Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 11

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 11

–**–**–

وہ ابھی آفیس ائی تھی کہ اس کے کیبن میں عمران ایا اس کو عمران کو دیکھا کر غصہ تو بہت ایا گڈ ماننگ سر حور نے ضبط کرتے ہوے کہا مس حور میں اپنے کیے کی معافی چاہتا ہو عمران نے چہرے پر شرمندگئی آتے ہوے کہا جبکہ حور اس کی آنکھوں
میں شرمندگئی نہیں دیکھی

وہ جان گئی وہ بس اوپر اوپر سے شرمندہ ہے سو وہ چپ رہی کیا معافی نہیں مل سکتی عمران نے اس کو چپ دیکھ کر کہا سر آپ کو کوئی کام تھا حور نے اس کی بات کو اگنور. کرتے ہوے کہا نہیں بس آپ سے کہنے ایا ہوں ہوسکے تو مجھے معاف کر دیجئے گا عمران نے کہا اور وہاں سے چلا گیا اس کے جانے کے بعد حور نے گہرا سانس لیا یااللہ اس شخص کو ہدایت دے آمین

احان کے کہنے پر ریحان نے حور کو اور بکی جینی بھی فی میل سٹاف تھا سب کو عمران کی ٹیم سے نکل کر میل سٹاف عمران کی ٹیم کا حصہ بنا دیا اس بات کو آفیس میں سب نے محسوس کیا جس عمران کو سب عزت کی نظر سے دیکھتے تھے اس کو اب سب مشکوک نظروں سے دیکھنے لگئے آفیس میں لوگ طرح طرح کی باتیں بنانے لگئے اس سب کا اثر زیادہ عمران پر ہوا

عمران نے اتنی محنت سے کمپنی میں اپنا نام بنایا اتنی عزت کمائی اور ایک لڑکی کی وجہ اس نے اپنے عزت کھود دے اس لیے عمران نے ناچاہتے ہوے بھی حور سے معافی مانگی کیونکہ وہ اپنی جاب سے ہاتھ دو نہیں سکتا تھا

🔥🔥🔥

آج اتور تھا حور صبح سے اپنے روم میں تھی وہ سے باہر ائی تو سامنے اس کو ریحان نظر آیا جو کہ فائیل میں سر دیے ہوے تھا اس کے ساتھ صوفہ پر احان لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا اسلام و علیکم بھائ آپ کب ائے حور نے سامنے والے صوفہ پر بیٹھ کر کہا و علیکم اسلام بھابھی مجھے تو ایک گھنٹہ ہو گیا ہے ریحان نے منہ بناتے ہوے کہا

کیا ہوا بھائ حور نے اس کو منہ بناتے دیکھ کر کہا بھابھی یہ جو آپ کے شوہر محترم ہے نا انہونے میرے ناک میں دم کیا ہوا ہے ریحان نے کہا تو احان نے اس کو گھورا اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گیا حور نے احان کو دیکھا. جس کے چہرے. پر پریشانی تھی

ایک منٹ میں حور سمجھ گئی یہ پریشانی کی وجہ درصیح کل باہر سے کچھ لوگ ارہے تھے مینٹگ پر یہ. مینٹگ کمپنی کے لیے بہت ضروری تھی اگر یہ مینٹگ کامیاب ہوئی تو یہ کمپنی پاکستان کی پانچ ٹوپ کمپنوں میں ائے گئی اور. اگر یہ مینٹگ ناکام ہوئی تو اس کمپنی کے شیئر گر بھی سکتے ہے احان کو یہ بات پریشان کر رہی تھی کیونکہ یہ اس کے پاپا کی کمپنی تھی وہ اس کا نام ڈوبنا نہیں چاہتا تھا

اس مینٹگ کی تیاری بہت اچھی تھی لیکن پھر بھی احان نے ریحان کو گھر بلایا تاکہ اس پروجیلٹ پر مزیذ کام کر سکتے جبکہ ریحان کا کہنا تھا کہ اس کی ریپوٹ بہت اچھی بنی ہے اور کام کرنے کی ضرورت نہیں اس کو پر دونوں کی کافی بھس ہی ہوئی آخرکار ریحان نے ہار مانی

بھائ چائے پیئے گئے آپ حور نے کہا جی بھابھی آپ کتنی اچھی ہے ورنہ اس انسان نے مجھے سے پانی تک کا نہیں پوچھا ریحان نے احان کی طرف دیکھتے ہوے کہا تو حور مسکرائ اور کیچن کی طرف چل پڑی جبکہ احان اس کی پشت کو گھورتا رکھ گیا حد ہے ریحان سے پوچھا سکتی تھی اتنا نہیں مجھے. سے بھی کچھ پوچھا لے احان نے جل کر سوچا

بھائ وہ چلی گئی ریحان نے اس کو کیچن کو تکتا دیکھ کر کہا اپنا کام کر احان نے تپ کر کہا تو ریحان مسکرایا کچھ دیر میں حور واپس آئی اس کے ساتھ بوا بھی تھی حور نے ریحان کو چائے دی اور احان کو کافی جبکہ بوا نے ٹیبل پر چائے کے ساتھ کچھ کھانے کا سامان بھی رکھا ارے بوا آپ بھی بیٹھے اور ہمارے ساتھ چائے پیئے حور نے بوا کو جاتے دیکھا کر

کہا اور ایک چائے کا کپ ان کو دیا حور نے چائے پیتے ہوے ٹی وی آون کیا اور اونچی آواز کی ٹی وی کی چینل پر چینل بدلنے لگئی کچھ دیر کو احان اس کو دیکھتا رہا پھر ضبظ کرتے ہوے بولا حور ہم کام کر رہے ہے اگر تم نے ٹی وی دیکھنا ہے تو اپنے روم میں جاکر دیکھ لو تو حور اس کو دیکھا کر دل میں مسکرائی 😏😏

نہیں مجھے ٹی وی نہیں دیکھنا حور نے ٹی وی بند کرتے ہوے کہا ریحان بھائ آنٹی کیسی ہے حور نے پوچھا تو ریحان نے فائیل سائیڈ پر رکھی اور کہا بہت اچھی ہے اور آپ کو پیار دے رہی تھی مجھے آنٹی بہت یاد آرہی ہے کیسی دن آپ ان کو لے کر گھر آئے گا حور نے کہا اور پھر حور اور ریحان کی نا ختم ہونے والی باتیں شروع ہو گئی جو گھر سے شروع ہو کر اب ملک کے حالت تک چلی گئی

اب وہ عمران خان کی بات کرنے لگئے احان ان دونوں کو تکتا رہا تھا ریحان فائیل سے کچھ کام دیا تھا تجھے وہ ہو گا احان نے دانت پیستے ہوے اس کو یاد کرویا کہ وہ یہاں کام کرنے ایا ہے یہ دونوں اس کا صبر ازما رہے تھے

اس کی بات پر ریحان ہوش میں ایا ہاں یار بس ہو گیا ریحان نے کہا فائیل میں دوبار سر دے دیا جبکہ حور احان کو. دیکھا کر مسکرائی جو کہ پھر سے لیپ ٹاپ پر. مصروف ہو گیا تھا بوا آج کھانے میں کیا بنایا ہے حور نے پاس بیٹھی بوا سے پوچھا قومہ بنایا ہے اور ساتھ روٹی بوا نے کہا

لیکن بوا مجھے تو بریانی کھانی ہے ویسے بھائ آپ نے تو کہا تھا کہ کچھ لوگوں کو کھانا بنانا آتا ہے لیکن میں نے آج تک ان کو کیچن میں نہیں دیکھا حور نے احان کو نشانہ بناتے ہوے ریحان سے کہا تو کچھ لوگ کہے نا کہ ان کو میرے ہاتھوں کا کھانا کھانا ہے ریحان کے بولنے سے پہلے احان بولا

خوش فہمی ہے لوگوں کو چلے بوا مجھے بتائے بریانی کیسے بنتی ہے آج میں بریانی بنوں گئی اور ایک بار مجھے کھانا بنانا اگیا تو پھر دیکھتے ہے کون بہتر ہے حور نے کہا اور بوا کو لے کر یہ جا وہ جا
😛😛احان جا یار بنا دے بریانی بھابھی کا کتنا. دل ہے بریانی کھانے کا اور میرا بھی کتنا وقت ہو. گیا ہے. تیرے ہاتھ کا کھانا کھاے ریحان نے کہا احان جو اس کی بات پر غور کر رہا تھا ریحان کی بات پر چوکا اور یہ کام کون کرے گا احان نے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا میں ہوں نا ویسے بھی اتنی دیر نہیں لگتی بریانی بنانے میں ریحان نے کہا تو احان اٹھ کر کیچن کی طرف چل پڑا

وہ جان گیا کہ حور بھابھی احان کو جان کر تنگ کر رہی تھی اس لیے اس نے احان کو بریانی بنانے کا کہا اب ائے گا مزہ ریحان نے مسکراتے ہوے کہا.😝😝

وہ کچن میں آیا تو اس نے بوا کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور چلتا ہوا حور کے پاس ایا جو کیچن دھونے کی کوشش کر رہی تھی کیا ہوا رہا ہے احان نے پوچھا تو حور مسکرائ یقینا ریحان نے اس کو یہاں بیھجا ہوگا حور نے سوچا احان یہ مجھے سے نہیں ہو رہا حور نے اس کی طرف موڑتے ہوے چہرے پر مصعومت لاتے ہوے کہا اچھا میں کر دیتے ہو احان نے کہا اور خود کیچن دھونے لگا احان میں کیا کرو حور نے پوچھا

حور تم جاے میں کر لو گا احان مصروف سا بولا نہیں احان جب تک میں کوشش نہیں کرو گئی مجھے کھانا بنانا کیسے ائے گا حور نے کہا ٹھیک ہے تم ایسا کرو چاول نکلا کر دھو دو احان نے کہا تو حور. نے ہاں سر ہلایا احان چاول کتنے نکلو حور پوچھا میں خود نکلا کر دیتے ہوے احان نے کہا

احان نے دھویا ہوا گوشت ایک سائیڈ پر کیا اور چاول نکلا کر حور کو دیے اور خود وہ پیاز کاٹنے لگا احان یہ سارے گرے گئے ہے مجھے سے حور نے چاول دھوتے ہوے گرا دیے تھے اووو اچھا پیچھے ہوے میں کرتا ہوں احان نے کہا ٹھیک ہے احان میں تب تک پیاز کاٹتی ہوں حور نے کہا اور پیاز کاٹنے لگئی

احان میری آنکھیں جل رہی ہے حور نے کہا حور ایسا ہوتا ہے پیاز کاٹتے ہوں یہ نارملی بات ہے احان نے کہا ایک منٹ بعد آ آ،،، حور کی چیخ پورے کچن میں سننی دی احان بھاگ کر اس کے پاس ایا اوو میرے خدایا ہے کیا کیا تم نے احان نے اس کی انگلی پکرای جہاں سے خون نکل رہا تھا اس کی انگلی بہتے پانی کے نیچے کی حور زور شور سے رونے میں مصروف تھی کٹ کافی گہرا تھا حور یہ ٹھیک ہو جاے گا احان نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا

احان بہت درد ہو رہا ہے حور سوں سوں کرتی ہوئی بولی احان نے اس کچن کے ٹیبل سے چیزیں سائیڈ پر کی اور جلدی سے حور کو اٹھ کر ٹیبل پر بیٹھیا اس کی حرکت پر حور کو شاک لگا اب وہ اس کی انگلی پر پیٹی کر رہا تھا جبکہ حور چپ اس کو دیکھا رہی تھی یہ سب وہ جان کر کر رہی تھی مقصد احان کو بس تنگ کرنا تھا

اس کی سیاہ آنکھیں مسلسہ مسکرا رہی تھی پہلے کچن احان کو. دھونے کا کہا پھر چاول گرا دینا اور پھر پیاز کاٹتے ہوے انگلی زخمی کر دینا حور کو پتا نہیں تھا کہ کٹ اتنا گہرا ائے گا درد تو بہت ہو رہا تھا لیکن احان کو تنگ کرنے میں مزہ آرہا تھا جب احان نے اس. کو ٹیبل پر بیٹھیا تو حور. کا دوپٹہ سر سے اتارے کر کندھے پر اگیا تھا وہ الٹے ہاتھ سے دوپٹہ سر پر لینے کی کوشش کر رہی تھی

کیونکہ سیدھے ہاتھ پر وہ پیٹی کر رہا تھا احان نے حور کی مزاہت دیکھی تو اس نے نظریں اٹھ کر حور کو دیکھا جو دوپٹہ لینے کی کوشش کر رہی تھی احان نے اس کا دوپٹہ سر پر دیا تو وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں. دیکھا رہے تھے ان کو ہوش نہیں رہا دنیا کا وہ بس ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا رہے تھے اس ہی طرح بہت وقت گزا گیا

ہم ہم کیسی کی آواز ان کے کانوں میں پڑی تو دونوں ہوش کی دنیا میں ائے احان جلدی سے حور سے دور ہوا کچن کے درواذہ پر ریحان موجود تھا بھائ مجھے امی کا فون ایا ہے کام سارا ہو گیا ہے میں چلتا ہوں آپ لوگوں بریانی انجوئے کرے ریحان نے آنکھ مارتے ہوے اور یہ جا وہ جا جبکہ احان اس کی معنی خیز بات پر ٹسپٹا گیا جبکہ حور اپنے دل کے شور کو قابو کرنے

کے لیے زمیں کو گھور رہی تھی احان کا بھی یہی حال تھا لیکن وہ پھر سے بریانی بنانے میں مصروف ہو گیا تھا احان دو منٹ بعد حور کی آواز اس کے کانوں میں سننی دی ہاں احان جو کہ گوشت کی گریوے تیار رہا تھا حور کی طرف موڑا اپنا فون دیجئے گا حور نے کہا کیوں احان نے پوچھا

کیوں سے کیا مراد مجھے چاہے حور نے اس کو گھورتے ہوے کہا میں نہیں دے رہا جاو روم سے اپنا فون لے او احان نے اس سے کہا. اور ہانڈی میں چمچ ہلایا آپ کے فون میں ایسا کیا ہے کہ آپ مجھے نہیں دے رہے حور. نے معنی خیز بات کی اس کی بات احان نے اس کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی اور پکٹ سے فون نکلا کر اس کو دیا

جلدی واپس کرنا احان نے لہجہ میں سختی لاتے ہوے کہا اس کو غصہ میں دیکھا کر حور نے مشکل سے اپنا قہقہا روکا حور نے فون کھولا اور play list میں آگئی ایک گانا لگیا

تو سفر میرا ہے تو ہی میری منزل
تیرے بینا گزار آے دل ہے مشکل

ویسے احان کتنی بار آپ کا بریک آپ ہوا ہے جو آپ ایسے گانے سنتے ہے حور نے کہا مقاصد بس احان کو زچ کرنا تھا اس کی بات پر احان نے اس کو گھورا واپس کرو میرا موبائل احان نے اس کے سوال کو نظر اندز کرتے ہوے کہا اچھا بس دیتی ہوں حور نے منہ بناتے ہوے کہا لیکن دل ہی دل میں مسکرائی

احان. کتنا ٹائم لگ گا اور حور نے پوچھا کچھ دیر ہے ابھی احان نے ہانڈی پر ڈھنا دیتے ہوے کہا ہیلو مجھے ایک چیز پیز آڈرد کرنا ہے لاج حور نے کال کرتے ہوے کہا جی اس ڈیس پر بیجھے دے حور نے کہا اور پھر ڈریس نوٹ کرویا کال بند ہوتے ہی حور نے فون احان کو دیا جو اس کو گھور رہا تھا

اگر تم نے پیز ہی کھانا تھا تو مجھے سے بریانی کیوں بناوئی احان نے دانت پیستے ہوے کہا احان کھانی تو مجھے بریانی ہے لیکن مجھے اس وقت بہت بھوک لگئ ہے اور اوپر سے میرا اتنا خون بھی بہے گیا ہے کمزوری ہو رہی ہے حور نے معصومنا منہ بناتے ہوے کہا اس کی چالکی پر وہ بل کھاتا رہ گیا احان کو اب حور کی آنکھوں میں شرارت نظر آرہی تھی

احان دو منٹ بعد حور نے کہا حور چپ کر کے بیٹھوں ورنہ یہاں سے جاسکتی ہوں احان نے زچ ہوتے ہوے کہا آپ مجھے یہاں سے جانے کا کہ رہے ہے حور ٹیبل سے اتار کر اس کے پاس ائی ہاں اگر چپ نہیں رہوں گئی تو کچن سے جانا پڑے گا

حور نے اس کی. بات پر پاس پڑا پانی کا جگ اس پر گریا اور وہاں سے قہقہا لگتی ہوئی بھاگئی احان کو اب پتا چلا کے اس کے ساتھ ہوا کیا ہے احان نے چولے بند کیا اور اس کے پیچھے بھاگے حور یہ کیا بتمزی تھی اب مجھے سے بچوں احان نے کہا تو حور کھکھلائی پورے گھر میں حور اگے اگے اور احان پیچھے اب وہ گھر کی بیک سائیڈ اگیا اگے بس. دیور تھی اور پیچھے احان حور بری طرح بھپس گئی

اب کہاں جاو گئی احان نے مسکراتے ہوے کہا اور اس کو اپنے باووں میں اٹھیا اور اس کو پول کے پاس لایا نہیں احان نہیں مجھے تیرنا نہیں آتا احان نہیں حور اس کی حصار میں تڑپتی ہوئی بولی لیکن احان کچھ سننے کے موڑ میں نہیں احان نے اس کو پول میں پھیکا

وہ جانتا تھا کہ پانی اتنا گہرا نہیں تھا حور پانی میں ہاتھ پاوں مار رہی تھی حور آئیدہ مجھے سے پنگا لیتے ہوے سو بار سوچنا احان نے مسکراتے ہوے کہا اس کی حالت پر پھر اس نے قہقہا لگایا کچھ دیر بعد حور نے ہاتھ پاوں چھوڑ دیے حور کے جسم میں کوئی حرکت نہیں تھی تو احان پریشان سا پول میں ایا حور حور احان حور کے پاس ایا اس کی آنکھیں بند تھی احان جلدی سے اس کو

باہر لایا حور آنکھیں کھولو حور احان نے اس کے گال پھکپھکتے ہوے کہا لیکن حور کے جسم میں کوئی حرکت نہیں تھی حور ابھی وہ اس کے لیے پیٹ پر دباوں ڈال رہا تھا حور پلیز آنکھیں کھولو اب وہ ڈدر گیا تھا حور احان نے کہا اور اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اس کے چہرے پر جھکا ہی تھا کہ حور نے. آنکھیں کھولی اور اس کو پول میں دھکا دیا

کیا کہ رہے تھے آپ مجھے سے پنگا لیتے ہوے سو بار سوچنا اب آپ مجھے سے پنگا لیتے ہوے سو بار سوچیے گا حور نے کہا اور قہقہا لگاتی ہوئی اندر گئی
حور احان نے غصہ سے کہا لیکن پھر مسکرایا اور اپنے بالوں میں ہاتھ پھیلتا ہوا پول سے باہر آیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: