Suhaira Awais Tum Faqat Mery Urdu Novels

Tum Faqat Mery Novel by Suhaira Awais – Episode 2

Tum Faqat Mery Novel by Suhaira Awais
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
تم فقط میرے از سہیرا اویس – قسط نمبر 2

–**–**–

عدیل اسے اپنے گھر لا چکا تھا، وہ اس کے کمرے میں سُکڑی سمٹی،بیڈ کی ایک طرف کو ٹانگیں لٹکائے بیٹھی تھی۔
دل بری طرح دُکھ رہا تھا، اسے اس وقت اپنے آپ سے نفرت محسوس ہورہی تھی اور دل چاہ رہا تھا کہ عدیل کو تو کچا چپا جائے۔
وہ جو تھوڑی بہت اریزے کی وجہ سے اس کی عزت کرتی تھی، اب وہ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اس لیے تو اس نے سوچا تھا کہ وہ اسے کبھی وہ عزت نہیں دے گی جس کا وہ حقدار ہوگا ، وہ اسے اریزے کی طرح “آپ” بھی نہیں کہے گی۔۔!!
اپنی طرف سے، عدیل سے بدلے لینے کی بے ضرر سی تدبیریں، اس کے ذہن میں آتی جا رہی تھیں۔
ابھی وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی کہ عدیل وہاں آیا۔
وہ انداز میں وحشت، آنکھوں میں قہر لیے اس کی طرف بڑھا، عنقا بری طرح سہمی تھی۔ عدیل نے اپنی سخت انگلیوں کو اس کے چہرے کی طرف بڑھایا، اور اس کا منہ سختی سے اپنی انگلیوں کی گرفت میں لے کر اسے کھڑا کیا، اس نے بچاؤ کے لیے اپنے ہاتھ سے اُس کا ہاتھ ہٹانا چاہا لیکن بے سود۔۔!!
عدیل نے اسے دیوار کی طرف دھکیلا، عنقا کی کمر بری طرح دیوار سے لگی تھی اور سر لگتے لگتے بچا تھا، وہ کچھ بول بھی نہیں پارہی تھی، اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے اور عدیل کی انگلیاں بھگونے لگے۔
عدیل سفاکیت سے گویا ہوا۔۔
“میری بیوی کو مارا ہے ناں تم نے۔۔!!! ڈائن ہو تم ڈائن۔۔!! تم نے مجھ سے میری اریزے چھینی ہے۔۔!! جیسے تم نے اس کو مارا، میں بھی تمہیں ماروں گا۔۔”
اس وقت، وہ بالکل پاگل لگ رہا تھا،
وہ تو وہ عدیل تھا ہی نہیں جس کی میچورٹی، سمجھداری اور حقیقت پسند طبیعت کو سب سراہتے تھے۔
وہ نجانے کیا بن گیا تھا کہ ایک حقیقت نہیں سہہ پایا، ایک سچ برداشت نہیں کر پایا۔
منہ پر گرفت گہری ہونے کے باعث وہ کچھ بول بھی نہیں پا رہی تھی۔۔ اور بس مسلسل ، اسل ہاتھ ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی جو بار بار ناکام ہی رہی۔
اس کے چہرے پر گہرے ہوتے، تکلیف کے آثار، عدیل کو سکون پہنچا رہے تھے، جو کہ محض وقتی سکون تھا۔
عدیل کا پاگل پن بڑھتا جا رہا تھا، وہ اپنے ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹا کر گردن تک لے کر گیا اور شدت سے دبوچا، عنقا کے روکنے پر، مزاحمت کرنے پر ، مزید سخت ردعمل دیا اور جب عنقا تقریباً بے ہوش ہونے کو تھی اس وقت، وہ اسے بیڈ پر پٹخ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔
وہ بری طرح سسک رہی تھی، اس نے پہلی مرتبہ اتنا وحشیانہ سلوک سہا تھا۔
کچھ دیر وہ، یونہی بیڈ پر پڑی رہی اور پھر ہمت کر کے اٹھی، واشروم گئی، ہاتھ منہ دھوئے اور اپنا حلیہ درست کیا۔
وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے آنسو نہیں روک پا رہی تھی، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ، اس کے دل میں عدیل کے لیے نفرت مزید بڑھتی جا رہی تھی۔
“جاہل انسان، بدتمیز، پاگل، شرم نہیں آتی۔۔!! واقعی جاہل ہے یہ جاہل۔۔!!” اس نے روتے ہوئے سوچا۔
“توبہ۔۔ اللّٰه جی۔۔!! ابھی اگر وہ تھوڑی دیر اور تک مجھے نہ چھوڑتا تو میں مر ہی جاتی۔۔!!” اس نے اپنے گلے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جھرجھری لی۔
“اوہ۔۔ خدایا۔۔!! اب میں کیا کروں، دو دن اس جاہل، جنونی کے ساتھ رہی تو یہ تو مجھے مار ہی ڈالے گا۔۔!! نہیں نہیں۔۔!! یہ مجھے ایسے نہیں مار سکتا۔۔۔!! مجھے اس کو روکنا ہوگا۔۔!! ہاں روکنا ہی ہوگا۔۔۔!! کسی بھی طرح۔۔!! ورنہ یہ تو مجھے سچ مچ ہی مار دے گا۔۔!!” اس نے دبی دبی سی سسکیاں لیتے ہوئے سوچا۔۔
اور اگلے لمحے اپنی بے بسی کا خیال کرتے۔۔۔ اس کی سسکیاں پھر سے بلند ہوئیں۔
نجانے کتنی دیر وہ یونہی سسکتی رہی اور کوئی پوچھنے تک نہ آیا۔
××××××
،اُس کی روتے روتے کب آنکھ لگی، اسے پتہ ہی نہ چلا ۔۔ وہ جب اٹھی تو رات کا وقت تھا، اس نے یہاں وہاں دیکھا تو کوئی نہ تھا اور کمرے کا سکوت بھی برقرار تھا۔۔ جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ وہ وحشی ابھی تک دوبارہ کمرے میں نہیں آیا تھا۔
اسے اس وقت کچھ بھوک محسوس ہوئی، کچن کا تو اسے پتہ ہی تھا۔۔اور وہ جانتی تھی کہ اس وقت ملازمہ وہاں موجود نہیں ہوگی، اس لیے وہ خود ہی کچھ کھانے پینے کے لیے اٹھی۔
اُسے رہ رہ کر، عدیل پر غصہ آ رہا تھا۔۔ اسے امید نہیں تھی کہ وہ حقیقت سے بھاگنے والا کوئی بھگوڑا نکلے گا۔۔!!
خیر، وہ اُس پر ڈھیر ساری لعنتیں بھیجتی، کچن کی طرف گئی۔۔ اب وہ بےچاری کر بھی کیا سکتی تھی سوائے لعنتیں بھیجنے کے۔
×××
اس نے فریج سے اپنے لیے کھانا لیا اور گرم کرنے لگی کہ وہاں عادل آ دھمکا، وہ شاید پانی پینے کی غرض سے وہاں آیا تھا۔۔ کتنا بدلا بدلا سا لگ رہا تھا وہ۔۔!! عنقا کو وہ بالکل اجڑا ہوا، ناراض اور بکھرا سا لگا۔
عادل کو اسے وہاں دیکھ کر ایک دم غصہ سا آیا، وہ غصے میں ہی اس کے قریب گیا۔۔ “تم نے بہت ہی گھٹیا حرکت کی ہے۔۔!! تم تو مجھ سے محبت کرتی تھیں ناں۔۔تو پھر مجھ پر، اتنا بڑا ظلم کیوں کیا۔۔؟؟ جواب دو ۔۔!!” وہ اپنا غصہ دباتا، الفاظ چباتا، تلخی سے گویا ہوا۔۔
اس نے ، عنقا کے بازو کو سختی سے دوبوچ کر پوچھا تھا۔
عادل کی تکلیف، اس کا کاٹ دار لہجہ، اس کے الفاظ۔۔!! سب کے سب ، عنقا کے دل پر برسے تھے، “عادل۔۔!!” اس نے ہلکی سی آواز میں سسک کر کہا۔
اور اگلے لمحے وہاں ایک اور شخص کا اضافہ ہوا۔۔ عدیل ان کی باتوں کا ہلکا ہلکا سا شور سنتا ہوا وہاں آیا تھا۔
ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر وہ اندر تک جلا تھا۔

ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر وہ اندر تک جلا تھا۔
عادل نے ایک کٹیلی نگاہ عدیل پر ڈالی، تنفر سے عنقا کے بازو کو جھٹکا دے کر دور کیا اور ایک ناگوار نظر، ان دونوں پر باری باری ڈالتا ، وہاں سے چلا گیا۔
“کیا کر رہی تھیں اس کے ساتھ۔۔؟؟” عدیل غضب ناک ہوا، اور لفظوں کو چباتے ہوئے غصے سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔
“ک کچھ نہیں۔۔وہ میں۔۔ میں تو اپنے لیے کھانا لینے آئی تھی۔۔” عنقا ڈرتے ہوئے بولی۔
وہ بے چاری تو مفت میں ہی پھنسی تھی۔
“اچھا۔۔!! تم شاید مجھے اندھا سمجھتی ہو۔۔!! ویسے تمہاری اوقات ہی یہی ہے کہ ایک مرد کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسرے مردوں کے ساتھ تعلقات نبھاتی پھرو۔۔!!” عدیل، طنزیہ مسکراہٹ اچھالتے ہوئے زہریلے لہجے میں بولا۔
اس نے کچھ سوچے سمجھے بغیر ہی، کھلے عام، اس کے کردار پر چوٹ کی تھی، یہ سن کر عنقا کو شدت کا غصہ آیا، اس کا سارا ڈر اور خوف کہیں غائب ہوا اور نجانے اس میں کہاں سے اتنی ہمت آئی کہ اس نے، ایک زور دار تھپڑ عدیل کے منہ پر دے مارا۔
“It’s enough Adeel”
وہ غصے سے چلائی۔۔ اور اسے حیرت زدہ چھوڑ کر ، تیز تیز قدم بڑھاتی، اپنے کمرے کی طرف گئی۔
وہ بے یقینی سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔ اس کے جاتے ہی ، اِس کا سکتہ ٹوٹا، وہ اپنے حواس میں واپس لوٹا تھا اور لوٹتے ہی ، وہ غصے میں دندناتا ہوا، عنقا کے پیچھے گیا۔
×××
وہ اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑا زور زور سے دروازہ پیٹ رہا تھا، “دروازہ کھولو۔۔!! عنقا۔۔!! میں کہتا ہوں۔۔ کھولو دروازہ۔۔!!” وہ گلا پھاڑ کر بلند آواز میں دھاڑ رہا تھا۔
اس کی مام کو اسکی آوازیں سنائی دے رہی تھیں لیکن وہ شاید اس کے معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔ اگر وہ مداخلت کر بھی لیتیں تو وہ جانتی تھیں کہ اس وقت عدیل جس حالت میں ہے۔۔ وہ مزید کوئی بگاڑ پیدا کرلے گا۔۔سو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے۔۔ اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر ، اپنے مشاغل میں مصروف رہیں، یہی حال مصطفیٰ صاحب کا بھی تھا۔
عدیل کے، پانچ منٹ تک مسلسل دروازہ بجانے کے باوجود بھی، عنقا اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔۔ نہ ہی اس نے، اٹھ کر دروازہ کھولا، بلکہ وہ تب سے اب تک ، کمرے کے ایک کونے میں دُبک کر بیٹھی تھی۔۔ اور مسلسل رو رہی تھی۔
اس کی حالت عجیب تھی ، وہ ڈر بھی رہی تھی اور نہیں بھی۔۔ وہ اس سے بھاگنا بھی نہیں چاہتی تھی اور اس میں سامنا کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔
×××××
“عنقا۔۔!! میں آخری بار کہہ رہا ہوں۔۔ دروازہ کھولو۔۔!!” وہ بری طرح بپھرا تھا۔۔ اور اب ،اچھا خاصا زچ ہو چکا تھا۔
“اگر نہیں کھولا تو۔۔؟؟” نہ چاہتے ہوئے بھی ، اس کی آواز میں، ہلکی سی کپکپاہٹ در آئی تھی۔
“نہیں کھولا تو میں دروازہ توڑ کر اندر آجاؤں گا اور پھر تم اپنا حشر دیکھنا۔۔!! زندہ نہیں بچو گی میرے ہاتھوں۔۔!!” اس نے دھمکی دی۔
“نہیں۔۔ پھر میں نہیں کھولتی۔۔ دروازہ توڑو اور آجاؤ۔۔!!” وہ دروازے کے پاس آ کر کھڑی ہوئی اور سکون سے مکالمے بازی کرنے لگی۔۔
“عنقا۔۔!!!” وہ غصے سے دھاڑا۔۔ اب بس ، اس کی برداشت ختم ہوتی جارہی تھی۔
“کیا ہے۔۔!!” اس نے ڈھیٹوں کی طرح، سکون سے ، الٹا سوال کیا، جس پر عدیل کو مزید تپ چڑھی۔
“دروازہ کھولو۔۔!!”اس نے چِڑھ کر کہا۔
“اچھا۔۔ اگر کھول دیا تو کیا گارنٹی ہے کہ تم مجھے کچھ نہیں کہو گے۔۔!!” اس نے متوقع خدشہ سامنے رکھتے ہوئے، شرط رکھنے والے انداز میں کہا۔
“تمہاری تو۔۔۔!! دروازہ کھولو۔۔!!” اس نے دروازے پر زور سے لات مارتے ہوئے کہا۔
“اچھا بابا۔۔!! کھولتی ہوں۔۔ لیکن پہلے وعدہ کرو۔۔ مجھے کچھ کہو نہیں کہو گے۔۔!!” اس نے باقاعدہ شرط رکھی۔
عدیل کو اس پر بے تحاشا غصہ آ رہا تھا، اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایسی حرکتیں کرے گی۔۔!!
اور دیکھو تو۔۔ میڈم۔۔ شرطیں ایسے رکھ رہی ہے جیسے وہ اس کی لاڈلی بیوی ہو۔۔ اور وہ ابھی ہاں میں ہاں ملاتا ااس کی بات مان جائے گا۔
اس کا تھپڑ والا غصہ ،راستہ بھٹک کر کہیں اور ہی چلا گیا، اب تو بس اسے ایک ہی ٹینشن تھی۔۔ اور وہ بھی دروازہ کُھلوانے کی۔۔!!
وہ سارا دن ، اِدھر اُدھر آوارہ گردیاں کرتا رہا تھا، اور اسے جب شدت سے آرام کی طلب محسوس ہوئی تو وہ گھر لوٹا، گھر آنے کے بعد ایک کے بعد ایک ڈرامے نے، اس کی بچی کُچی انرجی بھی ہڑپ لی تھی۔
“نہیں کھا رہا میں تمہیں۔۔!! اب کھولو دروازہ۔۔!!” وہ سُلگ کر بولا۔
“نہیں ایسے نہیں۔۔ پہلے وعدہ کرو۔۔” عنقا کی ڈھٹائی عروج پر تھی،
اس نے اپنا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر رکھا تھا کہ اس کے وعدہ کرتے ہی وہ سچ مچ میں کھول دے گی، لیکن پھر پتہ نہیں اسے کیا سوجھی اس نے پورے دس سیکنڈ تک ہینڈل کو گھورا، اور مزید ڈائیلاگ بازی کا ارادہ ترک کرتے، تھوڑا ڈرتے ڈرتے ہینڈل گھمایا۔
وہاں عدیل، دروازہ توڑنے کی غرض سے تھوڑا پیچھے سرکنے کے بعد تیزی سے آگے کو لپکا تھا۔۔
اسی لمحے عنقا بھی دروازہ کھول چکی تھی، نتیجتاً، عدیل کا توازن بگڑنے سے، دھڑام سے ، سامنے کھڑی عنقا سمیت زمین بوس ہوا۔
“ہائے میری کمر۔۔!!” عنقا چیخ کر بولی۔

“ہائے میری کمر۔۔!!” عنقا چیخ کر بولی۔
عدیل فوراً سے پہلے اٹھا، اور عنقا زمین پر لیٹی لیٹی کراہ رہی تھی۔
“جنگلی آدمی۔۔!! کمرے میں ایسے داخل ہوتے ہیں کیا؟” عنقا غرائی۔
“دروازہ کھولنا تھا تو بتا نہیں سکتی تھیں۔۔!!” عدیل ناک چڑھا کر تھوڑا برہمی سے کہا۔
عنقا نے ، اس کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور “سی” کی آواز نکالتی کراہتی ہوئی اٹھی۔
عدیل، اس کے دیکھنے کے انداز پر تپا تھا اور اس سے بڑھ کر کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگا۔
“اب کیا ہے۔۔ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔؟؟” عنقا اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف ، ہلکا سا موڑ کر ، اپنی کمر سہلاتے ہوئے، غصے سے بولی۔
“تم ۔۔ کچھ زیادہ ہی فرینک ہو رہی ہو۔۔!!” عدیل لفظوں کو چباتے ہوئے ، غضب ناک ہو کر بولا اور اس کے قریب آیا۔
“بس اب بہت ہوگیا، اپنی اوقات میں رہنا سیکھو!! اور اپنے یہ کڑے تیور ذرا قابو میں رکھا کرو۔۔!! سمجھیں۔۔!!” عدیل نے اپنا ہاتھ، اس کے سر تک لے جا کر، اس کے بالوں کو سختی سے اپنی مٹھی میں جکڑ کر کہا۔
“آہ۔۔!! جنگلی کہیں کے میرے بال چھوڑو۔۔!!” عنقا ، اس کے احکام پر کان دھرے بغیر، زور چلائی۔
عدیل کو اس کی ہٹ دھرمی پر رج کے غصہ آیا اور پھر اس کا مارا ہوا تھپڑ بھی یاد آ گیا۔
اس لیے، اس نے اس کے بال چھوڑ کر ، چہرے پر زور دار طمانچہ مارا اور عنقا کے مارے گئے تھپڑ کا بدلہ لیتے ہوئے سختی سے خبردار کیا۔۔
“اب مجھے اس نام سے پکارا تو واقعی جنگلی بن کر دکھاؤں گا، اور یہ جو تم تھوڑی بہت سلامت نظر آ رہی ہو ناں، یہ بھی نہیں آؤ گی۔۔!! اور دوسری بات۔۔ میں کوئی تمہارا عاشق یا بوائے فرینڈ نہیں جو یہ “تم،تم” کہہ کر بدتمیزی سے مخاطب کرتی ہو۔۔ آئیندہ اپنے لیے، تمہارے منہ سے، یہ طرزِ تخاطب دوبارہ نہ سنوں۔۔!! تم بھی مجھے اریزے کی طرح۔۔”آپ” کہہ کر مخاطب کیا کرو۔۔!! میری باتیں اچھی طرح ذہن میں بٹھا لو۔۔۔!!”
وہ، اسے اپنی قہر آلود نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
عدیل کی حرکات اور اس کے الفاظ نے ایک بار پھر عنقا کو رُلایا،
“تم جنگلی ہو۔۔ اور میں تمہیں جنگلی ہی کہوں گی۔۔!! چاہے۔۔ جو مرضی کرلو۔۔ اور تم بھی یہ بات اپنے ذہن میں رکھ لو کہ میں اریزے نہیں ہوں۔۔ میں تمہیں “تم” ہی کہوں گی۔۔ اریزے تم سے محبت کرتی تھی اور تمہاری عزت بھی۔۔!! جبکہ میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔۔ اور عزت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔!!” عنقا ڈھیٹ بنی رہی۔
عدیل نے اُس کی ہٹ دھرمی پر برہمی سے گھورا اور غصے سے “میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ” کہتا اپنی واڈروب تک گیا، اور رات کے پہننے کے کپڑے نکالنے لگا،
“اور تم میری طرف سے بڑی والی بھاڑ میں جاؤ۔۔” عنقا بھی، اسی کا لہجہ، اسے واپس لوٹاتی، پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔
××××
عنقا، کمرے سے باہر نکل کر دوبارہ کچن کی طرف گئی، اتنی لڑائیوں کے بعد اس کی بھوک مزید بڑھ چکی تھی۔
کچن تک جاتے ہوئے، اس کی نظر، لاؤنج میں بیٹھے عادل پر پڑی تھی جسے وہ بڑی شان سے نظر انداز کر گئی، ” تم نے بھی سارا الزام مجھ پر ڈال دیا۔۔ہو تو تم بھی اپنے بھائی جیسے۔۔!!” اس نے دُکھ سے سوچا اور پھر، اس کے متعلق مزید کچھ بھی سوچنے سے خود کو باز رکھتے ہوئے اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔
اس کا دل، عادل سے بھی کھٹا ہو چکا تھا۔
ظلم صرف اس کے ساتھ تو نہیں ہوا تھا۔۔ عنقا بھی تو مفت کی سزا بھگت رہی تھی۔۔ پھر وہ کیسے سارا الزام اس پر دھر سکتا تھا۔۔ کیسے اس سے شکوہ کر سکتا تھا کہ اُس نے گھٹیا حرکت کی۔۔!!
وہ تو مجبور تھی، اپنے ماں باپ کے آگے، وہ مجبور تھی۔۔عدیل کی زندگی کے آگے۔۔!! اگر وہ نہ مانتی تو عدیل پھر سے خودکشی کی کوشش کر سکتا تھا۔۔ اور ایسے میں، اُسے اپنا آپ ، عدیل کا قاتل لگتا۔۔ وہ کیسے اس گلٹ کے ساتھ زندہ رہتی کہ ایک اور شخص اس کی وجہ سے مرا ہے۔۔!! اریزے والا دکھ کم تھا جو وہ ایک اور تکلیف بھی ، اپنے حصے میں لے لیتی۔۔!!
××××
عنقا، کھانا وانا کھا کر ، برتن سمیٹ کر واپس گئی تو عدیل نے دروازہ اندر سے لاک کر رکھا تھا۔
عنقا نے ، شدت سے تلملائی تھی۔
” اللّٰه کرے۔۔ تمہیں ساری رات نیند نہ آئے، اللّٰه تم سچ مُچ میں بھاڑ میں جاؤ۔۔!!” وہ، اس کو، اونچی آواز میں کوستی ہوئی وہاں سے چلی گئی اور جا کر گیسٹ روم میں سوئی۔
عدیل نہ اس کی بددعائیں ، ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے کی کوشش کی، پر نکال نہ سکا۔
اسے۔۔ عجیب سی بے چینی کا احساس ستانے لگا تھا۔۔ جسے وہ کوئی نام نہ دے پایا، رات کے دو بج چکے تھے اور وہ کروٹوں پر کروٹیں بدلے جا رہا تھا۔ نیند تو جیسے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
قرآن میں اللّٰه تعالیٰ فرماتا ہے: “جو لوگ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بغیر کسی جرم کے تہمت لگا کر تکلیف پہنچاتے ہیں، تو یقیناً وہ لوگ بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔”
(سورۃ الاحزاب:58)
عدیل نے بھی تو مفت میں عنقا پر تہمت لگائی تھی کہ اس نے، اریزے کو مارا ہے۔۔ جبکہ ایسا کچھ نہیں تھا۔۔ اور یہ بات وہ خود بھی اچھے سے جانتا تھا۔۔لیکن پھر بھی، اس نے ایسا کیا۔۔ پھر بھی یہ سارا ڈرامہ رچایا۔۔ پھر بھی وہ اس کو اذیت پہنچا رہا تھا۔۔ اور بہت گناہوں کا بہت سارا بوجھ، اپنی روح پر لاد رہا تھا۔
اپنی من مانی کرکے۔۔ اس کی انا کو قرار آیا تھا۔۔ مگر یہ کیا۔۔ انا کے ہاتھوں کٹھ پتلی بننے کے چکر میں، اس نے جو، اپنے ضمیر کو بے ہوشی کی نیند سلایا تھا۔۔وہ ضمیر اب جاگنے لگا تھا۔
رات کی تاریکی میں۔۔۔ اس کے ذہن پر چھائے اندھیرے، ختم ہونے لگے تھے۔۔ ابھی تو ایک دن بھی نہیں گزرا تھا عنقا پر ظلم کیے۔۔ اور ابھی سے وہ بے چین ہوگیا تھا۔۔ ابھی سے ، اس کی عقل پر پڑا پردہ، اترنے لگا تھا۔
خیر ابھی تو اس کے اندر کی یہ تبدیلیاں رونما ہونے کے اولین مراحل میں تھیں۔۔ ابھی رونما ہوئی نہیں تھیں۔۔ سو۔۔ ذرا سا وقت تو لگنا تھا۔۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہونے میں۔۔ذرا سا وقت تو لگنا تھا سنبھلنے میں۔۔!!
وہ کچھ دیر مزید، اس نا سمجھ میں آنے والی بے چینی کا شکار رہا اور پھر اللّٰه اللّٰه کرکے، تین بجے کے بعد، نیند اس پر مہربان ہوئی اور اس کی بے چینی میں کمی واقع ہوئی۔

وہ کچھ دیر مزید، اس نا سمجھ میں آنے والی بے چینی کا شکار رہا اور پھر اللّٰه اللّٰه کرکے، تین بجے کے بعد، نیند اس پر مہربان ہوئی اور اس کی بے چینی میں کمی واقع ہوئی۔
وہ دو گھنٹے ہی سویا تھا کہ پھر اس کی نیند میں خلل پیدا ہوا اور وہ جاگ گیا۔ اسے بلا وجہ ہی ہلکے ہلکے پسینے آنے لگے، اس کا حلق بھی قدرے خشک ہوا تھا، سو وہ اٹھا اور کمرے کا لاک کھول کر پانی پینے کے لیے کچن تک گیا، پھر اسے یاد آیا کہ اس نے تو رات کو عنقا کو کمرے میں آنے ہی نہیں دیا تھا۔
اس نے پانی پینے کے بعد اِدھر اُدھر نظریں دوڑا کر دیکھا تو وہ کہیں نہیں تھی، سامنے عادل کا کمرہ تھا،اس سے پہلے وہ اس پر کسی قسم کا شک کرتا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی، اسے عنقا کا مارا گیا تھپڑ یاد آیا تھا، وہ حیران تھا کہ یہ یاد آنے پر وہ مسکرایا کیسے۔۔!!
بہرکیف، اس کے قدم گھر کے گیسٹ روم کی طرف مائل ہوئے، اسے یقین تھا کہ وہ وہیں ہو گی، وہ گیسٹ روم تک گیا تو وہاں کا دروازہ چوپٹ کھلا تھا اور وہ اندر شہزادیوں کی سی بے فکری لیے، بڑے مزے سے گہری نیند میں غرق تھی۔
عدیل کو اس کی پرسکون نیند پر بڑا رشک آیا، اس کا دل کیا کہ اسے جگا کر اس کی نیند کا بیڑہ غرق کردے، اس کا سکون تہس نہس کر دے لیکن اگلے لمحے ، اس نے اپنی یہ جارحانہ سوچ جھٹک کر ، اس معصوم پر مہربانی کی اور خود ، بیڈ کی بائیں جانب پڑے صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا،اس نے اپنی پلکیں، ذرا سی جھکا لی تھیں اور پھر نجانے کیوں۔۔!! وہ وہاں بیٹھا، بے مقصد ہی ، اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے عنقا کا معصوم اور طمانیت سے بھر پور چہرہ دیکھتا گیا۔
اس کے بعد چند منٹوں میں ، ایسی بے آرام سی حالت میں بیٹھا ہونے کے باوجود بھی وہ سو چکا تھا، کچھ دیر بعد، فجر کی اذان کی آواز سے اس کی دوبارہ آنکھ کھلی، وہ نماز پڑھنے کے خیال سے وہاں سے اٹھا اور وضو کرنے چلا گیا۔
نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد وہ خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا، اریزے کے جانے کے بعد یہ اس کی پہلی نماز تھی اور اس کے آنے سے پہلے بھی وہ بہت بے قاعدگی سے ، کبھی کبھی ہی پڑھا کرتا تھا۔
اریزے جتنی بھی ماڈرن سہی لیکن نماز کی پابند ضرور تھی اور اپنی موجودگی میں عدیل کو بھی پابند بنا چکی تھی۔
یقیناً ، وہ عدیل کی زندگی میں ایک حسین اضافہ تھی۔
×××××××
عنقا کی صبح جس وقت آنکھ کھلی، تب تک عادل اپنی یونیورسٹی اور عدیل اپنے آفس جا چکا تھا، مصطفیٰ صاحب کو آج اپنا منتھلی چیک اپ کرانے ڈاکٹر کے ہاں جانا تھا ، اس لیے وہ آج آفس نہیں گئے اور فوزیہ بیگم کی بھی آج کوئی خاص مصروفیت نہ تھی اس لیے وہ بھی آج گھر پر ہی موجود تھیں۔
عنقا کو حیرت تھی کہ اس جنونی پلس جنگلی آدمی نے، دوبارا کوئی وحشیانہ حرکت نہیں کی، وہ اٹھتے ہی اپنے کمرے میں واپس آئی، اس نے واڈروب کھول کر، عدیل کے کپڑوں کے ساتھ، ہینگرز میں لٹکے، نفاست سے استری کیے گئے، اریزے کے نئے نکور کپڑوں میں سے رائل بلو اور وائٹ کلر کے کامبینیش والا، ایک ڈریس نکالا اور فریش ہونے کے لیے چلی گئی۔
×××××
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لے رہی تھی، اریزے کا سوٹ، اس پر کافی جب رہا تھا، اسے اس لمحے شدت سے اریزے کی یاد آئی، اسے رونا بھی آیا کہ کیسے وہ کچھ دن پہلے تک، ہر اس چیز کی مالکن تھی جس کا حق، آج ، قسمت نے بڑے وثوق سے، عنقا کے سپرد کیا تھا، اور اسے نہ چاہتے ہوئے بھی، اپنی بہن کی چھوڑی گئی ہر چیز پر ، زبردستی، اپنا قبضہ لینا پڑا۔۔۔ وہ حقیقتاً، اندر تک دکھی تھی۔
بہر کیف، اس نے بہت کوشش کر کے، بڑی مشکل سے، اپنے تواتر سے بہتے آنسوؤں کو، مزید بہنے سے روکا اور پھر سے منہ دھو کر آئی، اس کے بعد اس نے اپنے الجھے ہوئے خراب حال بالوں کو سنوار کر، سلیقے سے ، پونی ٹیل میں سیٹ کیا اور میک اپ کے نام پر، سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر ترتیب سے رکھی گئی لپ اسٹکس میں سے، لائٹ پنکِش، کیرٹ کلر کی لپ اسٹک لے کر لگائی۔
×××××
اب، تقریباً، صبح کے دس بجے کا وقت تھا، اس وقت ملازمہ بھی گھر پر تھی ، اس لیے عنقا نے اسے اپنے ناشتے کا کہا اور خود ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھی انتظار کرنے لگی۔
اتنے میں مسٹر اینڈ مسز مصطفیٰ بھی وہاں تشریف لے آئے، شاید ان دونوں نے بھی ابھی تک ناشتہ نہیں کیا تھا۔ ان دونوں کے آنے پر عنقا نے بڑے احترام اور عزت سے، لہجے کو بالکل نارمل رکھتے ہوئے، سلام ہی کیا تھا کہ ملازمہ بھی آن بھی پہنچی، اس نے ناشتہ سرو کیا اور چلی گئی، عنقا بھی اپنے سلام کا جواب پا کر ، کھانے میں مشغول ہوگئی، جبکہ وہ دونوں، پیچھے متعجب تھے کہ یہ اتنی نارمل کیسے ہے۔۔!!
ایک ان کا بیٹا تھا کہ بات بات پھر طوفان کھڑا کر دیتا تھا اور یہ تھی کہ جس پر گزرے واقعات کی تکلیفوں کی کوئی چھاپ تک نظر نہ آئی، ان دونوں کے عدیل کے ہر سلوک کی مکمل سُن گن تھی، اب تو اپنے آپ میں ہی حد درجہ شرمندگی محسوس کر رہے تھے۔
جبکہ عنقا نے اپنے کسی عمل سے، ان کو شرمندہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، کیوں کہ ہر دفعہ کسی کی زیادتیوں کا بدلہ جوابی کارروائی سے نہیں لیا جاتا ، کبھی کبھار ، اپنے حوصلے اور ظرف کی طاقت سے بھی اگلے کو شکست دی جا سکتی ہے، اور وہ، اس وقت غیر دانستہ طور پر ، ان کو اسی طرح شکست دے چکی تھی۔
اس کے علاؤہ، اس کا قسمت اور اس کے ہر کھیل پر بھرپور اعتقاد تھا، اس لیے وہ اپنے ساتھ ہوئے سانحے، اپنے ساتھ ہوئی ٹریجڈی پر، اللّٰه سے، جو تھوڑا سا شکوہ کرنے کا اردہ رکھتی تھی، اس نے وہ بھی ترک کر دیا۔
وہ بہت صبر کے ساتھ، اللّٰه سے گلے کرنے کی تمام نیتیں بھی بدل چکی تھی، اس نے اپنی قسمت سے سمجھوتا کر لیا تھا، اس نے ہر چیز کو قبول کر لیا تھا۔۔ شاید اپنے رشتے کو بھی۔۔!! شاید عدیل کو بھی۔۔!!
××××
ناشتے کے بعد ، اس نے عدیل کے کمرے سے اپنے لیے کچھ چیزیں اکھٹی کیں اور گھر کے لاکڈ کمروں میں سے ایک کمرہ کھلوا کر اسے اپنے لیے سیٹ کروایا۔
اب اس کی روزانہ کی روٹین یہ تھی کہ وہ عدیل کی موجودگی میں خود کو کمرے میں بند کر لیتی اور اس کے جانے بعد کچھ دیر گھر کے لان میں واک کرتی یا پھر اپنی امی سے فون پر باتیں کر لیتی تھی۔۔ اس کا ظرف تھا کہ اس نے اپنے والدین سے بھی کوئی گلہ نہیں کیا تھا۔
عنقا کو ایک بات پر شدید تعجب تھا کہ عدیل نے اُس کے ، اس اقدام پر کیوں کسی قسم کا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کر رہا۔۔؟؟ باقی گھر والے تو اس کے لیے، تھے ہی گونگے بہرے۔۔!! اور پتہ نہیں کیسے۔۔!! عادل میں سے بھی اس کا سارا انٹرسٹ خود بخود ختم ہوچکا تھا۔۔!!
تقریباً دو ہفتے گزرنے کو تھے اور عدیل کی طرف سے خاموشی برقرار تھی، نہ عنقا کی روٹین تبدیل ہوئی، نہ عدیل کا سکوت ٹوٹا۔۔!! اس کے پہلے دن والی حرکات دیکھ کر تو عنقا کو ایسا لگا تو نہیں تھا کہ وہ اسے ، اس طرح سکون سے جینے دے گا۔۔۔ اس لیے ، اس کا بے ضرر برتاؤ، عنقا کو شدید حیرت میں مبتلا کر رہا تھا۔۔!!
عدیل کو خود بھی اپنا یہ رویہ، بالکل سمجھ نہ آیا۔۔!! وہ تو خود بھی اس کو ، مستقل اذیتیں دینے کے ارادے سے بیاہ کر لایا تھا۔۔!! پھر وہ کیوں اسے، اس کے حال پر چھوڑ کر سکون سے جینے دے رہا تھا۔۔ وہ کیوں اسے کوئی تکلیف نہیں دے پا رہا تھا۔۔!!
شاید وہ سمجھ چکا تھا۔۔ کہ اریزے کی موت میں عنقا کا کوئی ہاتھ نہیں۔۔ شاید اس نے یقین کر لیا تھا۔۔ کہ اس کی موت حادثاتی تھی۔۔ جس میں کسی اور کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔۔!!
اور اب تو اسے اپنی حرکت پر بھی کچھ کچھ افسوس ہونے لگا تھا۔۔ عادل کی شکل دیکھ کر اسے احساس ہوتا تھا۔۔ کہ اس نے، اس کے ساتھ بالکل اچھا نہیں کیا۔۔!!

اور اب تو اسے اپنی حرکت پر بھی کچھ کچھ افسوس ہونے لگا تھا۔۔ عادل کی شکل دیکھ کر اسے احساس ہوتا تھا۔۔ کہ اس نے، اس کے ساتھ بالکل اچھا نہیں کیا۔۔!!
لیکن اس افسوس کی شدت اتنی تیز نہ تھی کہ وہ مکمل طور پر اپنی غلطی تسلیم کرتا یا پھر معافی مانگ کر سب کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا۔ وہ ابھی تو وہ پچھتاوے کے ان مراحل میں تھا جہاں صحیح اور غلط ، اُس پر واضح ہونے لگے تھے۔
××××
دو ہفتے اطمینان سے ضائع کرنے کے بعد عنقا کو یونیورسٹی کی یاد آئی۔۔اس لیے اس نے ، کل صبح سے، یونیورسٹی جانے کا ارادہ کیا، اس مقصد کے لیے اسے اپنی کتابیں اور دوسری ضروری چیزیں درکار تھیں ، جو اس کی امی کے گھر پر تھیں۔
شام کا وقت تھا۔۔ اس وقت سب گھر پر ہی تھے۔۔ لیکن اسے پریشانی ہورہی تھی کہ وہ کس کو امی کے گھر لے جانے کا بولے۔۔!! اس نے سوچا کہ عادل کو کہہ دے۔۔!! لیکن پھر اس نے، اس گھر میں ، اپنی بدلی ہوئی حیثیت کا خیال کرتے ہوئے، اپنی سوچ کو جھٹکا۔۔!!
اب اس نے سوچا کہ کیوں نہ عدیل کے سر یہ ذمہ داری ڈالی جائے۔۔!! لیکن مسئلہ یہ تھا کہ آخر وہ اس کو کیسے جا کر کہے۔۔!! ایک تو وہ ویسے ہی عنقا کو بہت برا لگتا تھا۔۔!! بھلے اس نے، اسے ایکسیپٹ کر لیا تھا ، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں تھا کہ وہ اس کو پسند ہی کرنے لگ جائے۔۔!! بلکہ وہ تو اس سے نفرت کرتی تھی۔۔!! شدید نفرت۔۔!! اب قبول کرنا اور پسند کرنا تو دو مختلف چیزیں ہیں ناں۔۔!!
بھلے ہی اس کا دل ، عادل سے اچاٹ ہو چکا تھا۔۔!! اور وہ اب اس کے متعلق کچھ خاص محسوس نہیں کر پاتی تھی۔۔ لیکن جو کچھ عدیل نے اس کے ساتھ کیا تھا۔۔ وہ اپنی جگہ قابلِ مذمت تھا۔۔ جس قدر گری ہوئی حرکت ، اس نے انجام دی تھی۔۔ اس کے صلے میں وہ اس سے نفرت ہی کر سکتی تھی۔۔!!
کافی سوچنے کے بعد ، اسے واحد حل یہی نظر آیا کہ وہ عدیل کو جا کر بولے۔۔!!
اسے معلوم تھا کہ وہ اس وقت اپنے روم میں ہی موجود ہوگا۔۔ اس لیے اِدھر اُدھر جانے کی بجائے، وہ ڈائریکٹ، اس کے کمرے میں گئی، وہاں داخل ہونے سے پہلے اس نے ناک کرنا ضروری سمجھا۔۔!!
وہ اپنا لیپ ٹاپ، گود میں رکھے۔۔ شاید آفس کا کوئی کام کرنے میں مصروف تھا، ڈارک براؤن کلر کی کاٹن کی شلوار قمیض، اس پر خاصی جچ رہی تھی، لیپ ٹاپ کے کی پیڈ پر تیزی سے حرکت کرتی انگلیاں، عنقا کی آمد پر رکی تھیں۔
وہ منہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔ یقیناً وہ حیران تھا۔۔ اور عنقا کا ایسے اچانک ، اس کے سامنے آنا۔۔ اسے تعجب میں مبتلا کر گیا۔۔ کیوں اس کی آمد بالکل غیر متوقع تھی۔
“مجھے امی کے گھر جانا ہے۔۔!!” عنقا نے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے تحکم بھرے لہجے میں کہا۔
عدیل کو ، اس کا لہجہ بہت برا لگا تھا۔۔ وہ آرام سے کہتی تو شاید وہ اٹھ بھی جاتا۔۔ لیکن ، بے وجہ ۔۔ اتنا سخت لہجہ ۔۔!! عدیل نہیں برداشت کر پاتا تھا۔
“میں بزی ہوں۔۔ خود چلی جاؤ۔۔۔یا کسی اور کو لے جاؤ” اس نے عنقا کی طرف دیکھے بغیر، لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظر جماتے ہوئے جواب دیا۔
اس کے لب و لہجے میں ، طرزِ تکلم میں، بدلاؤ سا تھا۔وہ پہلے کی طرح جارحانہ اور بدتمیزی سے معمور نہیں تھا۔ بلکہ وہ تو پورا کا پورا بدلا ہوا سا لگ رہا تھا۔۔ جیسے کسی گہرے روگ کی زد میں ہو۔
اس کے لہجے میں بھی ٹھہراؤ سا تھا۔۔ عنقا کو جواب دیتے وقت ناگواری کا اظہار اپنی جگہ۔۔ لیکن لہجے کا ٹھہراؤ بھی اپنی جگہ قائم تھا۔
اور شکل صورت تو صدیوں کے بیمار جیسی لگ رہی تھی۔۔ وہ اریزے کے لیے، اندر ہی اندر گُھلنے لگا تھا۔۔ اس کی حالت ایسی تھی کہ جیسے کچھ عرصے میں وہ بالکل ہی ختم ہو جائے گا۔
“مسٹر۔۔!! مجھے کسی اور کے ساتھ نہیں۔۔ تمہارے ساتھ جانا ہے۔۔!!” عنقا کی سابقہ ٹون اب بھی برقرار تھی۔
“اور میں مصروف ہوں۔۔!!”
“اچھا۔۔!! اگر میں آج گئی تو دوبارا نہیں آؤں گی۔۔!!”
“مت آؤ۔۔ مجھے کیا۔۔، ویسے بھی میں نے سوچا تھا کہ تم سے کہوں، واپس چلی جاؤ۔۔!! اچھا ہے خود جا رہی ہو۔۔!!” انداز ہنوز لاپرواہ اور مصروف تھا۔۔
عنقا اس کے کہنے پر تلملا کر رہ گئی، اس نے ، اس ہے کمرے سے جاتے ہی سامان پیک کیا اور اوبر منگوا کر گھر کو روانہ ہوئی۔
اسے رہ رہ کر عدیل پر غصہ آ رہا تھا۔۔ “اتنا بےزار تھا۔۔ تو لایا کیوں۔۔؟؟ چھوڑنا ہی تھا ، کوئی ذمہ داری نہیں اٹھانی تھی تو پھر کیوں شادی کی۔۔!!”
اس نے بگڑ کر سوچا۔۔ اور پھر اگلے لمحے اپنی استفساری سوچوں کا جواب بھی دیا۔۔
“اففف۔۔!! میں بھی کیسے جذباتی ہو کر سوچ رہی ہوں۔۔ انتقام لینے کے لیے شادی کی تھی اس نے۔۔!! کوئی لو میرج تھوڑی ہے۔۔ جو میری بات مانے گا یا ذمہ داری اٹھائے گا۔۔!!”
“اگر انتقام کے لیے شادی کی تھی۔۔ تو کم سے کم وہ ہی لے لیتا۔۔!! ایسے جانے کا کیوں کہہ رہا ہے۔۔!!” اس نے ایک نئے پہلو پر غور کیا۔۔ عنقا کو۔۔ اس کی بات کچھ ہضم نہیں ہوئی تھی۔۔
“اوہ ہو۔۔ اچھا ہے کہ وہ کچھ نہیں کہہ رہا۔۔۔ میں بھی پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہی ہوں۔۔ میری طرف سے تو وہ بھاڑ میں جائے۔۔ کیا پتہ عقل آ گئی ہو گی اس کو۔۔!! جنگلی کہیں گا۔۔!!” اس نے سوچا۔۔
“نہیں نہیں۔۔ اب تو اس نے کوئی جنگلیوں والی حرکت نہیں کی۔۔!!” اس نے اپنے خیال کہ تصیح کی۔
××××
وہ اپنے گھر پہنچ چکی تھی اور بہت خوش تھی۔۔ اس کی امی بھی اس کے آنے پر بہت خوش ہوئیں۔ اور اس کے مستقل واپس آنے کا سن کر ، ان کو عجیب فکر لاحق ہوئی۔
😳🤐🤐🤐
نوٹ: کہانی کا اختتام کبھی بھی ہو سکتا ہے۔۔ پہلے اس لیے بتا رہی ہوں کہ پھر sudden اینڈ والا شکوہ مت کیجئے گا۔۔
اور مجھے پتہ ہے ایپیسوڈ شارٹ ہے۔۔!! اس کے لیے معذرت 🤦

وہ اپنے گھر پہنچ چکی تھی اور بہت خوش تھی۔۔ اس کی امی بھی اس کے آنے پر بہت خوش ہوئیں۔ اور اس کے مستقل واپس آنے کا سن کر ، ان کو عجیب فکر لاحق ہوئی۔
بے شک جیسے بھی حالات میں، اس کی شادی ہوئی ہو۔۔ اور جس کسی سے بھی ہوئی ہو۔۔ لیکن ایسے مستقل طور پر گھر آ کر بیٹھنا، واقعی پریشان کن تھا۔ لیکن جو بھی ہو۔۔ وہ اب اپنی بیٹی کو کسی چیز کے فورس نہیں کرنا چاہتی تھیں ، سلیمان صاحب کا بھی یہی کہنا تھا کہ جب تک وہ چاہے، یہاں رہ سکتی ہے۔
۔ل
×××××
صبح اس کے ابو اسے یونیورسٹی چھوڑ کر آئے اور باقی واپسی کے لیے ، یہ اپنے وین والے کو کال کر کے بتا چکی تھی۔ یونیورسٹی میں سب پہلے جیسا تھا، وہاں کے ہنگامے، چہل پہل، رونق ، کچھ نہیں بدلا تھا سوائے اس کے، عادل کے اور غانیہ کے بھی۔
اس سارے عرصے میں اس کا غانیہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اب وہ یونیورسٹی آئی تو غانیہ سے ملاقات ہوئی۔ اسے حیرت تھی کہ غانیہ نے ، گزرے دنوں کی بابت، اس سے کوئی سوال نہ کیا۔ بلکہ وہ تو الٹا۔۔ اسے خود سے ذرا کھینچی کھینچی نظر آئی، اس کے علاؤہ اُسے ایک اور چیز بھی دیکھنے کو ملی کہ غانیہ اور عادل کی آپس میں کافی اچھی انڈرسٹینڈنگ ہو چکی تھی، بالکل ویسی جیسے پہلے اس کی اور عادل کی تھی۔
یہ دیکھ کر، اس کے دل میں پھانس سی چُبھی، آدھا ادھورا سا آنسو بھی آنکھ سے بہہ نکلا۔۔ لیکن پھر ، اس نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے خود کو پرسکون کیا اور سوچا۔۔ “کچھ غلط نہیں کر رہا وہ، پچھلی باتیں بھلا کر زندگی میں آگے بڑھنے کا حق اسے بھی ہے۔۔”
اس نے ہر چیز، بہت کشادہ دلی سے قبول کی۔ اور پھر اپنے جھمیلوں میں مصروف ہو گئی، دن رات ، اپنی رفتار سے گزر رہے تھے، وہ دن بہ دن عجیب سی ہوتی جارہی تھی۔۔ خود کو کافی اکیلا اکیلا سا محسوس کرنے لگی تھی، طبیعت میں بھی عجیب چڑچڑا پن در آیا تھا۔
دن بھر پڑھنے لکھنے کے علاؤہ، اس کی کوئی دوسری مصروفیت بھی نہیں تھی۔ اس لیے جس وقت وہ فارغ ہوتی، خوب بور ہوتی تھی۔اس کی امی بھی اب چاہتی تھیں کہ وہ واپس چلی جائے، انہوں نے ایک دو دفع اس سے بات کرنے کی کوشش بھی کی لیکن یہ اس موضوع پر بات کرنے سے اتنا چڑ جاتی کہ اس کی امی کی پھر دوبارہ کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔
وہاں اُن موصوف کا بھی حال کچھ ایسا تھا، عدیل بھی عجیب چڑچڑا اور بدمزاج ہوگیا تھا، خیر یہ سب تو وہ پہلے بھی تھا لیکن اب اسکی بد مزاجی کی شدت پہلے سے بڑھ کر تھی، عموماً وہ خاموش اور اکیلا رہتا تھا، کسی سے بات بھی نہیں کرتا تھا، لیکن جب کوئی اس سے بات کرنے آتا تو وہ فضول میں ہی کڑوے کسیلے، الٹے سیدھے جواب دیتا، اور اس انداز میں دیتا کہ اگلا سلگ کر رہ جائے۔
اور ساتھ ہی وہ کافی کمزور اور بیمار بیمار سا لگنے لگا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر اس کے پیرینٹس کو خاصی تشویش ہوئی، وہ جو اس کے معاملات سے لاتعلق ہوئے بیٹھے تھے، انہیں بھی اپنی اس کوتاہی کا احساس ہوا۔
وہ جس کنڈیشن میں تھا، اسے توجہ کی سخت ضرورت تھی، پہلے ہی سب کچھ عدیل کی مرضی پر چھوڑ کر وہ لوگ کافی غلط فیصلے کر چکے تھے، ان کا گھر تھا کہ مردہ خانہ جیسا لگنے لگا تھا ، ہر جگہ سکوت، سرد پن اور خاموشی تھی، کوئی کسی سے بات نہیں کرتا تھا ، عادل تو گھر ہی بہت کم آتا تھا، اب اس کے مام ڈیڈ نے، ہمت کر کے، ان دونوں سے کئی بار بات کرنے کی بھی کوشش کی، وہ ان دونوں کو اپنی توجہ دینے کی کوشش کرتے، لیکن پھر بھی، وہی حال تھا۔ وہی خاموشی قائم تھی۔
فوزیہ بیگم کو ، اتنے دنوں سے عنقا کا گھر سے غائب رہنا بھی کھلنے لگا تھا۔ سو وہ عدیل کے پاس گئیں، وہ حسب توقع اپنے روم میں تھا۔ “مام آپ۔۔!! مجھے بلا لیا ہوتا۔۔” اس نے اپنی عادت سے بڑھ کر تمیز سے بات کی۔
“نہیں بیٹا۔۔ کام مجھے تھا تو اس لیے میرا آنا بنتا تھا۔۔” انہوں نے مسکرا کر جواب دیا۔
“کام؟ مجھ سے۔۔؟؟” اس نے تعجب سے پوچھا۔۔ کیوں کہ عام طور پر ، اس کی مام کو اس سے کوئی کام نہیں پڑتا تھا۔
“ہاں۔۔ تم سے کام ہے۔۔!! وہ میں کہنے آئی تھی کہ عنقا کو واپس لے آؤ، کافی دن ہو چکے ہیں اسے گئے ہوئے، تمہارے ڈیڈ بھی اسے یاد کر رہے تھے۔۔” ان کے لہجے میں مان بھرا تحکم تھا۔
“مام۔۔!! آپ کو اس کی یاد کیسے آگئی۔۔؟؟” اس نے بھی مسکرا کر، ان کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“مجھے نہیں پتہ کہ کیسے آئی ہے۔۔!! میں بس کہنے آئی ہوں کہ اس کو لے آؤ اور لانے کے بعد اس کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کرنا۔۔!!” انہوں نے منت کی۔
“میں نہیں لا رہا ۔۔ اپنی مرضی سے گئی تھی وہ، جب آنا ہوگا آجائے گی۔۔” اس نے دو ٹوک جواب دیا۔
“بیٹا ایسے نہیں کرتے۔۔ تم نے گھر دیکھا ہے۔۔ کیسا خالی خالی سا ہو گیا ، اتنا عرصہ ہوگیا ہے۔۔ گھر کی رونق ہی ختم ہو کر رہ گئی، بس اب بہت ہوگیا، ختم کرو یہ سب۔۔ انسانوں کی طرح رہو۔۔” انہوں نے تھوڑی تلخی سے کہا۔
“بس مام۔۔ میں اسے واپس نہیں لا سکتا۔۔” اس کا لہجہ بھی اٹل تھا۔

“بس مام۔۔ میں اسے واپس نہیں لا سکتا۔۔” اس کا لہجہ بھی اٹل تھا۔
“تو پھر اس کو طلاق دے دو۔۔!! کوئی فیصلہ لو۔۔!! یوں فضول میں اس بچی کی زندگی کی خراب مت کرو۔۔!! تم نے بہت پاگل پن دکھایا ہے اب تک، اور میں نے برداشت کیا۔۔!! پر اب نہیں بیٹا۔۔!!” اس مام سنجیدگی سے بولیں۔
” لیکن۔۔ مام۔۔!! وہ۔۔” ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ اس کی مام نے بات کاٹی۔
“It’s over now!! I can’t listen your nonsense excuses anymore!! Please!! My son!! Be serious”
(بہت ہوگیا!! اب میں مزید تمہارے فضول بہانے نہیں سنوں گی۔۔!! خدارا۔۔!! سنجیدہ ہو جاؤ۔۔!!میرے بچے۔۔!!)
انہوں نے دو ٹوک کہا اور وہاں سے چلی گئیں۔
عدیل نے زندگی میں پہلی دفع ، اپنی مام کو اتنا سنجیدہ دیکھا تھا۔۔!! اور وہ کیا کہہ گئی تھیں۔۔ “اس کو طلاق دے دو۔۔” “کیا میں یہ کر سکتا ہوں۔۔؟؟” اس نے خود سے سوال کیا۔۔ پر کوئی جواب نہ پا سکا۔
××××
واقعی سب کچھ بہت بگڑ چکا تھا، اتنا کہ اس کا ٹھیک ہونا اب بے حد مشکل تھا۔ اب تو عدیل نے بھی یہ بگاڑ محسوس کرنے لگا تھا۔۔ اب تو وہ بھی چاہتا تھا کہ سب ٹھیک ہو جائے۔
وہ عادل کو دیکھتا ، تو اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آتا کہ آخر وہ کیسے اتنا خودغرض بن گیا۔۔ اس نے ایک آدھی مرتبہ سوچا کہ عنقا کو طلاق دے ہی دے، اور عادل سے بھی معافی مانگ لے، ان دونوں کو پھر سے ایک کردے لیکن طلاق والی سوچ پر تو جیسے وہ مچل کر رہ جاتا، دماغ تھا کہ خاموشی اختیار کرلیتا، اور دل۔۔ اس کی کوئی آواز اب تک اس کے شعور تک نہیں پہنچی تھی۔
اس کے علاؤہ عادل سے معافی مانگنا۔۔ اس کے لیے کوئی آسان کام نہیں تھا۔۔ آخر کیا منہ لے کر جاتا۔۔ اور اریزے۔۔ وہ بھی تو اب تک اس کے دل و دماغ پر قابض تھی۔ اب تک اس کی جدائی، اسے اندر سے گھائل کرتی تھی، تڑپاتی تھی، درد دیتی تھی، وہ بے حد مشکل اور پریشانی سے گزر رہا تھا۔۔ وہ اذیت کا شکار تھا، اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگا تھا، اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔ وہ ہزاروں مشکلات کے بھنور میں پھنسا، زندگی سے دور ہوتا جا رہا تھا۔۔ وہ دن بہ دن گَھٹتا جا رہا تھا، اس کی حالت ایسی تھی کہ اسے دیکھ کر ، اس کی مام کو خوف آتا۔۔ وہ اپنی ہر مشکل ، ہر الجھن میں بالکل اکیلا تھا۔
اس وقت اسے ضرورت تھی کسی ایسے شخص کی، جو اسے سمجھے، جو اسے ، اس کی ہر مصیبت سے رہائی دلا سکے، کوئی ایسا جو اریزے کی کمی پوری کرے اور یقیناً عنقا کے علاؤہ ایسا کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اور یہ بات اس بے خبر انسان کو معلوم نہ تھی۔
××××
عنقا کو گھر آئے کافی عرصہ ہو چکا تھا۔۔ اب تو اس کے پیرینٹس نے بھی اپنا ارادہ بدل لیا تھا۔۔ وہ اسے واپس بھیجنا چاہتے تھے۔۔ ظاہر ہے۔۔ وہ بھی کب تک، اسے ایسے گھر میں بٹھا سکتے تھے۔۔!!
لیکن عنقا سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔ وہ تو عدیل کا نام سنتے ہی تپ جاتی تھی۔
×××××
عدیل نے بہت سوچ بچار کرنے کے بعد عادل سے، بالآخر معافی مانگنے کی ٹھانی۔ اس نے دو دفع اس سے بات کرنے کی کوشش کی پر وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیتا۔۔ عدیل کو خود میں کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھا۔۔ ہاتھوں میں سر گیا، رو رہا تھا۔
اس کا احساس جرم اسے رلا رہا تھا۔۔ وہ خود کو بہت بے قرار محسوس کر رہا تھا۔۔ اسے ہر حال میں اپنے چھوٹے بھائی سے معذرت کرنی تھی۔ پر کیسے۔۔؟؟ وہ تو اسے سننے کو تیار ہی نہ تھا۔ وہ تو اس سے کوئی بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ وہ بھی تو حق پر تھا۔۔ بھلا ایسے کیسے عدیل کو سنتا۔۔ اس کی بات کو اہمیت دیتا۔۔ اس نے جو ظلم کیا تھا۔۔ جو گھٹیا پن دکھایا تھا۔۔ اس کے بعد تو اس سے کوئی تعلق جوڑے رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔۔ پھر وہ کیسے اس کی سن لیتا۔۔!!
×××××
عدیل۔۔ سے اب اپنا اضطراب سنھبالا نہیں جا رہا تھا۔۔ وہ انا اور خود پرستی کا مارا شخص، بالآخر اپنی انا قربان کرنے پر آمادہ ہوا۔۔ اس نے سوچا کہ آج چاہے جو بھی ہو۔۔ وہ اس سے بات کر کے ہی دم لے گا، اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر کے سکون کا سانس لے گا۔
×××
وہ اپنی سوچ کو حقیقت کا جامہ پہنانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ عادل کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔ کچھ دیر پہلے اس نے، اسے وہیں جاتے ہوئے دیکھا تھا۔۔ اس لیے وہ ڈائریکٹ وہیں گیا۔
توقع کے مطابق عادل وہاں موجود تھا۔۔ وہ ٹاول سے اپنے گیلے ہاتھ منھ خشک کرتا ہوا ، واشروم سے باہر نکل رہا تھا۔۔کہ اس کی نظر عدیل پر پڑی۔۔
“آپ یہاں۔۔؟؟ ” وہ بے حد حیرت زدہ ہوتا ، تھوڑی ناگواری سے بولا۔
“ہاں۔۔ وہ مجھے کچھ کہنا تھا۔۔!!” اس نے شرمندہ ہو کر کہا۔
“آپ ایسا کیوں لگا کہ میں آپ کی بات سنوں گا؟؟”اس نے تضحیک آمیز لہجے میں کہا۔
“مت سنو۔۔!! لیکن میں کہہ کر رہوں گا۔۔!” اس نے اٹل لہجے میں کہا۔
“جب میں سنوں گا ہی نہیں تو آپ کہیں گے کیسے۔۔؟؟” اس نے تمسخر اڑایا۔
اور ساتھ ہی آگے بڑھ کر اپنے ہاتھ سے دھکیل کر ، اسے بدتمیزی کمرے سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔

اور ساتھ ہی آگے بڑھ کر اپنے ہاتھ سے دھکیل کر ، اسے بدتمیزی کمرے سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔
“نکلیں میرے کمرے سے۔۔” وہ بدلحاظ ہوا۔
“عادل۔۔ آپ جیسے گھٹیا اور گندے آدمی کی کوئی بات نہیں سننا پسند نہیں کرتا” اس نے “کمینے” اور “گندے” پر خاصا زور دیتے ہوئے، لہجے میں طنز کی آمیزش کی، اور حقارت سے بولا۔
عدیل کو اس کا ایسا انداز بہت برا لگا، اسے اندازہ ہوا کہ وہ بالکل بھی آرام اور تحمل سے، اسکی بات نہیں سننے والا۔۔اس نے عادل کے لہجے میں موجود حقارت اور طنز کو محسوس کرتے ہوئے، سلگ کر اس پر حملہ کیا۔
عدیل نے لپک کر اس کا گریبان پکڑا۔۔ اور اسے اپنے قابو میں کیا۔
عدیل کے لیے یہ حملہ انتہائی اچانک اور غیر متوقع تھا۔۔ “کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔!!” وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرتا ہوا غرایا۔
عدیل نے اس کے گریبان پر اپنی گرفت سخت رکھی۔۔ اور سختی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتے ہوئے بولا۔
” سکون سے بات سنو میری۔۔!! میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں۔۔!! میں بہت بہت شرمندہ ہوں۔۔ اپنی ہر حرکت پر نادم ہوں۔۔ تم ہو کہ آگے سے فضول باتیں کر رہے ہو۔۔!!”
“واٹ۔۔ نانسینس۔۔!! یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔!! ایسے کون معافی مانگتا ہے۔۔؟؟” عادل نے غصے سے کہا۔
“میں مانگتا ہوں۔۔ اور مانگ رہا ہوں۔۔!! اللّٰه کا واسطہ دیتا ہوں تجھے یار!! معاف کر دے اپنے بھائی کو۔۔!!” وہ اس کا گریبان چھوڑتے ہوئے بے تکلف ہوا، اور اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر ، ملتجی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کا یکدم ایسے بدلنا۔۔ عادل کوحیران کر گیا۔۔ لیکن اس نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے، عدیل کی طرف سے چہرہ پھیرا۔۔ “شاید آپ کو آپ کے جرم کا اندازہ نہیں۔۔!! شاید آپ جانتے نہیں کہ آپ کے اس جرم کی کوئی معافی نہیں۔۔”
“ہر جرم کی معافی ہوتی ہے۔۔!! اور مجھے معافی چاہئے۔۔ ہر حال میں۔۔ چاہئے۔۔ ورنہ میرا احساس جرم میری جان لے لے گا۔۔ میرا دم گھونٹ دے گا۔۔!!” اس کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہونے لگی تھیں۔۔ اور لہجہ تھا کہ بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔
عادل نے ایک خفا سی نظر عدیل پر ڈالی۔۔ اور ماتھے پر تیوریاں چڑھاتا، سختی سے بولا۔۔ “بھائی پلیز۔۔!! مجھے آپ کی مزید کوئی بات نہیں سننی۔۔ اور معافی کی مجھ سے کوئی توقع مت رکھیں۔۔ آپ نے بہت دل دکھایا ہے میرا۔۔ بلکہ صرف آپ نے نہیں ہر کسی نے دکھایا ہے۔۔”
عدیل۔۔ اس کے شکوے پر کٹ کر رہ گیا، اسے اور کچھ سمجھ نہ آیا تو۔۔ وہ گرتا ہوا اس کے قدموں میں بیٹھا۔۔ آنکھیں تھیں کہ اپنا ضبط کھو چکی تھیں۔۔ آنسو امڈ امڈ کر باہر آنے لگے۔
“میں یہاں تمہارے پیروں میں بیٹھا رہوں گا۔۔ جب تک تم مجھے معاف نہیں کرتے۔۔اور سنو اگر تم عنقا سے شادی کرنا چاہو تو میں اسے تمہارے لیے طلاق دے دوں گا۔۔ ” وہ ٹوٹتی ہوئی آواز لیے ، بے بس ہوتا ہوا بولا۔
عادل نے بدک کر پیچھے ہونا چاہا، پر عدیل سر جھکائے، اس کے پیروں کو تھامے، اسے عجیب سی کیفیت میں مبتلا کر رہا تھا۔
جو بھی تھا ، عدیل اس سے بڑا تھا۔۔ اور وہ زندگی میں ہمیشہ اس کی دل سے عزت کرتا آیا تھا۔۔ اب اسے کیسے۔۔ اپنے قدموں میں گرا ہوا دیکھتا۔۔سو اس نے آگے بڑھ کر ، اپنے بھائی کو کندھوں سے تھامتے ہوئے، اٹھایا۔۔ اور لمحے کی بھی دیر کئے بغیر اسے سینے سے لگایا۔۔ وہ اسے معاف نہیں کرنا چاہتا تھا پر عدیل کی معافی کی اس حد تک طلب دیکھتے ہوئے اس نے اپنا فیصلہ بدلا۔
اسے لگا کہ وہ واقعی شرمندہ ہے، اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ لوگ اپنی غلطیاں مان کر، کھلے دل سے اعتراف کر کے معافیاں طلب کریں۔ اگر وہ اپنی انا قربان کر کے، سچے دل سے معافی کا طلبگار تھا تو عادل کو بھی اسے معاف کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔ کیوں کہ جو کچھ ہو چکا تھا وہ بدلنے والا تو تھا نہیں۔
مگر پھر بھی، دل میں دبی شکایتوں نے عادل کو گلہ کرنے پر مجبور کیا۔۔ وہ شدت سے عدیل کے گلے سے لگا، روٹھا روٹھا بول رہا تھا۔۔
“بھائی آپ سچ میں بہت برے ہیں۔۔!! میں معاف کرتا ہوں آپ کو۔۔ لیکن میں بہت بہت ناراض ہوں۔۔!! آپ کو پتہ ہے ہر روز کتنی تکلیف سے گزرتا تھا میں۔۔!! اور آپ ہیں کہ آپ کو اب جا کر خیال آیا ہے۔۔!!” وہ کہتے ساتھ ہی اس سے الگ ہوا۔
“آئم سوری ناں۔۔ پتہ تو ہے۔۔ تمہارا بھائی ان معاملوں میں کتنا نکما ہے۔۔!! اینڈ تھینکس ٹو یو آ لوٹ۔۔(اور تمہارا بہت بہت شکریہ) اگر تم آج مجھے معاف نہ کرتے ناں۔۔ تو اذیت کے مارے میں نے پھر سے خودکشی کر لینی تھیں۔۔” اس نے نم آنکھیں لیے۔۔ ہلکی سا مسکرا کر کہا۔
“شٹ اپ برو۔۔!! زندگی ختم کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔۔” اس نے تیز لہجے میں سمجھا کر کہا۔
“اچھا۔۔چھوڑو یہ سب۔۔” عدیل نے ٹاپک بدلا اور نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔
“مجھے بتاؤ۔۔ کیا تم اسے اب بھی اپنانا چاہتے ہو۔۔؟؟ آئی مین۔۔ اگر چاہو تو میں اسے۔۔” وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ عادل نے اس کی بات کاٹی۔
“مجھے بتاؤ۔۔ کیا تم اسے اب بھی اپنانا چاہتے ہو۔۔؟؟ آئی مین۔۔ اگر چاہو تو میں اسے۔۔” وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ عادل نے اس کی بات کاٹی۔
“بھائی۔۔!!میں نے محسوس کیا ہے، اب وہ مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔۔ اور نہ ہی میرا اس سے کوئی لینا دینا ہے، پلیز آپ کبھی تو اپنی عقل استعمال کیا کریں ۔۔ وہ لڑکی ہے ، جیتی جاگتی انسان، کوئی بے جان کھلونا نہیں کہ ہم جب چاہیں، اپنے مطالبات کے مطابق اس کا استعمال کریں۔۔!!” عادل کو واقعی عدیل کی اس پیشکش پر تاؤ آیا تھا۔
عدیل۔۔ بھی کب چاہتا تھا کہ وہ اسے چھوڑ دے، لیکن برا ہو اس کی کم فہمی کا، جو وہ اپنے دل کی بات سمجھنے سے ہی قاصر تھا۔۔اور عادل کی ناراضگی دور کرنے کے لیے وہ اتنی بڑی آفر کر بیٹھا۔
ابھی اگر عادل اگر اس کی پیشکش قبول کر لیتا تو۔۔ عدیل کا بہت نقصان ہوجانا تھا۔۔ شکر تھا کہ اس نے، دل کھول کر عدیل کو جھاڑا تھا۔۔ ورنہ اس نے اپنی بےوقوفیوں کے مظاہرے دکھانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔
عدیل، عادل کے جواب پر متذبذب ہوتا ، وہاں سے چلا گیا۔
×××××
عدیل تو عدیل، عادل بھی اس سارے واقعے کے بعد خود کو کافی ہلکا محسوس کر رہا تھا، اس کے دل پر بھی تو بوجھ تھا کہ کسی کو اس کا خیال نہیں۔۔ وہ بھی تو دکھی تھا کہ کسی کو اس کی ناراضگی کی پروا نہیں۔۔!! اب ایسی معافی تلافی کے بعد، اسے بھی کافی اچھا محسوس ہورہا تھا۔
××××
عنقا کے ایگزامز شروع ہونے والے تھے، اور عنقا تو چاہتے ہوئے بھی اپنی پڑھائی میں دھیان نہیں لگا پا رہی تھی۔۔اسے ہر چیز سے بیزاری اور اکتاہٹ محسوس ہوتی۔
ابھی بھی۔۔ وہ۔۔ کتابوں میں گھسی بیٹھی تھی۔۔ دماغ تھا کہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا، اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آیا کہ آخر وہ کیوں دھیان نہیں لگا پا رہی۔۔ اتنے میں اس کی امی کافی کا مگ لیے اس کے روم میں آئیں، اسی نے تھوڑی دیر پہلے اپنی امی کو کافی کا بولا تھا۔
“کیسی تیاری ہو رہی ہے۔۔؟؟” انہوں نے پیار سے پوچھا۔
ان کے پوچھنے کی دیر تھی کہ عنقا کی آنکھیں فوراً موٹے موٹے آنسوؤں سے بھر گئیں، “امی۔۔ کچھ بھی نہیں سمجھ آ رہا۔۔ کچھ تیار نہیں ہورہا۔۔” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔
اس کی امی تو اس کے اچانک ، ایسے رد عمل پر پریشان ہی ہو گئیں۔۔ “بیٹا۔۔ کیا ہوا۔۔؟؟ اس میں ایسے رونے والی کیا بات ہے۔۔؟؟ ابھی تیار نہیں ہو رہا تو تھوڑی دیر بعد کوشش کر لینا۔۔” انہوں نے پیار سے پچکارتے ہوئے کہا۔
“نئی۔۔ امی۔۔ مجھے پتہ ہے۔۔ مجھے ایک لفظ بھی تیار نہیں ہوگا۔۔ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے۔۔ دل پر عجیب بوجھ محسوس ہوتا ہے ۔۔ کوئی کام نہیں ہوتا۔۔ کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔ ہر وقت سوگوار سی کیفیت طاری رہتی ہے۔۔” وہ امی سے لپٹتے ہوئے، رو رو کر اپنا حال بتا رہی تھی۔
اس کی امی کو اس کی یہ حالت خوب اچھی طرح سمجھ میں آ رہی تھی۔۔ اور اس کی کیفیت کے بارے میں سنتے ہی ، انہوں نے دھیما سا مسکرا کر، اس کی پیشانی کو چوما۔
“اچھا۔۔ چلو ۔۔ میں کچھ کرتی ہوں۔۔” وہ آہستگی سے اس کو خود سے علیحدہ کرتے ہوئے بولیں۔
××××
“سلیمان صاحب۔۔ اب بہت ہو گیا۔۔ ہمیں عنقا کے سلسلے میں اس کے سسرال والوں سے بات کرنی چاہیے۔۔” عنقا کی امی نے شام کی چائے کے دوران بات شروع کی۔
“ہاں۔۔ میں بھی سوچ رہا تھا۔۔ لیکن ہم لوگ لڑکی والے ہیں۔۔ کیا ہمارا بات کرنا ٹھیک رہے گا۔۔ اور عنقا بھی تو۔۔ جانے کو راضی نہیں۔۔ پھر کیسے بات کریں گے۔۔!!” انہوں نے پریشانی سے اپنی ایک انگلی ماتھے پر رگڑتے ہوئے کہا۔
“مجھے نہیں پتہ سلیمان صاحب۔۔!! اگر میری بچی کچھ دن اور یہاں رہی ناں۔۔ تو نفسیاتی مریضہ بن جائے گی۔۔میں نہیں چاہتی اسے کچھ ہو۔۔!! بس آپ ان لوگوں سے بات کریں کہ وہ آ کر لے جائیں اسے۔۔” وہ جذباتی ہوئیں۔
“اچھا۔۔ چلیں میں دیکھتا ہوں۔۔!!” وہ سہولت سے جواب دیتے ہوئے بولے۔
“دیکھیں نہیں۔۔ کچھ کریں۔۔ پتہ ہے سارا سارا دن۔۔ وہ اپنے شوہر کو سوچ سوچ کر کڑھتی رہتی ہے۔۔ زبان سے بے شک وہ کچھ نہ کہے پر۔۔ میں ماں ہوں اس کی۔۔ سب سمجھتی ہوں کہ اس کے دل میں کیا کچھ چل رہا ہے۔۔” انہوں نے جلدی مچاتے ہوئے کہا۔
ان کی جلدبازی دیکھتے ہوئے، سلیمان صاحب نے مصطفیٰ صاحب کو کال ملائی، پہلی بیل پر کال ریسیو کی گئی۔ انہوں نے رسمی علیک سلیک کے بعد فون کرنے کا مقصد بیان کیا۔
مصطفیٰ صاحب تو خود بھی یہی چاہتے تھے کہ عنقا ، ان کے گھر واپس آ جائے۔ انہوں نے مزید بات کرنے کے لیے، فون اپنی بیگم کو تھمایا، فون کی دوسری طرف بھی۔۔اب عنقا کی امی موجود تھیں۔ انہوں نے آپس میں گفتگو کی اور عنقا کو گھر واپس لانے کا سارا پلین ترتیب دیا۔
××××
اگلے روز، عنقا کی امی اس کے پاس آئیں، ویک اینڈ تھا تو یونیورسٹی بند تھی۔۔ اس لیے وہ گھر پر ہی تھی۔ “بیٹا۔۔!! جلدی۔۔ سے اپنی ساری چیزیں پیک کرو۔۔ ہمیں فوراً نکلنا ہے۔۔” انہوں نے جلدی جلدی کہا۔
“کیوں کیا ہوا۔۔؟؟” وہ ان کے اچانک ایسے رویے میں دیے گئے حکم پر ہڑبڑا کر رہ گئی۔
“وہ تمہارے ساس سسر کی کال آئی ہے۔۔ وہ تمہیں لینے آ رہے ہیں۔۔!!” انہوں نے بتایا۔
“آتے رہیں۔۔ میں نے ان کے ساتھ کہیں بھی نہیں جانا ۔۔” اس نے ان کی بات سن کر سکون سے جواب دیا۔
“پاگل مت بنو۔۔!! اللّٰه اللّٰه کر کے تو وہ تمہیں لینے آ رہے ہیں۔۔ آگے سے ایسی باتیں کر رہی ہو۔۔!!” اس کی امی نے اسے ڈانٹا۔
“میں نے ان کے پیر نہیں پکڑے کہ مجھے لینے آئیں۔۔ اس لیے میں نے نہیں جانا ان کے ساتھ۔۔” اس نے ضد سے کام لیا۔
وہ ابھی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی جاری رکھے ہوئے تھی کہ اس کے ابو کمرے میں داخل ہوئے اور اپنی رعب دار آواز اور سخت لہجے میں اسے اپنی چیزیں پیک کرنے کا حکم دیا۔ ان کے آگے، تو یہ “چوں” بھی نہیں کر پائی۔
وہ چاہتے تو کب کا اسے واپس بھیج دیتے۔۔ لیکن اب تک انہوں نے اس کے معاملے میں نرمی اختیار کی ہوئی تھی۔۔ مگر اب وہ اسے مزید ڈھیل نہیں دے سکتے تھے۔ آخر کو وہ اس کے باپ تھے۔۔ اور اس کے مستقبل کی پروا بھی کرتے تھے۔
××××
وہ واپس جانے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔۔ لیکن اس میں بڑوں کے حکم اور فیصلے کے آگے بولنے کی زیادہ ہمت بھی نہیں تھی۔ اس نے اپنی طرف سے کمزور کمزور سا انکار کیا ، مزاحمت کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ کڑھتی ہوئی اپنے ساس سسر کے ساتھ روانہ ہوئی۔
عدیل نے تو اپنی طرف سے لاتعلقی کے سارے ریکارڈ توڑ رکھے تھے۔۔اسے اپنی کافی بےعزتی محسوس ہوئی کہ وہ خود ہی زبردستی واپس آ گئی۔۔
خیر اب کیا ہو سکتا تھا۔۔ اب تو وہ واپس آ چکی تھی۔
×××
عدیل کی مام ، بڑے پیار اور اہتمام سے اسے عدیل کے کمرے میں چھوڑ کر آئیں۔
عدیل کی مام ، بڑے پیار اور اہتمام سے اسے عدیل کے کمرے میں چھوڑ کر آئیں۔
شکر تھا کہ عدیل اپنے روم میں نہیں تھا۔۔ ورنہ وہ بے چاری، اسے کیسے فیس کرتی۔۔!!
فوزیہ بیگم کے جانے کے بعد اس نے احتیاط سے کمرے کے باہر جھانکا، اور پھر واپس اندر آ کر اپنی ساری چیزیں اٹھائیں۔۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ عدیل کے آنے سے پہلے ہی اپنے دوسرے والے کمرے میں چلی جائے گی۔۔ اور اس کو ، اس کے آنے کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔
اسی لیے وہ تیزی سے اپنی چیزیں اٹھاتی دروازے کی طرف بڑھی تھی لیکن سامنے سے آتے عدیل کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گئی، اس وقت اسے اپنی اچھی خاصی بے عزتی محسوس ہوئی، “اف۔۔!! کیا سوچ رہا ہوگا یہ۔۔!! کتنی بے شرم ہوں میں۔۔ بن بلائے ہی اٹھ کر آ گئی۔۔!!” وہ زمین میں گڑھنے والی ہورہی تھی اور اوپر سے عدیل کا اپنی حیران نظروں سے اسے گھورنا۔۔ اسے مزید کوفت میں مبتلا کر رہا تھا۔
دوسری طرف، عدیل کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس وقت یہاں ہوگی۔۔!! اسے ، عنقا کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ لیکن اس عقل کے آدھے انسان نے اپنی خوشگواری کا تاثر کہیں اندر چھپاتے ہوئے صرف حیرت کا مظاہرہ کیا۔
“تم۔۔یہاں۔۔؟؟” اس نے پوچھا۔
اس کے پوچھنے پر عنقا کو مزید انسلٹ فیل ہوئی۔
“ہمم۔۔!! انکل آنٹی زبردستی لائے ہیں۔۔” اس نے بات بنائی۔
“اچھا اچھا۔۔!! یہ بات ہے۔۔!! میں سمجھا شوہر کی یاد ستا رہی تھی ، اس لیے بن بلائے بھاگی بھاگی چلی آئیں،” عدیل نے زور دار قہقہہ لگا کر اسے چڑاتے ہوئے کہا۔ وہ اس کی شکل دیکھ کر سمجھ چکا تھا کہ وہ اس وقت کیسا فیل کر رہی ہے، اس لیے، اس نے جان بوجھ کر ستانے کے لیے ایسی بات کی۔
“غلط فہمیاں۔۔!! تو دیکھو اپنی۔۔!! مجھے کیا پڑی ہے کسی جنگلی کو یاد کرنے کی، اور تم ناں۔۔ میرے راستے سے ہٹو۔۔ مجھے اپنے روم میں جانا ہے۔۔!!” وہ تیز لہجے میں بولی۔
اپنے لیے جنگلی کا لفظ سن کر ، عدیل کو تاؤ آیا، “اے لڑکی۔۔!! ذرا زبان سنبھال کے بات کیا کرو۔۔!! سخت چڑھ ہے مجھے اس لفظ سے۔۔ اب تم نے دوبارہ کہا ناں تو کچھ بہت برا کر دوں گا تمہارے ساتھ۔۔ اور ہزار بار بولا ہے کہ ذرا ادب لحاظ سے بات کرنا سیکھو۔۔ یہ مجھے “تم” مت کہا کرو۔۔!!” عدیل نے بالکل سیریس ہو کر وارننگ دی۔
“مسٹر جنگلی۔۔!! تم مجھے زہر لگتے ہو۔۔ انفیکٹ نفرت ہے مجھے تم سے۔۔ اس لیے مجبوری ہے۔۔ ادب نہیں کر سکتی تمہارا۔۔” عنقا نے بھی سلگتے لہجے میں جواب دے کر اپنا بدلہ پورا کیا۔۔ وہ بھی تو کیسے واپس آنے والی بات پر اسے ایمبیریس (embarrass) کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہ اس کی ہٹ دھرمی پر کڑے تیوروں سے گھورنے لگا۔
“یہ مجھے گھورنا بند کرو۔۔ اور راستہ دو۔۔ مجھے اپنے روم میں جانا ہے۔۔” عنقا نے بدتمیزی سے کہا۔
“تم ایسے نہیں سدھرا گی۔۔!! تمہارا علاج کرنا پڑے گا۔۔!!” وہ قہر برساتی نظروں سے گھورتا ہوا اس کے قریب آیا۔ اس کے وحشت ناک تیور دیکھ کر۔۔ عنقا کی تو ساری داداگری جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔۔ اسے، عدیل کے ایکسپریشنز ڈرنے پر مجبور کر رہے تھے۔
اسے دھڑکا سا لگا کہ اللّٰه جانے ، یہ آدمی کیا غضب ڈھانے والا ہے۔۔!! وہ ابھی تک اس کا ، گلا دبانے والا اٹیک (attack) نہیں بھولی تھی۔۔!! اس کی ڈر اور توقعات کے خلاف جاتے ہوئے۔۔ عدیل نے کوئی وحشیانہ حرکت نہیں کی ، بلکہ اس کے ہاتھ سے اس کا سامان لیا۔۔ اس میں سے کتابیں علیحدہ کر کے، اپنی کتابوں کے ریک پر، اس کی بکس کے جگہ بنا کر ان کو وہاں رکھا۔ جو تھوڑے بہت کپڑے اور دوسری چیزیں تھیں ، ان کو بذات خود، واڈروب میں رکھا۔
وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی۔۔ اس کے سخت ایکسپریشنز کے آگے، وہ کچھ بولنے کی ہمت نہ کرپائی۔
وہ سب چیزوں کو ان کی جگہ پر رکھ کر اس کی طرف پلٹا۔۔!!
“کہیں نہیں جاؤ گی تم۔۔!! یہ ہی تمہارا روم ہے۔۔ اور یہاں سے کہیں جانے کی سوچی تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔۔!!” اس نے ، اپنی شہادت کی انگلی لہراتے ہوئے، سختی سے وارن کیا۔
عنقا کا تو حلق خشک ہونے لگا تھا۔۔ “وہ۔۔ وہ۔۔ میں نے پڑھنا ہوتا ہے۔۔!! ایگزامز ہونے والے ہیں میرے۔۔!! میں یہاں کیسے پڑھوں گی۔۔!!” وہ منمائی۔
“پڑھ لینا یہیں پر۔۔ میں نے پڑھنے سے تو منع نہیں کیا۔۔بس یہاں سے باہر نہیں جاؤ گی۔۔!!” اس نے حکم دیا۔
“نہیں نہیں۔۔ ایسے نہیں کرو۔۔ اس طرح۔۔ تمہاری موجودگی میں تو بالکل مجھ سے کچھ نہیں پڑھا جائے گا۔۔!! پلیز جانے دو۔۔!! دیکھو میں تمہیں آئیندہ جنگلی بھی نہیں کہوں گی۔۔!! اور بدتمیزی کرنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوگا۔۔!! سچی۔۔!! پلیز جانے دو۔۔!!” وہ باقاعدہ منتیں کرنے پر اتر آئی تھی۔۔ واقعی۔۔ وہ اس کے ہوتے ہوئے کیسے پڑھ سکتی تھی۔۔ اگر وہ سامنے ہوتا تو اس کا سارا دھیان اپنی طرف کھینچے رکھتا۔
لاشعوری طور پر اسے یہ اندیشہ تھا۔۔ جس کے پیش نظر وہ الگ روم۔۔ میں جانے کی اتنی منتیں کر رہی تھی۔
عدیل، اس کی حالت سے اچھا خاصا لطف اندوز ہوا۔
“نہیں مسز۔۔!! آپ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گی۔۔!! اور میں آپ کو اب آخری دفع کہہ رہا ہوں کہ مجھے “تم” نہیں کہنا۔۔!!” عدیل نے جلانے والی مسکراہٹ اچھالتے ہوئے کہا۔
اور عنقا واقعی جل کر رہ گئی تھی۔
“عدیل۔۔ پلیز۔۔ جانے دیں ناں مجھے۔۔ دیکھیں ۔۔!! یہاں ایک لفظ بھی نہیں پڑھا جائے گا مجھ سے۔۔ آپ میری پرابلم کو سمجھیں ناں۔۔!!” اس نے مصلحت کا کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے، عدیل کے حکم کی تعمیل کی کہ شاید اس کو عنقا پر ترس آئے اور وہ اسے جانے دے دے۔
اس وقت ایسے منتیں کرتے ہوئے۔۔ وہ اسے بہت معصوم لگی۔۔ ساتھ ہی اس بے چاری کی حالت پر ، اسے مزہ بھی خوب سارا آیا۔۔!! جو بھی تھا۔۔!! بے شک وہ اس کی بات مان چکی تھی لیکن یہ اس کی بات نہیں ماننے والا تھا۔۔ اس نے سوچ لیا تھا۔۔ کہ اس کو اچھی طرح تنگ کرے گا۔۔!!
ابھی اس نے آگے سے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ وہاں عادل آ دھمکا۔۔ عنقا کو وہاں دیکھ کر وہ سرپرائز ہوا تھا لیکن اب اس کا ، اس سے کیا لینا دینا سو وہ اپنی مام کا پیغام عدیل تک پہنچا کر واپس چلا گیا۔
مام نے عدیل کو بلوایا تھا۔ وہ ان کے پاس گیا۔۔ اس نے بلانے کا مقصد پوچھا تو مام نے اتنا لمبا لیکچر دیا۔۔کہ عنقا کے ساتھ اب کسی قسم کی کوئی بدتمیزی نہ کرے، اسے پیار سے ڈیل کرے ، اس کا خیال رکھے اور وغیرہ وغیرہ۔۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے عدیل سے اپنی ساری نصیحتوں پر عمل کرنے کا وعدہ بھی لیا۔ اور وہ بھی مزے سے پرامس کر کے آ گیا۔
اب اس کا بھی دل کرتا تھا کہ وہ نارمل لوگوں کی طرح سکون سے رہے۔۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے سے جڑے رشتوں کو مان دے، ان کی خواہشات کا احترام کرے، خاص طور پر اپنے مام ،ڈیڈ کا کہا مانے۔۔ نہ کہ اپنی من مانیاں کرتے ہوئے ان کے لیے پریشانیاں پیدا کرے۔۔!! اس لیے۔۔ اس نے اپنی مام سے پرامس کیا۔
××××
عدیل کے جاتے ہی عنقا پریشانی سے، وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی، “کاش کہ میں یہاں نہ آتی۔۔!!” اس نے افسوس سے سوچا۔۔!!
وہ ابھی کسی طرح واپس جانے کی کو سکیم سوچنے لگی تھی کہ اس کی امی کی کال آئی۔۔ انہوں نے سلام دعا کے بعد ، فوراً ہی اسے اس بات سے آگاہ کیا کہ وہ اور اس کے بابا ، تقریباً ڈیڑھ ہفتے کے لیے اس کے ماموں کے ہاں جا رہے ہیں۔۔ اس لیے وہ گھر واپس آنے کے متعلق سوچنے کی بھی کوشش نہ کرے۔
وہ بھی اس کی ماں تھیں، اس کی رگ رگ سے واقف تھیں۔۔ اس لیے انہوں نے پہلے ہی سے اس کی واپسی کے سارے دروازے بند کیے۔

وہ بھی اس کی ماں تھیں، اس کی رگ رگ سے واقف تھیں۔۔ اس لیے انہوں نے پہلے ہی سے اس کی واپسی کے سارے دروازے بند کیے۔
وہ تو بس دل مسوس کر رہ گئی۔ اتنے میں عدیل ، مسکراتا ہوا واپس آتا دکھائی دیا۔ اس وقت، عنقا کو اپنی مسکراہٹ سمیت، وہ، خود بھی بہت برا لگ رہا تھا۔
“بس مجھے نہیں پتہ۔۔ میں نے اپنا پڑھنا ہے۔۔ میں دوسرے کمرے میں جا رہی ہوں۔۔ اب مجھے روکنے کی کوشش مت کیجئے گا۔۔!!” اس نے معصوموں والی شکل بناتے ہوئے اپنی بات منوانے کی اپنی سی کوشش کی، عدیل کو خوشی ہوئی تھی کہ اب کی بار، پھر سے اس نے تمیز سے بات کی تھی۔
“نہیں مسز۔۔!! میں نے کہا ہے ناں کہ آپ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گی۔۔!! اس لیے آپ عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرا حکم سکون سے مان لیں، ورنہ مام نے مجھ سے پرامس لیا ہے کہ میں آپ کو پیار سے ڈیل کروں۔۔ اب اگر سچ مچ پیار سے ڈیل کر لیا ناں۔۔تو آپ کو لگ پتا جائے گا۔۔!!” عدیل نے اسی کے لہجے میں، تپا دینے والی، معنی خیز مسکراہٹ لیے ، اس کے بہت قریب آ کر، اسے وارن کیا اور پھر اس کے گال تھپتھپاتا ہوا ، فریش ہونے کی غرض سے واشروم کی طرف بڑھ گیا۔
وہ پیچھے، گنگ سی بیٹھی، اس کے الفاظ اور بہکے ہوئے لہجے پر غور کر رہی تھی۔۔ “توبہ توبہ۔۔!! کتنے گندے ہیں یہ۔۔!!” اس نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈر کر سوچا اور پھر جلدی جلدی ، اپنی کتابیں وغیرہ لے کر، پڑھنے کے لیے صوفے پر ، اچھی سی سیٹنگ کی۔
××××
عدیل باہر آیا، تو عنقا کو بڑی توجہ سے اس کی بکس میں مگن پایا۔۔ وہ ڈر کے مارے، عدیل کی طرف دیکھنے سے بھی پرہیز کر رہی تھی۔۔ اس نے اپنے، ایک چھوٹے جملے سے، عنقا کا پورا دماغ سیٹ کر دیا تھا۔
××××
عنقا کو لگا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے تو ، اس کو اپنے کام کی ککھ سمجھ نہیں آنے والی۔۔ اور پہلے جو تھوڑا بہت وہ پڑھ پا رہی تھی۔۔ اب اس سے بھی جانے والی ہے۔۔ لیکن سب، اس کی توقع کے برعکس ہوا۔
حیرت انگیز طور پر، جس سوال کو لے کر وہ دو دن سے پریشان تھی۔۔ وہ اسے صرف پندرہ منٹ میں تیار ہوا۔
وہ تیار کرنے کے لیے اگلا سوال دیکھ رہی تھی کہ اس نے غیر اردای طور پر ہی اپنی نظروں سے ، سامنے بیٹھے عدیل کی طرف ، دیکھا۔۔ وہ بھی لیپ ٹاپ سامنے رکھے۔۔ اپنے آفس ورک میں مصروف تھا۔۔ اور ہمیشہ کی طرح بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔ لیکن اس کی ڈیشنگ پرسنیلٹی سے عنقا کا کیا لینا دینا، اس نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔۔ وہ تو شکر کر رہی تھی کہ اس نے دوبارہ، اس کو تنگ نہیں کیا ۔۔!!
“آہاں۔۔دلربا نظاروں سے، بہت لطف اندوز ہو رہے ہیں کچھ لوگ۔۔!!” عدیل نے ، اس کی طرف دیکھے بغیر، خود کو مصروف، ظاہر کرتے ہوئے، سنجیدگی سے کہا۔ وہ عنقا کی نگاہوں کی تپش خود پر محسوس کر چکا تھا۔
عدیل کے اچانک بولنے پر عنقا بری طرح سٹپٹائی۔۔۔ اور پھر کوئی جواب دے بغیر ہی کتابوں میں سر دے کر بیٹھ گئی، اب تو اس نے توبہ کی کہ وہ بالکل بھی ادھر اُدھر نہیں دیکھے گی۔۔!! اسے اچھی خاصی خفت محسوس ہوئی تھی۔
عدیل نے اس کی طرف دیکھا ، اس کی حرکات ملاحظہ کیں۔۔ ایک دھیمی سی مسکراہٹ نے ، اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔
“تم تو تم تھیں۔۔پر تمہاری بہن۔۔!! ہر چیز میں تم سے چار ہاتھ آگے ہے۔۔!! اس کی معصومیت ، خوبصورتی، انداز۔۔ الغرض ہر چیز۔۔!! بس محبت کی کمی ہے۔۔!! یہ مجھ سے ویسی محبت نہیں کرتی جیسی تم کرتی تھیں۔۔!!” وہ مسکراتے ہوئے ہی، اپنی نظریں عنقا پر گاڑھے، اپنے تصور میں اریزے سے مخاطب ہوا۔
یہ پہلی مرتبہ تھا کہ وہ اریزے کو سوچ کر مسکرایا تھا اور وہ بھی عنقا کی وجہ سے۔۔!! اس لڑکی کی وجہ سے ، جسے وہ کبھی اپنی جان، اپنی اریزے کا قاتل مانتا تھا۔۔!! جسے اس نے بے وجہ ہی اتنی تکلیف دی تھی۔۔!! جسے وہ مارنے کے در پر تھا۔۔!! جسے وہ اپنے انتقام کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔۔!!
××××
رات کے دو بج چکے تھے۔۔ وہ ابھی تک تو اپنی پڑھائی میں مگن تھی۔۔ لیکن اب یوں بیٹھے بیٹھے ، اسکی کمر اکڑنے لگی تھی۔۔ اسے نیند بھی ، بہت زیادہ آ رہی تھی۔۔ اس سے اپنی کتابیں بند کیں۔۔ ایک بڑی سی جمائی لی اور کھڑی ہوئی۔
“ہائے اللّٰه۔۔!! اب سوؤں کہاں۔۔!!” اس نے پریشانی سے سوچا۔
صوفہ بھی اتنا بڑا نہیں تھا کہ وہ ، وہاں لمبی ہو کر لیٹ پاتی۔۔!! اور عدیل کے ساتھ سونے کا تو وہ تصور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ اس لیے کچھ دیر سوچنے کے بعد۔۔ وہ دبے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھی۔۔ دروازے تک پہنچ کر، اس نے آہستگی سے ، دروازے کا ہینڈل گمھایا۔۔ تاکہ وہ یہاں سے باہر نکل کر۔۔ اپنے دوسرے والے روم میں جا سکے۔۔
پر برا ہو اس کی قسمت کا کہ عدیل اب تک ، سونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا ، در حقیقت تو وہ جاگا ہوا تھا۔۔ اور اس کے دروازہ کھولتے ہی وہ بھی۔۔ اپنی پوری آنکھیں کھولے۔۔ بڑے خونخوار سے تیور لیے عنقا کی طرف دیکھ رہا تھا۔
عنقا کی تو ڈر کے مارے جان نکلنے کو ہو رہی تھی۔۔ اسے عدیل کی وارننگ یاد آئی تھی۔۔ اور وہ اب تک ، اس کا پہلے دن والا رویہ بھی یاد تھا۔۔ “ایک تو اس بندے کا پتہ بھی نہیں چلتا۔۔ نجانے کب کیا کردے۔۔ کب کیسا ہوجائے۔۔” اس نے ڈرتے ہوئے سوچا۔
در حقیقت، وہ ابھی تک۔۔ اس کے بدلے ہوئے رویے سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔۔ نہ ہی اسنے کوئی خوش فہمی پالی تھی۔
“کہاں جا رہی ہو۔۔؟؟” عدیل نے سختی سے پوچھا۔ اسے تھوڑا تھوڑا غصہ سا آ رہا تھا کہ وہ اس کی بار بار کی کہی گئی بات آخر کیوں نہیں مان رہی۔۔!!
اسے یہ ہرگز پسند نہیں تھا کہ کوئی اس کے حکم کو اگنور کرے۔۔!! خاص طور پر ایسا شخص۔۔ جس پر وہ اپنے دل کے ، بہت ہی خاص جذبے لٹانے کے لیے تیار ہو۔۔!! جسے وہ اپنانے کو ، اور اپنا ماننے کو تیار ہو۔۔۔!!
اریزے نے بھی، کبھی بھی۔۔ اس کے کسی عام سے حکم کو بھی نہیں ٹالا تھا۔۔ کبھی اختلاف نہیں کیا تھا۔۔!! عادتیں ہی بگاڑ ڈالیں تھیں اس کی۔۔!!

اریزے نے بھی، کبھی بھی۔۔ اس کے کسی عام سے حکم کو بھی نہیں ٹالا تھا۔۔ کبھی اختلاف نہیں کیا تھا۔۔!! عادتیں ہی بگاڑ ڈالیں تھیں اس کی۔۔!!
“وہ۔۔وہ۔۔ میں پانی پینے جارہی تھی۔۔!!” عنقا نے عدیل کے تیوروں سے ڈرتے ہوئے جھوٹ گھڑا۔
“میرے خیال سے، یہ۔سائیڈ ٹیبل پر پڑا جگ ، پانی سے ہی بھرا ہے۔۔!!” وہ اس کا جھوٹ پکڑتے ہوئے بولا۔۔ اور اب وہ باقاعدہ اٹھ بیٹھا تھا۔
“نن۔۔ نہیں یہ تو گرم ہے ناں۔۔ مجھے ٹھنڈا پانی چاہیے تھا۔۔!!” وہ گھبرا کر بولی۔۔ اور اسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ آخر ایسے گھبرا کیوں رہی ہے۔
ایسے تو وہ ، عدیل اس وقت بھی گھبراتی تھی۔۔ جس وقت اس کا جنون، انتقام اور وحشت، انتہا پر تھی۔۔ پھر اب کیوں وہ اتنا گڑبڑا رہی تھی۔۔!! کیوں ایسے گھبرا رہی تھی۔۔!! کیا تھا۔۔ جو اسے عدیل کے سامنے ، ثابت قدمی سے ،ڈٹنے نہیں دے رہا تھا۔۔!! کیا تھا جو اسے، گھبرانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔!! شاید عدیل کے، عنقا کے متعلق بدلے ہوئے خیالات اور محسوسات کی آنچ تھی۔۔ جس کی وہ تاب نہیں لا پائی۔۔ شاید اسی لیے وہ ڈگمگا رہی تھی۔۔ نروس ہو رہی تھی۔۔!!
“اچھا۔۔ چلو۔۔ جاؤ پی کر واپس آؤ۔۔ میں انتظار کر رہا ہوں۔۔ اور اگر واپس نہ آئیں تو اپنا انجام دیکھنا۔۔!!” عدیل نے دھمکایا۔
عنقا نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔۔ اس کا حلق سچ مچ میں خشک ہوگیا تھا۔۔ اور اب اسے ،سچ میں، ٹھنڈے یخ پانی کی شدت سے طلب ہوئی۔
وہ پانی پی کر واپس آئی تو ۔۔ عدیل اپنے بستر کے بالکل کنارے کے قریب ہی۔۔ ایک طرف کو ہو کر لیٹا تھا۔۔ اس نے عنقا کے لیے اچھی خاصی جگہ بنائی تھی۔۔ عنقا بھی خاموشی سے۔۔ سکڑ کر ایک طرف کو لیٹ گئی۔۔ عدیل نے اس سے مزید کوئی بات نہیں کی۔۔ تاکہ وہ پرسکون ہو کر سو سکے۔۔ کیوں کہ پہلے ہی وہ دیر تک پڑھنے کی وجہ سے ، کافی دیر تک جاگی تھی۔۔ اب وہ چاہتا تھا کہ وہ بالکل مطمئن ہو کر آرام کرے۔
جبکہ دوسری طرف۔۔ عدیل کے اتنا پاس ہوتے ہوئے وہ کیسے مطمئن ہو سکتی تھی۔۔!!
یہ تو صرف عنقا جانتی تھی کہ اس وقت کیسے اس کی سانسیں اٹکی ہوئی تھیں۔۔!!
اس کا تیزی سے دھڑکتا دل، ماتھے پر نمودار ہوتی پسینے کی بوندیں اور بے ترتیب ہوتی سانسیں، اس کی نیند میں بہت سا خلل پیدا کر رہی تھیں۔۔!!
وہ چاہ کر بھی نہیں سو پارہی تھی۔۔!!
بہت کوشش کے بعد، نجانے کیا کیا دعائیں اور ورد پڑھ پڑھ کر اس پر کچھ غنودگی طاری ہوئی۔۔ وہ غنودگی کی حالت میں بھی بار بار ، اللّٰه سے ، اپنے ساتھ لیٹی بلا یعنی عدیل کے شر سے پناہ مانگ رہی تھی۔۔!! اور یوں کرتے کراتے ، بالآخر، اس نے اپنا آپ، نیند کے حوالے کیا۔۔اور ہر طرح کی پریشانی بھلائے مزے سے سوگئی۔
×××

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: