Suhaira Awais Tu Lazmi Urdu Novels

Tu Lazmi (Complete Novel) By Suhaira Awais

Tu Lazmi (Complete Novel) By Suhaira Awais
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
تُو لازمی از سہیرا اویس- مکمل

–**–**–

سر کو کالے رنگ کے سٹالر سے کوور کیے، کالے اور سرخ رنگ کے امتزاج والا خوبصورت سوٹ زیب تن کیے وہ گردن اکڑا کر اتراتی ہوئی چلی آ رہی تھی۔
کار کے پاس آ کر اس کے قدم تھمے جہاں دبیر کھڑا گھنٹے سے اس کے آنے کا انتظار کررہا تھا۔
“بیٹھو گاڑی میں۔۔!!”
وہ سنجیدگی سے کہتا گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا تھا کہ مائدہ اس کی طرف آ کھڑی ہوئی اور اسے رکنے کا اشارہ کیا۔
“آج کار میں ڈرائیو کروں گی!”
مائدہ نے ایک ادا سے دبیر پر اپنا حکم جاری کیا۔
“فضول باتیں نہیں کرو، گاڑی میں بیٹھو، پہلے تمہارے بناؤ سنگھار کی وجہ سے اتنی دیر ہوگئی۔”
اس نے مائدہ کی بات ایک کان سے سنی اور دوسری سے نکالی کجا کہ وہ اس کا حکم تسلیم کرتا۔
“ہٹو یہاں سے اور چابی مجھے دو، میں نے کہا ناں آج میں ڈرائیو کروں گی۔”
وہ اسے دروازے سے ہٹاتے ہوئے بولی۔
“خوش فہمی ہے آپ کی، مائدہ دبیر ملک۔۔!!”
وہ ناک سے مکھی اڑاتا، اسے دور کرتے ہوئے جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔
اوہ مسٹر، میں صرف اور صرف مائدہ ملک ہوں! اپنا نام میرے نام سے منسلک کرنے کی ضرورت نہیں۔”
ہمیشہ کی طرح اس کے نام کو لے کر اس کا لہجہ حقارت آمیز ہوا۔
اسے زہر لگتا تھا دبیر جب اسے اپنا نام دے کر پکارتا تھا۔
“مس مائدہ، جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، آپ نے اپنے ہوش و حواس میں یہ کام انجام دیا تھا، اگر اتنی تکلیف تھی مجھ سے یا میرے نام سے تو نکاح بھی نہیں کرنا تھا۔۔!!”
وہ کار اسٹارٹ کرتے ہوئے سلگ کر بولا۔
مائدہ کا کاٹ کھانے والا انداز اسے اندر کہیں چبھا تھا۔
“میں کوئی مری نہیں جا رہی تھی تم سے نکاح کے لیے۔ تم سے نکاح میری مجبوری اور شاید ایک بڑی غلطی بھی تھی۔ اور ایک بات میری یاد رکھنا، میں گریجویشن مکمل ہوتے ہی تم سے لازمی طلاق لوں گی، خیر چھوڑو اس بات کو تم یہاں سے اٹھو۔ میں نے ڈرائیونگ کرنی ہے۔”
اس کا بے نیاز آندا دبیر کو پھر سے سلگا گیا۔
“اوہ، مجبوری! سننے میں اچھا لگا۔ ویسے تمہاری ایسی کون سی مجبوری تھی کہ تم سیدھا نکاح پر راضی ہو گئیں؟؟”
سوال بہت دلچسپ انداز میں پوچھا گیا۔ وہ جواب کا منتظر تھا۔
“تم یہاں سے اٹھو، پہلے کافی دیر ہوگئی!! اب اور دیر کی تو کلاس مس ہو جائے گی۔۔!!”
مائدہ نے جواب گول کرنا چاہا۔
“نہ، نہیں، پہلے مجھے میری بات کا جواب دو، ورنہ میں نہیں اٹھنے والا۔۔ بلکہ ایک ڈیل کرتے ہیں، تم مجھے اپنی وہ خفیہ مجبوری بتاؤ میں یہاں سیٹ سے اٹھ جاؤں گا۔”
حقیقت اگلوانے کا دبیر کو بھی خوب تجربہ تھا۔۔!!
جب سے ان کا نکاح ہوا تھا دونوں کے درمیان چِک چِک تو ہوتی تھی پر ابھی اس موضوع پر بات نہیں ہوئی تھی۔
وہ تو سمجھا تھا کہ یہ نکاح بس بڑوں کی منشاء کے مطابق ہوا، اور مائدہ نے بھی والدین کے دباؤ میں ہاں کی۔
اسے نہیں پتہ تھا کہ کسی مجبوری کے تحت وہ رضامند ہوئی ہے۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے، میں گھنٹے سے کھڑی جو کہہ رہی ہوں وہ کرنے کی بجائے تم فضول سوال کر رہے ہو!! اٹھو سیٹ سے۔ باہر نکلو۔۔!”
مائدہ کو غصہ آ رہا تھا اس کی ڈھٹائی پر۔
“لو نکل آیا باہر،”
اس نے کہتے ساتھ ہی کار کا دروازہ لاک کیا اور چابی مٹھی میں دبائی۔
“اب تو تمہیں ڈرائیونگ کی اجازت تب ہی ملے گی جب مجھے وجہ بتاؤ گی۔۔!!”
دبیر بلیک میل کرنے لگا۔
اسے بہت عجیب لگا تھا کہ وہ اس سے اتنی بے زار ہے، نکاح کو ابھی کچھ عرصہ نہیں گزرا کہ محترمہ نے طلاق کے خواب پال لیے۔
“مجھے اسلام آباد سے گریجویشن مکمل کرنی تھی، یہاں آ کر پڑھنا تھا جس کی مجھے اجازت نہیں مل رہی تھی۔
انہیں میرے ہاسٹل میں رہنے پر اعتراض تھا اور یہ گھر تمہارے قبضے میں تھا۔ اور تمہارے ساتھ کسی کو معقول رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں رہنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ صرف ایک صورت میں میں اپنا خواب پورا کرسکتی تھی پھر امی نے تم سے نکاح کی شرط رکھی جو دراصل میرے بابا اور تمہارے بابا کی ملی بھگت تھی۔ مجھ پر خبط تھا یہاں اسلام آباد آ کر پڑھنے کا اس لیے میں نے ہاں کردی۔ اور پھر امی، ابو، تایا جان اور تائی جان نے مل کر تمہاری صورت میں ایک طوق میرے گلے میں ڈال دیا۔ بس یہی وجہ تھی۔۔۔!! اب دو مجھے چابی اور ہٹو یہاں سے۔۔”
وہ نظریں چرا کر بولی، اور اپنی آخری بات پر ہتھیلی سامنے کی۔
اس سارے وقت میں وہ بے یقینی سے اس کو تک رہا تھا۔
اسے بہت عجیب سا لگا جیسے اس کی بےعزتی کی جا رہی ہو۔ مطلب اسے استعمال کرنے کا پلین تھا مائدہ کا۔ کتنی بڑی بے وقوف تھی وہ۔
“ہر گز نہیں۔۔ دوسری طرف جا کر چپ چاپ بیٹھو گاڑی میں۔ پہلے دیر ہو رہی ہے۔۔!!”
وہ غصے سے لفظ چباتے ہوئے بولا، اور اسی حالت میں ڈور کھولتا گاڑی میں پھر سے کار اسٹارٹ کی۔
مائدہ نے حیرت سے اسے دیکھا، وہ کھڑی دیکھ رہی تھی کہ یہ کیا کیا اس نے، مطلب اس کی حرکت کا یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
اس نے مائدہ کو چیٹ کیا ، ڈیل کر کے مکر گیا، بات اگلوا کر اپنی بات سے پھر گیا۔
وہ کونسا یہ بات بتانے کے لیے بےتاب تھی۔
اگر سننے کا حوصلہ نہیں تھا تو پوچھا ہی کیوں، وہ اسے حیرت سے گھور رہی تھی۔
“آج کا تازہ اخبار لگ رہا ہوں جو چہرے پر ایسے نظریں ٹکائی ہیں، پہلے کبھی نہیں دیکھا کیا۔۔!!”
طنز میں ڈھلا چبھتا انداز، مائدہ کو بہت عجیب لگا۔
“دبیر پلیز!! پلیز مجھے ڈرائیو کرنے دو! صرف آج کی بات ہے، ایک دن کے لیے ، بس ایک دن کے لیے!!”
وہ اچانک سماجت پر اتر آئی۔
دبیر اس کی بات پر کان دھرے بغیر سامنے دیکھ رہا تھا۔ اس کو اپنے کہے پر قائم پا کر وہ پھر سے بولی۔
“دبیر پلیز، دیکھو!! میری دوستوں نے شازیہ کے گروپ سے شرط لگائی ہے، ہم لوگ آپس میں ڈئیر اینڈ ڈئیر کھیل رہے تھے، انہوں نے چیلنج دیا تھا کہ مائدہ اگر خود سے ڈرائیونگ کر کے آئی تو وہ ٹریٹ دیں گے اور نہ کر پائی تو میرے ساتھ ساتھ میرے گروپ کی بھی بےعزتی ہوگی اور وہ شازیہ مذاق بنادے گی ہمارا!! پلیز مان جاؤ۔۔!!”
یہ زندگی میں پہلی بار تھا کہ وہ کسی سے التجا کررہی تھی۔
اتنی عاجزی، اس نے پہلے کبھی ظاہر نہیں کی اور دبیر کے سامنے تو وہ مر کر بھی گڑگڑانے کو تیار نہیں تھی لیکن گروپ کی عزت کی خاطر اس نے یہ کڑوا گھونٹ پیا۔
آنکھ سے ٹپکتا آنسو کا ایک قطرہ اس کی بے بسی کی گواہی دے رہا تھا جو اسے دبیر کی ہٹ دھرمی دیکھ کر محسوس ہوئی۔
نجانے آج اسے کیا ہوا تھا کہ وہ کسی طور نہ مانا، مائدہ اس کے مثبت جواب کی منتظر تھی اور وہ اس کے خاموشی سے کار میں بیٹھنے کا، دبیر اپنی ضد میں جیت گیا اور زندگی میں پہلی مرتبہ کی دکھائی گئی عاجزی بھی مائدہ کے کسی کام نہ آئی، وہ اس ہٹیلا بنا دیکھ کر بالآخر خاموشی سے اس کے ساتھ والی سیٹ پر آ کر بیٹھی۔
اسے چپ سی لگ گئی تھی، اسے مان تھا کہ شاید وہ اس کی بات مانے گا، لاکھ لڑائیاں سہی پر اسے لگا تھا کہ وہ اس کی خواہش کو اہمیت دے گا۔ پر دبیر نے تو سارا مان، ساری امید چکنا چور کر دی۔
وہ سارے راستے عجیب ، دکھی انداز میں اسے گھورتی رہی۔ جبکہ اس نے ایک لمحے کو راستے سے نظر نہیں ہٹائی اور بس خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا یہاں تک کہ یونیورسٹی آ گئی اور وہ اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹ چلے گئے۔
اس کا اور شازیہ کا سارا گروپ منتظر تھا، پیدل چل کر آتے ہوئے وہ خود کو ایسے محسوس کررہی تھی کہ شرم سے ڈوب مرے گی، شازیہ اور چیلوں کی طنزیہ ہنسی، ہوٹنگ، طنز سے بھرے مذاق اڑاتے جملے اور اس کی سہیلیوں کا اترا چہرہ اسے شرمندہ کر رہا تھا۔
“ہماری غلطی تھی کہ ہم نے تم پھر بھروسہ کیا۔۔!!”
نورین نے ملامتی لہجہ اپناتے کہا اور وہاں سے کھسک گئی۔ یہ بھی مائدہ کے سپورٹرز میں سے تھی۔ باقی بھی اس کے ساتھ ہو لیں۔
صرف اس کی دوست انیلہ اس کے ساتھ تھی۔ جو اس کا ہاتھ تھامتی اس طنز اور طعنوں پر مشتمل شور و غل سے پرے لے گئی۔
“آئم سوری۔۔ انیلہ ،، میری وجہ سے اتنی انسلٹ ہوگئی سب کی۔”
اسے رونا آ رہا تھا۔
“ارے نہیں کچھ نہیں ہوا، یہ محض ایک کھیل تھا، خواہ مخواہ پریشان مت ہو!! مجھے پتہ ہے تم نے کوشش کی ہوگی، پر کوئی مسئلہ ہوگیا ہوگا، دل چھوٹا مت کرو۔۔ اور میری مدد کرو، آج پریزنٹیشن ہے ناں میری۔۔!!”
وہ دونوں کلاس کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ مائدہ کو پریشان ہوتا دیکھ کر اس نے تسلی دی۔
“پھر بھی۔۔ میری وجہ سے پورا گروپ بے عزت ہوگیا۔۔”
وہ ابھی بھی فکر مند تھی۔ انیلہ نے اسے دلاسا دیا۔
“ارے کچھ نہیں ہوا، ٹینشن مت لو پلیز۔۔!! یہ کوئی بڑی بات نہیں تم ریلکس کرو۔۔!!”
♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪
یونیورسٹی میں سارا دن بہت برا گزرا، اس کا دل بوجھل تھا۔ انیلہ نے اگرچہ خوب بہلایا پر پھر بھی وہ ملول رہی اور سارا وقت اپنی خاموشی کی نذر کردیا۔
واپسی پر بھی یہی حالت رہی اور گھر آنے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
دبیر گھر آتے ہی چھوٹے سے لاؤنج پر پڑے صوفوں میں سے درمیانی صوفے پر دھپ سے بیٹھا۔
اور گہری سانس خارج کی۔
وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اس نے آواز دی۔
“آج باہر سے کچھ کھاتے ہیں۔۔ تم فریش ہو جاؤ، میں کھانے کے لیے پیزا آرڈر کررہا ہوں، بتاؤ کونسا کھاؤ گی؟”
لب و لہجے میں صبح کے جھگڑے کا شائبہ تک نہیں تھا۔
“رہنے دو کچھ آرڈر کرنے کی ضرورت نہیں ، تائی امی نے سختی سے منع کیا تھا کہ تمہیں باہر کا کھانا کھانے سے میں خود کچھ بنا لیتی ہوں۔”
“نہیں کوئی بات نہیں رضیہ کل آ جائے گی تو بنا لے گی، ایک دن سے کچھ نہیں ہوتا۔”
رضیہ یہاں کی ملازمہ تھی جو چار دنوں کے لیے چھٹی پر تھی۔
دبیر نے دیکھا تھا کہ وہ کتنی تھکی ہوئی ہے تبھی باہر سے آرڈر کرنے کی پیشکش کی۔
“کہا ناں، میں بنا لوں گی، بیگ رکھ کر آنے دو، پھر میں بنا دیتی ہوں کچھ۔”
سخت لہجے میں کہتی وہ کمرے کی طرف بڑھی۔
سٹالر وغیرہ اتار کر وہ ہاتھ منہ دھو کر سیدھا کچن میں آئی۔
بال کیچر میں مقید تھے۔ وہ کچن کی طرف جا رہی تھی کہ دبیر کی آواز نے رکنے پر مجبور کیا۔ وہ ابھی تک وہیں بیٹھا تھا۔
“چھوڑو ناں، اتنی تھکی ہوئی ہو، پیزا نہیں کھانا تو کچھ اور منگوا لیتا ہوں۔”
وہ صوفے سے اٹھ کر سامنے آ کر بولا۔
“ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کیا؟ راستہ چھوڑو میرا۔۔!!”
وہ کرختگی سے بولی۔
“ٹھیک ہے۔۔ تم جاؤ۔۔!!” اسے کے کڑے تیور دیکھ کر اس نے جانے دیا۔
اس نے الماری پر لگے ہک سے ایپرن اتار کر پہنا اور پھر فریج سے چکن اور دوسرا سامان نکالنے لگی۔
تھوڑی دیر میں وہ سب تیار کر چکی تھی بس پھیلاوا سمیٹنے لگی تھی کہ دبیر بھی فریش ہو کر آ گیا۔
“کہاں تک پہنچی کھانا بنانے کی کارروائی؟؟”
اس کا موڈ خوشگوار تھا۔ کھانے کی خوشبو اس کی بھوک چمکا رہی تھی۔
“بس بن گیا”
صافی نے شیلف پونچھتے ہوئے بے اعتنائی برتتے ہوئے بولی۔
“پھر میں جا کر کھانا لگاتا ہوں، لان والی ٹیبل سیٹ کر لوں آج لان میں لنچ کرتے ہیں دیکھو موسم کتنا پیارا ہے۔”
وہ کچن کی کھڑی سے باہر دیکھتے بولا۔
“ٹھیک ہے، میں سلاد تیار کرتی ہوں۔”
لیا دیا سا لہجہ اس کی ناراضگی ظاہر کررہا تھا۔
“اوکے ڈئیر۔۔!!”
وہ ٹرے میں چیزیں جمع کرتا تابعداری سے بولا۔ موڈ حددرجہ خوشگوار تھا۔
♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪
میز پر سلاد رکھ کر وہ جانے لگی تو دبیر بول پڑا۔
” یہ کیا؟؟ تم کدھر جا رہی ہو؟ کھانا نہیں کھانا کیا؟”
“کھاؤں گی پر تمہارے ساتھ نہیں۔”
وہ نظریں پھیر کر بولی۔ یعنی ناراضگی اس حد تک تھی کی شکل دیکھنا گوارا نہیں تھا۔
“اوہ، تو ناراض ہو تم۔۔!!”
“میں کون ہوتی ہوں ناراض ہونے والی، بھلا میرا تم پر ایسا کیا حق!!”
یہ بات کہہ کر تو جیسے اس نے دبیر کا دل مٹھی میں کرلیا۔
“بیوی ہو میری۔۔!!”
وہ اس کی کلائی تھامتے وہ چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتا بولا۔ جہاں اسے جہاں بھر کے شکوے دکھائی دئیے۔
“میں کچھ نہیں ہوں تمہاری۔۔چھوڑو میرا ہاتھ، بہت تھک چکی ہوں آرام کرنا ہے مجھے۔”
وہ غصے سے ہاتھ چھڑاتی وہاں سے چلی گئی۔
اب دبیر کو صحیح معنوں میں اپنی صبح والی حرکت پر ندامت محسوس ہورہی تھی۔
پر پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت۔
♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪
وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر کے اپنے پلنگ پر لیٹ گئی۔ اسے رونا آ رہا تھا۔ دل بوجھل تھا اس کے صبح والے رویے اور یونیورسٹی میں ہوئی بےعزتی پر۔
اس لیے تکیے میں منہ چھپائے وہ بے آواز روتی رہی یہاں تک کہ دل کا سارا غبار نکل گیا۔
♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪♪
رات تہہ بہ تہہ اپنے پر پھیلا رہی تھی۔ دن اپنے زوال کو پہنچ رہا تھا۔ دوپہر کو جو موسم خوشگوار لگ رہا تھا وہ اب قدرے خنک ہوتا جارہا تھا۔ وہ گرم چائے سے بھرا مگ اٹھاتی لان میں آئی۔ اور وہاں بچھے بینچ پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھی۔
سردی سے بچاؤ کے لیے محض ایک شال اوڑھ رکھی تھی۔ اس کے علاؤہ چائے کی مدد سے بدن میں حرارت کی ترسیل جاری تھی۔
دبیر کافی دیر سے کہیں باہر گیا تھا وہ اسی وقت گھر لوٹا تھا۔ مائدہ کو بینچ پر بیٹھا دیکھ کر اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔
“سوری یار۔۔ مجھے صبح ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مجھے تمہاری باتوں پر غصہ آ گیا تھا تو اس لیے بات نہیں مانی، پر مجھے ماننی چاہیے تھی۔ آئم سو سوری۔۔!!”
اس نے دل سے معافی طلب کی۔اس سے مائدہ کا روٹھنا برداشت نہیں ہوا۔
“تمہیں کوئی ضرورت نہیں معافیاں مانگنے کی، میں نے دیکھ لیا تمہارا حقیقی روپ۔۔!! تم یہاں سے جا سکتے ہو۔۔!!”
“نہیں جاؤں گا۔۔!!”
“میں نے کہا جاؤ۔۔سردی محسوس کی ہے؟؟ کوئی گرم لحاف بھی نہیں اوڑھا تم نے، بیمار پڑ جاؤ گے۔۔ پلیز جاؤ اور مجھے اکیلا چھوڑ دو۔”
ایک طرف برف کی ماند سرد اور چھبتا لہجہ تو دوسری طرف اتنا خیال۔
وہ مائدہ کی حرکتوں سے کنفیوژ ہو رہا تھا۔
“نہیں چھوڑوں گا۔۔”
وہ ہٹ دھرم بنارہا۔
“آخر تمہارا پرابلم کیا ہے؟؟”
وہ چائے کا کپ سائیڈ پر رکھ کر چلائی۔
“بتاؤ کیا مسئلہ ہے تمہیں ، کیوں سکون سے نہیں رہنے دیتے کیوں تنگ کرتے ہو؟ اگر ایسے ہی تنگ کرنا ہے تو بتا دو میں گھر واپس چلی جاتی ہوں، پڑھائی گئی بھاڑ میں۔۔ تم کبھی کوئی بات نہیں مانتے میری۔۔ اور تمہارا ایٹیٹیود بھی ہمیشہ برا رہا ہے۔۔۔ مجھے چھوڑ دو دبیر چھوڑ دو مجھے اکیلا۔۔ مجھے تم سے۔۔۔”
“نفرت ہے یہی کہنا چاہتی ہو ناں؟؟”
وہ بھری بیٹھی تھی، اور اس پر بری طرح برس رہی تھی۔ دبیر اس کی باتیں سن رہا تھا اور آخری جملے کا آدھا حصہ خود سے پُر کیا۔
“ہاں۔۔”
وہ غصے سے بولی۔
“غلط۔۔ حقیقت کچھ اور ہے مائی ڈئیر، بے شک تم جو مرضی کہو پر تمہارا بے اختیار میرا اور میری ہر چیز کا خیال رکھنا تمہاری چاہت کی چغلی کھاتا ہے جو شاید تمہیں مجھ سے ہے۔۔”
اس کا اعتماد دیکھنےلائق تھا۔
“مجھے تمہاری بےکار باتیں سننے میں کوئی دلچسپی نہیں، سو پلیز لیٹ می الون، مجھے تنہا رہنے دو۔”
وہ چلا اٹھی تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے دبیر نے گہری سانس لی اور بات مانتے اٹھ کر چلا گیا۔
“کتنے حق سے اس نے گاڑی کی چابی طلب کی تھی۔۔!!”
اس نے افسوس سے سوچا۔
وہ واقعی اسے بہت تنگ کرتا تھا پر اس بار اس نے مائدہ کو تکلیف پہنچائی تھی اس کی بات نہ مان کر دل دکھایا تھا۔
اسے یہ احساس شدت سے ہوا۔
وہ کچھ دیر گھر میں رہا پھر ہوا خوری کے لیے باہر چلا گیا۔ ویسے بھی مائدہ کو دیکھ دیکھ کر، اسے سوچ سوچ کر اسے بہت گلٹی محسوس ہورہا تھا۔
اس لیے وہ دل بہلانے کو باہر چلا گیا۔
مائدہ نے اسے نکلتے دیکھا تھا۔
اب رات ہوچکی تھی اور اسے گئے بہت وقت گزر گیا پر وہ گھر نہیں آیا۔ مائدہ نے سارے گھر کا چکر لگایا۔
وہ دیر رات یوں باہر رہتا تو نہیں تھا۔
اسے تشویش ہونے لگی۔ تسلی کے لیے وہ پھر سے اس کے کمرے کا چکر لگا کر آئی۔
سردی بڑھ گئی تھی۔ اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے وہ بہت پریشان دکھائی دے رہی تھی۔
“اُف! بارہ بج گئے ہیں، ابھی تک نہیں آیا۔”
وہ موبائل میں وقت دیکھ کر پریشان ہوئی۔
صوفے پر پڑی شال اوڑھ کر وہ پھر سے لان میں آئی۔ اور اب بے چینی سے انتظار میں مشغول تھی۔ اسے غصہ آ رہا تھا کہ انسان انفارم کردیتا ہے یا کم سے کم اپنا فون لے کر نکلتا ہے تاکہ خود نہ سہی تو دوسرا بندہ ہی بازپرس کرلے۔
مگر نہیں پتہ نہیں باہر جانے کی ایسی کونسی جلدی تھی کہ موصوف موبائل ہی گھر چھوڑ گئے۔ اس نے جل کر سوچا۔ کیوں کہ وہ اس کے کمرے میں سٹڈی ٹیبل پر پڑا فون دیکھ چکی تھی۔
وہ بے چینی سے ٹہل رہی تھی کہ گیٹ کھلنے کی آواز پر دوڑتے ہوئے وہاں تک آئی۔ دبیر عجیب طرح لڑکھڑا رہا تھا۔
اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے گیٹ بند کیا۔ لڑکھڑاتے ہوئے اس کا توازن قائم نہیں رہ پایا جس کی وجہ سے اسے چلنے میں مشکل ہورہی تھی، وہ لڑکھڑا کر گرنے والا تھا کہ بت بن کر دیکھتی مائدہ نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا۔
وہ اس کے منہ سے ناگوار سی بو کا احساس ہوا تو مائدہ کا جی متلانے لگا۔
وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا رہا تھا۔
مائدہ کا تو یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ شراب پی کر آیا تھا۔
ورنہ دبیر نے آج تک سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔
اسے حیرت کے ساتھ ساتھ شدید غصہ بھی آیا۔ وہ مشکل سے سہارا دیتی اندر لے جارہی تھی کہ اس نے دبیر کی بڑبڑاہٹ پر غور کیا۔ وہ مسلسل مبہم سے الفاظ منہ سے ادا کررہا تھا۔ پہلے بڑبڑاہٹ واضح نہیں تھی۔ وہ اسے آرام سے بیڈ پر لٹا چکی تھی، پاؤں سے جوتے نکال کر اسے کمبل اوڑھایا۔
ناراض نظریں اس کے وجود کا احاطہ کیے ہوئے تھیں۔۔ حالت ایسی تھی کہ نہ وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی نہ نظریں اس کے وجیہہ چہرے سے ہٹنے کو تیار تھیں۔
اس کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ شراب نہیں پی سکتا، نشہ نہیں کر سکتا۔
پر سامنے اس کا ہوش سے بے گانہ وجود دل کی گواہی کا تمسخر اڑا رہا تھا۔
وہ با دل نا خواستہ جانے کو مڑی کہ اس کی بڑابڑاہٹ پھر شروع ہی۔ اب کی بار وہ کافی واضح انداز میں کچھ کہہ رہا تھا۔
“ما۔۔مائد۔۔ دہ (مائدہ) مے۔۔ میری مائدہ ناراض۔۔ خفا۔۔ نہیں ناراض نہیں ۔۔ مائدہ نہیں خفا ہو۔۔ مجھے۔۔ مجھے دکھ ہوتا۔۔ دکھ ہوتا ہے۔۔ مجھے اچھا ۔۔ نہیں اچھا لگتا۔۔ جب ناراض ہوتی ۔۔ ناراض ہوتی ہے وہ۔۔ مائدہ ناراض ہوتی ہے مجھ سے ۔۔”
دبیر کی آنکھیں بند تھیں ، بس لب ہل رہے تھے۔ وہ مدہوشی کے عالم میں اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظ لیے دل کا حال سنا گیا۔ اسے تکلیف ہورہی تھی مائدہ کی ناراضگی سے۔ دکھ پہنچ رہا تھا۔
شاید اپنے حواس میں ہوتا تو شاید مشکل ہی یہ اقرار کر پاتا۔
مائدہ ٹھٹھک کر رہ گئی۔
جہاں اسے دبیر پر ڈھیروں غصہ تھا وہیں اس پل دل بری طرح دبیر کی جانب کھینچا چلا گیا۔
وہ بے ساختہ اس کے قریب جا کر اس کے پاس ہی فرش پر دوزانو ہو کر بیٹھی۔
بیڈ کی سائیڈ سے نیچے لٹکتے ہاتھ کو اپنے نازک ہاتھوں میں لیے، اپنے ہونٹ قریب لائی اور نرمی سے اس کے ہاتھ کی پشت کو چوما۔
آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی تھیں۔ پہلے اتنی دیر انتظار اور پریشانی پھر اس نشے میں دھت بگڑی ہوئی حالت میں دیکھنے کی تکلیف کا محسوس کرنا اور اب اس کا بےہوشی میں اتنا خالص اظہار سن کر اس کا دل بھر آیا تھا۔ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کو آنکھوں نے آنسوؤں کو فرار کا راستہ فراہم کیا تو وہ گزرتے وقت کا احساس کیے بغیر اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے مسلسل روتی رہی۔
روتے ہوئے ہی اس نے اپنا سر بیڈ کے کنارے ٹکایا۔ اس کا دل ہی نہیں کیا وہاں سے اٹھنے کا اور پھر وہاں بیٹھے بیٹھے اسے پتہ ہی نہیں لگا کہ کب اس کی آنکھ لگی یا کب وہ سوئی۔
صبح دبیر کی آنکھ کھلی تو سر بوجھل سا تھا۔ اس نے گزرے دن کے متعلق کچھ یاد کرنے کی کوشش کی پر وہ سٹال سے جوس لے کر پینے کے بعد کچھ یاد نہ آیا۔ آنکھیں کھولے ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا تو کسی کا نازک ہاتھ اپنی ہاتھ پر موجود دیکھ کر ایک دلفریب مسکراہٹ ہونٹوں پر پھیل گئی۔
مائدہ کو اپنے قریب دیکھ کر سکون کی لہر تن بدن میں سفر کرنے لگی۔ “پر یہ یہاں کیسے۔۔!!” وہ اس کی موجودگی پر ٹھٹکا۔
پھر رات کا ایک اور منظر اسے یاد آیا ہاں۔۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے گھر کے اندر قدم رکھنا اور پھر مائدہ کا دوڑ کر اس تک پہچنا۔ اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ نہیں یاد تھا۔
اس نے اندازہ لگایا کہ مائدہ ہی اسے یہاں چھوڑنے آئی ہوگی۔
ساری رات بغیر کسی لحاف کے وہاں سونے کی وجہ سے اس کی سفید رنگت میں نیلاہٹ جھلک رہی تھی۔ دبیر نے جمائی لینے کے لیے منہ کھولا تو اپنے منہ سے بدبو کا بھبھکا سونگھ کر وہ اچھل کر بیٹھا۔ اپنا ہاتھ مائدہ کے ہاتھ سے آہستہ سے چھڑایا۔۔
“تو کیا وہ ڈرنک، اس میں کچھ ملا ہوا تھا۔۔!!” اس نے ذہن پر زور ڈالتے سوچا، اور جلدی سے اٹھ کر برش کر کے آیا۔
مائدہ وہیں زمین پر بیٹھی آنکھیں موندے نیند پوری کررہی تھی۔
منہ ہاتھ دھو کر حالت کسی قابل بنی تو اس نے مائدہ کی طرف دیکھ کر اسے گود میں اٹھانے کی جسارت کی تاکہ اسے پلنگ پر منتقل کر سکے ۔
پر اس کے ہاتھ لگاتے ہی مائدہ نیند کی وادیوں سے یکدم باہر نکلی، پہلے تھوڑی کسمسائی اور پھر آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔
اس نے ہاتھوں کی مٹھی سی بنا کر آنکھیں رگڑیں اور پھر خود کو زمین پر بیٹھا دیکھ کر دماغ پر زور ڈالا۔ دبیر کی اتنی قریب موجودگی بھی باعثِ حیرت تھی۔
پر یہ حیرت پلوں میں ختم ہوئی اور اس کی جگہ غصے نے لے لی۔
اسے گزرا کل پوری طرح سے یاد آیا۔
اس نے غصے سے اٹھنے کی کوشش کی تو پاؤں جم سے گئے تھے۔ تقریباً سن ہو گئے تھے اس لیے اٹھا نہیں گیا۔
وہ غضب ناک تیور لیے دبیر کو گھور رہی تھی اور ساتھ ہی بیڈ کے کنارے کا سہارا لیتی اٹھنے کی کوشش کی۔
دبیر اس کے بولنے کا منتظر تھا۔
اٹھنے کی کوشش میں منہ سے ایک کراہ نکلی۔ ٹانگیں بری طرح دکھ رہی تھیں۔۔
“آؤچچ”
وہ آنکھیں میچے کراہتی ہوئی اٹھی۔
دبیر نے آگے بڑھ کر سہارا دینا چاہا تو وہ فوراً بھڑک اٹھی۔
“دور ہٹو، ہاتھ مت لگانا مجھے۔”
“ریلکس مائدہ کیا ہوا۔۔”
“لگتا ہے نشہ کر کے یاداشت میں خلل آ گیا۔۔ ویسے یہ تو ہوتا ہی ہے۔۔!!”
اس نے بھرپور چوٹ کی۔
“میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا مائدہ۔۔!!”
وہ منہ پھلاتا صفائی دینے لگا۔
“سب ایسا ہی کہتے ہیں۔۔!!”
خون کی گردش ٹانگوں میں بحال ہوتی محسوس ہوئی تو وہ کہہ کر جانے لگی۔۔
“سچ کہہ رہا ہوں۔۔”
وہ بھی اس کے پیچھے لپکا۔
“مجھے تمہارے جھوٹ یا سچ سے کوئی سروکار نہیں، راستہ چھوڑو، میں جا رہی ہوں یہاں سے۔۔”
وہ بپھری ہوئی تھی۔
“صبح صبح اتنا غصہ ٹھیک نہیں۔۔”
وہ راستہ روک کر بولا۔
“اور تم نے جو کل کیا وہ ٹھیک تھا۔۔؟؟”
کاٹ دار لہجہ اذیت کی چغلی کھا رہا تھا جو اسے اس کی حرکتوں پر محسوس ہوئی تھی۔
“میں کہہ تو رہا ہوں میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔”
اس سے پہلے وہ دروازے سے باہر قدم رکھتی اس نے آگے بڑھ کر پھرتی سے دروازہ بند کیا۔ اور باقاعدہ راستہ روکتے ہوئے آگے کھڑا ہوا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے ہٹو آگے سے۔۔!!”
وہ اس کی حالت پر بھنا کر رہ گئی۔
“تم یقین کیوں نہیں کررہیں۔۔؟؟”
وہ مضطرب سا ہو کر بولا۔
اور اس طرح آگے بڑھا کے مائدہ پیچھے ہوتے ہوئے دروازے کے ساتھ ملحقہ دیوار سے جا لگی۔۔
اس کی آنچ دیتی نظریں مائدہ کے روٹھے ہوئے دلنشین چہرے پر تھیں۔
اس کے پاس آنے پر مائدہ کو اپنا دل مٹھی میں ہوتا محسوس ہوا۔۔
وہ اپنے بازو دیوار پر ٹکاتا، دائیں بائیں سے فرار کا راستہ بند کر چکا تھا۔۔
“دبیر۔۔ دور ہٹو۔۔ صبح صبح میرے موڈ کا ستیاناس کردیا تم نے۔۔ پلیز جان بخش دو میری۔۔ ”
ڈبڈباتی آنکھیں لیے اس نے دھونس بھری منت کی۔
“پہلے تم مجھے معاف کرو، دیکھو۔۔ میں جانے انجانے میں تمہیں بہت ہرٹ کرتا آیا ہوں۔۔ پلیز آئم سو سوری۔۔!!”
اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس نے انتہائی نرم لہجے میں معافی طلب کی۔
“اتنا آسان ہے کیا؟؟ تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے اور خود کو کیا سمجھتے ہو۔۔!! پہلے بات بات پر لڑائی جھگڑے، دل دکھانا، تکلیف دینا۔۔ اس کے بعد تھوڑی سی ناراضگی کیا دکھا دی کہ حرام منہ کو لگا کر آ گئے۔۔ بتاؤ کیا ملا شراب پینے سے۔۔ اور تم ناں۔۔ جان چھوڑو میری مجھے نہیں رہنا یہاں۔۔ نہ ہی پڑھنا ہے۔۔ میں ابو کو فون کرتی ہوں۔۔ لاہور مائیگریشن کرواؤں گی۔۔ پھر سکون سے من مانیاں کرتے رہنا۔۔!!”
وہ بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے، اس کے سب رویے جتا گئی۔ دونوں ہاتھوں کو اس کے سینے پر رکھے اس نے زور سے دھکا دیا۔۔ وہ پیچھے ہوا تو جلدی سے وہاں سے فرار ہوئی۔
غلطی اس کی تھی تو دبیر بھی کچھ کم نہیں تھا۔۔
دبیر افسوس سے سر ہلاتا رہ گیا۔
وہ صاف ، استری شدہ کپڑے الماری سے نکال کر واپس باتھروم گیا۔۔ اور نہا دھو کر، حلیہ سنوار کر باہر نکلا۔
ڈائنگ ٹیبل پر اس کا ناشتہ رکھا تھا۔ مائدہ بھی وہیں تھیں۔ اور اس کے آنے تک اپنا ناشتہ بھی کر چکی تھی۔ ناشتے کے نام پر صرف آملیٹ لیا تھا۔ اور دبیر کو آتا دیکھ کر اپنا چائے کا کپ اٹھا کر وہ کمرے میں آ گئی۔
یہاں چائے پی کی جلدی سے تیار ہوئی۔
یونیورسٹی جانے وقت تھا سو چپ چاپ وہ اس کے ساتھ جانے کے لیے روانہ ہوئی۔۔
آج اس نے فرنٹ سیٹ پر بھی بیٹھنا گوارا نہیں کیا تبھی پیچھے بیٹھی تھی۔
دبیر کو واقعتاً اپنا آپ برا لگا۔
“مائدہ۔۔!!”
اس نے ڈرائیو کرتے ہوئے پکارا۔
جواب تو ملنا نہیں تھا۔۔ پر پھر بھی اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
“آئی سوئیر میں نے جان بوجھ کر ڈرنک نہیں کیا۔۔ کل جب میں واک پر گیا تو راستے میں سمیر مل گیا۔۔ اس کے ساتھ فٹ بال کلب میں چلا گیا۔۔ پھر واپسی میں ایک جگہ فروٹ ڈرنکس کا اسٹال لگا تھا تو ہم لوگ رک گئے۔
وہ لوگ فری ڈرنکس دے رہے تھے۔ سمیر کا موڈ نہیں تھا پر میں نے لے کر پی لی، اور ایک نہیں کافی بوتلیں پی چکا تھا۔۔
سمیر زیادہ پینے سے منع کررہا تھا لیکن مجھ سے رکا نہیں گیا۔
اور وہ پھر میری حالت بگڑنے لگی تو وہ دیکھتے ہوئے اسٹال والے کے پاس گیا۔
شاید سمجھ چکا تھا کہ ڈرنک میں کسی نشے کی ملاوٹ تھی۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا وہاں پولیس آ گئی۔
جس نے وہاں لوگوں کو پکڑ لیا تھا۔۔ وہ بھاگ کر واپس کار میں آیا اور مجھے گھر تک ڈراپ کر کے باہر سے ہی واپس چلا گیا۔
سچ کہہ رہا ہوں۔۔ مجھے پتہ ہوتا تو کبھی جوس کو ہاتھ نہ لگاتا۔ پتہ نہیں لوگ کیوں ایسا کرتے ہیں۔ فراڈ کرتے ذرا دل نہیں لرزتا۔۔ نجانے اس دن کتنے لوگوں کو اس جاہل نے وہ حرام مشروب پلایا ہوگا۔۔
شاید لوگوں کو نشے کا عادی بنانے کی کوئی نئی سکیم نکالی ہے۔
وہ ایسے ساری روداد سنا رہا تھا جیسے اسے سننے میں دلچسپی ہو۔
وہ سننا نہیں چاہتی تھی پر کانوں پر ہاتھ رکھنے کے باوجود سب سنائی دے رہا تھا۔
اس نے اس کی ساری بات کا کوئی رسپانس نہیں دیا۔
شکل سے وہ ناراض ہی تھی۔ پر دل کو سکون پہنچا، اور اس نے دل ہی دل میں اللّٰه کا شکر ادا کیا کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔
ورنہ اپنے لائف پارٹنر کو ایسی گندی لت میں ملوث دیکھنا کسی تکلیف سے کم نہیں تھا۔ شکر تھا کہ حقیقت سوچ کے برعکس تھی۔
پر اس نے چہرے سے کسی قسم کی طمانیت کا اظہار نہ کیا اور لب سیے بیٹھی رہی۔
••••••••
آج بھی سارا دن بیزاری، اکتاہٹ اور خاموشی کی نذر ہوا۔ اور یہ سلسلہ چند روز تک چلتا رہا۔
ایک شام کو وہ معمول کے مطابق گھر کے چھوٹے سے لان میں ٹہل رہی تھی کہ دبیر ہاتھ میں چائے کے دو کپ لیے اس کے پاس آیا۔
اور محبت سے ایک کپ اس کی طرف بڑھایا۔ وہ اس کی ناراضگی دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا تھا کیونکہ اس کی ناراضگی اسے بےسکون کررہی تھی۔ وہ زندگی میں پہلی بار۔۔
مائدہ پتہ نہیں کیا سوچ رہی تھی۔۔اپنے ہوش میں تھی، نہیں تھی ۔۔ اسے کچھ پتہ نہیں چلا۔۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی پیشکش قبول کرے، محبت کا جواب محبت سے دے مگر یک دم غصہ کسی شیطانی غلبے کی طرح اس پر مسلط ہوا اور اس نے بے اختیار وہ کپ اس کے ہاتھ سے جھپٹ کر زمین پر دے مارا۔
چائے اچھل کر گھاس پر گری اور فوراً ہی مٹی میں جذب ہوگئی۔ مائدہ حیرت سے اپنے ہاتھوں کو اور پھر دبیر کے چہرے کو تک رہی تھی۔ دبیر کی بھی یہی حالت تھی۔
“میں صلح کرنا چاہتا تھا۔۔ تم بالکل، بالکل تیار نہیں۔۔؟؟
کہا ہے ناں غلطیاں ہوگئیں مجھ سے۔۔!! اور تم خود بھی کونسا کم ہو۔۔!! پر میں بار بار معافی مانگ رہا ہوں، تم بار بار ٹھکرا رہی ہو۔۔ اور اب یہ۔۔ یہ توقع نہیں تھی مجھے تم سے۔۔!!”
وہ مائدہ کے چہرے پر ٹکٹکی باندھے تلخی سے بولا۔ اور مڑ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اور جاتے ہی زور دار طریقے سے دروازہ بند کر کے چٹخنی اوپر کر کے لاک لگایا۔
مرد بھی ایک حد تک عورت کے نخرے سہہ سکتے ہیں۔ بار بار کی ہٹ دھرمی ان کی انا کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔۔ اور یہیں کسی رشتے کا امتحان شروع ہوتا ہے۔
یا تو بات بن جاتی ہے یا پھر کبھی نہ بننے کے لیے بگڑ جاتی ہے۔
“یا اللّٰه یہ لڑکی! لگتا ہے دماغ جگہ سے ہل گیا۔۔ میں سمجھا تھا معمولی ناراضگی ہے، پر یہاں تو وہ باقائدہ نفرت کی مورت بنی میری ہر پیش قدمی کو ٹھکرا رہی ہے، ٹھیک ہے، اگر وہ نہیں مانتی تو اب میں بھی نہیں منانے والا اسے۔۔” وہ سر جھٹکتا خود سے باتیں کر رہا تھا۔
“آئے گی تو بات بھی نہیں کروں گا۔۔!!”
ایک اور فیصلہ کر کے وہ دل کو بہلا رہا تھا۔
“اگر طلاق مانگے گی تو وہ بھی دے دوں گا، زبردستی اس پر مسلط رہ کر اپنی بےعزتیاں کرانے کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں۔۔”
اسے اس کی طلاق والی بات یاد آئی تو وہ دل برداشتہ ہوتا
نیچے فرش کو گھورتے ہوئے اپنے آپ کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا رہا تھا۔
“طلاق دے دی تو میری محبت کا کیا ہوگا۔۔!! میری محبت جو میں اس سے کرتا ہوں۔۔!! نہیں محبت جائے بھاڑ میں، محبت ہے تو کیا عزتِ نفس کا سودا کر لوں۔۔!! نجانے اپنی عقل کدھر بانٹ کر آ گئی، ایسے بھی کوئی کپ پھینکتا ہے کیا۔۔!!”
مائدہ کے روڈ رویے نے اس کی عقل میں خلل ڈال دیا۔ تبھی الٹی پھلٹی باتیں سوچ رہا تھا کہ اس کا دروازہ بجنے لگا۔
مائدہ دبیر کے جانے کے بعد کچھ دیر بت بنی کھڑی رہی اور اپنی حرکت سمجھ آنے پر دوڑ کر اندر گئی۔
“افف یہ کیا کردیا میں نے۔۔!!!”
وہ اس کے کمرے کے باہر کھڑی سوچ رہی تھی۔
ہمت نہیں ہوپائی کے دروازہ بجائے۔
“وہ اتنے پیار سے صلح کرنے آیا تھا۔۔ میں نے کیا کردیا۔۔!!”
ڈبڈباتی آنکھیں لیے وہ اپنے آپ کو کوس رہی تھی۔
اس کے ہاتھ دروازے پر تھے پر دستک دینے سے کترا رہے تھے۔
بالآخر ہمت مجتمع کرکے اس نے ہلکی سی دستک دی۔
اسے اپنی غلطی کا فوری ازالہ کرنا تھا۔ مدہوشی میں کہی گئی دبیر کی باتیں اس کے دل پر اثر انداز ہوئی تھیں۔
اور وہ تھک چکی تھی اپنے اور اس کے درمیان حائل تلخیوں سے۔ بس اب سب ٹھیک کرنا چاہتی تھی۔
کوئی جواب نہ پا کر اس نے پھر سے دستک دی اب کی بار کچھ زیادہ زور سے اس نے دروازہ بجایا۔ پھر سے کوئی جواب نہ آیا تو اس نے دوبارہ بجایا اور اب وہ قدرے تیزی سے جلدی جلدی بجارہی تھی۔
“دبیر۔۔!!”
“دبیر۔۔ دروازہ کھولو”
وہ زور زور سے دروازہ بجاتے ہوئے اسے پکار رہی تھی۔
وہ ان سنی کررہا تھا۔
“دبیر۔۔ پلیز۔۔ بات سنو میری۔۔!!”
وہ مسلسل بجا رہی تھی۔ اور وہ بہرہ بنا نظر انداز کر رہا تھا۔
“دبیر۔۔!! کھولو نا۔۔ پلیز۔۔!! تم سن نہیں رہے کیا”
اب وہ باقائدہ رونے لگی تھی۔۔ اور چلا بھی رہی تھی۔۔ دروازہ بجاتے بجاتے ہاتھ رکھنے لگے تھے۔
اس کی مسلسل پکار سن کر دبیر کو بالآخر ترس آہی گیا۔۔ وہ سستی سے اٹھا، جا کر چٹخنی نیچے کی۔
“کیا مسئلہ ہے ہاں۔۔!! چلی جاؤ یہاں سے”
وہ دروازے کے پاس آ کر بولا۔
درشتی سے کہتے ہوئے دروازہ کھولا۔
ماتھے پر بل نمایاں تھے۔
“پلیز۔۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔ میں اپنے دھیان میں نہیں تھی۔۔ آئم سوری۔۔!!”
دروازہ کھلنے کی دیر تھی کہ وہ فوراً اندر داخل ہوئی۔۔
“آئم سوری۔۔ دبیر۔۔!!”
وہ بھیگی آنکھیں لیے بہت جذباتی ہوتے ہوئے بولی۔
دبیر کو یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ معافی مانگ رہی ہے۔۔ ابھی تو اس نے کیسے بے دردی سے اس کی محبت سے پیش کی گئی جائے زمین پر کپ سمیت پھینکی تھی۔ اور اب وہ ہی آ کر معافی مانگ رہی تھی۔
“معافی کس لیے ہاں۔۔ تمہیں تو نفرت ہے ناں مجھ سے پھر میرا احساس کرنے کا فائدہ۔۔”
اس کا کھردرا پن اپنی جگہ قائم تھا۔
“شٹ اپ۔۔!! سوری بول رہی ہوں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ مجھے احساس ہے تمہارا۔۔”
دبیر کے بے وقت کے طنز پر مائدہ نے اسے لتاڑا، اور زبردستی اس کے سینے سے جا لگی۔
وہ بری طرح رو رہی تھی۔ دماغ تھا کی ڈیپریشن سے پھٹنے کو ہو رہا تھا۔
دبیر تو اس کے اچانک اقدام پر گڑبڑا کر رہ گیا۔
اس سے پہلے وہ نرم پڑ کر اس کی حوصلہ افزائی کرتا یا اس کا قصور معاف کرتا، اس کی پیش قدمی کا جواب دیتا۔۔ مائدہ کو اچانک چکر آئے۔
آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا گیا۔۔ وہ بے دم ہوتی اس کے بازوؤں میں جھول گئی۔
“مائدہ۔۔ آنکھیں کھولو۔۔ کیا ہوا تمہیں۔۔؟؟ مائدہ۔۔؟؟”
وہ پریشانی سے اس کے گال تھپک رہا تھا۔
پہلی فرصت میں وہ اسے اٹھا کر مائدہ کے اپنے کمرے میں لے کر گیا وہاں بیڈ پر لٹا کر باہر آیا اور بھاگ کر اپنا فون اٹھاتے ڈاکٹر عبدالسلام (فیملی ڈاکٹر
) کو فون کرکے سب سچویشن بتائی۔
وہ صحیح معنوں میں پریشان ہوگیا تھا۔
پر ڈاکٹر نے اسے تسلی دینے کے ساتھ ساتھ چند ہدایات دیں۔ ان کے مشورے کے مطابق ہاسپٹل لےجانے کی ضرورت نہیں تھی۔
••••••
گھنٹے تک وہ اس کے سرہانے کے قریب کرسی کھینچ کر بیٹھا رہا۔ نظریں مسلسل اس کے چہرے پر تھیں۔
اتنی پیاری ہو، کتنا اچھا ہوتا، تھوڑی سویٹ بھی ہوتیں، وہ اسے دیکھتے سوچ رہا تھا، لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ آن ٹھہری۔
گھنٹے بعد اسے ہوش آیا، اس نے آنکھیں کھولیں تو دبیر نے اپنے مسکراتے ہونٹ سکوڑ لیے، وہ کب سے مائدہ کے حسن سے متاثر ہو کر، ستائشی انداز میں مسکرا رہا تھا خیر وہ جاگی تو دبیر اپنی جگہ سے اٹھا۔
اسے دیکھتے ہوئے مائدہ بھی اپنی کہنی کا سہارا لیتی اٹھ بیٹھی۔
“کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا لینا۔۔ میں باہر ہی ہوں۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولا،اس کا سنجیدہ پر تکلف لہجہ مائدہ کے لیے تکلیف دہ تھا۔
وہ کہہ کر جانے لگا کہ مائدہ نے فوراً ہی اس کا ہاتھ تھاما، دبیر کے قدم وہیں رکے۔
وہ اپنی گہری آنکھوں سے مائدہ کو تک رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ کیا چاہتی ہو۔
مائدہ بھی اسے دیکھ رہی تھی، آنکھوں سے وہ سب کہہ رہی تھی جو اس کا دل کہنا چاہتا تھا۔ محبت کے جلتے دیے اس کی نظروں میں بہت اچھے سے عیاں ہوتے دیکھائی دیے۔
“مائدہ کو صرف دبیر کی ضرورت ہے۔۔!!”
آنکھیں بے اختیار چھلک پڑیں۔
دبیر تو اس کے چہرے تو تک رہا تھا۔ کانوں پر یقین نہ آیا کہ وہ سچ میں یہ کہہ رہی ہے۔
“پلیز دبیر رک جاؤ۔۔ معاف کر دو مجھے۔۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے سامنے کھڑی ہوئی اور دونوں ہاتھ جوڑ کر اس کے سامنے کیے۔
دبیر نے محبت سے اس کی جڑی ہتھیلیاں اپنے ہاتھوں میں لیں۔
“خبر دار جو آئیندہ میرے سامنے ہاتھ جوڑے۔۔!!”
کہتے ساتھ ہی اس کے لب مسکرا اٹھے اور مائدہ کا چہرہ کسی کلی کی ماند کھل اٹھا۔
اس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔
وہ دونوں خوش تھے ، بے تحاشا خوش۔
بس اس ایک قدم سے دونوں کے مابین سب تلخیاں کہیں تلف ہو کر رہ گئیں۔ آسودگی بھری زندگی ان کا خیر مقدم کرنے کو تیار تھی۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: