Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 10

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 10

–**–**–

بوا حور کو بلا لے احان نے کہا اور کرسی پر بیٹھ گیا یہ ڈنر کا وقت تھا بیٹا حور کے سر میں درد تھا میں نے میڈیسن دی تھی اس کو وہ ابھی تک سو رہی ہے اگر تم کہوں تو اٹھا دو حور کو بوا نے کہا نہیں بوا سونے دے اس کو احان نے کہا اور خود وہاں سے اٹھ گیا اور اپنے روم کی طرف بڑھا

بیٹا کھانا بوا اس کو اٹھتے دیکھ کر بولی بوا مجھے بھوک نہیں ہے احان نے کہا اور ایک نظر حور کے کمرے کے بند درواذ پر ڈالی احان کے دل میں اک بات ائی کہ وہ ایک بار حور کو دیکھا لے لیکن پھر اس کے آرام کرنے کے خیال سے وہ. اپنے روم کی طرف بڑھا

یہ رات کا دوسرا پہر تھا ہر طرف خاموشی کا راج تھا احان دو بار سونے کی کوشش کر چکا تھا لیکن نیند آج اس سے روٹھ گئی تھی وہ حور کے بارے میں سوچ رہا تھا پتا نہیں وہ کیسی ہو گئی کیا مجھے اس کو دیکھا کر آنا چاہے احان نے خود سے سوال کیا نہیں وقت اتنا زیادہ ہو گیا ہے اس وقت جانا مناسب. نہیں احان نے خود کو جواب دیا

لیکن شائد وہ بھول گیا وہ غیر تھوڑی تھی وہ تو اس کی منکوحہ تھی اس کی محرم احان کو اب کافی کی طلب ہو رہی تھی سو وہ روم سے باہر نکلا اور نیچے ایا اس نے کیچن کی لائٹ آون کی اور کافی بنانے لگا جب احان کو احساس ہوا کہ کوئی رور رہا ہے احان پریشان ہوا اور چلتا ہوا

کیچن سے باہر وہ باہر آیا تو رونے کی آواز اور زیادہ انے لگئی احان نے ارگرد ادھر دیکھا تو کوئی انسان تو کیا کوئی اور مخلوق بھی نظر نہیں ائی اس کو لیکن رونے کی آواز مسلسل سنائی دے رہی تھی وہ آواز کس تعاقب کرتا ہوا حور کے روم کے پاس ایا تو آواز اندر سے آرہی تھی وہ بغیر نوک کیے روم میں داخل ہوا حور ،،،، احان نے کہا تو حور بھاگ. کر اس کے پاس ائی حانی مجھے میرے بابا لا دے میں پرامس کرتی ہو آپ کو تنگ نہیں کرو گئی

میں اپنے بابا کو آپ سے شئیر بھی کر لو گئی حور نے روتے ہوے کہا تو حور کی حالت پر احان کا دل کیسی نے مٹھی میں لے لیا تھا وہ بخار میں تپ رہی تھی وہ اپنے حواس میں نہیں تھی اس لیے شائد ایسی باتیں کر رہی تھی احان نے حور کو خود میں پبھچا حانی میرے بابا لے دے حور نے پھر سے کہا ٹھیک ہے حور میں لا دو گا انکل کو تم رونا بند کرو احان نے اس کو خود سے الگ کی اور

اس کے آنسو. صاف کیے سچی حور نے بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوے کہا احان اس کو لے کر بیڈ کے پاس ایا حور کو بیٹھیا اور سائیڈ ٹیبل سے ایک گولی نکال کر اس کو دی میرے بابا حانی حور نے کہا یہ کھاو پھر انکل ائے گئے احان نے ضبط کرتے ہوے کہا ورنہ حور کی حالت پر اور طاہر صاحب کے ذکر پر اس کا خود رونے کو دل کر رہا تھا

حور نے گولی کھالی احان نے اس کا دوپٹہ سر سے اتارا اور بیڈ پر اس کو لیٹا اس پر کمبل دیا سر میں درد ہے احان نے اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوے کہا تو حور میں ہاں میں سر ہلایا احان نے اس کا سر دبانا شروع کیا کچھ دیر میں حور سو گئی حور کے سوتے ہی وہ کتنی دیر اس. کو تکتا رہا اتنے قریب سے وہ حور کو پہلی بار دیکھا رہا تھا پھر وہ تھوڑا جھکا اور اس کے کے گرم ماتھے پر اپنے لب رکھے تمہیں کچھ نہیں ہو گا حور احان نے شدت سے کہا

🔥🔥🔥

صبح 7 بجے کے قریب حور کی آنکھ کھولی تو احان پاس بیٹھ اس کو دیکھا و رہا تھا حور نے احان کو دیکھا تو جلدی سے اٹھ گئی اور دوپٹہ سر پر لیا طعبیت کیسی ہے اب احان نے حور کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوے پوچھا تو حور کو کل جو کچھ ہوا سب یاد ایا

احان کے جانے کے بعد بہت دیر وہ ماضی کی خوبصوت یادوں میں کھوری رہی پھر اچانک سر میں درد ہونے لگ تو بوا نے اس کو دوا دی لیکن اس نے کھائی نہیں تھی پھر شام سے وہ اپنے بابا کو یاد کر کے بہت روری تھی رات تک وہ روتی رہی پھر احان کا اس کے روم میں آنا اس کو سب یاد ایا

حور احان نے اس کو پھر سے آواز دی تو وہ ہوش کی دنیا میں ائی جی اب ٹھیک ہے حور نے کہا اور فریش ہونے چلی گئی احان اس کو واش روم میں بند ہوتا دیکھا کر روم سے باہر آیا حور واش روم سے باہر آئی تو روم خالی تھا حور نے گہرا سانس لیا اور بیڈ پر پھر سے لیٹ گئی کچھ ہی دیر میں درواذہ نوک ہوا اور احان اندر ایا اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں سوپ موجود تھا

حور اٹھ جاو تھوڑا سا سوپ پی لو پھر سو جانا احان نے کہا احان مجھے سے صبح صبح کچھ نہیں کھایا جاے گا حور نے اٹھ کر کہا بس تھوڑا سا پی لو پھر میڈیسن لینی ہے احان نے نرمی سے کہا طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے وہ حور پر زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا حور نے تین چار چمچ ہی پیا احان نے اس کو میڈیسن دی کچھ دیر تک حور پھر سے سو گئی احان نے اپنے روم میں ایا اور اس نے ریحان کو فون کیا اور کہا آج وہ آفیس نہیں ائے گا کچھ باتیں اور بھی کی اس نے اور پھر فون بند کیا

احان نے اپنا فون اور لیپ ٹپ لیا اور حور کے روم میں ایا صوفہ پر بیٹھ کر وہ مسلسل لیپ ٹپ پر انگلیاں چلاتا رہا کچھ دیر میں وہ وہاں ہی سو گیا ساری رات وہ ایک منٹ کے لیے نہیں سویا تھا

💖💖💖

حور کی آنکھ کھولی تو 3 بج رہے تھے وہ حیران ہوئی کہ وہ اتنی. دیر کیسے سو گئی وہ بیڈ سے اٹھی تو اس کو شاک لگا احان صوفہ پر سو رہا تھا اس کی گود میں لیپ ٹپ موجود تھا یعنی وہ کام کرتے ہوے سو گیا تھا حور نے لیپ ٹپ بند کیا اور ٹیبل پر رکھا بیڈ سے کمبل لے کر اس نے احان پر دیا کچھ دیر وہ اس کو تکتی رہی احان کو نیند میں اپنے اوپر کیسی کی نظریں محسوس ہوئی تو اس کی آنکھ کھولی گئی

اس کے جگانے پر حور جلدی سے بیڈ پر بیٹھ گئی احان نے آنکھیں کھول کر ارگر ادھر دیکھا.

حور کی آنکھ کھولی تو 3 بج رہے تھے وہ حیران ہوئی کہ وہ اتنی. دیر کیسے سو گئی وہ بیڈ سے اٹھی تو اس کو شاک لگا احان صوفہ پر سو رہا تھا اس کی گود میں لیپ ٹپ موجود تھا یعنی وہ کام کرتے ہوے سو گیا تھا حور نے لیپ ٹپ بند کیا اور ٹیبل پر رکھا بیڈ سے کمبل لے کر اس نے احان پر دیا کچھ دیر وہ اس کو تکتی رہی احان کو نیند میں اپنے اوپر کیسی کی نظریں محسوس ہوئی تو اس کی آنکھ کھولی گئی

اس کے جگانے پر حور جلدی سے بیڈ پر بیٹھ گئی احان نے آنکھیں کھول کر ارگر ادھر دیکھا اس کی نظر حور پر بیٹھی جو اپنے لب کاٹ رہی تھی کچھ دیر وہ حور کو دیکھتا رہا جیسے یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے پھر سب یاد انے پر صوفہ سے اٹھا اس کے جسم میں درد کی ایک لہر ڈوری جو کے صوفہ پر سونے کی وجہ سے حور اب طبعیت کیسی ہے سوری یار مجھے پتا نہیں چلا کب میں سو گیا کام کرتے ہوے کچھ کھایا تم نے احان نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ

کر پوچھا میں ٹھیک ہوں ابھی سو کر اٹھی ہوں حور نے زمیں کو گھورتے ہوے کہا اچھا پھر فریش ہو جاو میں بوا سے کھانے کا کہتے ہوں احان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ حور کافی دیر وہاں بیٹھ کر کچھ سوچی رہی کچھ دیر بعد وہ باہر آئی تو احان بھی فریش سا اپنے روم سے نکل کر نیچے ایا احان نے اس کی پلیٹ میں بریانی ڈالی اور اس کو کھانے کا کہا حور. پلیٹ میں چمچ ہلاتی رہی

کچھ دیر وہ اس کو دیکھتا رہا حور کھا کیوں نہیں رہی احان نے پوچھا تو حور ہوش کی دنیا میں ائی مجھے سے یہ نہیں کھائی جائے گئی حور نے کہا تو پھر کیا کھاو گئی احان نے حیران ہوتے ہوے پوچھا کیونکہ حور کو بریانی بہت پسند تھی سوپ حور نے

ایک لفظ میں جواب دیا احان نے بوا کو سوپ بنانے کو کہا جب تک سوپ بناتا ہے تھوڑی سے بریانی کھالو احان نے کہا اور اپنی پلیٹ سے چاول کا چمچ لے کر اس کے منہ کی طرف بڑھا لیکن حور نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو احان اس کے منہ نے ڈال چوکے تھا اس کی حرکت پر حور حیران ہوئی اور احان مسکراہٹ چھپا گیا

اس طرح احان ایک چمچ خود کھاتا اور ایک چمچ حور کے منہ میں ڈالتا جبکہ اس کو گھورتی رہ گئی لیکن بولی کچھ نہیں کھانے سے کے بعد حور اپنے روم میں چلی گئی کچھ دیر میں اس کے کمرے کا درواذہ نوک ہوا تو حور نے سر پر دوپٹہ لیا اجاے حور نے کہا اور احان اندر ایا حور آنٹی. ( ریحان کی ماما) کراچی سے واپس آگئی ہے آج ہمیں ریحان کی طرف جانا ہے احان نے کہا

کیا میرا جانا ضروری ہے آپ چلے جاے حور نے کہا ٹھیک ہے میں ریحان کو فون کرتا ہوں اور اس سے کہتے ہوں کہ تمہاری بھابھی کہ رہی ہے مجھے نہیں جانا احان نے تمہاری بھابھی پر زور دیتے ہوے کہا آپ یہ بھی تو کہ سکتے ہے کہ تمہاری بھابھی کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے حور نے غصہ سے دانت پیستے ہوے کہا اور تمہاری بھابھی پر زور دیتے ہوے کہا احان نے اس کی بات پر قہقہا لگایا جبکہ حور کا دل کیا کہ اس کے دانت توڑا دے

اچھا اور میں جھوٹ کیوں بولو گا اس سے جبکہ تمہاری طبعیت ٹھیک ہے احان نے سوال کیا ٹھیک ہی تو کہ رہا تھا وہ حور نے سوچا ٹھیک ہے کب جانا ہے حور نے ہار مانتے ہوے کہا تو وہ مسکرایا اپنی کامیابی پر تم تیار ہو جاو پھر نکلتے ہے احان نے کہا تو حور نے ہاں میں سر ہلایا اور احان وہاں سے جانے لگا. احان حور نے کہا

ہاں احان نے موڑتے ہوے کہا حور کل کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھی وہ کل اس کی بات سننے بغیر آفیس چلا گیا اور وہاں کیا ہوا اور اگر سر عمران نے اس سے ایسی ویسی کوئی بات کر دی اور اگر احان نے اس کو غلط سمجھا تو اگر مجھے احان کو اپنے کردار کی صافئی دینی پڑی کیونکہ وہ جانتی تھی ایسی بات پر لڑکی کو ہی غلط سمجھا جاتا ہے

کچھ نہیں حور نے کہا اور منہ دوسری طرف کر لیا وہ چاہ کر بھی بات نہیں کر سکی تو احان نے گہرا سانس لیا جو وہ پوچھا نہیں سکی وہ اس کی آنکھوں نے احان سے پوچھا لیا احان نے اس کا بازو اپنی طرف کھچا اور وہ اس کے سینے سے الگئی احان نے اس کی تھوڑی پر انگلی رکھی اور اس کا منہ اوپر کیا دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا رہے تھے

سب ٹھیک ہے حور اور اگر نہیں بھی تو اپنے حانی پر بھروسہ رکھوں وہ سب ٹھیک کر دے گا احان نے اس کی. آنکھیں میں دیکھا کر کہا اس کی بات پر دو موتی حور کی آنکھ سے گرے تو احان نے نفی میں سر ہلایا اس کے موتی اپنے ہاتھ سے چنے اور وہاں سے چلا گیا جبکہ حور زمیں پر بیٹھ گئی اس کی آنکھوں میں آنسو اور. ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی وہ آنسو صاف کر. کے اٹھی وضو کیا اور اپنے رب کے حضور شکرا کا. سجدہ کیا کہ اس کے شوہر اس پر بھروسہ کرتا تھا

💖💖💖

صبح تیار ہو کر وہ روم سے باہر آئی تو سامنے ٹیبل خالی تھا مطلب وہ بھی تیار نہیں ہوا وہ چلتی ہوئی کیچن میں ائی تو بوا اور کک کام کرے رہے تھے اسلام و علیکم بوا حور نے کہا اور بوا مسکرائی و علیکم اسلام بوا نے کہا اور اس کا ماتھا چوما اتنی دیر میں باہر سے احان کی آواز ائی

بوا ناشتہ احان نے کہا بوا ٹرے لے کر باہر جانے گئی تو حور بولی بوا میں لے جاتی ہو اور ٹرے لے کر باہر آئی احان حور کو دیکھا کر حیران ہوا جو ٹیبل پر ناشتہ لگ رہی تھی آج تم نے ناشتہ تو نہیں بنایا احان نے پوچھا تو حور نے نفی میں سر ہلایا شکر ہے احان نے باقدہ ہاتھ اٹھتے ہوے کہا کیا مطلب حور نے گھورتے ہوئے پوچھا کچھ نہیں ناشتہ کرو

احان نے اس کی پلیٹ میں چیز سینڈوچ رکھتے ہوے کہا احان میں نہیں کھا سکتی حور نے کہا حور دیکھوں طبعیت پہلے ہی خراب ہے تمہاری میں ناشتہ کیے بغیر تمہیں آفیس لے کر نہیں جاو گا احان نے گھورتے ہوے کہا کیونکہ رات کو بھی حور کو ہلکا سا بخار ہو گیا تھا احان پلیز حور نے بے بسی سے کہا تو احان ناشتہ میں مصروف ہو گیا

احان اگر میں طبعیت خراب ہوئی تو میں بات نہیں کرو گئی آپ سے حور نے اس کو ناشتہ میں مصروف دیکھا کر غصہ سے. کہاتو احان مسکرایا حور نے سینڈوچ کھانا شروع کر دیا ابھی دو سے تین نیوالا ہی لیے تھے کہ حور نے منہ پر ہاتھ رکھا اور اپنے روم کی طرف بھاگی احان پریشان سا اس کے پیچھے گیا تو واش روم کا درواذہ بند تھا حور تم ٹھیک ہو لیکن اندر سے کوئی آواز نہیں ائی

حور میں اندر ارہا ہو احان نے کہا اور اندر گیا حور بیسن پر جوکی ہوئی تھی حور تم ٹھیک ہو احان نے اس کی کمر سہلتے ہوا کہا تو حور. نے گہرا سانس لیا. اور اپنے منہ دھویا احان اس کو سہارا دیتے ہوے باہر لے کر ایا حور کو بیڈ پر بیٹھیا اور اس کو پانی دیا حور ہوا کیا ہے احان نے پریشان ہوتے ہوے پوچھا تو حور نے اس کو گھورا

سوری یار مجھے اندز نہیں تھا کہ تمہاری طبعیت خراب ہو جائے گئی ڈاکٹر کے پاس چلے احان نے کہا میری تو بات سننی نہیں آپ نے ایسا کرے الماری میں میرا بیگ ہو گا وہ مجھے دے حور نے گھورتے ہوے کہا احان نے الماری کھولی اور حور کو بیگ دیا حور نے بیگ سے میڈیسن نکلی تو احان نے اس کو پانی دیا یہ میڈیسن احان نے کنفثور ہوتے ہوے پوچھا جب طبعیت خراب ہو جاے تو میں یہ میڈیسن لیتی ہو ورنہ تو ہپستال جانا پڑے گا

حور نے کہا اور لیٹ گئی اچھا تم آرام کرو کل آفیس چلی جانے احان نے شرمندہ ہوتے ہوے کہا اگر وہ نہ زبردستی کرتا تو اس کی طبعیت نہ خراب ہوتی اچھے ہے پہلے زبردستی کر لو اور پھر شرمندے ہو جاو حور بڑابڑی اللہ حافظ احان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ حور اس کے جانے کے بعد آنکھیں بند کر گئی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: