Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 12

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 12

–**–**–

یہ رات کا وقت تھا آسمان پر گہرے بادل موجود تھے سرد ہواوں نے موسم مزید سرد کیا تھا حور. کے روم میں پانی ختم تھا وہ کچن میں آئی اور حیران ہوئی بوا کو دیکھا کر جو بڑابڑا رہی تھی کیونکہ اس وقت
بوا سو رہی ہوتی ہے کیا ہوا بوا حور نے پوچھا

ہونا کیا ہے احان کو سردی لگ گئی ہے میں نے اس سے کہا کہ میں تمہارے لیے قہقوہ بنا دیتی ہو لیکن وہ کہتا ہے میں نے دوا لے لی ہے آپ بس مجھے یہ موا کالا پانی ( کافی) بنا دے بوا نے کہا

حور ہنس پڑی بوا کی بات پر وہاں شوہر بیمار ہے اور تم ہنس رہی ہو بوا نے حور کو گھورتے ہوئے کہا سوری بوا حور نے جلدی سے کہا ورنہ بوا کا نا ختم ہونے والا لیکچر شروع ہوجانا تھا میاں بیوی کے حقوق والا ارے بوا آپ بیٹھے میں بناتی ہوں کافی حور نے کہا

وہ بیڈ پر لیٹ تھا اس کی ناک سرخ تھی جس کو وہ بار بار صاف کر رہا تھا کہ درواذہ نوک ہوا اجاے احان نے کہا اور اٹھ کر بیٹھ گیا یہ لو بیٹا تمہارا کالا پانی بوا نے اس کو کافی کا کپ دیتے ہوے کہا تو وہ مسکرایا

احان کیا ضرورت تھی پول میں نہانے کی اس کی وجہ سے سردی ہوئی ہے تمہیں بوا نے اس کے پاس بیٹھتے ہوے کہا تو احان کو دوپہر والا منظر یاد تھا اس کے عنابی لب مسکرائے

بوا کافی آپ نے بنائی ہے احان نے حیران ہوتے ہوے پوچھا نہیں حور نے بنائی ہے میں اس کو کہا کہ تمہاری طبعیت خراب ہے تو وہ بولی میں کافی بنا دیتی ہوں بوا نے بتایا اووو میرے لیے کافی بنا سکتی ہے پر میرا حال پوچھنے نہیں اسکتی ہے احان نے سوچا اچھا

بوا کافی رات ہو گئی ہے اب آپ. بھی آرام کرے میں ٹھیک ہو احان نے کہا ٹھیک ہے میں چلتی. ہوں اگر طبعیت زیادہ خراب ہوئی تو مجھے بلا لینا بوا نے اس کے سر پر ھاتھ پھیرتے ہوے کہا اور وہاں سے چلی گئی

بوا کے جانا کے بعد احان حور کے بارے میں سوچنے لگا اور وہاں حور کو افسوس ہوا رہا تھا کہ اس کی وجہ سے احان کو سردی لگئی ہے پھر کچھ سوچ کر حور نے اپنا فون پکرا اور احان کو. میسج کیا احان کا فون بجا اس نے فون دیکھا تو حور کا میسج تھا

“اگر میں نے آپ کو کافی بنا کر دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے سوری کیا ہے آپ سے اس دن آپ کی وجہ سے میری بھی طبعیت خراب ہوئی تھی اگر آپ کو یاد ہو قدرت نے موقع دیا ہے بدلا لینے کہ وہ یہ میرا انتقام تھا😎😎 اس کی بات پر احان مسکرایا پھر کچھ ٹائپ کرنے لگا

میں بھی انتقام لو گا حور 😠😠 احان کا میسج پڑھ کر حور کھکھلائی شوق سے لینا 😝😜 حور نے ٹائپ کیا اور فون سائیڈ پر رکھ کر سو گئی

🔥🔥🔥

صبح وہ تیار ہو کر نیچے ایا تو حور ٹیبل پر ناشتہ لگا رہی تھی حور کی نظر اس پر پڑی تو وہ ہنسنے لگئی اس کی سرخ ناک دیکھ کر جبکہ وہ اس کی ہنسی میں کھود گیا ہنستے ہوے اس کی آنکھوں میں پانی اگیا اوفففف احان آپ بہت فنی لگ رہے ہے حور نے کہا تو احان نے غصہ سے اس کو گھورا

چلے احان نے کہا لیکن ناشتہ حور نے کہا نہیں چلو میں آج جلدی جانا چاہتا ہوں احان نے کہا اس کے چہرے پر پریشانی موجود تھی میٹنگ کو لے کر اچھا کافی پی لے پھر چلتے ہیں حور نے کپ اس کا دیتے ہوے کہا تو احان نے ہاں میں سر ہلایا جلدی سے کافی ختم کی پھر دونوں آفیس کے لیے نکالے

💖💖💖

وہ احان کے روم ائی شکر ہے بھابھی آپ ائی آپ ہی اس کو سمجھے کچھ اتنی ٹنشن لے رہا ہے یہ ریحان حور کو دیکھا کر بولا آپ لوگوں بات کرو میں چلتا ہوں ریحان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا حور نے احان کو دیکھا جو پریشان سا لیب ٹاپ دیکھا رہا تھا

اس ہی وقت اس کے روم کا درواذہ نوک ہوا اور مس عروج نے اندر انے کی اجازت مانگی تو احان نے اس کو اجازت دی عروج حور کو دیکھا کر جل گئی سر آپ کی کافی عروج نے کہا مس عروج آپ جاے اور خیال رکھے گا اب کچھ وقت تک میرے روم میں کوئی نہ ائے احان نے کہا تو وہ اور جل کر اوکے کہتی

وہاں سے چلی گئی جبکہ حور اس کے جلے ہوے چہرے کو دیکھا کر مسکرائی بہت دیر تک ان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی احان کافی پیتا لیب ٹاپ پر مصروف رہا اور حور اس کے روم کو دیکھنے میں

پھر انٹر فون بجا اور اطلاع دی گئی کہ کالینٹ اگیا ہے وہ جلدی سے اپنی کرسی سے اٹھ اور کوٹ کے بٹن بند کرتا وہاں سے جانے لگا حانی حور اس کو جاتے دیکھا کر بولی تو وہ موڑ Best of luck حور نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا تو وہ مسکرایا اور وہاں سے. چلا گیا

🔥🔥🔥

میٹنگ ختم ہوئی اور یہ پروجیک ان کی کمپنی کو ملا میں آپ سب کا بہت شکر گزار ہو یہ سب آپ لوگوں کی محنت کا نتجے ہے کہ آج ہماری کمپنی کو اتنی کامیابی ملی ہے احان نے کہا تو سب کروز نے تالیاں بجائیں اس ہی خوشی میں آج رات ایک پارٹی ہو گئی احان کی طرف سے ریحان نے کہا تو سب مسکراے ۔۔

وہ روم سے باہر آئی تو احان فون پر کیسی سے بات کر رہا تھا حور کو دیکھا کر وہ دیکھتا رہ گیا پاوں تک ائی سیفد رنگ کی فراک جس پر ہلکا کام ہوا تھا سر پر دوپٹہ اور کندھے پر گرم شال روزانہ کی نسبت میک آپ زیادہ کیا تھا خاص کر ہونٹوں پر لال لپسٹ

لگئی تھی ایک ہاتھ میں بھر کر چھوڑیا تھی یہ سب اس نے بوا کہ کہنے پر کیا تھا ورنہ وہ تو سادھ سی پارٹی میں جانے کے لیے تیار تھی لیکن بوا نے کہا کہ اب تم شادی شدہ ہو تو اچھے سے تیار ہو کر جاوں چلے احان حور نے شال ٹھیک کرتے ہوے کہا وہ جو اس میں کھویا تھا اس کی بات پر ہوش میں ایا

اچھی لگ رہی ہو احان نے کہا تو وہ مسکرای اور شکریہ کہا گاڑھی ایک ہوٹل کے سامنے روکی وہ دونوں اکھٹے ہال میں اینٹر ہوے تو سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوے بہت سے لوگوں نے ستائشی نظروں سے ان کو دیکھا احان یار اتنی دیر کر دی انے میں ریحان نے کہا اب میں بیوی والا ہو اس لیے دیر سویر ہو جاتی ہے

احان نے مسکراتے ہوے کہا تو اوووو ریحان نے ہونٹگ کی تو احان کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی اور ایک بار حور کو دیکھا جو ایک سائیڈ پر کچھ لڑکیوں سے باتیں کرنے میں مصروف تھی پھر وہ مہانوں سے ملنے لگ

جیسا کہ آپ سب جانتے ہے یہ پارٹی کمپنی کی بہت بڑی کامیابی کی خوش میں ہے اس سب میں ہم سب کی بہت محنت شامل ہے اس لیے میں آپ سب کا بہت شکر گزار ہو آپ سب انجوئے کرے احان نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوے کہا تو سب مسکراے

میں آپ سب کو. آپ کے باس یعنی احان کی ایک اچھی بات بتاتا ہوا ریحان نے اب مائیک پکراتے ہوے کہا ویسا تو ہمارے باس میں بہت سی اچھی باتیں ہے لیکن ایک بات یہ ہے کہ یہ گاتا بہت اچھا ہے کالج اور یونی کے زمانہ میں لڑکیوں اس کی آواز پر مارتی تھی اس کی آواز سن کر بہت سی تو اس سے شادی کی بھی خواہش رکھتی تھی ریحان نے احان کو آنکھ مارتے ہوے کہا

تو احان نے اس کو گھورا جبکہ حور اس کی بات پر مسکرائی میں چاہتا ہوں آج احان گانا گاے ریحان نے کہا تو سب نے تالیاں بجائیں 👏👏

احان یہ ہی موقع ہے بھابھی کو امیریس کرنے کہ تیری آواز سن کر وہ تم سے محبت کرنے لگے گئی ریحان نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی اس کی بات پر احان نے ایک مکا اس کے بازو پر مارا پر مائیک اپنے سامنے کیا اور نظریں حور پر تھی

جو حیران سی احان کو دیکھا رہی تھی

میں نے چھنی عشق کی گلی بس
تیری آئٹیں ملی میں نے چاھا چاھوں
نہ تمہیں پر میری ایک. نہ چلی
عشق نگاہوں کو ملتی ہے بارشیں
پھر کیوں دل تیری کر رہا ہے خواہشیں

دل میری نہ سننے دل کی میں نہ سننوں
دل میری نہ سننے دل کا میں کیا کرو

احان کی آواز کے سحر میں ہر کوئی کھود گیا تھا جبکہ حور پزل ہو رہی تھی اس کی نگاہوں سے اور اس کی آواز اس کے الفاظ حور کو اپنے دل میں اتارتے ہوے محسوس ہو رہے تھے وہ اپنے دل کی ڈکھنوں کو سنبھالتی ہوئی جلدی سے اپنے پرس سے فون نکالتی اس میں مصروف ہو گئی اس کی حرکت پر احان مسکرایا

لایا کہاں مجھے کو یہ موہ تیرا
راتیں نہ اب میری نہ میرا سویر
جان لے جائے گا یہ عشق تیرا
عشق نگاہوں کو ملتی ہے بارشیں
پھر بھی کیوں دل تیری کر رہا ہے خواہشیں

دل میری نہ سننے دل کی میں نہ سننوں
دل میری نہ سننے دل میں کیا کرو 💖

گانے کے ختم ہونے پر سب نے تالیاں بجائیں سوائے حور نے جو خود کو فون میں مصروف کرنے کی کوشش کر رہی تھی

بہت اچھا گایا ہے اس کے ساتھ ہی میں مس حور کو یہاں انے کی دعوت دیتا ہوں ریحان نے کہا اس کی بات پر احان حور دونوں ہی چونکے حور چلتی ہوئی ان کے پاس ائی میں نے سنونا ہے کہ مس حور بہت اچھا گاتی ہے سو پلیز ایک گانا ہو جاے ریحان نے کہا جبکہ حور کو شاک لگا یہ کب اس نے ریحان سے کہا ہے بھائ مجھے نہیں کوئی گانا آتا حور نے سرگوشی کرتے ہوے کہا

پلیز بھابھی آپ اپنے شوہر سے کم تھوڑی ہے مجھے یقین ہے آپ بہت اچھا گائے گئی ریحان نے کہا اور مائیک اس کو دیا حور نے احان کو دیکھا جو اس کو دیکھا رہا تھا بلکہ پوچھا رہا تھا کیا تم یہ کر سکتی ہو پھر حور نے آنکھیں گھومی جیسی کہنا چاہ رہی ہو یہ میرے لیے آسان ہے اس کی اس ادا پر

احان کا دل کیا ابھی جا کر اس کی آنکھیں چوم لے لیکن پھر اپنی یہ خواہش دل میں دبا گیا حور نے گہرا سانس لیا اور پھر مائیک سامنے کر کے بولی

زیادہ تو نہیں لیکن میں کچھ لائنز گنگنا سکتی ہوں

تم یو ملے ہو جب سے مجھے اور
سنہاری لگتی ہوں صرف لبوں سے ہی نہیں
اب تو پورے بدن سے ہنستی ہوں میرے
دن رات سلولی سی سب ہے تیرے
ہی ہونے سے یہ ساتھ ہمیشہ ہوگا نہیں
تم اور کہی میں اور کہی

یہ گا کر حور چپ ہو گئی اور زمیں کو گھورنے گئی جتنی خوشی ہے اس نے شروع کیا تھا اونتی ہی اب وہ اداس اور مایوس لگ رہی حال میں سب کی نظریں اس پر تھی اور سب اس کے بولنے کا انتظارا کر رہے تھے

لیکن جب یاد کرو گے تم میں
بن کے ہوا اجاوں گا 💔

یہ احان کی آواز تھی اس کے گاتے ہی حور کے چہرے پر مسکراہٹ ائی

میں پھر تم کو چاھوں گئی میں
پھر بھی تم کو چاھوں گئی اس
چاہتے میں مرجاوں گئی میں پھر بھی تم کو

حور نے گانا ختم کیا تو سب نے تالیاں بجائیں لیکن دو لوگوں بہت زیادہ جل گئے تھے عمران اور عروج

🔥🔥🔥

وہ اس وقت گاڑھی میں موجود تھے احان چپ گاڑھی چلا رہا تھا جبکہ حور گاڑھی کے باہر دیکھ رہی تھی ان کے درمیان ابھی تک خاموشی تھی احان گاڑھی روکے حور اچانک بولی کیوں احان نے پوچھا پر گاڑھی نہیں روکی احان پلیز روکے حور نے کہا تو مجبورنہ احان نے گاڑھی روکی حور جلد سے

گاڑھی سے اتاری حور کیا ہوا ہے احان نے پوچھا اور خود بھی گاڑھی سے باہر آیا حور سڑک ہر چلتی ہوئی فارٹ پارک پر ائی اور اپنی شال اتار کر اس کے وہاں سوتی ہوئی بچی پر دی اور پھر پرس میں جینے بھی پیسے تھے سب بچی کے پاس بیٹھی اس کی ماں کو دیے اللہ تجھے خوش رکھے اللہ بہت جلدی تیری شادی کرے

اس کی دعا پر حور مسکرائ اماں جی میرے شادی ہو گئی ہے حور نے کہا اللہ جلدی تجھے چاند جیسا بیٹا دے اماں نے اس کے سر پر ھاتھ پھیرتے ہوے کہا تو وہ شرما گئی احان جو اس کے پیچھے ایا تھا اس کی ساری کاروری دیکھ کر مسکرایا اور پھر دعا پر اس کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی

حور جانے کے لیے موڑی احان کو دیکھا کر اس کا چہرہ اور بھی لال ہو گیا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: