Suhaira Awais Tum Faqat Mery Urdu Novels

Tum Faqat Mery Novel by Suhaira Awais – Episode 1

Tum Faqat Mery Novel by Suhaira Awais
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
تم فقط میرے از سہیرا اویس – قسط نمبر 1

–**–**–

“عدیل۔۔!! چھوڑو!!
چھوڑو مجھے!!” اس نے بمشکل اپنی ٹوٹتی سانسوں کو بحال کرتے ہوئے، ہلکی آواز میں کہا، جس کا سامنے والے نے کوئی اثر نہ لیا۔
وہ ہنوز اپنی آنکھوں میں وحشت اور انداز میں عجیب پاگل پن لیے،اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے گلے پر دباؤ ڈالے ہوئے تھا۔
“Shut up!! You bitch!!
You’ve killed my wife!!”
“مممم۔۔میں نے۔۔کچھ نہیں کیا۔۔!! میں بھلا کیوں ماروں گی اپنی بہن کو۔۔!! چھوڑو میرا گلا۔۔!! میرا سانس بند ہورہا ہے!!” عنقا نے تڑپ کر التجا کی،
اذیت کی شدت سے اس کی آنکھیں مسلسل چھلک رہی تھیں،وہ بری طرح کھانستے ہوئے بمشکل سانس لے پا رہی تھی،
پر سامنے والا اس کی حالت پر کسی قسم کا کوئی ترس کھانے کے موڈ میں نہیں تھا، اس وقت اس پر جنون سوار تھا اور وہ سفاکیت سے اس معصوم کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔۔!!
ایسی تکلیف جس میں اُس معصوم کی زندگی ختم ہونے کا خدشہ تھا۔۔!!
وہ تڑپ رہی تھی۔۔!! اس سے رحم طلب کر رہی تھی۔۔!!
لیکن وہ اُس کی نہیں سن رہا تھا۔۔!!
بلکہ اپنی سنا رہا تھا۔۔!!
اپنی بھڑاس نکال رہا تھا۔۔!!
“ایسے کیسے چھوڑ دوں تمہیں۔۔؟؟ تم نے میری بیوی کو مارا ہے۔۔!! اور جیسے تم نے اُسے مارا ویسے تم بھی مرو گی۔۔!!” وہ اپنی پوری طاقت سے چلایا۔
عنقا بے ہوش ہونے کو تھی کہ اس نے اپنے ہاتھوں کی گرفت کو ڈھیلا کیا، جھٹکے سے بیڈ پر پٹخا اور خود لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکلا۔
××××××××××
“اففف۔۔!! غانیہ۔۔!! وہ ابھی تک نہیں آیا۔۔!!”
عنقا، یونیورسٹی میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑی، عادل کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔۔!!
“میڈم۔۔!! تھوڑا حوصلہ رکھو۔۔!! شہزادے صاحب ہمیشہ کی طرح لیٹ ہی پہنچے گے۔۔!!” غانیہ نے اس کی حالت کا مزہ لیتے ہوئے کہا۔
“تمہارے منہ میں خاک۔۔!! گندی لڑکی۔۔!!” عنقا نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا۔
“اوئے۔۔!! زبان سنبھال کر۔۔!! یہ میرے منہ میں خاک ڈالنے کی بجائے۔۔ اپنے شہزادے کے کان کھینچو۔۔!!” غانیہ نے انگلی دکھاتے ہوئے، مصنوعی سے انداز میں وارن کیا۔
عنقا کو عادل کے لیے “شہزادے” کا لقب پسند آیا تھا اس لیے وہ دھیمے سے مسکرائی۔
” پتہ نہیں کیا کرتا رہتا ہے یہ۔۔!! اس کے چکر میں، مجھے بھی، تمہارے ساتھ ساتھ انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا ہے۔۔!!” غانیہ نے اپنے ہتھیلی کی پشت ماتھے پر رکھ کر دہائی دینے والا انداز اپنائے، اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا۔
اور عنقا ، غانیہ عرف “ایکٹنگ کی دکان” کی اس حرکت پر ایک بار پھر مسکرائی۔۔!!
اس بار اس کی مسکراہٹ خاصی جاندار تھی کیونکہ اس نے سامنے سے اس دشمنِ جاں کو جو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔
××××××××
مسلسل تین لیکچرز لینے کے بعد وہ اچھی خاصی بور ہوچکی تھی،
“کچھ کھانے چلیں۔۔” اس نے اپنے فیورٹ ، فرینچ فرائز کا چٹخارہ تصور میں لاتے ہوئے، ہونٹوں پر زبان پھیر کر پوچھا۔
“ایک تو عنقا۔۔۔ تم بھوکی بہت ہو۔۔!!! گھر سے کچھ کھا پی کر نہیں آتی؟؟ یہاں آتے ہی تمہیں کچھ نہ کچھ کھانے کی سوجھتی ہے۔۔”
غانیہ نے چڑ کر کہا، کیوں کہ وہ عادل کے ساتھ، کچھ دیر پہلے ہوئے لیکچر کے لاسٹ پوائنٹ کے متعلق ڈسکشن شروع کرنے لگی تھی کہ عنقا صاحبہ نے فوراً سے پہلے ہی مداخلت کردی۔
اب حال کچھ یوں تھا کہ بھاڑ میں گیا لیکچر، بھاڑ میں گئی ڈسکشن، اب تو شہزادے صاحب نے ہر حال میں عنقا صاحبہ کا کہا ماننا تھا۔۔۔ سو۔۔ غانیہ ڈسکشن کو ملتوی کرتے، عادل اور عنقا کے ساتھ چل دی۔
××××××××
“کافی دن ہوگئے تم نے گھر چکر ہی نہیں لگایا۔۔ آج یونی کے بعد چلو گی میرے ساتھ۔۔؟؟” عادل نے چاکلیٹ ملک شیک کا سِپ لیتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں۔۔ دن تو کافی ہوگئے ہیں۔۔!! ان فیکٹ میں خود بھی یہی سوچ رہی تھی۔۔!! آپی بھی کب سے چکر لگانے کو بول رہی ہیں۔۔!!” عنقا نے اس کی بات سے اتفاق کیا۔
“چلو۔۔ پھر فائنل کرو۔۔!! تم آج ساتھ چل رہی ہو ناں؟؟” عادل نے چہکتے ہوئے پوچھا۔
“ارے نہیں۔۔!! آج چھوڑو۔۔!! میں کل چلوں گی۔۔!! وہ امی، ابو سے نہیں پوچھا ناں۔۔!! کل میں گھر پرمیشن لے کر آؤں گی، اوکے۔۔۔؟؟” عنقا نے اس کو فوراً منع کیا۔
عادل کا منہ لٹک کر رہ گیا۔۔ اس نے اتنے پیار سے پوچھا تھا۔۔
غانیہ ان دونوں کے درمیان بیٹھی، سینڈوچ کھاتے ہوئے،خاموشی ان کی ڈائلاگ بازی انجوائے کر رہی تھی۔
“ارے۔۔ نہیں ناں۔۔!! تم آج ہی چلو۔۔!! بھئی۔۔ میرا موڈ۔۔ تمہیں آج لے جانے کا ہے اور تم کل پر ٹال رہی ہو۔۔!! اور۔۔ جہاں تک انکل آنٹی کی بات ہے تو ان کو تم فون پر انفارم کردو۔۔ آئی ہوپ۔۔ وہ منع نہیں کریں گے۔۔!!”
عادل نے ضد کرتے ہوئے کہا۔
عنقا ، بھلا کتنی دیر تک اس کی ضد کے سامنے ٹِک سکتی تھی۔۔!!
سو وہ مان گئی۔۔ جس پر عادل کافی خوش ہوا۔۔
عنقا کی توجہ اب عادل سے ہٹ کر غانیہ کی طرف مبذول ہوئی۔۔
“پتہ چل گیا۔۔؟؟ میں بھی یہاں بیٹھی ہوں۔۔!!” غانیہ نے مصنوعی طنز سے کہا۔
جس پر عنقا مسکرائی۔
جب عادل کے اس کے آس پاس ہوتا تو وہ ایسے ہی بات، بے بات مسکراتی رہتی۔۔ اور اس کی اِسی مسکراہٹ پر تو وہ جان دیتا تھا۔
×××××××
مصطفیٰ لغاری شہر کے معروف اور نامور بزنس مین تھے۔ عدیل مصطفیٰ اور عادل مصطفیٰ ، مصطفیٰ لغاری اور فوزیہ مصطفیٰ کے بیٹے تھے۔
عدیل ایک اچھا خاصہ میچور، سیدھا اور تھوڑا اکڑو سا بندہ تھا جس نے اپنی پڑھائی مکمل ہوتے ہی اپنے والد کا بزنس سنبھالا اپنی قابلیت کے بل بوتے پر،اِسے خوب ترقی بھی بخشی۔ اور جب اس کے والدین نے ، اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی ایک خوبصورت، نازک اور پیاری سی لڑکی سے شادی کا بولا تو کوئی رولا ڈالے بغیر، بہت آرام سے شادی بھی کر لی۔
لیکن پتہ نہیں اسے کیا سوجھی تھی کہ اس نے شادی سے پہلے ایک شرط رکھی۔۔ کہ وہ شادی کے بعد ہی اپنی دلہن کا دیدار کرے گا، وہ صرف زبانی کلامی ہی، اریرے کی خوبصورتی، اس کے حلیے اور اس کے حسن سے واقف تھا۔۔۔ مگر پھر بھی نجانے کیوں وہ اس کو دیکھے، اس کو سنے اور اس کو جانے بغیر ہی بے تحاشہ چاہنے لگا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ کیوں۔۔؟؟ مگر اس کا دل۔۔ اریزے سلیمان کا نام سنتے ہی یا پھر اس کا تصور کرتے ہی۔۔ اپنی جگہ سے باہر اچھلنے کو ہو جاتا۔
اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب۔۔!! اس کے سب جذبات، اس کی ساری محبتیں جب اریزے کے نام ہوئیں۔۔!! کب وہ اس کے دل کی ملکہ بنی۔۔!!
کبھی تو اس کا دل چاہتا کہ وہ ایک بار، اس کی ایک جھلک دیکھ لے۔۔ مگر نہیں۔۔!! اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ نکاح کے بعد ہی اپنی نظروں کی پیاس بجھائے گا۔۔!!
باہر سے بے حس، جذبات سے عاری اور مغرور دِکھنے والا انسان، ایک معمولی سی لڑکی کو اپنا آپ تک سونپ چکا تھا۔۔ اور یہ سب بالکل غیر ارادی طور پر ہوا تھا۔۔!!
پھر کرتے کراتے وہ دن بھی آیا کہ جب اریزے ، عدیل کی دلہن بن کر اس کے سامنے موجود تھی۔۔ وہ اس کے تصور سے بڑھ کر حسین تھی۔۔ وہ تو وہ اریزے تھی ہی نہیں جس سے اس نے محبت کی تھی۔۔ عدیل نے سوچا کہ یہ لڑکی تو بالکل اس لائق نہیں کہ اس سے محبت کی جائے۔۔ یا صرف محبت کی جائے۔۔!! وہ اریزے عدیل مصطفیٰ تھی۔۔!!
وہ عدیل کی محبت نہیں بلکہ اس کے عشق کی حقدار تھی۔۔!!
اور عدیل کو اس سے سچ میں عشق ہوا تھا۔۔
وہ سر تا پا۔۔ خود کو اریزے کے عشق میں ڈبو چکا تھا۔
در حقیقت تو وہ بھی بالکل عام سی ہی لڑکی تھی۔۔ جیسے عموماً لڑکیاں ہوتی ہیں۔۔ مگر عدیل کے لیے وہ کہیں سے بھی عام نہ تھی۔۔۔ اور وہ نہیں جانتا تھا کہ کیوں وہ اس کے لیے ، یک دم اتنی خاص بنی۔۔!!
عدیل کے ہر ہر اظہار سے، اریزے کے لیے دیوانگی اور جنون جھلکتا تھا۔
اس کا ہر ہر انداز، اس کی والہانہ محبت کا گواہ تھا۔
اور یہ عدیل کی محبت تھی کہ جس نے اریزے کو بھی دِنوں میں اس کا دیوانہ بنادیا تھا۔
××××××××
عدیل کا چھوٹا بھائی، عادل یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا، وہاں عنقا سلیمان اس کی سب اچھی اور بہت خاص دوست تھی۔۔ ایسی دوست۔۔ جسے وہ مستقبل میں اپنی ہم سفر بنانے کی خواہش رکھتا تھا۔
عدیل کی شادی کے دوران، جب عادل کو پتہ چلا کہ عنقا، اریزے کی بہن ہے۔۔ تو اسے بے حد خوشی ہوئی۔۔
اس نے جلدی مچا کر۔۔ اپنے مام، ڈیڈ کو کنونس کیا اور وقت ضائع کیے بغیر اس سے منگنی کر کے، اپنی امانت بنالیا جسے وہ بہت جلد اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔۔ مگر فی الحال۔۔ شدید خواہش کے باوجود بھی، اپنی پڑھائی، اپنے کرئیر کی وجہ سے، وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا۔۔!!
××××××
ان سب میں سے ہر ایک، اس وقت اپنی اپنی زندگی کا بہترین وقت گزار رہا تھا۔۔!!
خوشیوں اور مسرتوں سے بھرپور زندگی۔۔!!!
وہ اس وقت یہ بات فراموش کیے ہوئے تھے کہ خوشیاں عارضی ہوتی ہیں۔۔!! ان کا قیام بے حد قلیل ہوتا ہے۔۔!!
پر ان کے “فراموش” کرنے سے بھلا کیا فرق پڑنا تھا۔۔!!
ان کے “بُھلا” دینے سے بھلا کیا فرق پڑنا تھا۔۔!!

پر ان کے “فراموش” کرنے سے بھلا کیا فرق پڑنا تھا۔۔!!
ان کے “بُھلا” دینے سے بھلا کیا فرق پڑنا تھا۔۔!!
×××××
عادل کے بے حد اصرار پر وہ یونیورسٹی سے واپسی پر اس کے ساتھ ہی گئی تھی۔ اریزے کو اسے وہاں دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی، بلکہ وہ تو اس کی اچانک آمد سے بہت سرپرائز بھی ہوئی، اریزے کو اس وقت عنقا کا آنا بہت اچھا لگا تھا۔
×××××
کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد اریزے، عنقا کو ڈائنگ ہال میں لے کر گئی۔۔ اس نے منع بھی کیا تھا کہ اسے لنچ نہیں کرنا۔۔ پر اریزے کہاں سننے والی تھی۔۔!!
بھلا وہ کیسے اپنی لاڈلی بہن کی خاطر تواضع نہ کرتی۔۔۔!!
وہ دونوں کھانے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی جاری رکھے ہوئے تھیں۔۔ فوزیہ بیگم بھی ان کی گفتگو میں ، خوش دلی سے اپنا حصہ ملا رہی تھیں اور عادل بیٹھا اُن کے منہ دیکھ کر جل رہا تھا۔
اب عنقا کو وہ اپنے لیے لایا تھا اور میڈم نے اُسے کوئی لفٹ ہی نہیں کروائی۔۔ اس لیے وہ وہاں بیٹھے بیٹھے خوب سڑ رہا تھا۔
آج ان لوگوں نے عنقا کی وجہ سے پہلے لنچ کیا تھا ورنہ وہ عدیل اور مصطفیٰ صاحب کے آنے کے بعد ہی کرتے تھے۔
اریزے جانتی تھی کہ اس کے سرتاج کس قدر حساس ہیں۔۔!! اگر عدیل کو پتہ چل جاتا کہ اریزے نے اس کے بغیر ہی کھانا کھایا ہے تو وہ اس سے خواہ مخواہ ہی ناراض ہوتا۔ اس لیے وہ ، ان سب کے ساتھ بیٹھی۔۔ بس برائے نام ہی کھا رہی تھی۔۔ اس کا سارا دھیان تو بس باتوں کی طرف تھا۔۔!!
اپنے جان لٹانے والے ، محبوب شوہر کی خاطر۔۔ وہ اتنا تو کر ہی سکتی تھی۔۔!! آخر اس کا فرض تھا کہ وہ اس جنونی کی ہر چھوٹی سے چھوٹی خوشی کا خیال رکھے۔
×××××
عنقا کو عدیل بہت عجیب لگتا تھا۔۔ عدیل اور اریزے کی شادی کو ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا اور اریزے کی زبانی ، عدیل ایک انتہائی کیئرنگ بندہ تھا مگر پھر بھی۔۔ عنقا کو اس کی بات پر تسلی نہیں ہوتی تھی۔
وہ ہمیشہ سوچتی تھی کہ بظاہر، اس قدر اکھڑ، بے مروت اور سخت مزاج نظر آنے والا آدمی کیسے۔۔ ویسا ہو سکتا ہے۔۔ جیسا کہ اریزے بتاتی ہے۔۔۔!!
اس انسان تو آج تک عنقا کو مخاطب کر کے کبھی سلام بھی نہیں کیا تھا۔۔!! وہ تو کسی سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتا تھا۔۔!!
پھر وہ کیسے اس کی بہن کو اتنا چاہ سکتا تھا۔۔!!
حقیقت میں تو باقی سب کے ساتھ اس کا جیسا بھی رویہ ہو۔۔ لیکن اریزے کے لیے، وہ اپنی شخصیت سے ہٹ کے، ایک بالکل ہی مختلف انسان تھا۔۔!!
وہ اکثر ایسی باتیں سوچتی۔۔!! اور پھر خود ہی اپنی ساری سوچوں پر فضول ہونے کا ٹھپا لگا کر ، اپنی جان چھڑاتی۔
آخر کو یہ اس کا مسئلہ نہیں تھا۔۔!! وہ دونوں آپس میں جس حال میں بھی رہیں۔۔!! اس سے عنقا کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے تھا۔۔!! اور ویسے بھی جب اریزے کی طرف سے کوئی شکایت نہیں تھی تو وہ خواہ مخواہ کیوں ٹینشن لیتی۔۔!!
یہ مسئلہ صرف عنقا کے ساتھ نہیں۔۔!! بلکہ ہمارے آس پاس بھی ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں۔۔ جن کو اللّٰه جانے۔۔ اپنا سکھ راس نہیں آتا۔۔ اس لیے فضول میں دوسروں کے متعلق سوچ سوچ کر خود کو ہلکان کرتے رہتے ہیں۔۔!!
بندے کو چاہیے کہ وہ آرام، سکون سے رہے۔۔۔ اپنے کام سے کام رکھے۔۔!! لیکن نہیں ہماری تو ساری انٹرٹینمنٹ ہی دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑا کر ہوتی ہے۔۔۔!!
اب کیا کریں۔۔!! عادت سے مجبور جو ٹھہرے۔۔!!
اسی طرح عنقا خود کو لاکھ کوشش کرنے کے باوجود بھی خود کو اس کے متعلق سوچنے سے باز نہیں رکھ پاتی تھی۔۔ مگر وہ اپنی بہن کی محبت میں، اُس کی فکر کرتی تھی۔۔۔ اُس کی ٹینشن لیتی تھی۔۔!! کیوں کہ اُسے اس کی بہن بہت عزیز تھی۔۔ کیوں کہ وہ ہر حال میں اسے خوش دیکھنا چاہتی تھی۔۔ بس عدیل کی پرسنیلٹی، کبھی کبھی تھوڑا شک میں ڈال دیتی۔۔!!
××××××
عدیل اور اریزے کی شادی کو دس ماہ گزر چکے تھے، خیر سے اب وہ پریگننٹ بھی تھی۔۔ اس کا آٹھواں منتھ چل رہا تھا ، ڈاکٹر نے بہت زیادہ احتیاط کی تلقین کی تھی۔
سارا گھرانہ بےحد مسرور تھا، مصطفیٰ صاحب، فوزیہ بیگم ، عادل۔۔ اریزے کے گھر والے، سبھی بےبی کے دنیا میں آنے کے شدت سے منتظر تھے۔ سبھی لوگ اریزے کا بے حد خیال رکھتے تھے۔
عدیل نے تو ویسے ہی اس کا خیال رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ ڈاکٹر نے مزید تاکید کردی۔۔
اب تو وہ اسے بیڈ سے نیچے، قدم تک نہیں رکھنے دیتا تھا۔
اسے خود نہیں سمجھ آتا تھا کہ وہ کیسے اس کے لیے اتنا سب کر گزرتا تھا۔۔ کیوں وہ اس کے دل کے اتنے قریب ہوچکی تھی۔۔!!
وہ کبھی کبھی سوچتا کہ بالفرض، خدا نخواستہ اگر اریزے، کسی بھی وجہ کے تحت اسے چھوڑ کر چلی گئی تو کیا وہ اس کے بغیر سکون سے رہ پائے گا۔۔!! کیا وہ اس سے دوری سہہ سکے گا۔۔!!
اور پھر وہ اپنے ہی خیالات پر لعنت بھیجتا۔۔!! کہ نجانے کیا اول فول سوچتا رہتا ہے۔۔!! بھلا وہ کیوں اسے چھوڑ کر جائے گی۔۔!!
××××××××
عنقا، آج پھر ، عادل کے کہنے پر، یونیورسٹی سے اس کے گھر آئی تھی۔۔!! فوزیہ بیگم نے ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کا پرتپاک ویلکم کیا۔۔ جس پر وہ دل سے خوش ہوئی تھی۔ لیکن اس وہ ذرا جلدی میں تھیں، کیوں کہ انہیں کسی کام کے سلسلے میں اپنی ایک فرینڈ کے ہاں جانا تھا۔۔ اور جانا بہت ضروری تھا اس لئے انہوں نے اِسے کمپنی دینے سے معذرت کی اور وہاں سے چلی گئیں۔
×××××
عنقا ، اریزے سے ملنے اس کے روم میں جانے والی تھی کہ اتنے میں وہ خود ہی احتیاط سے سیڑھیاں اترتے نیچے آئی اور عنقا سے ملی۔
اب وہ اپنے کمرے میں بیٹھی بیٹھی کافی بور جو ہوچکی تھی۔۔!!
وہ دونوں بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں، اتنے میں عادل ، اپنی پیاری منگیتر کی مہمان نوازی کی غرض سے، لوازمات سے بھری ٹرالی گھسیٹتے ہوئے لایا۔
ان دونوں نے بھی انعام کے طور پر عادل کو اپنی گپ شپ میں شامل ہونے کی اجازت دی۔ وہ گپ شپ کم اور عادل کی شامت زیادہ تھی۔۔ کیوں کہ دونوں بہنیں مِل کر، بڑے مزے سے موصوف کا ریکارڈ لگارہی تھیں۔
عنقا کا تو ہنس ہنس کے برا حال تھا۔۔ اور عادل بیٹھا اس کی ہنسی ہر تپ رہا تھا تھا۔۔ “تم ذرا دیکھنا۔۔!! میں، ایک ایک چیز کا بدلا لوں گا تم سے۔۔” اس نے جل کر تڑی دی۔
جس پر عنقا کے مزید قہقہے لگائے۔
وہ کچھ دیر تک، اپنی درگت بنواتے رہنے کے بعد وہاں سے جا چکا تھا۔
××××
آج تو باتیں کرتے کرتے اچھا خاصہ وقت گزرا تھا۔۔ اور ان دونوں کو پتہ بھی نہیں چلا۔
اریزے نے گھڑی کی طرف دیکھا۔۔!! عدیل کے آنے کا وقت تھا۔
“آؤ عنقا۔۔ ہم لوگ میرے روم میں چلتے ہیں۔۔!! وہ عدیل آنے والے ہیں۔۔ اور انہوں نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بالکل بھی نیچے نہ آؤں۔۔ اب اگر یہاں دیکھ لیا تو ناراض ہوں گے۔۔” اریزے نے مسکرا کر کہا۔
عدیل کو لے کر عنقا کے جو بھی خدشات تھے وہ سب ختم ہوچکے تھے۔ وہ اریزے کو مطمئن دیکھ کر اب خود بھی مطمئن تھی، وہ عدیل کی پرسنیلٹی کو اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔
وہ اِسے عجیب بھی نہیں لگتا تھا۔۔ بلکہ اب تو وہ اس کی شخصیت سے بہت متاثر تھی۔ اس کا ریزرو سا رویہ، اپنے جذبات اپنی بیوی تک محدود رکھنے کی عادت، فضول گوئی سے اجتناب اور مزاج کی سنجیدگی اور رعب، اسے بھانے لگا تھا۔ اس کی نظر میں مردوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔۔ اب تو اسے وہ مرد عجیب لگتے تھے جو اپنی کزنز، سالیوں اور دوسری لڑکیوں سے کُھل کر مزاق کرتے تھے۔
وہ تقریباً اس کا آئیڈیل بن چکا تھا، وہ عادل کو بھی اپنے بھائی جیسا بننے کا بولتی تھی۔
××××××
عنقا، احتیاط سے، اریزے کا ہاتھ پکڑ کر، اسے لے کر جارہی تھی، وہ دونوں آخری سیڑھی پر تھیں کہ عنقا کو زور دار چھینک آئی، چھینک روکنے کی غرض سے، غیر ارادی ردِعمل کے تحت، اس نے اپنا ہاتھ اریزے کے ہاتھ سے چھڑایا، یہ سب اتنا اچانک تھا کہ اریزے کا توازن بگڑا۔۔!!
وہ تقریباً، عنقا کے سہارے ہی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کہ توازن بگڑنے پر خود کو سنھبال نہ پائی۔۔!!

وہ تقریباً، عنقا کے سہارے ہی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کہ توازن بگڑنے پر خود کو سنھبال نہ پائی۔۔!!
اور لڑھکتی ہوئی نیچے کو گِری، عنقا نے اپنی طرف سے، اسے بروقت تھامنے کی پوری کوشش کی تھی پر اس کی کوشش رائیگاں گئی۔
اس نے بے یقینی سے فرش پر پڑے، اریزے کے وجود کو دیکھا اور تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتے ، اُس تک پہنچی، وہ جس قدر بے یقین تھی، عدیل اس سے کہیں زیادہ ، شاکڈ تھا، اور اسی شاک کی کیفیت میں میں وہ عنقا سے پہلے اریزے تک پہنچا،
وہ حال ہی میں گزرے ان چند لمحوں کو ان کی تمام تر ہولناکیوں سمیت ، اپنی آنکھوں سے بخوبی ملاحظہ کر چکا تھا۔
ایک تکلیف تھی، جو اسے ، خود میں سرایت کرتی محسوس ہوئی، اس کی آنکھوں کے سامنے، اریزے بری طرح تکلیف سے مچل رہی تھی، اس کے درد کی شدت کا اندازہ اس کی چیخوں اور اس کے کراہنے کے کی آواز سے ، اچھی طرح لگایا جا سکتا تھا۔
عدیل نے مزید وقت ضائع کیے بغیر اسے اٹھایا اور باہر کی طرف نکلا، عادل بھی اریزے کی چیخوں کی آوازیں سنتا وہاں آیا تھا، صرف ایک سیکنڈ میں وہ سارا معاملہ سمجھ چکا تھا، وہ بھی تقریباً بھاگتا ہوا کار پورچ کی طرف بڑھا اور عدیل کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کار ان لاک کر کے، اسٹارٹ کر چکا تھا۔
عنقا کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے، اریزے ابھی تک بری طرح تڑپ رہی تھی، درد کے مارے اسے اپنا سانس اکھڑتا محسوس ہوا، عدیل اس وقت خود کو بے حد ، بے بس محسوس کر رہا تھا، اسے بے تحاشہ افسوس تھا کہ سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا اور وہ کچھ نہیں کر پایا، وہ اسے بچا نہیں پایا۔
اس وقت اس کا دھیان، ذرا بھی عنقا کی طرف نہیں گیا۔۔ عنقا پر دھیان دینا تو دور کی بات۔۔ اسے تو اس وقت کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔۔ سوائے اریزے کے۔۔!!
××××××
اریزے کو فوراً ایمرجنسی میں لے جایا گیا، عنقا نے خود کو سنبھالتے ہوئے اپنے گھر انفارم کیا، عادل نے بھی فوراً اپنے مام،ڈیڈ کو کال کر کرکے سب کچھ بتایا، اب وہ عنقا کو تسلی دے رہا تھا، اور اریزے کے سارے کام، عدیل خود ہی ، بھاگ بھاگ کر رہا تھا۔
عادل نے اس کی ہیلپ کی کوشش کی پر اس نے یہ کہہ کر منع کیا کہ “وہ میری اریزے ہے، میں اس کے کام کر سکتا ہوں۔۔!!” عادل جانتا تھا، وہ اریزے کے معاملے میں کتنا جذباتی ہے۔۔ اس لیے اس نے بحث نہیں کی۔
اب عدیل اکیلا ہی، اندر باہر ہورہا تھا، نرسیں کبھی دواؤں کے لیے دوڑا رہی تھیں تو کبھی انجیکشنز لانے کیلئے، کبھی ڈاکٹرز اسے بلا رہے تھے تو کبھی وہ خود ہی آپریشن تھیٹر کے باہر بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا۔
اریزے اس وقت آپریشن تھیٹر میں تھی، اس کی حالت بہت پیچیدہ تھی، ڈاکٹرز پہلے ہی بتا چکے تھے کہ وہ اس وقت بےبی کو نہیں بچا سکتے۔
آنسو لڑیوں کی صورت میں عدیل کی آنکھوں سے جاری تھے۔ وہ شاید اپنی زندگی میں پہلی بار رویا تھا۔ وہ اریزے کے آنے سے زندگی میں پہلی بار، خوش بھی تو اتنا زیادہ ہوا تھا۔۔ پر شاید یہ خوشی اسے راس نہیں آئی۔۔ یا اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اپنی مدت پوری کر چکی تھی۔
عنقا کے والدین سلیمان صاحب اور فہمیدہ بیگم بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ ان کے آتے ہی عنقا بے قرار ہوتی، اپنی امی سے لپٹی تھی۔۔ آنسو، اُس کے بھی شدت سے بہہ رہے تھے۔
سلیمان صاحب بھی بے حد پریشان تھے ، انہوں نے عدیل کو تسلی تھی۔۔ پر وہ کہاں مطمئن ہونے والا تھا۔
عدیل کو دیکھ دیکھ کر، عنقا مزید دُکھی ہوئی، اب تو وہ جانتی تھی ناں۔۔ وہ عدیل کی اریزے سے والہانہ محبت پر یقین کر چکی تھی ناں۔۔ اب تو اسے اچھے سے عدیل کے جذبات کا اندازہ تھا۔۔ اس لیے اسے، عدیل کے لیے بھی تکلیف محسوس ہوئی۔۔ اس کے چہرے پر تواتر سے بہتے آنسو، عنقا کے بھی گال بھگو رہے تھے۔۔
مصطفیٰ صاحب اور ان کی بیگم کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہوگا۔۔ وہ دونوں بھی بری طرح شاکڈ تھے۔
تصور تو کسی نے بھی نہیں کیا تھا کہ ایسا کچھ ہوگا۔۔!! پر جو ہونا ہونا ہے۔۔ اسے کون ٹال سکتا ہے۔
×××××××
ایک اضطراب تھا۔۔ ایک بے چینی تھی ، جس سے اس وقت وہ سارے گزر رہے تھے۔۔ عدیل کی بھی یہی حالت تھی۔۔ اور ان سب سے کہیں بڑھ کر تھی۔۔!! اور عدیل کی یہ حالت۔۔ عنقا کے لیے دیکھنا محال ہوگیا تھا۔۔!!
ایک تو اس کا اپنا احساسِ جرم۔۔۔ جو اسے یہ ماننے پر مجبور کر رہا تھا کہ یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے۔۔ پھر جو کچھ ہوا تھا۔۔ اُس کی تکلیف علیحدہ تھی۔۔ اور اوپر سے عدیل کی تڑپ۔۔ شاید ان سب لوگوں میں سب سے زیادہ۔۔ عنقا، اذیت میں تھی۔
ہر کوئی ، مسلسل، اریزے کی عافیت کے لیے دعاگو تھا۔۔ عدیل کا تو رواں رواں “دعا” بنا ہوا تھا۔
زندگی میں پہلی دفع، اس نے اتنی شدت سے دعا کی تھی۔ پر کچھ دعائیں ہوتی ہیں ناں۔۔ جن کے مقدر میں قبولیت نہیں لکھی ہوتی۔۔ کچھ دعائیں ہوتی ہیں ناں جو ادھوری رہ جاتی ہیں۔۔ بس اُس کی دعا بھی انہی دعاؤں میں سے ایک تھی۔
لیکن ہماری یہ ادھوری اور قبولیت سے خالی دعائیں، بروزِ قیامت، ہمارے لیے ڈھیر سارے، اجر و ثواب کا ذریعہ بنتی ہیں، اس لیے ہمیں اپنے دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔
عدیل نے بھی دل چھوٹا نہیں کیا تھا۔۔ بس وہ بار بار انکار کیے جارہا تھا۔۔ اسے ڈاکٹر کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔!! اور وہ چند لمحوں تک، ڈر اور خوف سے اریزے کی لاش کے قریب بھی نہیں کیا۔
اریزے کی موت ایک سچ تھا جسے وہ جھٹلانا چاہ رہا۔۔ پر نہیں جھٹلا سکا۔۔ باقی سب کے ساتھ ساتھ اسے بھی یقین کرنا پڑا۔۔اور جب اسے یقین آیا تو اس نے ،اپنی زور دار دھاڑ سے، ایک لمحے کے لیے، سب کو ہی لرزا دیا تھا۔
اس کے بعد وہ خوب رویا۔۔۔!! جتنی شدت سے رو سکتا تھا رویا۔۔!! وہ تڑپا تھا۔۔ وہ بری طرح مچلا تھا۔۔!!
×××××
کچھ دن تک تو وہ اپنا آپ بھلائے۔۔ اریزے کے غم میں گُھلتا رہا۔۔ اور پھر اچانک وہ منظر۔۔ وہ اریزے کا گرنا اسے یاد آیا۔۔ اُسے یاد آیا کہ وہ عنقا کی وجہ سے گری تھی۔
اسے احساس ہوا کہ اس کی اریزے کی موت کی ذمہ دار عنقا ہے اور پھر، اس کے وجود میں، انتقام کی آگ، سلگنے لگی۔۔!!
“میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔۔!! ظالم عورت۔۔!! تم نے مجھ سے، میری اریزے کو چھینا ہے۔۔!!”
اس نے غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے ،اپنے تصور میں عنقا کو مخاطب کیا۔۔۔ اور ایک بار پھر تڑپ کر رو دیا۔

اس نے غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے ،اپنے طور میں عنقا کو مخاطب کیا۔۔۔ اور ایک بار پھر تڑپ کر رو دیا۔
×××××
اب وہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، بے چینی سے، بس یہی سوچتا تھا کہ آخر کیسے وہ اپنا انتقام لے۔۔!! کیسے اپنے اندر جلتے الاؤ کو تسکین پہنچائے۔۔!!
اس کا خیال تھا کہ وہ عنقا سے انتقام لے کر ہی پُر سکون ہو پائے گا۔۔!! اسے گمان تھا کہ اُسے، اس کا سکون عنقا میں ملے گا ۔۔!!
یہ تو وقت نے بتانا تھا کہ، وہ اپنی سوچ ،اپنے دعوے میں سچا ہے یا نہیں۔۔!! درست ہے یا نہیں۔۔!! اگر سچا ہے ،درست ہے تو کس طرح۔۔؟؟ اگر غلط ہے تو کس طرح۔۔؟؟
××××××
عدیل نے، اس کے لیے بہت سی سزائیں سوچیں پر اُسے، عنقا کے لیے کوئی معقول سزا نہیں مل کے دی۔
وہ ابھی بھی۔۔ مسلسل۔۔ غضب ناک سے تیور لیے اسی کے متعلق سوچ رہا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی، اسے ایک طریقہ سُوجھا، اس ایک مکروہ سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر نمودار ہوئی۔
ساتھ ہی، اس کے تاثرات تلخ ہوئے، اس کے انداز میں ایک عجیب کڑواہٹ ابھری۔ ذہن شیطان کی شاگردی میں پناہ لینے لگا اور پھر اس نے وہ کرنے کی ٹھانی جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔
اس نے وہ کرنے کا سوچا جو اسے سوچنا بھی نہیں چاہیئے تھا۔۔!!
“تیار رہو۔۔ لڑکی۔۔!! تم نے مجھ سے میری محبت چھینی ہے ناں۔۔!! میں بھی تمہارا کارنامہ تم پر لوٹاؤں گا۔۔!! میں بھی وہی کروں گا جو تم نے کیا۔۔!!”
وہ شدت کا غضب لیے، اپنے خیالوں میں ہی ، اُسے ، اُس کی زندگی تباہ کرنے کا عندیہ دے گیا۔
××××
اس کا دماغ تیزی سے چل رہا تھا۔۔ وہ اپنے فیصلے پر ملنے والے متوقع ری ایکشنز کے متعلق سوچ رہا تھا، نتائج کا اندازہ لگا رہا تھا اور اُن نتائج کی بنیاد پر، اپنے فیصلے پر عمل درآمد کے مختلف طریقوں پر بھی غور کر رہا تھا۔
بہت سوچ بچار کرنے کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھا، فوراً اپنے کمرے سے باہر نکلا اورچِلّا چِلّا کر، اپنے مام دینے لگا۔
رات کے ایک بجے کا وقت تھا، اس کے مام ڈیڈ سمیت عادل بھی ہڑبڑاتا ہوئے اپنے روم سے باہر نکلا۔
“کیا ہوا بیٹا۔۔؟؟” اس کی مام نے پریشانی سے پوچھا۔
“مجھے آپ دونوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔!!” لہجہ سرد تھا،
“ایسی کونسی ضروری بات ہے جو تم نے ایک دم اُدھم ہی مچا دیا۔۔!!” مصطفیٰ صاحب کو اس کا چیخنا بہت برا لگا تھا۔
عدیل نے اپنے ڈیڈ کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا، اس نے سرد مہری سے، عادل پر نظریں گاڑھے، پھر سے اپنا جملہ دہرایا،”مجھے آپ دونوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔!!” اس بار وہ، “آپ دونوں” پر زور دیتے ہوئے بولا۔
اس کا عجیب سا رویہ ، عادل کی سمجھ سے باہر تھا۔
اس نے سوچا کہ ہوگی کوئی پرائیویٹ بات۔۔!! اس لیے سر جھٹکتے ، وہ وہاں سے چلا گیا۔
“بولو۔۔ کیا مسئلہ ہے۔۔!!” مصطفیٰ صاحب کو اس کے رویے پر غصہ آ رہا تھا۔
“میرے خیال سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔” وہ مسلسل، سسپینس بڑھاتا جا رہا تھا۔
اس کا سرد، سپاٹ اور کاٹ دار لہجہ ، فوزیہ بیگم کو تشویش میں مبتلا کر رہا تھا۔
عدیل اپنی بات کہتا ،۔ لاونج کی جانب بڑھا۔ فوزیہ بیگم کو تو ہول اٹھ رہے تھے کہ اتنی رات گئے، اس کو ایسی کیا ضروری بات یاد آ گئی۔۔!!
مصطفیٰ صاحب اور فوزیہ صاحب بھی اس کے پیچھے چل دیے۔
××××
وہ لاونج کے صوفے پر آ کر بیٹھا۔ اس کے تاثرات تلخ سے تلخ تر ہوتے جا رہے تھے۔ اس نے اس وقت اپنا ایک اور گنہگار بھی ڈھونڈ لیا تھا، جس کی وجہ سے ، اسے اپنے فیصلے پر تھوڑی سی جو شرمندگی تھی، وہ بھی کہیں غائب ہوگئی۔۔!! اسے کچھ دیر پہلے، تھوڑا سا گلٹ محسوس ہوا تھا کہ وہ جو کرنے جا رہا ہے۔۔ سراسر غلط ہے۔۔!!
لیکن اب ، اپنا نیا گناہگار تلاشنے کے بعد ، وہ خود کو حق پر ہونے کی تسلی دے چکا تھا۔
اس کے مام ڈیڈ ، اس کے کچھ بولنے کے انتظار میں بیٹھے تھے۔۔ جبکہ وہ اپنے ہی انتقامی خیالات میں، گِھرا، مسلسل جھلس رہا تھا۔
“بیٹا کچھ بولو بھی۔۔” فوزیہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔
“مجھے عنقا سے شادی کرنی ہے۔۔!!” اس کا لفظ لفظ، وحشت سے بھرپور تھا۔
اس کے مام ڈیڈ بے یقینی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ فوزیہ بیگم شاکڈ تھیں، ان کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس نے آخر کہا کیا ہے۔۔!! یا شاید وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھیں۔
مصطفیٰ صاحب کو تو اس کی عقل پر شک ہوا۔۔!!
وہ دونوں حیران و پریشاں، آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہے تھے۔
عدیل کو ان کے رد عمل، ان کے حیرت زدہ ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے۔۔ وہ ان کی حالت سے بے نیاز، نظریں زمین پر گاڑھے ، ان کے جواب کا انتظار کر رہا تھا۔
“دماغ تو صحیح ہے تمہارا۔۔!!” مصطفیٰ صاحب، جیسے ہوش میں آئے تھے۔
“جی ڈیڈ۔۔ میں بالکل نارمل ہوں۔۔!!”عدیل نے، ان کا غصہ، خاطر میں لائے بغیر، سختی سے جواب دیا۔
“دیکھیں۔۔ اگر آپ لوگوں نے انکار کیا، یا میری بات نہ مانی تو میرے پاس اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔۔ اور سن لیں۔۔!! پھر انجام کی ساری ذمہ داری، آپ لوگوں پر ہو گی۔۔!!” اس نے تلخی سے دھمکی دی۔
فوزیہ بیگم کو تو اس سے، اس کے ارادوں سے خوف محسوس ہوا۔ “بیٹا۔۔ تم جانتے ہو۔۔ وہ تمہارے بھائی کے ساتھ منسوب ہے۔۔ پھر بھی۔۔؟؟” انہوں نے تکلیف بھرے لہجے میں پوچھا۔۔
انہوں نے اس کی، ایسی تربیت تو نہیں کی تھی کہ وہ ایسی گری ہوئی حرکت کے متعلق سوچا۔۔
“مجھے کچھ نہیں سننا۔۔!! آپ لوگ بتائیں کہ آپ میری ہیلپ کریں گے یا نہیں۔۔؟؟”
“نہیں” جواب ، مصطفیٰ صاحب کی طرف سے آیا تھا۔
جسے سنتے ہی، عدیل نے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے، آٹھ انچ کا، تیز دھار والا چاقو نکالا، اور لمحے کی دیر کئے بغیر، اپنی کلائی پر رکھ کر، بے رحمی سے اپنی نبض کو چیر ڈالا۔
خون کی دھاریں، ابل ابل کر باہر نکلیں، اور اس کے کپڑوں سمیت سارا فرش اس کے خون سے رنگین ہوا ۔
اس کے مام ڈیڈ، چند لمحوں کے لیے تو شدید سکتے میں آئے۔۔ وہ آنکھیں پھاڑے، اپنی تکلیف کو برداشت کرتا، ان کے حیران چہروں کو تک رہا تھا۔
وہ دونوں بیک وقت اس کی طرف بڑھے، فوزیہ بیگم کے انداز میں تڑپ، اور مصطفیٰ صاحب کے انداز میں شدید غضب تھا۔
انہیں، اپنے بیٹے سے ایسی بیوقوفی کی امید نہیں تھی۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے میرے قریب آنے کی،” وہ بری طرح چلایا تھا، درد اس کی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ مگر وہ پھر بھی ڈھیٹ بنا، سہہ رہا تھا۔

کوئی ضرورت نہیں ہے میرے قریب آنے کی،” وہ بری طرح چلایا تھا، درد اس کی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ مگر وہ پھر بھی ڈھیٹ بنا، سہہ رہا تھا۔
“تم جو مرضی ڈرامے کرلو میں تمہیں، ایسی گندی حرکت کرنے کی بالکل اجازت نہیں دوں گا۔۔” مصطفیٰ صاحب اس کے باپ تھے، انہوں نے دگنی ہٹ دھرمی سے کہا۔
“کچھ تو خیال کریں بچے کی حالت کا، کیسے باپ ہیں آپ۔۔!!” فوزیہ بیگم تڑپ کر بولیں،
“کیا خیال کروں میں اس کا ، آپ نے اس کی حرکت نہیں دیکھی۔۔؟؟” مصطفیٰ صاحب بھڑکے۔
اب ، خون ، نسبتاً، ذرا آہستگی سے بہہ رہا تھا، عدیل کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں وہ تقریباً بے ہوش ہونے کو تھا۔
“حد ہے مصطفیٰ۔۔!! میرا بچہ یہاں مرنے کو ہورہا ہے، اور آپ کو اپنے غصے کی پڑی ہے۔۔!! عادل۔۔!! عادل!!” وہ زور سے چلائیں۔
عادل بھاگتا ہوا وہاں آیا، اس سے پہلے وہ اپنے کمرے میں تھا، اس نے عدیل کی کہی گئی باتیں نہیں سنی تھی اس لیے، فی الوقت وہ لاعلم تھا۔
اور عدیل کی حالت دیکھ کر ،اسے زبردست جھٹکا لگا۔
اُس میں مزید مزاحمت کرنے کی سکت نہیں تھی، وہ بے ہوش چکا تھا، اس لیے، فوزیہ بیگم نے سب سے پہلے ، اپنے دوپٹہ اس کے بازو سے باندھ کر خون کا بہاؤ روکنے کی کوشش کی، فرسٹ ایڈ باکس تو ان کے گھر تھا نہیں کیوں کہ کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی، اور نہ ہی احتیاطاً رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی،
اس لیے اس وقت دوپٹے سے کام چلایا۔
عادل اور مصطفیٰ صاحب نے بڑی مشکل سے، اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا۔
××××××
فوزیہ بیگم ، بہت بے چینی سے ہاسپٹل کی راہداری میں، یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھیں۔
عدیل ابھی تک بے ہوش تھا، خون زیادہ بہنے کی وجہ سے اس کی حالت بہت خراب تھی، عادل اس کے لیے خون کا انتظام کرنے کے لیے دوڑیں لگا رہا تھا، عدیل کا بلڈ گروپ ، سب گھر والوں سے مختلف تھا اس لیے وہ بھی اسے بلڈ ڈونیٹ نہیں کر سکے۔
وہ ابھی تک نہیں عدیل کی اس حالت کے پسِ منظر کے متعلق بے خبر تھا، اس لیے، پورے خلوص سے، اس کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔
مصطفیٰ صاحب، وہیں کاریڈور میں بچھے، بینچ پر بیٹھے، پریشانی سے سوچنے پر مجبور تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔
ایک طرف ضمیر تھا تو ایک طرف، جان سے عزیز بیٹا۔۔ وہ شدید کشمکش میں تھے اور بالآخر ، کچھ دیر اسی شش و پنج میں مبتلا رہنے کے بعد انہوں نے حتمی فیصلہ کیا۔
×××××
اللّٰه اللّٰه کر کے عدیل کی حالت سنبھلی، اسے ہوش آ چکا تھا، اس وقت صبح کے چار بچ رہے تھے، فجر ہونے کو تھی، اس کے ہوش میں آتے ہی فوزیہ بیگم نے اسے دیکھنے سے پہلے ہی پرئیر ہال میں جا کر شکرانے کے نفل ادا کیے۔
×××
“شکر الحمدللّٰه بھائی۔۔!! آپ کو ہوش تو آیا، ورنہ آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا۔۔!! ویسے اب تک میں نے کسی سے پوچھا نہیں۔۔!! کیسے ہوا یہ سب۔۔؟؟” عادل نے اپنے پیارے سے لہجے میں پوچھا۔
عدیل نے اس کی تقریر سن کر دوسری طرف منہ پھیرا۔
“کیا ہوا بھائی۔۔؟؟ آپ ناراض ہیں مجھ سے؟؟” اس نے پریشانی سے پوچھا۔
عدیل، ہنوز خاموش رہا، اس کے ماتھے پر غصہ ابھرتا دکھائی دیا۔
“قاتل کہیں کا۔۔!! یہ بھی میری اریزے کا قاتل ہے۔۔!! یہ اگر اس دن اپنی منگیتر کو وہاں نہ لاتا تو، وہ اس سے ملنے کے لیے نیچے نہ آتی، نہ ہی واپس جاتے ہوئے گرتی۔۔ نہ ہی مجھ سے اتنا دور جاتی۔۔!!” وہ سختی سے لب بھینچے، یہ فضول اور بے تکی باتیں سوچتا گیا۔”
عادل، اس کے رویے سے ابھی تک پریشان تھا۔
××××××
نفل ادا کرنے کے بعد ، فوزیہ بیگم، عدیل کے پاس آئیں، اور اس کے قریب، اسی کے بیڈ پر بیٹھیں۔
انہیں دیکھ کر ، عدیل، اپنا رخ دوسری طرف پھیر گیا۔
“کیسا ہے میرا بیٹا اب۔۔؟؟” انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
“یہ آپ اپنی جھوٹی کئیر ، اپنے پاس رکھیں۔۔!!” اس نے بدتمیزی سے کہا۔
اس وقت، اس پر ، بے تحاشہ جہالت سوار تھی، جس کا اظہار وہ بار بار،۔ اپنی حرکتوں کے ذریعے کر رہا تھا۔
فوزیہ بیگم کو ، اس کے رویے پر تکلیف ہوئی پر انہوں نے درگزر کرتے ہوئے پیار سے کہا،
“بیٹا۔۔ اب تم ایسے بات کرو گے اپنی مام سے۔۔”
“مام۔۔!! مام۔۔!! پلیز کچھ کریں ناں۔۔!!” وہ ایک دم بدلا تھا۔۔ آنسو، اس کی آنکھوں سے جاری ہوئے۔
فوزیہ بیگم اس کے یک دم بدلنے پر حیران ہوئیں۔
“مام۔۔!! مجھے وہ چاہئیے۔۔!! آپ لا کر دیں مجھے۔۔!! مجھے عنقا چاہیے۔۔!!” وہ کسی عجیب احساس کے تحت بولا، وہ مزید شدت سے رویا۔۔ بری طرح بلک رہا تھا۔۔
فوزیہ بیگم کو اس کے رویے سے لگا کہ شاید اسے، عنقا میں اریزے نظر آتی ہوگی۔۔!! شاید وہ اس لیے اس کے لیے تڑپ رہا ہے۔
جبکہ اس کے آنسو تو اریزے کے لیے تھے۔۔ اور وہ اپنے انتقام کی حسرت میں رویا تھا، وہ تو عنقا کو تڑپانے، اسے ستانے کے لیے تڑپ رہا تھا۔
فوزیہ بیگم کو بھی ،اس کی حالت دیکھ کر رونا آ رہا تھا۔
“مام۔۔!! مجھے عنقا کو سے شادی کرنی ہے۔۔!! مجھے وہ چاہتے۔۔!!” وہ ایک بار پھر بلک کر، تڑپ کر بولا۔
اس کے الفاظ، عادل کی سماعتوں پر کسی ، تلوار کی طرح حملہ آور ہوئے۔
وہ اپنے اور اپنی مام کے لیے چائے کے کپ کے کر کمرے میں داخل ہوا تھا کہ عدیل کے لفظوں نے اس کے قدم وہیں روک دیے۔
اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آگے قدم بڑھاتا۔۔۔ وہ سکتے میں تھا۔۔ اسے یقین نہ آیا کہ جو کچھ اس نے سنا وہ سب سچ میں کہا گیا ہے۔۔ وہ بے یقین تھا کہ اس کا بھائی ایسا کیسے سوچ سکتا ہے۔۔!!

وہ بے یقین تھا کہ اس کا بھائی ایسا کیسے سوچ سکتا ہے۔۔!!
وہ کچھ کہے سنے بنا، الٹے قدموں وہاں سے لوٹ گیا، اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ کچھ دیر مزید وہاں رک پاتا، اور باہر جا کر تو جیسے اس کا دل ڈوب ہی گیا۔
اسے اپنے بدن سے روح نکلتی محسوس ہوئی،
مصطفیٰ صاحب، سلیمان صاحب، ان کی بیگم ،عنقا،
مولوی صاحب اس اور دو مزید لوگوں کے ہمراہ، عدیل کے کمرے کی طرف آ رہے تھے۔
عنقا، اس مجمعے میں، سب سے پیچھے، اپنی امی کے ساتھ ، گردن جھکائے ، بہت سے آنسو بہاتی، مرے مرے قدموں سے چلتی ہوئی آ رہی تھی۔
اس کی نظریں زمین پر ، اس توجہ سے مرکوز تھیں کہ اسے ارد گرد کی خبر تک نہ ہوئی ، اسے پتہ ہی نہ چلا کہ وہ عادل کی ایک سائیڈ سے ہو کر گزری تھی۔
پر عادل۔۔!! وہ بے خبر نہیں تھا۔۔!! اسے سب نظر آ رہا تھا۔۔!! اور ہر نظر آنے والی چیز نے اسے اندر تک دُکھایا تھا، ہر سنائی دینے والے لفظ نے اس کا مان توڑا تھا، اسے یقین نہ آیا کہ سب کے سب کیسے عدیل کے غلط فیصلے میں اس کا ساتھ دے سکتے ہیں۔۔!!
چلو سب نے کیا سو کیا۔۔!! لیکن عنقا۔۔ وہ کیسے ان سب کا ساتھ دے سکتی تھی، وہ تو عادل کو اچھے سے جانتی تھی ناں، اسے بھی اس پر ترس نہیں آیا۔
وہ تو جانتی تھی کہ عادل کتنی شدت سے اسے چاہتا ہے، بھلا وہ، اس کے ساتھ، کیسے اتنا بڑا ظلم کر سکتی تھی۔۔!! عادل شدت سے مچلا تھا، اور اسی شدت سے، وہ اپنے ہاتھ میں موجود دونوں کپ، قریب بچھے ، بینچ پر رکھ کر ،اس مجمعے کے پیچھے لپکا تھا۔
——–
کمرے میں اتنے سارے نفوس کو داخل ہوتا دیکھ کر ، عدیل یک دم ٹھِٹکا تھا، اسے تو یقین نہ آیا کہ اس کی مراد اتنی جلدی پوری ہوگئی تھی۔
پھر اس کی نظر گھومتی ہوئی اپنے ڈیڈ تک آئی، کیا کچھ نہ تھا ان کے چہرے پر، غصہ ، دُکھ ، بے بسی اور سب سے بڑھ کر اپنا ضمیر مارنے کی تکلیف، بیٹے کی خاطر خود غرض بن کر، کسی کی بیٹی کی خوابوں کا جنازہ نکالنے کا درد۔۔!!
ہر جو بھی تھا۔۔ وہ عدیل کو متاثر نہ کر پایا۔۔!! وہ تو بس اپنی جیت کی خوشی میں خوش تھا۔۔!!
وہ عنقا کو مسلسل روتا پا کر بے حد مسرور ہوا۔۔!!
“آہ۔۔!! چلو اچھا ہے۔۔ ابھی سے آنسو بہانا شروع کر دیے۔۔!! آگے کے لیے تھوڑی پریکٹس بھی ہوجائے گی۔۔۔!! اور میرے دل کو تو ویسے ہی بہت سکون ملنا ہے۔۔!!” اس نے سفاکیت سے سوچا۔
××××
“مولوی صاحب نکاح شروع کرائیں۔۔!!” مصطفیٰ صاحب کی سرد سی آواز نے خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا۔
“کس کا نکاح۔۔!!” عادل نے تڑپ کر دبی دبی سی آواز میں احتجاجی لہجے میں کہا۔
“میرا نکاح۔۔!!” عدیل نے ڈھٹائی سے ، تلخ لہجے میں جواب دیا۔
عنقا نے عدیل کا جواب سن کر، اسی تڑپ سے، عادل کی طرف دیکھا۔۔ اور پھر نظریں نیچی کرلیں۔۔ اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ اس وقت اسے دیکھ پاتی۔
کیوں کہ اس کا مسئلہ تھا کہ وہ اسے صرف دیکھتی نہیں تھی ۔۔۔ بلکہ وہ اسے محسوس کرتی تھی۔۔ اور اس وقت جو اس نے، عادل کے چہرے پر اپنی نظر ڈال کر محسوس کیا تھا، وہ اپنے اُس احساس کی تاب نہ لا پائی۔۔ اس میں سکت نہیں تھی کہ وہ مزید ، اُس کی طرف دیکھ پاتی۔
وہاں بیٹھا کسی دوسرے بندے نے عادل کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔۔ شاید وہ بھی اس حالت میں نہیں تھے کہ اس سے آنکھیں ملا پاتے۔
سب کا یہ انجان رویہ ، سب کا اسے نظر انداز کرنا۔۔ سب کا یہ سلوک۔۔ اس کے ناقابل برداشت تھا۔
اسے محسوس ہوا کہ اس وقت یہاں اس کی بات، اس کا وجود کس قدر بے معنی ہے۔۔ اسے محسوس ہوا کہ یہاں احتجاج کرنا بالکل بے فائدہ ہے۔۔!!
مصطفیٰ صاحب کے دوبارہ اشارے پر نکاح شروع ہو چکا تھا۔
ایک پھانس سی اس کے دل میں چبھی تھی۔
وہ بھلا کہتا تو کیا کہتا۔۔؟؟ کرتا تو کرتا؟؟ وہ کِسے روکتا۔۔!! یہاں تو کوئی بھی، اسے اہمیت دینے کو تیار نہ تھا۔۔ یہاں تو سب ایک طرف تھے۔۔ یہاں کون اسے سمجھتا۔۔!! کون اسے سنتا۔۔!!
وہ اپنے ڈوبتے دل اور تکلیف سے نکلتی بے ہنگم سانسوں کو ہموار کرتا، وہاں سے اٹھا اور باہر کو چل دیا، اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ ان دونوں کا ایجاب و قبول سن پاتا۔
×××××
عجب تیزی تھی اس کی رفتار میں۔۔!!
وہ انتہا درجے کی تیزی سے قدم اٹھاتا ہاسپٹل سے نکلا۔۔اور مسلسل چلتا گیا۔۔ آنکھیں بار بار آنسوؤں سے بھر رہی تھیں، جنہیں وہ بار بار ہتھیلی کی پشت سے مسل کر صاف کرتا۔
×××××
جس وقت عادل، عدیل کے بلڈ ارینج کرنے میں مصروف تھا اس وقت ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ اُس کی حالت بہت خراب ہے، اگلے آدھے گھنٹے تک خون نہ ملا تو اس کا بچنا بہت مشکل ہو جائے گا۔
اس کی بگڑتی حالت نے مصطفیٰ صاحب کو اس کے حق میں فیصلہ کرنے پر مجبور کیا تھا، اس لیے وہ فیصلہ کرتے ہی وہاں سے غائب ہوئے، سلیمان صاحب کے گھر گئے۔
اُن کے،اتنی رات گئے آنے پر تو ویسے ہی سلیمان صاحب کو اچھنبھا ہوا تھا اوپر سے ان کی ساری بات سن کر وہ مزید پریشان ہوئے۔
مصطفیٰ صاحب نے ہاتھ جوڑ کر اپنے بیٹے کی زندگی کے لیے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا جسے وہ رد کر دیتے مگر مصطفیٰ صاحب کی بے بسی دیکھتے اور اپنی سالوں پرانی تکلیف کو یاد کرتے انہوں نے ہاں کردی۔
انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا تو وہ بھی تھوڑے ترد کے بعد ، بالآخر مان گئیں۔
انہوں نے بھی کئی سال پہلے اپنا بیٹا کھویا تھا، خیر ان کا بیٹا تو بلڈ کینسر کی وجہ سے فوت ہوا تھا مگر مرا تو تھا ناں۔۔ تکلیف انہیں بھی وہی ہوئی تھی جس کا خدشہ لیے، مصطفیٰ ان کے ہاں ، آئے تھے۔
بہت سے دوسرے والدین کی طرح جو اپنی بچیوں کو دنیا جہان کی آزادی دیتے ہیں لیکن شریک حیات چننے کا حق ہڑپتے ہیں، انہوں نے بھی ، عنقا سے یہ حق ہڑپنے کی ٹھانی، اس کو جگا کر سب کچھ بتایا، بس فرق یہ تھا کہ انہوں نے اپنا فیصلہ غصے اور غضب کے زور پر نہیں بلکہ ایموشنل بلیک میلنگ کے ذریعے، اس پر تھوپا ۔ اور نجانے کیا کچھ کہہ کر۔۔ کیا کچھ کر کے اسے منایا۔
اگلی بھی پتہ نہیں کیسی حالت میں تھی، کیا محسوس کر رہی تھی کہہ اس سے انکار ہو ہی نہیں پایا۔۔ کوئی اندرونی طاقت تھی جس نے اس سے ہاں کروائی تھی۔
پر جو بھی تھا۔۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی رضامندی درحقیقت اُسی کی رضامندی تھی۔۔ فی الوقت، وہ بس اتنا جانتی تھی کہ اس کے خواب ٹوٹے تھے۔۔ جو وہ ایک عرصے سے سجاتی آئی تھی، اور بہر حال یہ مرحلہ اذیت کا تو تھا ہی، باقیوں کی طرح اس کی حالت بھی انتہائی دردناک تھی۔
اور بہر حال یہ مرحلہ اذیت کا تو تھا ہی، باقیوں کی طرح اس کی حالت بھی انتہائی دردناک تھی۔
×××××
عنقا اور عدیل کا نکاح ہو چکا تھا اس کے بعد عنقا واپس اپنے گھر چلی گئی۔
عدیل ہاسپٹل سے ڈسجارج ہونے کے بعد پہلی فرست میں ہی اپنے مام ڈیڈ کے ساتھ عنقا کے گھر گیا، جس خاموشی اور سادگی سے نکاح ہوا ،اس سے کہیں زیادہ سناٹے میں اس کی رخصتی بھی کی گئی، کیوں کہ اریزے کا دُکھ ابھی تازہ تھا۔ ان کے گھر کی فضا ابھی تک سوگوار تھی۔
عادل کا تو جیسے گھر سے اور گھر والوں نے ناطہ ہی ٹوٹ چکا تھا۔۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر تیار ہوتا ، یونی جاتا اور واپس آنے کے بعد بھی آوارہ گردیوں میں مصروف رہتا، حتیٰ کہ وہ عنقا کی رخصتی میں بھی شریک نہ ہوا۔
عدیل کو اس کی حالت بہت مزہ دے رہی تھی، کیوں کہ اس کی انتقامی سوچ ابھی تک برقرار تھی۔
مام، ڈیڈ نے بھی عادل سے اس سلسلے میں کوئی گفتگو نہ کی، وہ بھلا کہتے تو کیا کہتے۔۔؟؟ کس منہ سے اس کا سامنا کرتے۔۔!! ایک بیٹے کی خاطر دوسرے کا دل اجاڑ چکے تھے، اب ان میں حوصلہ نہ تھا کہ وہ اس کا سامنا کر پاتے۔۔ سو انہوں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔۔ وہ کوشش میں تھے کہ اپنے اندر ہمت جمع کر پائیں، اور اپنے چھوٹے لاڈلے کو منا سکیں۔۔!!
×××××××

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: