The Mystery Of Death Novel by Janaa Mubeen – Last Episode 10

0
دی مسٹری آف ڈیتھ از جاناں مبین – آخری قسط نمبر 10

–**–**–

ولید جب گھر گیا تو رات کافی بیت چکی تھی سب لوگ سو گئے تھے
وہ آج زندگی میں پہلی مرتبہ فوزیہ کے کمرے کی طرف آیا تھا کمرے کی لائٹ آف تھی مگر دروازہ کھلا تھا
وہ دھیرے سے دروازے کو کھول کے اندر داخل ہوا تو سامنے فوزیہ زمین پہ بیٹھی گھٹنوں میں سر دئیے رو رہی تھی
پتہ نہیں کیوں؟
اس کے رونے کی ہلکی ہلکی آواز کمرے میں گونج رہی تھی
کھلی کھڑکی سے چاند کی مدھم روشنی کمرے میں آ رہی تھی
جس کے سبب کمرے میں اندھیرے کا باوجود سب کچھ بہت واضح نظر آ رہا تھا
فوزیہ کیا ہوا کیوں رو رہی ہو؟
ولید نے حیرت سے پوچھا
وہ اس کی آواز سن کے بے حد خوفزدہ ہو گئی اور رونا بند کر کے سمٹ کے بیٹھ گئی
میں نے کمرے کی لائٹ آن کی تو فوزیہ کے سر پھٹا ہوا تھا جس میں سے خون نکل نکل کے اس کے چہرے پہ بہہ رہا تھا —‘–
منہ پہ کسی کے انگلیوں کے نشان چھپے ہوئے تھے بال بہت بے ترتیب جیسے کسی نے بہت بے رحمی سے اسے تشدد کا نشانہ بنایا ہو—–
اوہ میرے خدا میں نے جلدی سے اس کے رستے ہوئے سر کے زخم کو ہاتھ سے دبایا —–
دبانے کے کچھ دیر بعد خون بہنا بند ہو گیا
کس نے تمھاری یہ حالت کی ہے ؟
مجھ سے مزید برداشت نہ ہوا
وہ چپ چاپ بت بنی بیٹھی رہی
فوزیہ کس نے تمھیں اتنی بے رحمی سے مارا ہے
بتاؤ پلیز
ووو وہ تایا جی نے
اس نے مختصر جواب دیا اور خاموشی سے فرش کی طرف دیکھنے لگی —-‘
کیوں مارا ہے؟
میں نے اگلا سوال پوچھا
انھیں مجھے مارنے کے لیے کسی وجہ کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ان کا جب دل چاہتا ہے مار لیتے ہیں
فوزیہ بے بسی سے بولی
اوہ میرے خدا میرا باپ ایسا بھی ہو سکتا ہے مجھے یقین نہیں آ رہا تھا——
اچھا تم ہاتھ منہ دھو کر واپس آؤ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے—–
وہ اٹھ کر واش روم چلی گئی
تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ اس کا کوئی اور رشتے دار ہے جس کے پاس میں اسے چھوڑ آؤ ں تاکہ وہ وہاں اس تشدد سے تو محفوظ رہے گی
اگر کوئی ہوتا تو میں یہاں کبھی نہ آتی
اس نے مایوسی سے کہا
کس کلاس میں پڑھتی تھی تم یہاں آنے سے پہلے؟
میں نے ایک خیال آتے ہی پوچھا
سکس میں –
اس سے سکول کا نام اڈریس وغیرہ سب کچھ پوچھ کر میں وہاں سے اٹھا اور اسے سختی سے تاکید کی کہ وہ اس بارے میں گھر میں کسی سے بات نہ کرے
دوسرے دن اس کے سکول پہنچا
اس کا سرٹیفیکیٹ بنوایا
تمام ڈاکومنٹس تیار کر کے میں نے اپنے ایک بھروسہ مند انکل کو ساتھ لیا اور ہم فوزیہ کا ایڈمیشن ایک بورڈنگ سکول میں کروا کے آئے
اس سلسلے میں اس انکل نے تمام ذمے داری لی اور شام تک ہم واپس آ گئے
میں نے رات ہی فوزیہ سے ساری بات کی اور اسے بتایا کہ تم کل دس بجے فلاں جگہ پہنچ جانا انکل تمھیں اس سکول میں چھوڑ آئیں گے اور گھر میں یا کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں جب تک وہاں رہو گی میں تمھارا پورا خیال رکھوں گا اور تمھارا سارا خرچ بجھواتا رہوں گا
وہ اثبات میں سر ہلاتی واپس چلی گئی
اس کے لیے کچھ ضروری شاپنگ کر کے کچھ پیسے بھی اس کے حوالے کر دئیے باقی ہر بات کی تفصیل اسے اچھی طرح سمجھا دی اپنا فون نمبر اسے لکھ دیا
اور یوں انکل فوزیہ کو اس سکول میں چھوڑ آئے اسے اور اس کے سکول والوں کو بھی ممیں نے خاص تاکید کی کہ اس کا نام اور اس کے بارے میں معلومات خفیہ رکھیں کسی کو اس کے بارے میں پتہ نہ چلے
وہاں جا کے اس نے اپنا نام بدل کے پنکی رکھ لیا ہے کل رات میں نے اس سے بات کی ہے اور اللّٰہ کا شکر ہے کہ وہ بہت خوش ہے —-‘-
گھر میں تین چار دن اس کے جانے کے بعد کافی ہنگامہ رہا مگر اب بابا یہ سوچ کر مطمئن ہو گئے ہیں کہ مر کھپ چکی ہو گئی اسی لیے اس کی کہیں سے اطلاع نہیں مل سکی
اور مجھے یقین ہے کہ کچھ عرصے بعد وہ اس قابل ہو جای گی کہ اپنے حق کے لیے لڑ سکے
ولید نے اپنی بات پوری کی
اب ارحم کی باری تھی——-
میں نے گھر پہنچ کر دادا اور دادی جان کا کھوج لگانا شروع کیا گھر کی الماری میں رکھی تصویروں کی پرانی البم سے مجھے ان کی تصویریں بھی مل گئیں
اور گھر کے پرانے ملازم سے مجھے اس اولڈ ہوم کا اڈریس بھی مل گیا جہاں وہ رہ رہے تھے
صبح اٹھتے ہی میں نے اپنی بائیک پہ وہاں کا رخ کیا دو گھنٹے کی مسافت طے کر کے میں وہاں پہنچا نو بجے کے قریب میں ان کے آفس میں بیٹھا عملے کا انتظار کر رہا تھا
نام اور تصویر دیکھ کر انھوں نے مجھے ان سے ملنے کی اجازت دے دی—–
میں اندر داخل ہوا تو دادا اور دادی جان وہاں صحن میں بنچ پہ بیٹھے تھے —–
میں نے قریب جا کے اپنا تعارف کروایا تو دادا جان اور دادی مجھے پہنچاتے ہی مجھ سے لپٹ کے رونے لگے
بڑی مشکل سے میں نے انھیں چپ کروایا
دوپہر تک میں ان کا سامان باندھ کے انھیں ٹیکسی میں بٹھا کے اپنے ساتھ گھر لے آیا تھا
وہ گھر آ کے اتنے خوش تھے جیسے کوئی جنت ملنے پہ خوش ہو
میں نے اپنے کمرے میں ان کا سامان رکھا اور وہیں ان کے رہنے کا انتظام کر لیا
ممی پاپا پہلے تو میرے اس کام پہ کافی پریشان ہوئے لیکن مجھے کچھ نہ کہا بلکہ ابھی تک خاموش ہی ہیں
اب وہ دونوں میرے ساتھ میرے کمرے میں ہی رہتے ہیں اور میں خود ان دونوں کا خیال رکھتا ہوں
۔دادی جان ہر نماز کے بعد میرا نام لے کے دعا مانگتی ہے یا اللّٰہ میرے ارحم کو ہر مصیبت سے محفوظ رکھ اس کی حفاظت کر میرے ارحم کی لمبی عمر کر
ان کی یہ دعائیں ہی ہمارا اثاثہ ہے ان کے علاوہ کوئی میرے لیے اتنی محبت سے اور رو رو کے دعا نہیں کرے گا
اور میں یہ سوچتا ہوں کہ میرے ماں باپ نے ان کا دل دکھا کے کیا حاصل کیا ہے
ارحم کی بات ختم ہوتے ہی ہادی نے بولنا شروع کیا
میں نے یونہی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ اپنا بابا کا دل دکھایا
مجھے پتہ تھا کہ وہ اپنی ہمت سے زیادہ میرے لیےکام کرتے ہیں مگر میں نے یہ جانتے ہیں بھی سب کی دیکھا دیکھی ان سے ان چیزوں کی فرمائش شروع کر دی جن کو خریدنا ان کے بس سے باہر تھا اور پھر اسی بات کو مسئلہ بنا کر ان سے ناراض ہو کر ان سے بات چیت بند کر دی
کل رات میں نے ان کے کمرے میں جا کر ان کا پاؤ ں پکڑ کر معافی مانگی اور ان سے وعدہ کیا کہ پھر کبھی ان کی نافرمانی نہیں کروں گا
میری بات سن کر خوشی سے ان کی آنکھ میں آنسو آ گیا اور وہ مجھے گلے لگا کر دیر تک روتے رہے
چلو یہ مرحلہ تو اچھے طریقے سے طے ہو گیا اب دیکھتے ہیں ہم اس منحوس کتاب سے کیسے نجات حاصل کرتے ہیں
ارم نے آہستہ سے کہا
اندھیری رات ہر طرف پھیل چکی تھی سب لوگ اپنے بستر میں چھپ کر سو گئے تھے
جب ارم کی آنکھ اچانک کمرے میں کسی کی آہٹ سے کھل گئی
کک کون ہے ارم نے ڈر کے پوچھا
کسی بھی جواب آنے سے پہلے اچانک ارم کو اپنا آپ ہوا میں اڑتا ہوا محسوس ہوا اس نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں تھوڑی دیر بعد وہ گھاس پہ گر گئی اس نے آنکھیں کھولیں تو ولید ارحم اور ہادی اس سے پہلے ہی وہاں موجود تھے
اچانک کہیں سے ہزاروں کی تعداد میں سانپ رینگتے ہوئے تیزی سے ان پر حملہ آور ہوئے
ارم نے زور دار چیخ سے آنکھیں بند کر لیں اور خوف سے تھر تھر کانپنے لگی
مگر وہ سب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کہ جیسے وہ
سب کے سب شیشے کے خول میں بند ہیں اور وہ سانپ ان خول سے ٹکرا ٹکرا کر زخمی ہو کے واپس مڑ رہے ہیں
ولید یہ منظر دیکھ کر کچھ حوصلہ پیدا ہوا اور باقی سب کی بھی جان میں جان آئی کہ اس بابا جی کی بتائی ہوئی بات سچ ثابت ہوئی
چیل کوے بچھو پتہ نہیں کیا کیا ان کی طرف حملے کے لیے آتے اور اسی دیوار سے ٹکرا کر واپس لوٹ جاتے
پھر اچانک فضا میں طوفان آ گیا
اور وہ شیطانی کتاب ان کے سامنے نمودار ہوئی
بہت خوب تو تم سب نے میرے مقابلے کے لیے تیاری پہلے سے کر رکھی تھی
مگر میں بھی تم سب کی جان لے کر رہوں گا تم لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے
اچانک ذرمائن کی غصے میں بھری گرجدار آواز سنائی دی
اور اس کے ساتھ ہی ایک تیز آگ بجلی کی طرح ان کی طرف بڑھی
لیکن ان تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی
اوہو تم میں سے ایک ایسا ہے جس پہ میرے جادو کا کوئی اثر نہیں ہو گا کون ہے وہ اسے پہلے باہر نکالتا ہوں ذرمائن غصے سے پاگل ہو کر دھاڑا
دوسرے ہی لمحے ولید کو کسی انجانی قوت نے وہاں سے اٹھا کر دور پٹخ دیا
ولید اٹھو اس کتاب کو پکڑ کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو کیونکہ تم یہ کر سکتے ہو اس کے جادو کا تم پہ کوئی اثر نہیں ہو گا
اس کے پرزے پرزے ہوتے ہی سب ختم ہو جائے گا ذرمائن کے جادو کا زور ٹوٹ جائے گا
اور وہ اپنی موت آپ مارا جائے گا
ڈرو نہیں ہمت کرو آگے بڑھو
ولید کو اپنے اندر سے کسی کی آواز آ رہی تھی
وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھا اور ہوا میں گردش کرتی ہوئی کتاب پہ جھپٹ پڑا
ہاتھ میں پکڑتے ہی اس کے ایک ایک کاغذ پھاڑ کے الگ کرنے لگا
ہر طرف چیخوں کا شور بلند ہوا لیکن وہ اپنے کام میں مگن تھا
کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور ارم ڈر کے مارے اٹھ کر بیٹھ گئی
اوہ میرے خدا اتنا ڈراؤنا خواب
ارم نے پانی پیتے ہوئے سوچا
دوسرے دن سکول میں سب ایک دوسرے کو اپنا یہی عجیب خواب سنا رہے تھے
جو کہ ارم نے ہی نہیں سب نے ایک ساتھ دیکھا
تھا
اس کا مطلب ہے کہ وہ ہم سب کا خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہےکہ وہ شیطانی کتاب اور اس کا خالق اپنے انجام کو پہنچ گیا
ہادی نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا
ہادی یقیناً دلوں سے نکلی دعا ہمارے لیے ہر مصیبت کے آگے ڈھال بن کے کھڑی ہو جاتی ہے —–
یہ ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
ظہر کی اذان ہو رہی تھی —-‘
سب اٹھ گئے لیکن اب روز کی طرح ان کا رخ گھر کی بجائے مسجد کی طرف تھا کیونکہ وہ تینوں گھر جانے سے پہلے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے تھے ….

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: