Suhaira Awais Tum Faqat Mery Urdu Novels

Tum Faqat Mery Novel by Suhaira Awais – Last Episode 3

Tum Faqat Mery Novel by Suhaira Awais
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
تم فقط میرے از سہیرا اویس – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

صبح ، عدیل نے اس کو ، اس کی غضب کی گہری نیند سے جگانے کی کوشش کی۔۔ کیوں کہ وقت تھوڑا تھا۔۔ اگر وہ فوراً نہ اٹھتی تو ممکن تھا کہ وہ اپنی یونیورسٹی سے لیٹ ہوجاتی۔۔ عدیل اسے مسلسل آوازیں دے رہا تھا۔۔ مگر وہ تھی کہ منہ کھولے تیز تیز سانس لیتی رہی۔
جب آنکھیں کھلنے کے کوئی آثار نہ نظر آئے تو عدیل نے بہت سوچ سمجھ کر، اپنا نرم سا تکیہ اٹھایا، اور زور سے عنقا کو دے مارا۔۔ وہ بےچاری چونک کر اٹھی۔۔ابھی بھی، اس پر نیند کا کافی غلبہ تھا۔۔ اس لیے اس معصوم عورت کو عدیل کی کارروائی کی سنگینی کا احساس نہ ہوا۔۔ ویسے وہ بھی سچ مچ کا جنگلی تھا۔۔!! اب بندہ ہلا جلا کر بھی تو جگا سکتا ہے ناں۔۔!! لیکن نہیں جی۔۔!! خود کو جنگلی بھی تو ثابت کرنا ہوتا ہے۔۔!!
“مسسز!! اٹھو۔۔!! جاگ جاؤ۔۔!! ورنہ یونی سے لیٹ ہو جاؤ گی۔۔!!” اب کی بار عدیل نے، انسانوں کی طرح ، آرام سے اس کا گال تھپتھپا کر جگانے کی کوشش کی۔
اس کا لمس محسوس ہونے پر عنقا کی ساری حسیں بیدار ہوئیں۔ اس کی نیند ، اچھے سے اکھڑی تھی۔۔!! وہ سٹپٹا کر اٹھی تھی۔۔!! اور کچھ کہے سنے بغیر، سامنے نصب وال کلاک پر وقت دیکھتے ہوئے، واڈروب سے اپنے کپڑے نکالے اور فریش ہونے چلی گئی۔
جلدی جلدی ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنی بکس اور بیگ اٹھا کر جانے لگی تھی کہ اسے یاد آیا۔۔ وین والے کو تو اس نے انفارم ہی نہیں کیا ، نہ ہی ایڈریس بتایا۔۔ اب وہ کیسے یونیورسٹی جائے۔۔ کس سے کہے۔۔!! ابھی وہ اس پریشانی میں تھی کہ عدیل نے اسے خود ہی ڈراپ کرنے کی آفر دی، پریشانی کے باوجود بھی وہ اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی لیکن پھر اس کے ، اتنے استحقاق اور پیار سے کہنے کے بعد وہ منع نہیں کر پائی اور خاموشی سے اس کے ساتھ چل دی۔
اسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ اس کے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ کیوں کر رہا ہے۔۔!! آخر وہ کرنا کیا چاہتا ہے۔۔!! خیر فی الحال اسے، اس الجھن میں اپنا دماغ نہیں دکھانا تھا، اس لیے ، اس نے اس معاملے پر سوچ بچار بعد کے لیے رکھ کر، اپنا دھیان ایگزامز اور ان کی فضول ٹینشن لینے میں لگایا۔
×××
ہر بدلتے دن، گزرتے لمحے اور ڈھلتی ساعت کے ساعت کے ساتھ، عدیل کی عنقا کے لیے پرواہ بڑھتی جا رہی تھی۔ اب تو عنقا کو بھی اس کی عادت سی ہونے لگی تھی اور عدیل کا تو جیسے اس کے بغیر رہنا ہی ناممکن سا ہو گیا تھا۔۔ اسے تو جیسے اس کی اریزے واپس مل گئی تھی۔۔!! اور وہ یہی تو چاہتا تھا کہ وہ اسے واپس مل جائے، لیکن پھر بھی اس نے بہت بار اپنے محسوسات کو جھٹلانے کی کوشش کی ، اس نے بہت بار یہ سوچنا چاہا کہ عنقا ہر گز اریزے نہیں ہو سکتی۔۔!! لیکن دل۔۔ وہ تو اسے عنقا کے وجود میں تلاش چکا تھا۔۔ وہ تو اس کی جھلک، عنقا میں دیکھ چکا تھا۔۔اور وہ اب مکمل، اسی کا ہو چکا تھا۔
×××
اب معمول یہ تھا کہ عدیل عرف “جنگلی” نے ، بہت فراخدلی اور بہت خوشی سے عنقا کے لاکھ منع کرنے کے باوجود، اس کی ، یونیورسٹی کی پک اینڈ ڈراپ سروسز اپنے ذمے لی تھیں، یعنی وہ اسے روز صبح جگانے کے بعد، زبردستی اپنی پسند کا ناشتہ کرواتا، اب بھلے عنقا کو اس کی پسند، اچھی لگے یا نہ لگے، لیکن اس معاملے میں، اس پر دھونس جمانا ، وہ اپنا فرض سمجھتا تھا۔۔ بے شک وہ کافی حد تک بدل چکا تھا اور اپنی طرف سے عنقا کو ، بہت خوش رکھنے کی کوشش کرتا لیکن ایسی چھوٹی چھوٹی سی ضدیں، شرارتیں اور زبردستیاں کرنے کا حق رکھتا تھا، خیر ناشتے کے بعد وہ خود اسے ڈراپ کرکے آتا اور واپسی پر بھی خود ہی لے کر آتا، گھر آنے کے بعد بھی وہ زیادہ تر اسی کے آس پاس رہتا۔
وہ حتی الامکان، اس کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتا۔۔ اور ایسی کوششیں خود بہ خود ہی، اس سے سرزد ہوتی تھیں۔۔ وہ نہیں جانتا کہ وہ کیوں اس میں اس قدر انوالو (involve) ہوا۔۔ اور وہ انوالو ہونا بھی کب چاہتا تھا۔۔ یہ بس انجانے میں ہی۔۔ اس کا دل دل عنقا کی طرف کھینچتا چلا گیا۔۔ وہ انجانے میں ہی اسے اریزے کی طرح چاہنے لگا تھا۔۔ اور اب اس کی بس ایک خواہش تھی۔۔ کہ وہ بھی اسے اریزے کی طرح پیار کرنے لگے۔۔ وہ بھی اس کی غلطیاں معاف کر کے، اسے دل و جان سے، محبت اور مان سے قبول کرے۔۔ اور اسے یقین تھا کہ وہ ایسا ضرور کرے گی۔۔!!

اور اسے یقین تھا کہ وہ ایسا ضرور کرے گی۔۔!!
××××
عنقا کا آخری پیپر تھا۔۔ وہ بہت توجہ سے اس کی تیاری میں مشغول تھی، یہ سبجیکٹ اس کو ہمیشہ ہی سب سے مشکل لگتا تھا، اس لیے، اس کی تیاری میں ، اس کا اچھا خاصہ وقت صرف ہوا۔
×××
تقریباً صبح کے ساڑھے چار بجے کا وقت تھا۔۔ اور وہ ابھی تک تیاری میں مگن تھی۔ عدیل کی آنکھ کھلی تو اس نے عنقا کو کتاب میں گھسا ہوا پایا۔
“تم ابھی تک پڑھ رہی ہو؟؟؟” وہ حیران ہوتا ہوا بولا،
“جی۔۔!! میرا پیپر ہے کل۔۔!! میرا خیال ہے کہ اس میں اتنی حیرانی والی کوئی بات نہیں۔۔!!” عنقا نے عدیل کے فکر زدہ لہجے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بیزار ہوتے ہوئے تڑخ کر جواب دیا۔
ایک تو وہ پڑھ پڑھ کر بے تحاشا تھک چکی تھی اوپر سے نیند سے بوجھل ہونے کی وجہ سے عجیب چڑچڑا پن اس پر طاری تھا،تبھی اس نے اتنا بدلحاظ ہو کر جواب دیا۔
عدیل نے اس کے بدلحاظ سے جواب کا بالکل برا نہیں منایا، بلکہ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور تھوڑی دیر کے بعد ہاتھ میں میں کافی کے دو مگ اٹھاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا، اس وقت، واقعی عنقا کو شدت سے اس کی طلب محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ اب اسے اپنے گندے رویے پر افسوس ہوا اور کچھ شرمندگی بھی محسوس ہوئی، لیکن وہ ہر گز ،، عدیل کے سامنے اپنی شرمندگی کا اظہار نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔اس لیے اس نے خود کو بالکل سنجیدہ ظاہر کرتے ہوئے، بڑی ڈھٹائی سے، عدیل کے ہاتھوں سے کافی کا مگ لیا اور جلدی جلدی کافی غَٹَکنے لگی۔۔ حد تو یہ تھی کہ اس نے عدیل کا شکریہ ادا کرنے کی بھی زحمت نہیں
کی، خیر وہ بے چارہ بھی اس کی اکڑ کو برداشت کرتا ہوا، بڑے سکون نے کافی پی رہا تھا۔
کافی ختم کرنے کے بعد، وہ عنقا کے پاس سے اس کی ساری کتابیں سمیٹنے لگا، “یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟؟؟” عنقا نے ماتھے پر بل چڑھا کر ، ناسمجھی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا۔ “تمہاری بکس سمیٹ رہا ہوں۔۔دکھائی نہیں دے رہا؟؟” اس نے نارمل لہجے میں جواب دیا۔
“پر کیوں۔۔؟؟ آپ کو پتہ نہیں کہ میں نے پڑھنا ہے اپنا۔۔!!” اس نے احتجاج کیا۔
“توبہ کرو لڑکی، اور کتنا پڑھو گی؟؟ وقت دیکھا ہے تم نے؟؟ چار بج چکے ہیں۔۔!! اگر اب تھوڑی دیر بھی اور کتابوں میں گھسی ناں۔۔ تو سارے پیپر میں سوتی رہو گی۔۔!! اس لیے شرافت کے دائرے میں رہتے ہوئے بیڈ پر پہنچو اور سوجاؤ۔۔!!” عدیل نے رعب جما کر کہا۔
عنقا کو بھی اس کی بات کچھ حد تک ٹھیک لگی تھی۔۔ اس لیے وہ بھی گندا سا منہ بناتے ہوئے اٹھی اور سونے کے لیے بیڈ پر چلی گئی، اب یہ جتانا بھی تو ضروری تھا ناں کہ عدیل نے جبراً ، اس کو پڑھنے سے روکا ہے۔۔ ورنہ تو اس کا خود بھی سونے کا ، خوب دل تھا۔۔ یعنی اس وقت ، اس کے تھکن اور نیند سے بے حال وجود کو اطمینان سے سونے کی اشد ضرورت تھی۔
کافی پینے کے بعد ، اس کی تھکاوٹ زدہ وجود کو ، کچھ حد تک تسکین پہنچی تھی۔۔ مگر پھر بھی وہ سونا چاہتی تھی۔
××××
صبح، وہ معمول سے لیٹ اٹھی اور اب جلدی جلدی تیاری کرنے میں مصروف تھی۔ تیار ہونے کے بعد وہ عدیل کے ہمراہ یونیورسٹی پہنچی۔ شکر تھا کہ وہ یونیورسٹی سے لیٹ نہیں ہوئی تھی، اب یہاں اسے ساری ٹینشن اس کے پیپر کی تھی کہ اللّٰه جانے اچھا ہوگا بھی یا نہیں، اس کی شکل ایسی تھی کہ کوئی بھی دیکھ کر سمجھ سکتا تھا کہ وہ اس وقت بڑی ٹینشن میں ہے، اسے پریشان دیکھتے ہوئے غانیہ اس کے پاس آئی، “خیر تو ہے۔۔!! اتنی پریشان لگ رہی ہو۔۔؟؟” غانیہ نے بالکل نارمل ہو کر پوچھا، اس کے لہجے سے لگتا ہی نہیں تھا کہ ان دونوں کے درمیان کبھی کوئی کدورت ، کوئی رنجش پیدا ہوئی تھی۔
“آپ کون۔۔؟؟” عنقا نے جل کر طنز کیا اور اس کے پاس سے اٹھ کر چلی گئی، بےشک وہ جتاتی نہیں تھی لیکن غانیہ کے سابقہ، کھینچے کھینچے رویے نے ، اسے کچھ تکلیف تو پہنچائی تھی۔
شکر تھا کہ اس کا سامنا ، عادل سے نہیں ہوتا تھا، ورنہ ممکن تھا کہ وہ، اپنی زندگی کے سب سے بڑے حادثے کے افسوس سے باہر نہ نکل پاتی۔۔۔!! ممکن تھا کہ وہ عدیل کے ساتھ ایڈجسٹ نہ ہو پاتی۔۔!!
×××
غانیہ سمجھ سکتی تھی کہ عنقا نے ایسے ری ایکٹ کیوں کیا۔!! اسے بھی اپنے دل میں، فضول سا کینہ پالنے پر خاصی شرمندگی اور افسوس تھا، کہ آخر اس نے کیسے عنقا کا سابقہ منگیتر ہڑپ کر ، اسی سے کنارا کر لیا، لیکن وہ بھی کیا کرتی۔۔!!! پیشکش تو عادل کی طرف سے ہوئی تھی ناں، اور اس سے دوستی کے بعد، اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ عنقا کا سامنا کرتی، اسی لیے ، اس نے، اپنی پیاری سی دوست سے دوری اختیار کی۔ پر اب وہ سب سدھارنا چاہتی تھی، اسی میں سب کی بھلائی تھی۔
××××
عنقا، اپنا پیپر دے کر، بڑی خوش خوش باہر نکلی، وہ امید سے زیادہ اچھا پرفارم کر کے آئی تھی، اس لیے بے حد مطمئن بھی تھی، غانیہ بھی پیپر دے کر آئی تو عنقا کو ڈھونڈ کر اسی کے پاس آ کر بیٹھی۔۔ “لگ رہا ہے۔۔ پیپر کچھ زیادہ اچھا ہو گیا۔۔؟؟” اس نے چہکتے ہوئے پوچھا۔
“تم سے مطلب؟؟” عنقا بگڑ کر بولی۔
“یار ایسے تو بات نہیں کرو۔۔!!” غانیہ نے منت کی۔
“شکر کرو۔۔ بات کر رہی ہوں۔۔!! ورنہ تم نے تو مجھے اس لائق بھی نہیں سمجھا۔۔!! مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر جو برا ہوا۔۔ میرے ساتھ ہوا۔۔ تمہیں تو چاہیے تھا تم لوگ میری مدد کرتے، مجھے سپورٹ کرتے یا کم سے کم میرا دکھ بانٹتے۔۔!! لیکن نہیں۔۔!! تم لوگوں نے تو الٹا مجھے ہی اکیلا کر دیا۔۔!!”عنقا نے بالآخر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں، بظاہر وہ نظر انداز کرتی تھی اور اسے لگتا تھا کہ وہ ان بالکل کوئی اثر نہیں لیتی۔۔لیکن ، اسے ہر ایک کی زیادتی، ہر ایک کی بد سلوکی، اندر ہی اندر، بہت چبھتی تھی، تکلیف پہنچاتی تھی۔۔!!
اسے اس وقت عادل کے وہ تلخ لہجے میں کہے گئے، اذیت ناک الفاظ بھی یاد آئے، جو اس نے ، عنقا کو الزام دیتے ہوئے کہے تھے۔۔۔!!
( “تم نے بہت ہی گھٹیا حرکت کی ہے۔۔!! تم تو مجھ سے محبت کرتی تھیں ناں۔۔تو پھر مجھ پر، اتنا بڑا ظلم کیوں کیا۔۔؟؟ جواب دو ۔۔!!”)
اسے ایک ایک لفظ یاد آیا ، اور یاد آتے ہی آنسو ، اس کی آنکھوں سے ابل بڑے، یہ نہیں تھا کہ عادل میں اس کی کوئی دلچسپی باقی تھی، بس رویوں کا دکھ تھا، جسے وہ کہہ کر ، اظہار کر کے ختم کرنا چاہتی تھی۔
غانیہ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی، بے شک وہ اس کی سوچ نہیں پڑھ سکتی تھی لیکن اس کی شکایتیں سن چکی تھی ناں،اس کے درد کا اندازہ تو لگا چکی تھی ناں، اور اس کے اس طرح بے اختیار رونے پر وہ بھی تو بے چین ہوئی تھی، اس لیے تو اس نے لپک کر اسے گلے لگایا۔
“آئم سوری۔۔ عنقا۔۔!! پلیز معاف کردو۔۔!! مجھ سے غلطی ہو گئی۔۔ بہت بڑی غلطی۔۔!! میں سچ میں بہت شرمندہ ہوں۔۔!!” غانیہ نے ندامت سے چور لہجے میں سسک کر کہا۔۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بھی جاری تھے۔
اس کے ایسا کہنے پر عنقا کو مزید رونا آیا۔۔”گندی چڑیل۔۔!!” وہ اس کے گلے لگی، روٹھے ہوئے سے لہجے میں بولی۔۔ کہنے کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ اس کے دل میں غانیہ کے لیے اب کوئ میل نہیں۔ اس کے جواب پر غانیہ مسکرا اٹھی۔
“اوہوووو۔۔!! بڑی ہگز دی جارہی ہیں ایک دوسرے کو۔۔!!” ذرا فاصلے پر کھڑے، اسٹوڈنٹس میں سے کسی ایک نے نعرہ لگایا، وہ دونوں ہڑبڑا کر علیحدہ ہوئیں، باقی اسٹوڈنٹس دانت نکالنے لگے۔۔!! “ہاں۔۔ تو تم کیوں جل رہے ہو۔۔!!” غانیہ نے بھی اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے، ہانک لگا کر حساب برابر کیا۔
××××
معمول کی طرح، عدیل آج بھی اسے لینے آیا تھا۔۔ پیپرز ختم ہونے کی تو، اس کو ، عنقا سے زیادہ خوشی تھی، کیوں کہ اب وہ سکون سے اس کو تنگ کر سکتا تھا۔
عنقا بھی، اپنی پڑھائی کی طرف سے مکمل آزاد ہو چکی تھی اس لیے خاصہ ریلیکس، فیل کر رہی تھی اور ایگزامز کی ٹینشن بھی بالکل ختم ہو چکی تھی سو اب اس دماغ بالکل خالی تھا، اس میں ، کوئی نئی تکلیف، کوئی نئی ٹینشن یا کوئی نیا شوشہ چھوڑنے کے لیے کافی جگہ بن گئی تھی۔
یہ انسانوں کا دماغ بھی کب زیادہ دیر تک خالی رہتا ہے۔۔!!
سو اس لیے ، اس کا دماغ بھی، اس کا چین برباد کرنے کے لیے، ایک زبردست سا ، خرافاتی خیال، اس کے شعور میں منتقل کر چکا تھا۔
اور وہ بھی کار میں، عدیل کے قریب ہی ، فرنٹ سیٹ پر بیٹھی۔۔!! نیا پھڈا ڈالنے کے لیے، بالکل تیار تھی۔

اور وہ بھی کار میں، عدیل کے قریب ہی ، فرنٹ سیٹ پر بیٹھی۔۔!! نیا پھڈا ڈالنے کے لیے، بالکل تیار تھی۔
“عدیل۔۔!!” اس نے سخت لہجے میں پکارا۔
“جی۔۔!!” چاہت سے مخمور لہجے میں جواب آیا۔
“مجھے امی کے ہاں جانا ہے۔۔!!” وہ کرختگی سے بولی۔
“چلی جانا۔۔!! لیکن تم اتنے عجیب طریقے سے کیوں بول رہی ہو۔۔؟؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“میری مرضی۔۔!! میں جس کسی سے۔۔ جیسے بھی بات کروں۔۔!! اور میں نے آپ سے ، امی کے گھر جانے والی بات، کوئی اجازت لینے کے لیے نہیں بولی، میں یہ کہہ رہی ہوں کہ مجھے ابھی امی کے گھر چھوڑ کر آئیں۔۔!!” وہ عجیب پاگلوں طرح ہائپر ہوئی۔
“ریلیکس عنقا۔۔!! کچھ ہوا ہے کیا۔۔؟؟ تم اس طرح کیوں بات کر رہی ہو؟؟” عدیل پریشان ہوا تھا۔۔
گاڑی چلاتے ہوئے، اس کی نظریں تو سامنے روڈ پر مرکوز تھیں لیکن دھیان عنقا کی طرف تھا۔
“کچھ نہیں ہوا۔۔!!! میں نے کوئی انوکھی بات تو نہیں کی۔۔ جو آپ اتنا حیران و پریشان ہو رہے ہیں۔۔!!” لہجے میں درشتی برقرار تھی۔
“میں کب کہہ رہا ہوں کہ کوئی انوکھی بات کر دی تم نے۔۔!! میں تو بس یہ پوچھ رہا ہوں کہ آخر ہوا کیا ہے جو تم اچانک اتنے عجیب لہجے میں بات کر رہی ہو۔۔!! مطلب صبح تک تو سب ٹھیک تھا۔۔ اب کیا ہوا ہے تمہیں۔۔!!” عدیل نے بھی اس بار ذرا کھردرا لہجہ اپنایا، ساتھ ہی ، اس کی پیشانی پر بل بھی نمودار ہوئے، حالانکہ وہ ابھی بھی اس کے لیے فکر مند اور پریشان تھا لیکن عنقا کا طرزِ کلام، اسے غیظ دلا رہا تھا، تبھی وہ تھوڑی سختی سے بولا تھا۔
سخت لہجوں کی، اسے عادت نہیں تھی ناں۔۔!! عنقا کا یہ بدلا ہوا،بے تکا، ترش انداز بھی اسے پسند نہیں آیا تھا اور وہ پریشان بھی تو ہوا تھا کہ کہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگیا اس کے ساتھ۔۔!!
“میں ابھی بھی بالکل ٹھیک ہوں۔۔!! بس مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔۔!! مجھے امی کے گھر جانا ہے۔۔!! مجھے آپ زہر لگتے ہیں، اور مجھے ذرا سا بھی انٹرسٹ نہیں ہے آپ میں۔۔ بس آپ ابھی کے ابھی ، مجھے امی کے گھر چھوڑ کر آئیں۔۔!!” وہ ضد کرتے ہوئے مچل کر بولی۔۔۔ اور وہ حتیٰ الامکان عدیل کی تحقیر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔اور تو اور۔۔ وہ اب رونے بھی لگی تھی۔۔ نجانے اسے کیا ہوا تھا۔۔!!
اس کے الفاظ ، کس حد تک سچ تھے یا کس حد تک جھوٹ تھے۔۔ یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
عدیل کو اس کی لفاظی سن کر، ذرا تاؤ آیا تھا۔۔ مگر پھر ایک نظر اس کی طرف دیکھ کر سب سمجھ گیا، وہ جان گیا تھا۔۔ کہ وہ کس احساس کے تحت یہ سب کہہ رہی ہے۔۔!!
وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں ایسے مچل رہی ہے۔۔!! اسے پتہ چل گیا تھا کہ اس کے اندر چل کیا رہا ہے۔۔!! اس لیے ذرا سا سوچنے کے بعد اس نے روتی ہوئی، عنقا کو مخاطب کر کے کہا، “اچھا ٹھیک ہے۔۔ رونا بند کرو۔۔۔!! میں ٹرن لیتا ہوں۔۔!! چھوڑ کر آتا ہوں تمہیں تمہاری امی کے گھر۔۔۔!!” وہ سپاٹ و سرد لہجے میں بولا اور موڑ لینے لگا۔
اپنی امی کے گھر والے راستے پر ، گاڑی کو مڑتا دیکھ کر ، عنقا کو تسلی ہوئی تھی۔۔ اسے کچھ حیرت بھی ہوئی۔۔ کیوں کہ عدیل عموماً، ایک دم ایسے کسی کی بات تو نہیں مانتا ہوتا۔۔ خیر وہ اس کے کہنے پر رونا بند کر چکی تھی۔۔ لیکن ہلچل تھی۔۔ جو اس کے اندر پیدا ہونے لگی تھی۔۔ وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال کر بھی سکون محسوس نہیں کر پائی، وہ اتنی جلدی اپنی بات منوا کر بھی۔۔ خوش نہ ہو سکی۔۔!!
وہ ابھی اپنی الجھی الجھی سی کیفیت میں ہی مبتلا تھی کہ ٹرن لینے کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوا، “مجھے ایک بات بتاؤ۔۔!! یہ جب تم اتنے دنوں سے میرے ساتھ، چپ چاپ، سکون سے رہ رہی تھیں تو اس وقت تمہیں احساس نہیں ہوا کہ تمہیں اپنی امی کے گھر جانا چاہیے۔۔!! مجھ سے خدمتیں کراتے ہوئے اور روز کی پک اینڈ ڈراپ سروس لیتے ہوئے، تمہیں فیل نہیں ہوا کہ میں تمہیں زہر لگتا ہوں۔۔!!” اس نے جی بھر کر طنز کیا۔
عنقا اس کی بات سن کر خوب کچی ہوئی تھی پر ڈھیٹ بنتے ہوئے، اس نے بھی عدیل کے طنز کا بھرپور دفاع کیا، “دیکھیں، میں نے اس وقت بھی آپ کے پیر نہیں پکڑے تھے کہ مجھے اپنے ساتھ رہنے دیں، نہ میں نے خدمات لینے کی کوئی خواہش ظاہر کی تھی۔۔ اور آپ خود بتائیں کہ میں ایگزامز کے دوران کوئی ایسا ایشو کیسے کھڑا کرتی ، جس سے میری پڑھائی ڈسٹرب ہونے کا خدشہ رہتا۔۔۔!! اب میں بالکل فری ہوں ناں۔۔ اس لیے سکون سے اپنے لیے اسٹینڈ لوں گی۔۔!!” اس نے پہلے تو عدیل کے طنز کا حساب برابر کیا اور پھر ذرا اترا کر اپنا پلین بتایا۔
اس کی باتیں سن کر عدیل کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑی۔۔ اس کے ذہن میں ایک زبردست سا آئیڈیا کوندا، اب وہ بڑے مزے سے عنقا کو پاگل بنانے والا تھا۔۔ عنقا نے اپنی طرف سے تو ، امی کے گھر جانے والا کوئی بہت ہی ہنگامہ خیز شوشہ چھوڑا تھا۔۔ لیکن بے چاری۔۔ اسے کیا پتہ تھا کہ اس نے عدیل سے پنگا لیا ہے۔۔ عدیل جیسا شاطر تو اگلے کو اسی کی چال میں پھنسانے کا ہنر رکھا کرتا ہے۔۔ ہائے معصوم۔۔!! اب اس کی چالبازی کا شکار ہونے لگی تھی۔
“ایک بات بتاؤ۔۔!! تم سچ میں اسی لیے جانا چاہ رہی ہو۔۔ کہ میں تمہیں واقعی بہت برا لگتا ہوں۔۔!!” عدیل نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے، بڑے انہماک سے پوچھا۔
“ظاہر ہے۔۔!! اور کیا وجہ ہو گی بھلا۔۔!!” عنقا نے سر جھٹکتے ہوئے جواب دیا۔۔ جیسے وہ عدیل کی کم فہمی کا مذاق اڑا رہی ہو۔۔ کہ لو بھئی۔۔ اتنے بڑے آدمی کو، اس سے دوری اختیار کرنے کا مقصد ہی نہیں سمجھ آیا۔
“مجھے تو کچھ اور وجہ لگتی ہے۔۔!!” اس مشکوک لہجے میں کہا۔
“سیریسلی۔۔!! پھر تو آپ وہ وجہ بھی بتادیں۔۔!! جو آپ کو لگ رہی ہے۔۔!!” وہ مضحکہ خیز لہجے میں بولی۔
پتہ نہیں ، آج اسے ہو کیا رہا تھا۔۔ وہ اس کا مذاق اڑانے سے باز ہی نہیں آ رہی تھی۔۔!!
“دیکھ لو۔۔۔!! اگر وجہ بتادی ناں۔۔ تو تمہارے چھکے چھوٹ جائیں گے۔۔!!” عدیل نے اس کا تجسس بڑھایا۔
وہ واقعی متجسس بھی ہوئی تھی۔۔
“حیرت کی بات ہے۔۔!! ویسے اب آپ یہ باتوں کو یہاں وہاں مت گھمائیں۔۔ سیدھا ٹاپک پر آئیں ۔۔ سمجھے۔۔!!” وہ دھونس جماتے ہوئے کہنے لگی۔
“اے۔۔۔ مسز۔۔!! ذرا ٹون سیٹ کرو اپنی۔۔!! یو نو، مجھے پسند نہیں ہے ایسا لہجہ۔۔!!” عدیل نے اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے۔۔ الٹا وارن کیا۔
“اووو۔۔ مسڑ۔۔!! آپ بھی بات گول مول نہ کریں۔۔ بلکہ سیدھا سیدھا جواب دیں۔۔!!” اس نے دھونس جمانے والی ٹون برقرار رکھی۔۔وہ بھی کہاں ماننے والی تھی۔
“اچھا۔۔۔!!! تو سنو۔۔مسسز۔۔!! تمہیں میں بالکل زہر نہیں لگتا۔۔ ان فیکٹ اب تو میں تمہیں بہت اچھا لگنے لگا ہوں۔۔!! اب یہ مت پوچھنا کہ مجھے کیسے پتہ چلا۔۔!! میں یہ محسوس کر سکتا ہوں۔۔!! یو نو۔۔!!” اس نے مزے لیتے ہوئے کہا۔
جیسے جیسے وہ یہ لفظ ، اپنی زبان سے ادا کر رہا تھا، ویسے ویسے عنقا کے دل کی حالت تبدیل ہو رہی تھی۔۔ اس نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پاتے ہوئے اپنی زبان کھولی۔۔،،
“خوش فہمیاں ہیں آپ کی۔۔!!” کہنے کو اس نے ، عدیل کے اندازے کی نفی کی تھی۔۔ پر اتنا سا جملہ کہتے ہوئے وہ لرزی تھی۔۔ اٹکی تھی۔۔ کپکپائی تھی۔
اس کے اتنے سے جملے کی ادائیگی۔۔ نے عدیل پر بہت کچھ واضح کر دیا تھا۔۔ وہ اپنے اندازے میں سو فی صد درست تھا۔۔!! اور اس کا اندازہ، عنقا کو ابھی ہوا تھا۔۔ اسے، اپنے آپ میں ہی ایک شور سا اٹھتا محسوس ہوا۔۔ وہ شور جن آوازوں پر مشتمل تھا۔۔ جو کچھ عنقا ہر آشکار کر رہا تھا۔۔ یہ تو اس نے اپنے وہم و گمان میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔ بھلا وہ کیسے اس جنگلی کو اپنا دل سونپ سکتی تھی۔۔!!
اسے خود پر یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔ پھر اس نے ، ایک کمزور سا دفاع کیا۔۔ اس نے اپنے سبھی جذبوں کو وہم کا نام دے کر خود کو تسلی دی۔۔ اور آگے سے کچھ نہیں بولی۔
“خوش فہمی نہیں، یقین ہے۔۔!! اگر چاہو تو ثابت کر سکتا ہوں۔۔!!!” اس نے چیلنج کیا۔
“کریں ثابت۔۔!!” وہ بھی آگے سے جوش میں آ کر جلدی جلدی بول گئی۔۔اور اب پچھتائی۔۔!! کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ اب عدیل ضرور ایسا کچھ بولے گا۔۔!! جس سے وہ اپنی بات سچ میں ثابت کرے گا۔۔!!
“دیکھو۔۔ سمپل سی بات ہے۔۔!! تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی ہے ناں۔۔!! اس لیے تم مجھ سے بھاگنا چاہ رہی ہو۔۔!! کیوں کہ تم مجھ سے صرف نفرت کرنا چاہتی تھیں۔۔ اب غلطی سے میں تمہیں پسند آ گیا ہوں۔۔!! اور تم اس بات کا اقرار کرنے سے ڈرتی ہو۔۔!! اس لیے تم نے مجھ سے دور جانے کا فیصلہ کیا ہے۔۔!! اگر ایسا نہ ہوتا تو تم۔۔ یوں اچانک کیوں۔۔دور بھاگنے کی کوشش کرتیں۔۔!! اگر ایسا نہ ہوتا تو تم۔۔ پہلے کہ طرح ہی کامپرومائز کرتے ہوئے، سکون سے میرے ساتھ رہتیں۔۔!!تم بتاؤ۔۔ میں صحیح کہہ رہا ہوں ناں۔۔۔؟؟؟” عدیل نے بڑا خوش ہوتے ہوئے، عنقا کو جلا جلا، نان سٹاپ ، اپنے خالص خیالات پلس اندازے بتائے، اور آخر میں تصدیق بھی چاہی۔
عنقا ،بھلا کیسے ، اس کی ہر بات ، ہر اندازے کی تصدیق کر دیتی۔۔!!!

عنقا ،بھلا کیسے ، اس کی ہر بات ، ہر اندازے کی تصدیق کر دیتی۔۔!!!
“آہاں۔۔!! آپ بالکل غلط کہہ رہے ہیں۔۔مجھے پہلے کی طرح آج بھی آپ میں کوئی انٹرسٹ نہیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں آپ کی باتوں میں پھنس کر آپ کے ساتھ واپس جانے پر راضی ہو جاؤں گی تو یہ آپ کی بھول ہے۔۔میں بالکل آپ کے جھانسے میں نہیں آؤں گی۔۔۔ ابھی اس لیے آپ اپنے الفاظ مجھ پر ضائع مت کریں اور مجھے خاموشی سے گھر لے کر چلیں میں نے آپ کے ساتھ نہیں رہنا سو نہیں رہنا۔۔” وہ بڑی دلیری سے اپنے اپنے دل کی حالت پر قابو پاتی، صفائی سے جھوٹ پہ جھوٹ بولتی گئی۔
عدیل کو ، عنقا سے اس ڈھٹائی کہ توقع نہیں تھی، “کافی سمارٹ ہو۔۔!! اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں بےوقوف بنانا، تھوڑا مشکل ہے۔!” اس نے دل ہی دل میں عنقا کے متعلق سوچا، اور اس کے بعد مکمل طور پر خاموش رہا۔ اس کی خاموشی سے ماحول میں ایک عجیب کھچاؤ پیدا ہوگیا تھا۔۔!! جیسے اگر اس خاموشی میں کوئی ارتعاش پیدا ہوا تو کوئی قیامت کھڑی ہو جائے گی۔۔!!
××××
وہ لوگ، عنقا کی امی کے گھر تک پہنچ چکے تھے۔
ان دونوں کی طویل خاموشی کا عجیب اثر اب تک، خود بخود ہی زائل ہوچکا تھا، عدیل نے سکون سے ان کے گیٹ کے آگے اپنی کار روکی۔۔ اور سرد اپنی نظروں میں یک دم، ایک سرد تاثر بھرتا ہوا عنقا کی طرف دیکھنے لگا۔
اس نے کار لاک کی ہوئی تھی اس لیے عنقا باہر نہیں نکل پائی۔
“اسے ان لاک کریں۔۔ مجھے باہر نکلنا ہے۔۔۔!!” عنقا نے عدیل کو کچا چبا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔
“کرتا ہوں۔۔!! پہلے میری بات سن لو۔۔!!”وہ ذرا ٹھہر کر ، دبدبے سے بولا۔
“فرمائیں۔۔!!” عنقا نے بیزاری سے جواب دیا۔۔ اور اس کی یہ بیزاری، سطحی تھی۔۔ کیوں کہ اندر سے تو وہ اچھی خاصی لرزی تھی۔۔ عدیل کا بدلتا لہجہ اسے کچھ خوفزدہ سا کر گیا تھا۔
“عنقا۔۔!!! میں جانتا ہوں کہ میرا تمہاری زندگی میں آنا کسی برے حادثے سے کم نہیں تھا۔۔ اس کے بعد تمہارے ساتھ، میرا جو برتاؤ رہا، وہ بھی بلاشبہ قابل مذمت تھا اور ہے۔۔!! لیکن یقین کرو۔۔ میں اس سب کے لیے گے حد شرمندہ ہوں۔۔!! لیکن میں اپنی غلطی کا اعتراف اور شرمندگی کا اظہار کرنے کے بعد یہ نہیں کہوں گا کہ مجھے معاف کردو۔۔!! کیوں کہ میں معافی مانگنا ہی نہیں چاہتا۔۔!! اس لیے میں نے اب تک معافی نہیں مانگی اور نہ ہی مانگوں گا کیونکہ میں اپنی غلطیوں کا ازالہ معافی مانگ کر نہیں بلکہ اپنے عمل سے ، اپنے رویے سے کرنا چاہتا ہوں۔۔!! یقین کرو۔۔!! اس سب کے لیے مجھے خود پر بہت جبر کرنا پڑتا ہے۔۔!! میں آج بھی عادتوں کا بے حد برا ہوں۔۔!! لیکن میں تمہارے لیے خود کو اچھا بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔!! میں نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی کہ تمہیں احترام اور اعزاز کے ساتھ اپناؤں۔۔!! لیکن تم ہو کہ میرا ساتھ دینے پر ہی راضی نہیں ہوتیں۔۔!! مجھے چھوڑنا چاہتی ہو۔۔!! دو بھاگنا چاہتی ہو۔۔!! میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے، اپنی خطاؤں کے ازالے کے لیے جو کر سکتا تھا۔۔ میں نے کیا۔۔!! میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کر پاؤں گا۔۔!! تم نے جانا ہے تو شوق سے جاؤ۔۔!! می۔ تمہیں بالکل نہیں روکوں گا۔۔ لیکن پھر مجھ سے کسی بھلائی امید مت رکھنا۔۔۔!!” وہ بہت رعب دار سی آواز میں، مسلسل عنقا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتا گیا۔
عنقا بھی ششدر ہو کر ، اسے سنتی گئی۔۔ اور اس کے خاموش ہونے پر تو جیسے۔۔ وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھی۔۔۔!!
“یو نو۔۔!!! یو آر این ایڈیٹ۔۔!! اتنی لمبی بات کی۔۔ اور وہ بھی بالکل فضول۔۔!! معافی مانگنے سے کیا ہوتا ہے۔۔ ہاں۔۔!! اگر مانگ لیں گے تو کیا ناک کٹ جائے گی آپ کی۔۔!! اور یہ آپ۔۔۔!! باتیں۔۔!! کس قسم کی کر رہے ہیں۔۔!! مطلب۔۔ کوئی ایسے بولتا ہے۔۔ کہ میں نہیں روکوں گا۔۔ جانا ہے تو شوق سے جاؤ۔۔!! اوررر یہ بتائیں کہ کیا کوشش کی ہے آپ نے۔۔؟؟ ہاں۔۔؟؟؟ تھوڑا سا بی ہیویر درست کیا تھا بس۔۔ اور تھوڑا سا خیال رکھا تھا۔۔!! اگر آپ سچ میں مجھے اور ہمارے ریلیشن کو لے کر سیریس ہیں تو ہمارے درمیان موجود تلخیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔۔!! یہ کیا عجیب باتیں کر رہیں ہیں۔۔!!
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔ جو میں نے آپ سے دور بھاگنے کا فیصلہ لیا۔۔!! مجھے بالکل کوئی شوق نہیں ہے کہ میں کسی ایسے بندے کے لیے اپنی فیلنگز برباد کروں۔۔ جو خود تو جنگلی ہے ہے۔۔ لیکن اس کی عقل اس سے زیادہ جنگلی۔۔!! آئی مین اگر آپ میں انسانوں والی عقل پائی جاتی ناں۔۔ تو کوئی عقل کی بات کرتے۔۔!!! اب آپ شرافت سے لاک کھولیں کھولیں۔۔!! تاکہ میں باہر نکلوں۔۔ اور آپ سے دور بھاگوں۔۔!! ہننہہ پاگل کہیں کے۔۔۔!!!” عدیل کی باتوں پر تپی ہی تو تھی وہ۔۔۔ تبھی۔۔ اتنا بے دھڑک ہو کر اس نے اپنے اندر کی ساری بھڑک باہر نکالی۔
عدیل کے لیے۔۔ عنقا کا زبردست قسم کا جوابی حملہ بالکل غیر متوقع تھا۔۔ تبھی وہ حیرانی سے اس کا منہ تک رہا تھا۔

عدیل کے لیے۔۔ عنقا کا زبردست قسم کا جوابی حملہ بالکل غیر متوقع تھا۔۔ تبھی وہ حیرانی سے اس کا منہ تک رہا تھا۔
عنقا کے تحکم بھرے لہجے کا کمال تھا۔۔ کہ فوراً۔۔ بے اختیار ہی اس نے کار ان لاک کی، عنقا فوراً ہی کار سے باہر نکلی اور اس کا دروازہ زور سے مارتے ہوۓ آگے بڑھی۔
“ایڈیٹ۔۔۔!!!” اس نے جل کر منہ ہی منہ میں کہا۔
اسے رہ رہ کر عدیل پر غصہ آ رہا تھا۔۔!! اگر وہ اسے سچ میں روکنا چاہتا تھا تو کوئی عزت اور تمیز والے طریقے منا سکتا تھا ناں۔۔ عنقا بھی تھوڑے تردد کے بعد مان جاتی۔۔ لیکن وہ بھلا ایسا کیسے کر سکتا تھا۔۔!! اگر ایسا ہو جاتا تو پھر وہ اپنے آپ کو ایڈیٹ کیسے ثابت کرتا۔۔!!
اس کے جاتے نکلتے ہی۔۔!! عدیل نے بھی کار اسٹارٹ کی۔۔!! اور تھوڑا سا بھی وقت ضائع کیے بغیر، وہاں سے رفو چکر ہوا۔۔!! اسے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔ کہ عنقا آخر کیسے۔۔ اس قدر حاضر جواب ہو سکتی ہے۔۔!! وہ سارے راستے اس کی باتیں سوچتا رہا۔۔!! بلکہ وہ اس کی باتوں کے پیچھے چھپے مطلب بھی ڈھونڈھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔!!
×××
عدیل کے وہاں سے جانے کے بعد، عنقا نے گھر کی بیل کے بٹن پر انگلی رکھی۔۔!! دروازہ کھولنے کے لیے اس کی امی آئی تھیں۔۔!! اسے وہاں دیکھ کر۔۔ انہیں خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔ انہوں نے دروازے پر ہی بہت گرمجوشی سے اسے گلے لگایا۔۔ اور اس کے بعد “آؤ بیٹا ۔۔ اندر آؤ” کہتے ہوئے، محبت سے اندر آنے کا بولا۔
اس کے اندر آنے کے بعد انہوں نے عدیل کو بھی اندر بلانے کے لیے، جھانک کر باہر دیکھا تو وہاں وہ موجود نہیں تھا۔۔!! ظاہر ہے۔۔!! وہ وہاں کیسے موجود ہو سکتا تھا۔۔وہ تو پہلے ہی وہاں سے جا چکا تھا۔۔!!
اسے باہر نہ پا کر۔۔ وہ واپس مڑیں۔۔اندر آئیں اور عنقا پر اپنی مشکوک نظروں کا گھیرا تنگ کیا۔۔!!
“عدیل کہاں ہے۔۔!!” انہوں نے پوچھا۔
“وہ مجھے چھوڑنے آئے تھے۔۔ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔۔!!” اس نے لاپروائی سے جواب دیا۔
“یہ کیا بات ہوئی۔۔!! بیٹا کم سے کم اندر تو بلا لیتیں۔۔!!” انہوں نے ، ملامتی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔
“امی۔۔ وہ جلدی میں تھے۔۔ اس لیے نہیں رکے۔۔!! اور آپ۔۔آپ کیسی ماں ہیں۔۔!! بیٹی اتنے دنوں بعد گھر آئی ہے۔۔ اسے پوچھنے کی بجائے۔۔!! اپنے اس گندے سے داماد کے متعلق سوال جواب کیے جارہی ہیں۔۔!! ایسے بھی کوئی کرتا ہے۔۔!!” وہ ناراض ہوتے ہوئے بولی۔
“گندا سا داماد۔۔۔!!!” انہوں نے تعجب سے عنقا کی طرف دیکھا۔
“مطلب لڑائی ہوئی ہے تم دونوں کی۔۔۔۔!! بتاؤ۔۔!! کیا کیا ہے تم نے۔۔!!” انہوں نے بھرپور تفتیشی انداز اپناتے ہوئے سوال کیا۔
“توبہ ہے امی۔۔!! یوں نہیں کہ بچی یونیورسٹی سے تھکی ہاری، اپنا پیپر دے کر آئی ہے۔۔!! اوپر سے،اتنے دنوں بعد میکے کا چکر لگایا ہے۔۔!! اس کی کوئی آؤ بھگت کر لوں۔۔!! نہیں بس۔۔ آپ کو تو اپنے داماد کی پڑی ہے۔۔!! آپ کو میری کوئی پروا نہیں۔۔!! آپ اور ابو تو چاہتے ہی نہیں۔۔ کہ میں سکون سے رہوں۔۔ اس لیے۔۔ بار بار۔۔ اپنے گندے سے داماد کے پاس بھیج دیتے ہیں۔۔!! اب پلیز۔۔ جب تک میں خود یہاں سے نہیں جاتی تب تک۔۔۔ مجھے بھیجنے کی بالکل کوئی کوشش مت کیجئے گا۔۔!! اور۔ میری پیاری امی۔۔ پلیز کچھ کھانے کو دے دیں۔۔۔!! تب تک میں فریش ہو کر آتی ہوں۔۔!! اوکے۔۔!!” وہ آخری بات بہت لاڈ سے کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔
وہ فریش ہو کر آئی تو اسے ٹرے میں موجود گرما گرم کھانا، اس کے بیڈ پر پڑا ملا، وہ ندیدوں کی طرح، جلدی جلدی بیڈ پر آکر ، آلتی پالتی مار کر بیٹھی، اپنے ہاتھ مسلتے ہوئے للچائی ہوئی نظروں سے، اپنے پسندیدہ آلو گوشت کے شوربے اور تڑکے والے چاولوں کو دیکھا اور بھوکوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑی۔ اس کی امی پانی لینے گئی تھیں۔۔ وہ پانی لے کر آئیں تو عنقا کو کھانے پر ٹوٹتا دیکھ کر انہیں شدید تاؤ آیا،
“بیٹا کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔؟؟؟یہ پاگلوں کی طرح، جنگلیوں کی طرح کیوں کھا رہی ہو۔۔۔؟؟؟” اس کی امی نے غصے سے سوال کیا۔
امی۔۔۔ وہ مجھے بہت بھوک۔۔” وہ کہتے کہتے رکی تھی، اس نے اپنا منہ اتنا بھر رکھا تھا کہ چاول اس کے منہ سے باہر نکل رہے تھے، “اف۔۔۔!! مسٹر جنگلی نے مجھے بھی جنگلی بنادیا۔۔!!” اس نے رک کر سوچا۔۔
“کیا بھوک۔۔۔!!” اسکی امی نے اس کے ادھورے جملے کی بابت، ذرا غصے میں پوچھا۔
“وہ۔۔ مجھے بھوک لگ رہی تھی۔۔” اس نے نوالہ نگل کر ذرا خفت سے جواب دیا،
“بیٹا بھوک لگنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ انسان، انسانوں کی طرح نہ کھائے، تمہیں کم سے کم کھانے کے آداب کا خیال رکھنا چاہیے، ورنہ جس ندیدے پن سے تم کھانا ٹھونس رہی ہو۔۔ ایسے تو جانور بھی نہیں کرتے۔۔”انہوں نے ، عنقا کی بڑے اچھے طریقے سے عزت افزائی کی۔
“جی۔۔جی بالکل!! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔!! غلطی ہوگئی مجھ سے۔۔!! آئم سوری۔۔!!” عنقا نے اپنی عزت افزائی کو محسوس کرتے ہوئے اور مزید عزت افزائی سے بچنے کے لیے، اپنی حرکت پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اور پھر انسانوں کی طرح، یعنی ذرا مہذب انداز میں نوالے لینے لگی۔

“جی۔۔جی بالکل!! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔!! غلطی ہوگئی مجھ سے۔۔!! آئم سوری۔۔!!” عنقا نے اپنی عزت افزائی کو محسوس کرتے ہوئے اور مزید عزت افزائی سے بچنے کے لیے، اپنی حرکت پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اور پھر انسانوں کی طرح، یعنی ذرا مہذب انداز میں نوالے لینے لگی۔
اس کی امی پانی رکھنے کے بعد اس کے پاس سے گئی نہیں تھیں۔۔بلکہ وہ اس کے ساتھ، اس کے بالکل سامنے بیٹھ چکی تھیں۔ ان کی چھٹی حس کہہ بتا رہی تھی کہ دال میں کچھ کالا ہے، وہ پر یقین تھیں کہ اس بار عنقا ہی کو حج چاند چڑھا کر آئی ہے، اس لیے تو وہ مسلسل۔۔ عنقا کو اپنی مشکوک نظروں سے دیکھے جارہی تھیں۔
اس وجہ سے عنقا سے ،ڈھنگ سے کھانا بھی نہیں کھایا جا رہا تھا۔
ان کا، مسلسل شک بھری نظروں سے دیکھنا ، عنقا کو عجیب لگا، اسے لگ رہا تھا کہ وہ جیسے کچھ پوچھنا چاہتی ہیں۔۔۔ اور ہو نہ ہو۔۔!! ان کا سوال یا ان کے سوالات، اس کے عدیل کے بغیر ، اچانک ایسے گھر آنے کے متعلق ہوں گے۔
اسے اپنی امی کا سٹائل کچھ سہی نہیں لگا۔۔ اسے لگا کہ جیسے ابھی اس کی امی اسے پھینٹی لگائیں گی۔۔!! اب وہ اس بےچاری کو دیکھ ہی ایسے رہی تھیں۔۔جیسے وہ کوئی ڈاکہ ڈال کر آئی ہو ۔۔۔!!
“امی۔۔۔!!! آپ۔۔ آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں۔۔” اس نے اپنی امی کی تفتیشی نظروں سے تنگ آ کر، تھوڑا ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
اماں حضور بھی اس کے اسی سوال کہ انتظار میں تھیں، سو انہوں نے بھی اس کے سوال کے جواب میں ، اپنے سوالات کی لسٹ، عنقا کی سماعت کی نظر کی۔۔
“بیٹا۔۔!! دیکھو تم اس طرح اکیلی اٹھ کر آئی ہو۔۔ تو مجھے لگ رہا ہے کہ کچھ گڑبڑ ہوئی ہے، تمہارے اور عدیل کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا ہے۔۔!! اس لیے، مجھے بالکل سچ سچ بتاؤ کہ تم ادھر کیوں آئی ہو۔۔؟؟ بلکہ یہ بتاؤ کہ کیا گل کھلا کر آئی ہوں۔۔!! کیوں کہ مجھے تمہاری حرکتیں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اس بار ، رولا عدیل نہیں بلکہ تم نے ڈالا ہے۔۔!! یعنی سب کیا کرایا تمہارا ہے۔۔!! اس لیے اب جھوٹ سے پرہیز کرتے ہوئے، مجھے بالکل سچ سچ بتاؤ کہ کیا بات ہوئی ہے۔۔؟؟” انہوں نے ایک کے بعد ایک تیر پھینکا۔۔ جو یقیناً نشانے پر تھا۔۔ انہوں نے ، پورے یقین سے عنقا کو مجرم سمجھتے ہوئے، تفتیش کی، اس کے کارناموں کے متعلق سوال کیے۔
اب بھلا وہ کیا بتاتی کہ عدیل کو کیا کچھ کہہ کر آئی ہے۔۔!!
اس لیے ان کے سوالات کے جواب دینے کی بجائے وہ انہی کو سکھانے لگی،
اووووفو۔۔!! امی یہ بات ہے۔۔؟؟ آپ یہ سب پوچھنے کے لئے، اتنی دیر سے ، مجھے اتنی اسٹرینج نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔۔!! سچ بتاؤں۔۔ آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔۔ ویسے امی جی۔۔ تھوڑے آداب ، میرے خیال سے آج کل کی ماؤں کو بھی سیکھنے چاہیے، مطلب جب ان کی بیٹیاں اپنے میکے آتی ہیں اور دیکھنے میں بالکل مطمئن لگ رہی ہوں تو ان کو بھی چاہیے کہ وہ انہیں، میکے کی فضاء میں، کچھ دیر، کھل کر سانس لینے دیں، اوررر خصوصاً، جس وہ وہ کھانا کھا رہی ہوں تو ان سے ایسے الٹے سیدھے سوال نہ کریں۔۔ مطلب یہ انویسٹیگیشن تو تھوڑی دیر بعد بھی ہو سکتی ہے ناں۔۔۔!!!” اس نے بڑی مہارت سے اپنی امی کی ساری تفتیش، ایک طرف رکھ کر، دادیوں کی طرح، بڑے ناصحانہ انداز میں، ہاتھ ہلا ہلا کر، کچھ آداب بتانے اور سکھلانے کی کوشش کی۔۔!!
ویسے یہ آداب بھی اسی کے ایجاد کردہ تھے۔۔!!
اس کی امی کو ، اس کی زبان درازی پر شدید تاؤ آیا، اور اس کے بات گھمانے پر ان کو یقین ہو چلا تھا کہ ان کے سب اندازے سو فی صد درست ہیں۔۔ یہ ضرور کوئی بےوقوفی کر کے آئی ہے۔۔۔!!
لیکن ابھی تو وہ اس ڈھیٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھیں۔۔ اس لیے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس پر برسیں۔۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا۔۔!!! تم ابھی یہ اپنا کھانا ٹھونس لو۔۔!! اس کے بعد ، میں تمہاری خبر لوں گی۔۔!! کوئی تمیز ہی نہیں ہے۔۔!! نہ اپنے شادی شدہ ہونے کا لحاظ ہے۔۔!! نہ ماں کا خیال ہے۔۔!! ماؤں کو سو پریشانیاں ہوتی ہیں۔۔!! اپنی بیٹیوں کو لے کر ہزار وسوسے ان کے دل میں آتے ہیں۔۔!! لیکن تمہیں کیا پرواہ۔۔!! تم اپنا کھانا ٹھونسو۔۔!! اور ذرا اچھے سے کھانا۔۔ کیوں کہ اس کے بعد میں نے تمہارا تفصلی حساب کتاب بھی کرنا ہے۔۔!!”
وہ عنقا کو وارننگ دیتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔
“افف۔۔!! امی بھی ناں۔۔!! ابھی مجھے گھنٹہ نہیں ہوا آئے ہوئے۔۔!! اور ان کو پریشانیاں لگ گئیں۔۔!! ہائے اللّٰه جی۔۔!! کتنا سویٹ بنایا ہے آپ نے امی کو۔۔!! مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔۔ امی کو میرا اتنا خیال ہے۔۔!! لیکن پھر بھی۔۔ میری بھی تو کوئی پرسنل لائف ہے۔۔۔!! ہر بات تو امی سے شئیر نہیں کی جا سکتی ناں۔۔!!”
اس نے پیار سے سوچا۔
‌”اور۔۔ وہ کیا کہہ رہی تھیں امی کہ میرا حساب کریں گی۔۔!! ارے حساب کتاب تو تب ہوگا ناں۔۔ جب میں ان کے ہاتھ لگوں گی۔۔!!” اس نے سر کو بڑے شریر انداز میں ہلاتے اور شیطانی مسکراہٹ، اپنے چہرے پر بکھیرتے ہوئے ، خود سے کہا اور پھر کھانے کی طرف اپنا دھیان لگایا۔

اس نے سر کو بڑے شریر انداز میں ہلاتے اور شیطانی مسکراہٹ، اپنے چہرے پر بکھیرتے ہوئے ، خود سے کہا اور پھر کھانے کی طرف اپنا دھیان لگایا۔
××××
کھانے کے بعد، اس نے تمیز سے برتن اٹھائے اور کچن میں جا کر سنک میں رکھے، اس کے بعد، وہ کچھ دیر تک پر سوچ انداز میں کھڑی ، کسی غیر مرئی نکتے کو گھورنے لگی، کچھ دیر اسی پوز میں کھڑے رہنے کے بعد اس نے کچن کی کیبنٹ کھولی، ایک بوتل نکالی، اس میں پانی بھرا اور مزے سے کچن سے باہر نکلی، اس نے منصوبہ بنایا تھا کہ وہ شام تک اپنے کمرے میں بند رہ کر سکون سے سوئے گی، پانی بھی وہ احتیاطاً ساتھ لے کر جارہی تھی کہ اسے اٹھنا نہ پڑے، اور پھر وہ اپنی امی کے سوالوں سے بھی تو بچنا چاہتی تھی۔
ویسے وہ اگر اپنی امی سے شام تک کی مہلت مانگ لیتی، تو اس کی امی نے دے ہی دینی تھی، انہوں نے، اسے کھا تھوڑی جانا تھا، فہمیدہ بیگم اتنی مہلت تو اسے دے ہی سکتی تھیں۔
مگر عنقا۔۔!! وہ اپنے بےکار دماغ کو لے کر کہاں جاتی۔۔!! اس محترمہ کا تو سچ میں دماغ ہی الٹا ہوا تھا، تبھی وہ اپنے آپ سے ہی، فضول میں، ایسے چَول منصوبے بنا رہی تھی اور
اپنی امی سے بچنے کے لیے ایسی الٹی ترکیبیں سوچ رہی تھی۔
××××
اس سے پہلے کہ وہ اپنے کمرے تک ، پہنچ پاتی۔۔ اس کی امی نے اسے روک لیا، جو خیر سے اسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
وہ ان کو اگنور کرتے ہوئے مزے سے آگے آگے چلنے لگی، وہ اس وقت بالکل بھی اپنی اماں حضور کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ پر ایسا ممکن نہیں تھا کہ معاملہ اس کی چاہت، اس کی مرضی کے مطابق طے پائے، سو اسے مجبوراً، اپنی امی کے روکنے پر ، ان کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔
“کھانا کھا لیا تم نے۔۔؟؟”فہمیدہ بیگم نے دانت پیستے ہوئے پوچھا، وہ اس کی، کچھ دیر پہلے کی گستاخانہ گفتگو پلس بدتمیزی ، بھولی نہیں تھی۔
“ج۔۔ج۔۔جی۔۔کھا لیا۔۔!!” اس نے ہکلا کر جواب دیا۔
“اب مجھے بتاؤ کہنٹم ادھر کیوں آئی ہو۔۔؟؟ دیکھو اگر کوئی گڑبڑ والی بات نہیں تھی یا تم صرف نارمل طریقے سے یہاں چند دن یہاں رہنے کے لیے آئی ہوتیں تو اب تک کہہ چکی ہوتیں۔۔!! لیکن معاملہ ، نارمل ہے ہی نہیں، یہ جو تم نے اپنا منہ ابھی تک بند رکھا ہوا ہے ناں۔۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ تم ہی اپنی بےوقوفی کے کوئی مظاہر دکھا کر آئی ہو۔۔!! اب سچ سچ پھوٹو۔۔کہ کیا بات ہوئی ہے۔۔؟؟” فہمیدہ بیگم کا اشتعال اور پریشانی دیکھنے لائق تھی۔
وہ اپنے دو بچے کھو چکی تھیں، وہ ان کی خوشیاں دیکھنے سے محروم رہی تھیں۔۔ اب وہ چاہتی تھیں کہ عنقا صحیح سلامت رہے، اور اپنے سسرال میں خوش رہے، تاکہ انہیں بھی اس کی طرف سے تسلی ہو۔۔!! تاکہ یہ بھی سکون سے رہ سکیں۔
عنقا ان کی یہ پریشانی محسوس تو کر سکتی تھی پر اسے سمجھنا اس کے بس کا کام نہ تھا، اسے تو بس اپنی فکر تھی، وہ اپنے کرتوت ، اپنی امی کو نہیں بتانا چاہتی تھی، لیکن بتائے بغیر بھی کب تک گزارا ہو سکتا تھا، سو اس نے سوچا کہ کیوں نہ بتا ہی دیا جائے۔۔!! کم سے کم اس کی ایک ٹینشن تو ختم ہوگی۔۔!! اور شاید اس کی امی کو بھی ذرا سکون ملے گا۔۔!! اس لیے اس نے گلا کھنکارا اور شروع ہوئی،
“امی۔۔ وہ میں عدیل کو کہہ کر آئی ہوں کہ وہ مجھے زہر لگتے ہیں اور مجھے ان کے ساتھ نہیں رہنا، بس اتنی سی بات ہے۔۔ آپ نے خواہ مخواہ ، دنیا ہلا کر رکھی ہوئی ہے۔۔پلیزآپ۔۔ اب مزید ٹینشن نہیں لینی آپ نے۔۔ اوکے۔۔ اور دیکھیں ، میں نے آپ کو سچی بات بنتا دی۔۔ اب آپ نے میری جو مرمت کرنی ہے ناں۔۔ وہ بعد میں کیجیے گا۔۔کیوں کے ابھی میں جا رہی ہوں سونے۔۔اور مجھے کل صبح تک کوئی بھی بالکل ڈسٹرب نہ کرے ، صبح تک کے لیے اللّٰه حافظ۔۔،بائے بائے، ٹا ٹا،۔۔” وہ جلدی جلدی ایک سانس میں ساری بات کہتی وہاں سے بھاگ گئی، اور کمرے میں جا کر، اپنی وہی پانی کی بوتل تکیے کے ایک طرف ٹکا کر خود بھی وہاں دراز ہوئی۔
دوسری طرف، اس کی امی اس کی باتیں سن کر خوب جلیں، افسردہ ہوئیں، کیوں کہ اس کے علاؤہ، وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھیں۔
ان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ عنقا کے کرتوت اس کے بابا کو بتادیں مگر پھر ان کے پریشان ہونے کا خیال کرتے ہوئے انہوں نے، یہ بات سلیمان صاحب کے علم میں لانے کا ارادہ ترک کیا، اور خود ان کے لیے کھانا گرم کرنے چلی گئیں، کیوں ان کے گھر آنے کا وقت تھا اور فہمیدہ بیگم کی عادت تھی کہ ان کے آنے سے پہلے وہ ہر چیز تیار رکھتی تھیں،،، کاش عنقا بھی عدیل کی ایسے ہی فکر کرتی۔۔!! اس کی امی کے دل میں ارمان سا جاگا۔


🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀کاش عنقا بھی عدیل کی ایسے ہی فکر کرتی۔۔!! اس کی امی کے دل میں ارمان سا جاگا۔
××××
عدیل ، عنقا کے بغیر گھر پہنچا تو اس کی مام نے اس کے بارے میں پوچھا، وہ فی الحال کسی بحث کے موڈ میں نہیں تھا، اور بحث سے بچنے کے لیے ضروری تھا کہ کچھ وقت کے لیے، حقیقت کو چھپا لیا جائے، اس لیے اس نے یہ جھوٹ بول کر جان چھڑائی کہ وہ ایک دو دن کے لیے اپنی امی کے ہاں رہنے گئی ہے، فوزیہ بیگم کو اس کا اچانک جانا عجیب لگا تھا پر وہ عدیل کی بات کا اعتبار کرتے ہوئے خاموش رہیں،انہوں نے عدیل کو کھانے کا بولا تو اس نے منع کردیا، اس کا دل ہی نہیں کر رہا تھا کچھ کھانے کا۔
اس کا موڈ بہت خراب تھا، وہ سست روی سے چلتا اپنے روم تک گیا، فریش ہوا، کپڑے چینج کیے اور آرام کی غرض سے اپنے بیڈ پر لیٹ گیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ سب ٹھیک ہو گیا ہے، اسے لگا تھا کہ وہ اپنے جرم کا ازالہ کر چکا ہے، پر نہیں وہ غلط تھا ، ابھی تک وہ کچھ نہیں کر پایا تھا، نہ ابھی تک کچھ ٹھیک ہوا تھا اور نہ ہی بدلا تھا، عنقا اتنے عرصے اس کے ساتھ رہنے کے باوجود اسے یہ مقام نہیں دے سکی کہ وہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کر پاتی۔۔ یہ تو طے تھا کہ وہ بھی اسے چاہنے لگی ہے پر اس کا اظہار نہ کرنا اس بات کی دلیل تھا کہ اس نے عدیل کو معاف نہیں کیا کیا ۔۔ یا اسے دل سے قبول نہیں کیا۔۔ وہ یوں ہی لیٹا لیٹا، افسوس سے سوچتا گیا۔
پر یہ محض اس کی سوچ تھی۔۔ ورنہ عنقا تو کب کا ، اپنا دل،اپنے تمام تر حسین جذبوں کے ساتھ اسے سونپ چکی تھی۔۔ بس اسے ابھی اس بات کا صحیح طرح احساس نہیں ہوا تھا۔
×××
عدیل مسلسل اپنی سوچوں میں گم تھا۔
“میں نے بھی تو ابھی تک اس سے معافی نہیں مانگی۔۔!! لیکن اسے پتہ تو ہے کہ میں اپنے کیے پر پشیمان ہوں، تو وہ ایسا نہ کرتی۔۔” اس نے اپنے تخیل میں ہی ایک شکوہ سا کیا۔ اور کچھ پھر دیر تک خالی الذہن رہا۔ جیسے اس کا ذہن کہیں رک سا گیا ہو یا سوچیں جمود کا شکار ہوگئی ہوں۔۔!!
کچھ دیر اسی کیفیت میں رہتے رہتے ، اس کے ذہن میں ایک خیال کوندا،
“ایسے تو مجھے بھی پتہ ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔۔ پھر مجھے، اس کے منہ سے لفظِ اظہار سننے کا تجسس کیوں ہے۔۔؟؟” اس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔
“کیوں کہ اظہار لازم ہے۔۔!! جب تک کسی خالص جذبے کو لفظوں کے سانچوں میں ڈھال کر تقویت نہیں بخشی جاتی تب تک اگلا شخص، جس کے لیے وہ احساسات ہمارے قلب و وجود میں پنپتے ہیں وہ شبہات اور وسوں کا شکار رہتا ہے، ایک بے یقینی کی سی کیفیت اسے مضطرب کیے رکھتی ہے، اس لیے اظہار لازم ہے۔۔!!”
اس کا شعور، اس کے سوال کی ضد میں ایک مؤثر سی دلیل پیش کر چکا تھا، ایک تسلی بخش جواب، اس کی فہم کے پردوں پر ڈال چکا تھا۔
“اگر یہ بات ہے تو مجھے بھی معافی مانگنی پڑے گی۔۔!!”
“چلو۔۔ دیکھتا ہوں۔۔!! سوچوں گا اس بارے میں، میرا خیال ہے ابھی تو مجھے سکون سے آرام کرنا چاہیے۔۔!!”
جب کافی دیر وہ ایسی باتیں سوچ سوچ کر اکتاہٹ کا شکار ہوا تو اس نے اپنے سارے خیالات جھٹک کر، سونے کی ٹھانی۔
وہاں اس کی بیوی نیند کے مزے لے رہی تھی یہاں یہ مزے سے سونے کے لیے تیار لیٹا تھا۔
××××
عدیل کچھ دیر ہی سو سکا تھا، اٹھنے کے بعد بھی وہ رات تک کمرے سے نہ نکلا بلکہ مسلسل اپنا لیپ ٹاپ لیے، آفس کے کام میں بزی رہا، آج عجیب سی بے زاری،
اس کی طبیعت پر طاری تھی، اس لیے اس کا باہر نکلنے کو دل ہی نہ کیا، وہ صبح تک باہر نہ نکلتا مگر اس کی مام اسے ڈنر کا بلاوا دینے آئیں تو مجبوراً اسے جانا پڑا۔
ڈائنگ ٹیبل پر مصطفیٰ صاحب اور عادل پہلے ہی سے موجود تھے، دونوں نے اپنی دھیمی مسکراہٹوں سے اس کا خیر مقدم کیا، وہ عادل کے ساتھ ہی اپنی کرسی گھسیٹ کر بیٹھا تھا، ایک طرف وہ دونوں تھے اور دوسری طرف ان کے مام ڈیڈ، کھانا بہت ہی خوشگوار ماحول میں کھایا جارہا تھا، کھانے کے ساتھ ساتھ گپ شپ کا سلسلہ بھی جاری تھا، لیکن عدیل اس گپ شپ میں کوئی خاص حصہ نہیں لے رہا تھا، وہ وہاں بیٹھا، صرف ہوں ہاں سے ہی کام چلا رہا تھا۔
باتیں کرتے کرتے عادل نے اپنی شادی کا ذکر چھیڑا ۔۔ “مام۔۔!! اب تو میرے ایگزامز بھی ہوگئے، آپ لوگوں کا، میری دلہن لانے کا کوئی ارادہ ہے۔۔؟؟” اس نے مزے لیتے ہوئے پوچھا۔
“استغفر اللّٰه، بیگم اپنے صاحب زادے کی بے صبریاں ملاحظہ کریں۔۔!!” مصطفیٰ صاحب نے مسکراتے ہوئے عادل کو دیکھ کر کہا، ان کی بات پر سبھی کے چہروں پر مسکراہٹ پھیلی تھی، اس سے پہلے مام کچھ بولتیں ، عادل خود ہی بول پڑا۔۔ “نہیں ڈیڈ آپ بتائیں۔۔ اس گھر میں ، میں اکیلا کنوارا اچھا لگوں گا، آپ نے بھی مام سے شادی کر رکھی ہے، بھائی نے بھی ایک حسینہ قابو میں کی ہوئی ہے۔۔ اب آپ میرے لیے بھی تو کچھ سوچیں۔۔!!” وہ ہنستے ہنستے مذاق میں بولتا گیا۔
عدیل کو ، اس کے منہ سے عنقا کا تذکرہ سننا بالکل اچھا نہیں لگا، حالانکہ عادل کا بالکل یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ ایسی بات کہہ کر کوئی بدمزگی پیدا کرتا یا عدیل کا دل جلاتا۔۔ صرف یہی بات سوچتے ہوئے عدیل نے اپنے اندر پیدا ہونے والے غصے کو دبایا، اور کسی بھی قسم کے سخت ردعمل سے باز رہا۔
“بیٹا۔۔!! آج ہی تو تمہارے ایگزامز ختم ہوئے ہیں۔۔ تھوڑا صبر کرو۔۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔” مام نے جواب دیا۔
“میں تو صبر کر لوں گا۔۔ پر کیا ہے ناں۔۔ کہ لڑکیوں کا معاملہ ذرا نازک ہوتا ہے۔۔ ادھر ان کے پیپرز ختم اور ادھر ان کی شادی۔۔ اس سے پہلے غانیہ کہیں اور منسوب کردی جائے۔۔ آپ لوگ میرا پروپوزل لے کر جائیں۔۔ بس بات ختم ۔۔!! ” عادل نے سنجیدگی سے اپنا موقف پیش کیا۔
“اچھا ٹھیک ہے کچھ کرتے ہیں۔۔!! عنقا اپنی امی کے ہاں سے واپس آجائے تو ، وہاں جائیں گے تمہارا رشتہ لے کر۔۔!!” فوزیہ بیگم نے بھی سنجیدگی سے اس کی بات کا حل پیش کیا۔
“مام۔۔ آپ ایسا کریں کہ،فی الحال آپ اور ڈیڈ چلے جائیں۔۔ اس کا کچھ نہیں پتہ کہ وہ کب آئے گی۔۔” عدیل نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
“کیوں۔۔؟؟ تم نے تو کہا تھا کہ وہ ایک دو دن کے لیے گئی ہے۔۔ پھر ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔۔؟؟” مام نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“اگر میں کچھ کہہ رہا ہوں۔۔ تو ضرور کچھ سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں۔۔ آپ لوگ پلیز سمجھیں۔۔!!”
“لیکن بیٹا۔۔ وہ گھر کی بڑی بہو ہے، وہ نہیں جائے گی تو میرے خیال سے برا لگے گا۔۔!! جب وہ آئے گی تو ہم آرام سے چلے جائیں گے۔۔۔” اس کی مام نے جواز پیش کیا۔
“مام۔۔!! دیکھیں ضد نہیں کریں ۔۔ میں آپ لوگوں سے کہہ رہا ہوں۔۔ کہ آپ لوگ خود چکے جائیں۔۔ اس کا انتظار نہ کریں۔۔!!” وہ آرام سے کہتا ، ٹیبل پر سے نیپکن اٹھاتا، اپنے ہاتھ صاف کرنے لگا۔۔اور ہاتھ صاف کرنے کے بعد کوئی بات کہے سنے بغیر وہاں سے چلا گیا۔
“اس کو کیا ہوا؟؟” مصطفیٰ صاحب نے پوچھا۔
“پتہ نہیں۔۔” فوزیہ بیگم کی۔۔ پریشان نظریں وہیں ٹکی تھیں۔۔ جہاں سے وہ ابھی اٹھ کر گیا تھا۔
“مام۔۔ آپ پریشان ہو رہی ہیں۔۔؟؟” عادل نے مام کا چہرہ دیکھ کر کہا،
“کب سدھریں گے یہ دونوں۔۔!! ضرور کوئی جھگڑا کیا ہوگا انہوں نے۔۔!!” وہ پریشانی سے بولیں۔
“اللّٰه ہدایت دے ان دونوں کو۔۔” مصطفیٰ صاحب بھی یہ کہتے ہوئے چیئر پیچھے کو کھسکا کر اپنی جگہ سے اٹھے، وہ بھی کھانا کھا چکے تھے، اس لیے اٹھ کر چلے گئے۔
اب ٹیبل پر فوزیہ بیگم اورعادل موجود تھے، عادل کچھ دیر ان کے پریشان چہرے کو تکتا گیا اور پھر ایک زبردست سا خیال ذہن میں لاتے ہی چہک اٹھا، اس نے فوراً ہی اپنی مام سے تبادلہ خیال کیا، اس کا آئیڈیا سنتے ہی، اس کی مام کی ٹینشن کہیں غائب ہو کر رہ گئی۔
××××
اگلے ہی دن عادل سمیت مصطفیٰ صاحب اور فوزیہ بیگم ، عادل کا رشتہ لے کر غانیہ کے گھر پہنچے، غانیہ نے پہلے ہی اپنے والدین کو راضی کیا ہوا تھا ، اس لیے عادل اور کی فیملی سے ملنے کے بعد ، انہوں نے فوراً ہی پروپوزل قبول کرلیا۔
رشتہ طے ہوجانے کے بعد دونوں بچوں کے والدین نے باہمی مشاورت کرتے ہوئے یہ طے کیا کہ منگنی کی بجائے ان دونوں کا نکاح کر دیا جائے، شادی پھر بعد میں ہوجائے گی، اس مقصد کے لیے انہوں نے دس دن بعد کی تاریخ، نکاح کے لیے منتخب کی، مصطفیٰ صاحب نے سوچا کہ اس دن عنقا اور عدیل کا ولیمہ بھی ہوجائے گا اور غانیہ اور عادل کا نکاح بھی ۔۔ ان کے اس منصوبے پر بھی غانیہ کے والدین کو کوئی اعتراض نہ تھا، وہ بےچارے سادے لوگ تھے اور ان کو اپنے داماد میں شرافت اور خوش اخلاقی کے علاؤہ اور کسی خوبی کی خواہش نہیں تھی، سب سے بڑھ ان کی بیٹی خوش تھی اور عادل میں وہ ان اوصاف کی موجودگی محسوس کر چکے تھے، اس لیے انہیں باقی کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
××××
سب کچھ عادل کے بتائے منصوبے کے تحت ہو رہا تھا، مصطفیٰ صاحب نے عنقا کے والدین سے بھی ولیمے کی بات فون پر ڈسکس کرلی تھی اور عنقا سے یہ بات چھپانے کی بھی ریکوئسٹ کی تھی۔
جب کہ عادل نے عدیل سے ان دونوں کے جھگڑے والی پوری بات اگلوا کر اسے بھی پلین میں شامل کیا۔۔۔اور وہ بھی خوشی خوشی مان گیا۔۔ بھلا عنقا کی واپسی سے بڑھ کر اسے کیا چاہیے تھا۔۔
×××
وہ عدیل کو الٹی الٹی باتیں سنا کر، بڑی بہادر بن کر گھر تو آ گئی تھی، پر اس کا یہاں ذرا بھی دل نہیں لگ رہا تھا، یہاں اسے اریزے بھی بار بار یاد آتی تھی، اور وہ بالکل ہی اداس ہو کر رہ جاتی، پتہ نہیں کیا تھا مگر عدیل کے ساتھ رہتے ہوئے وہ اریزے کو یاد کرنے پر کبھی بھی اداس نہیں ہوئی۔
اسے اپنی جلد بازی پر رہ رہ کر افسوس ہورہا تھا۔ بار بار ایک ہی سوچ اس کی جان عذاب میں ڈالے ہوئی تھی کہ اسے عدیل کو موقع دینا چاہیے، وہ اگر خود کو بدلنے کی کوشش میں لگا ہے تو اس کو بھی عدیل کا ساتھ دینا چاہیے۔ بےشک وہ جن حالات سے گزری وہ آج بھی اپنی پوری حقیقت اور تلخی کے ساتھ اسے اچھے سے یاد ہیں اور ابھی تک وہ ان کو بھولنے میں ناکام رہی ہے لیکن دل کا فیصلہ ، دل کی مرضی کے مطابق مان لینا چاہیے۔
“غلطیاں تو انسانوں سے ہوتی ہیں ناں۔۔ اب اگر کوئی سچ میں شرمندہ ہو اور معافی کا طلب گار ہو تو اسے معاف کر دینا چاہیے، خصوصاََ جب معاف کردینے پر دل کواطمینان حاصل ہو۔” اس نے بے بسی سے سوچا۔
وہ بے بس ہی تو تھی، اپنے جذبوں کے آگے ، اپنے دل کے آگے۔
“تو ٹھیک ہے پھر۔۔ اگر وہ مجھ سے معافی مانگ لیتے ہیں تو میں بھی کوئی ضد کیے بغیر ان کے ساتھ رہ لوں گی۔۔ بے شک ہلکی سی، تھوڑی سی معافی مانگ لیں۔۔ ورنہ میں اکیلی ہی اچھی ہوں۔۔کیوں کہ، آگے بندہ معافی کا طلبگار ہو گا تو میں معاف کروں گی ناں۔۔اب اتنا تو حق بنتا ہے میرا۔۔ورنہ انہوں نے جو کیا۔۔ وہ معافی کے لائق تھا نہیں۔۔ ایوں اتنی درگزر سے کام لینے کا ظرف نہیں ہے مجھ میں کہ میں ان کے اعتراف کیے بغیر، معافی مانگے بغیر ہی معاف کردوں۔۔!!” اس نے ہار مانتے ہوئے سوچا۔۔ اور اب بے صبری سے اس کے معافی طلب کرنے کا انتظار کرنے لگی ، جیسے اسے یقین ہو کہ وہ ضرور اس سے معافی مانگے گا۔
××××
کرتے کراتے دس دن گزرے، غانیہ کے نکاح اور عنقا کے ولیمے کا دن آن پہنچا۔ اس دن غانیہ نے صبح صبح ہی کسی ایمرجنسی کا بہانہ کرکے اسے، اپنے گھر آنے کو کہا۔ عنقا آرام سے جانے کو تیار ہوجاتی۔۔۔ پر غانیہ اس کے لاکھ پوچھنے پر بھی ، یہ بتانے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی کہ آخر ایمرجنسی ہے کیا، اور اس کی آواز سے عنقا کو بالکل یہ نہیں لگا کہ کوئی پریشانی یا خطرے کی بات ہے ، اس لیے وہ بضد تھی کہ اسے وجہ بتائی جائے، پر وہ وجہ بتانے کے لیے تھوڑی تھی ۔۔!! اس لیے عنقا کے مسلسل ہٹ دھرمی دکھانے پر غانیہ کو تپ چڑھی۔۔ وہ مان ہی نہیں رہی تھی اس کی بات۔۔!! غانیہ کو لگا کہ اس چڑیل سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس لیے اس نے کھٹاک سے فون بند کیا اور عنقا کی امی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
اس کی امی نے کچھ دیر بعد اسے کیب منگوا کر دی اور یہ کہہ کر زبردستی وہاں بھیجا کہ بیٹا جاؤ، اسے کوئی ضروری کام ہے تم سے، ایسے نہیں کرتے۔۔ اور پتہ نہیں کیا کچھ کہہ کر ، اسے گھر سے نکالا۔
وہ بھی دل جلاتی غانیہ کے گھر پہنچی۔۔!!
“اف۔۔ گندی لڑکی ، اتنی دیر لگادی آنے میں۔۔ اب جلدی چلو۔۔ ہمیں پارلر جانا ہے،”
اس کے آتے ہی غانیہ سلام دعا کیے بغیر ہی اس پر چڑھ دوڑی۔۔
“کونسا پارلر۔۔؟؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“بہن۔۔ بیوٹی پارلر۔۔!! اور کونسا پارلر ہوگا بھلا۔۔!!”اس نے اس کا بازو پکڑا اور جلدی جلدی باہر کی طرف بڑھی۔۔ وہاں غانیہ کا کوئی کزن ، کار میں بیٹھا ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا، ان کے آتے ہی وہ دونوں کار میں بیٹھیں۔
“لیکن ہم پارلر جا کیوں رہے ہیں۔۔؟؟؟” اس کی الجھن ابھی بھی برقرار تھی۔ اور اسے شدید غصہ آ رہا تھا، کیوں کہ غانیہ کی بچی سسپینس ختم کرنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
“میرا نکاح اور تمہارا ولیمہ ہے ناں آج۔۔!! اس لیے تیار ہونے جا رہے ہیں۔۔!!” غانیہ نے اس کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے، مسکرا کر بھانڈا پھوڑا۔
“کیا۔۔؟؟ ہوش میں تو ہو۔۔!! یہ تم کہہ کیا رہی ہو آخر۔۔؟؟” وہ بری طرح شاکڈ تھی۔
“بالکل ہوش میں ہوں۔۔ اور جو بول رہی ہوں صحیح بول رہی ہوں۔۔ زیادہ شاک میں آنے کی ضرورت نہیں ہے اچھا۔۔۔۔اس لیے، اب پلیز چپ رہنا ۔۔۔ کیوں کہ تم دلہن ہو ناں۔۔ اور دلہنیں زیادہ بولتی نہیں۔۔ اس لیے خود بھی خاموش رہو۔۔اور مجھے بھی رہنے دو۔۔” اس نے شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔
اس کی بات پر عنقا کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔۔ وہ غصے سے تن فن کرتی اپنا رخ پھیر گئی،اب وہ جل جل کر کار سے باہر کے مناظر دیکھنے میں مصروف تھی۔
غانیہ کے کزن نے فرنٹ مرر میں اس کے ایکسپریشنز دیکھ لیے تھے اور اوپر سے ان کی بحث بھی سن چکا تھا۔۔ اس لیے اسے ہنسی آ رہی تھی ہر شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے خود کو کنڑول کیا اور توجہ صرف ڈرائیونگ پر مرکوز رکھی۔
غانیہ کو بھی عنقا کو دیکھ دیکھ کر ہنسی آ رہی تھی۔
“دل میں لڈو پھوٹ رہے ہیں اور شکل مظلوموں والی بنا رکھی ہے۔۔!!” غانیہ اس کی حالت پر جملہ کسے بغیر رہ نہیں سکی۔
“دفع ہو جاؤ تم۔۔!! شرم نہیں آتی۔۔ اتنی بڑی بات عین وقت پر بتاتے ہوئے۔۔!! بندہ اپنے آپ کو ذرا دماغی طور پر تیار کر لیتا ہے ، اگر خوشی ہو رہی ہو تو سیلیبریٹ کر لیتا ہے۔۔!!” وہ غصے سے بولی۔
شاک لگنے کی باری غانیہ کی تھی۔
“مطلب تمہیں صرف اس بات کا غم ہے کہ تمہیں پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔!! میں تو سمجھی تھی کہ اپنے اچانک ولیمے پر منہ پھلا کر بیٹھی ہو۔۔ کہ تم سے بغیر پوچھے جو آرگنائز کر لیا۔۔!!”
“جب شادی بغیر پوچھے کی ہے تو ولیمے کی کیا اوقات۔۔!! ویسے مجھے ولیمے سے کوئی ایشو نہیں۔۔!!” عنقا کا موڈ ، خود بخود ہی بحال ہوگیا تھا۔۔ کیوں واقعی اس کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے تھے۔
××××
وہ لوگ پارلر پہنچ چکی تھیں۔۔ غانیہ کے کزن نے ان کا سامان ڈگی سے باہر نکال کر انہیں تھمایا، اور ان کے پارلر میں اینٹر ہونے کے بعد خود وہاں سے چلا گیا۔
×××
غانیہ، اپنے گولڈن گوٹے سے مزین سفید دوپٹے اور ٹخنوں کو چھوتی فراک میں بےحد پیاری لگ رہی تھی، نکاح کی مناسبت سے اس نے اپنا لباس بھی سادہ منتخب کیا تھا اور میک اپ بھی بالکل سادہ سا کروایا تھا ، جبکہ عنقا کی بکنگ تو عدیل نے خود کرائی تھی، اس لیے بیوٹیشن نے عدیل کی انسٹرکشنز کے مطابق ، فل ہیوی برائیڈل میک اپ کر کے، اسے کسی اور ہی سیارے کی مخلوق بنا دیا تھا۔۔ مطلب وہ اپنی سکن اور براؤن کنٹراسٹ والی ہیوی برائیڈل میکسی پہنے اور کمال کا میک اپ کیے لاجواب لگ رہی تھی۔
××××
عدیل اور اس کی مام ان دونوں کو پارلر سے پک کرنے آئے تھے، عدیل ،فل بلیک پینٹ کوٹ میں غضب ڈھا رہا تھا، اسے دیکھتے ہی ، ایک پل تو عنقا کی نظریں بھی اس پر ٹھہری تھیں۔۔ پر اس نے خود کو قابو کرتے ہوئے، فوری طور پر اپنی نظروں کا زاویہ بدلا۔
اب وہ ایک ہاتھ سے اپنی میکسی سنبھالتی اور ایک ہاتھ عدیل کے ہاتھ میں تھماتی، بڑی نزاکت سے قدم اٹھاتی کار تک آئی۔۔ جبکہ غانیہ کو ، فوزیہ بیگم آرام آرام سے لا رہی تھیں، عدیل نے عنقا کے لیے فرنٹ سیٹ کا ڈور کھولا تھا۔۔ وہ بھی خاموشی سے وہاں بیٹھ گئی۔
اس کے بعد اس نے مام اور غانیہ کے لیے دروازہ کھولا اور ان کے بیٹھنے کے بعد خود آ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور کار اسٹارٹ کی، اس سے ڈرائیونگ پر بالکل کانسنٹریٹ نہیں ہو پا رہا تھا۔۔ نظریں۔۔ بار بار بھٹک کر، عنقا کے وجود پر ٹھہرتی تھیں۔۔ اس نے بڑی مشکل سے خود کو فوکسڈد رکھا۔۔ عنقا اور غانیہ بالکل خاموش بیٹھی تھیں، غانیہ تھی کہ خوش خوش سی ، شرم کے مارے خاموش تھی، جبکہ عنقا کہ چپ رہنے کا مقصد کچھ اور تھا، وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی، جیسے عدیل پر اپنی ناراضگی جتانے کی کوشش کر رہی ہو، ان دونوں کے رویوں سے بے نیاز۔۔۔فوزیہ بیگم کا اپنی دونوں بہوؤں کی تیاری کی تعریفیں کرتے منہ نہیں تھکا ، وہ سارے راستے ان دونوں کی بلائیں لیتی ہال تک پہنچیں۔۔!!
مام پہلے کی طرح ، غانیہ کو ساتھ لیے ہال کے برائیڈل روم کی جانب بڑھیں جہاں اس کا اور عادل کا نکاح ہونا تھا۔ اور عنقا بھی پیچھے ویسے ہی عدیل کا ہاتھ تھامے چل رہی تھی، چہرے کے تاثرات میں ذرہ بھر بھی بدلاؤ نہیں آیا تھا، وہ ابھی بھی تنے ہوئے تھے۔ وہ عدیل کی طرف سے کوئی معافی تلافی والے الفاظ کی امید لگائے بیٹھی تھی اور وہ گونگا بنا، کچھ کہہ ہی نہیں رہا تھا، “ویسے بہت ڈھیٹ ہیں آپ ۔۔۔ ابھی تک مجھ سے اپالوجائز نہیں کیا آپ نے۔۔!!” وہ ناراض سی ، لفظ چباتے ہوئے ، دھیمی آواز میں بولی۔
“تم نے بھی تو کنفیس نہیں کیا کہ میں تمہیں زہر نہیں بلکہ تمہاری محبت لگتا ہوں۔۔!!” اس نے مسکراتے ہوئے سرگوشی کی۔
“پہلے آپ اپالوجائز کریں۔۔!!” اس نے شرط رکھی۔
“مطلب پھر کنفیس کرلو گی۔۔؟؟” اس نے شرارت سے پوچھا۔ پتہ نہیں آج اس کی ساری سنجیدگی کہاں چلی گئی تھی!
“آپ پہلے کنفیس میرا مطلب ہے اپالوجائز کریں۔۔!!”
“اوکے۔۔!! تو سنو۔۔!! مائے ڈئیر لولی وائف۔۔!! ۔۔یار۔۔ نہیں بولا جا رہا ۔۔!!” اس کا انداز ستانے والا تھا۔
“عدیل۔۔!!” اس نے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا، وہ دونوں یہ گفتگو چلتے چلتے ہی کر رہے تھے۔
برائیڈل روم آ چکا تھا، وہاں غانیہ کے پیرنٹس، عنقا کے پیرنٹس، مصطفیٰ صاحب اور باقی سب بھی پہلے سے ہی موجود تھے، ادھر ایک صوفے پر اسے بھی غانیہ کے ساتھ بٹھایا گیا، جبکہ عدیل ، عادل کے ساتھ دوسرے صوفے پر بیٹھا تھا،عادل بھی آف وائٹ کلر کے کرتا شلوار اور اوپر گولڈن کلر کی انتہائی نفیس سی ویسٹ کوٹ پہنے، نہایت ہی پیارا لگ رہا تھا، اس کے اور غانیہ کے نکاح اور عنقا ،عدیل کے ولیمے کی تقریب بہت شاندار گزری۔
تقریب سے واپسی پر ، غانیہ کی فیملی اور باقی مہمانوں کے چلے جانے کے بعد، عادل، فوزیہ بیگم اور مصطفیٰ صاحب ایک گاڑی میں گھر کو روانہ ہوئے جبکہ عنقا اور عدیل دوسری گاڑی میں۔
عدیل خاموشی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا۔۔ اور عنقا اس کی ادھوری بات مکمل کرنے کے انتظار میں تھی۔
“آپ کچھ کہہ رہے تھے۔۔!!” اس نے خود ہی بات شروع کی۔
“کب۔۔؟؟” وہ انجان بنتے ہوئے بولا۔
“جب ہم ہال میں اینٹر ہو رہے تھے۔۔!!” اس نے منہ بنا کر کہا۔ وہ اس کے انجان بننے کی ایکٹنگ پر شدید تپی تھی۔
“اچھا۔۔ ہاں۔۔ یاد آیا۔۔!! وہ میں کہہ رہا تھا۔۔ یارر۔۔ پلیز۔۔ اپنے جنگلی کو معاف کردو۔۔ اور خوشی خوشی اس کی جنگلن بن کر اس کے ساتھ رہو۔۔ اب یہ مت پوچھنا کہ جنگلن کیا ہوتا ہے۔۔!! کیوں کہ جنگلی کی بیوی جنگلن ہی ہوگی ناں۔۔!!” وہ معصومیت سے بولا۔
عنقا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔۔ وہ غصہ کرنے لگی تھی۔۔ پر اپنے لیے جنگلن کا لفظ سن کر اس کا بے اختیار قہقہہ چھوٹا۔۔ عدیل نے بے شک اپنے معافی نامے کو ذرا مذاق میں اس کے سامنے پیش کیا تھا۔۔ پر وہ اس کا صدق جانتی تھی۔۔ وہ سمجھتی تھی کہ وہ جتنا کہہ رہا ہے۔۔ واقعتاً وہ اس سے کہیں زیادہ گلٹی محسوس کرتا ہے اور اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا ہے کہ اپنے جرم کا ازالہ کر سکے۔۔ اس لیے اس نے اسے معاف کردیا تھا۔۔ وہ تو شاید بہت پہلے ہی معاف کر چکی تھی۔۔ یہ تو بس دل کی تسلی کی خاطر، اسے عدیل کے منہ سے یہ لفظ سننے کی چھوٹی سی خواہش تھی۔
“چلو۔۔ اب تم بھی بولو۔۔ تم نے کہا تھا کنفیس کرو گی۔۔!!” وہ اسے مسلسل ہنستا ہوا دیکھ کر بولا۔
“اچھا۔۔جی۔۔ چلیں کر دیتی ہوں کنفیس۔۔!! وہ ناں اصل میں جنگلی کے اندازے درست تھے۔۔!! آپ مجھے زہر نہیں بلکہ وہ لگتے ہیں۔۔!! اب اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتی ، مجھے شرم آتی ہے۔۔!!” عنقا کی پھر سے ہنسی چھوٹی تھی۔
“چلو۔۔ تمہارے لیے اتنا بہت ہے۔۔!! آئی نو ، یو کو می۔۔!!” عدیل نے مسکرا کر کہا۔اور یہاں سے ان دونوں کی زندگیوں کے مسکراہٹوں بھرے باب کا آغاز ہوا۔ جہاں انہوں نے ایک دوسرے کی خطائیں فراموش کرکے ایک دوسرے کو اپنی محبتوں کا مان بخشنا تھا۔
جہاں انہوں نے ہمیشہ آسودہ رہنا تھا۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: