Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 1

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 1

–**–**–

اس کی آنکھ کھولی تو دور کہی فجر کی آزان ہو رہی تھی اس نے بستر پر لیٹے ہی آزان کا جواب دیا آزان ختم ہوئی تو وہ اٹھی اپنے پاوں میں جوتا پہنتی واش روم کی طرف بڑھی کچھ وقت بعد وہ وضو بنا کر واپس آئی نماز ادا کی اور اپنے کمرے سے باہر نکالی اس کا رخ چھت کی طرف تھا اپنی کالی گہری آنکھوں سے اب وہ آسمان کو دیکھا رہی تھی جہاں ٹھیوری روشنی موجود تھی بادلوں نے آسمان کو ڈھپا تھا اور آسمان پر پرندے موجود تھے

دیکھتا دیکھتا ہی آسمان پر سورج اپنی آب و تاب سے نکالا سورج کے نکالے پر اس کی کالی گہری آنکھیں مسکرائ اب وہ نیچے چلی گئی روم میں اکر وہ الماری کی طرف بڑھی پنک کلر کا ایک ڈایس نکلا اور فریش ہونے چلی گئی وہ واپس آئی آنیئہ کے سامنے بیٹھ کر اس نے اپنے کالے لمبے بالوں میں کنگئی کی چہرہ پر بی بی کریم لگئی آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پر لائیٹ زنگ کی لپسٹ لگئی

تیار ہو کر اس نے بیڈ پر پڑا اپنے دوپٹہ اٹھیا اور سر پر اچھے سے سیٹ کیا ایک آخری نظر آنیئہ میں خود کو دیکھا اور روم سے باہر نکل گئی

اسلام و علیکم بابا وہ ناشتہ کی ٹیبل پر موجود طاہر صاحب سے ملی و علیکم اسلام حور ناشتہ کرتے طاہر صاحب بولا اور اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ مسکرا کر بیٹھ گئی جی بابا وہ بولی

رات کو آپ کے روم کی لائٹ جل رہی تھی طاہر صاحب نے گلاس میں جوس ڈالتے ہوے پوچھا جی بابا کل پہلا پیپر ہے بس اس کی تیاری کر رہی تھی حور نے مسکراتے ہوے کہا تو اگے کیا کرنا ہے طاہر صاحب نے اس کو جوس دیتے ہوے پوچھا بابا میں اچھی سے کمپنی میں جوب کرنا چاہتی ہو اس نے منہ بناتے ہوے جوس پیا اور کہا اچھی بات ہے طاہر صاحب کچھ سوچتا ہوے بولے

بابا اوکے میں چلتی ہو حور نے کہا اچھا گاڑھی دیہاں سے چلانا اپنا خیال رکھنا طاہر صاحب نے اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوے کہا تو وہ مسکرای اوکے بابا اور باہر کی طرف بڑھی
______________

طاہر صاحب اپنے ماں باپ کے ایکلوٹی اولا تھے لیکن چھوٹی عمر میں ہی ایک بس حادثہ میں اپنے ماں باپ کو کھود دیا راشتہ دار تو اتنے تھے نہیں اگر تھے بھی تو بہت دور کے سو طاہر صاحب نے چھوٹی عمر میں بھی کام کے ساتھ پڑھی کی یونی میں ان کو زیبی پسند آگئی زیبی کے بھی اگر پیچھے کوئی نہیں تھا سو یونی کے دو سال بعد طاہر صاحب نے زیبی سے شادی کر لی

طاہر صاحب اب ایک اچھی کمپنی میں جوب کرتے تھے شادی کے سات سال بعد اللہ نے ان کو حور دی لیکن زیبی حور کی پیدائش پر اپنی زندگی ہار گئی یو پھر سے طاہر صاحب اکیلے ہو گئے لیکن حور کے لیے وہ زندہ رہے دوستوں نے بہت کہا کے دوسری شادی کر لو لیکن طاہر صاحب نے منع کر دیا کیونکہ زندگی میں ایک تجزبہ کافی تھا اور دوسرا یہ کہ وہ ابھی بھی زیبی سے بہت محبت کرتے

اللہ کا دیا ان کے پاس.سب کچھ تھا اگر وہ اتنے امیر نہیں تھے تو اتنے غریب بھی نہیں تھے حور جب یونی جانے لگئی تو اس نے گاڑھی کی خواہش کی سو طاہر صاحب نے بیک سے لون لے کر گاڑھی لی خود ان کو آفیس کی گاڑھی لینے اتی تھی

____________
لندن 💔

صبح کا وقت وہ سڑک پر بھاگ رہا تھا اتنی سردی میں بھی اس کے چہرے پر پسینہ تھا اور دماغ میں بہت سی سوچے وہ بھاگتے ہوے بہت دور اگیا ایک نظر اس نے گھڑی پر وقت دیکھا جو اس کے ہاتھ میں موجود تھی اور واپسی کی راہ لی اپنے فلیٹ کا درواذ کھولا

فریش ہوا اس ہی وقت اس کے فون پر کال ائی نمبر دیکھا کر اس کے وجیہ چہرے پر مسکراہٹ ائی ہیلو احان نے کہا
کمینا انسان کہاں ہے اگے سے پوچھا گیا
آپ کے دل میں احان نے اس کو چڑتے ہوے کہا
احان ایک بارا ہاتھ لگ جا پھر بتاتا ہو اس نے غصہ سے کہا
اووو میرا یار غصہ میں ہے کیا. ہوا احان نے انجان بنتے ہوے پوچھا
احان تم نے مینا سے کیا کہا جو وہ مجھے سے بات نہیں کر رہی
میں نے بس بھابھی کو بتایا کہ کل تو منگی کے ساتھ تھا احان نے مسکراتے ہوے کہا
احان کے بچے تو بچ بس مجھے سے تجھے شرم نہیں اتی جھوٹ بولتے ہوے
جبکہ احان نے قہقہا لگایا بلکل نہیں
احان تو آفیس اجا پھر تجھے بتاتا ہو اور فون بند ہو گیا جبکہ احان ایک بارا پھر مسکرایا اور ناشتہ کیا جو کہ اس نے خود بنایا تھا اور آفیس کے لیے نکالا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: