Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 13

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 13

–**–**–

حور اپنے کمرے سے نکلی اور کچن کی طرف بڑھی احان کافی بنانے میں مصروف تھا جب اس کو کچھ احساس ہوا تو وہ پیچھے موڑ تو وہاں حور کو پایا تم بھی تک سوئی نہیں احان نے پوچھا نہیں نیند نہیں آرہی ہے حور نے کہا اور چائے کے لیے پانی رکھا اگر چائے پیوں گئی تو نیند کیسے ائے گئی احان نے کہا احان میں نے کبھی

آپ کی کافی کو بات کی ہے جو آپ میری چائے کو بات کر رہے تھے میں چائے کے بارے میں کچھ نہیں برداشت کرو گئی حور نے غصہ سے کہا اوکے میری چائے کی شوقین اب میں کبھی چائے کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا احان نے مسکراتے ہوے” میری” پر زور دیتے ہوے کہا

ویسا آپ نہیں سوے ابھی تک حور نے پوچھا مجھے تو کافی کے پیے بغیر نیند نہیں اتی احان نے کہا کچھ دیر کی خاموشی کے بعد حور بولی پارٹی بہت اچھی تھی آفیس کے سب لوگ بہت خوش تھے احان ابھی کچھ کہتے کہ باہر بارش شروع ہو گئی تو حور کی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر مسکراہٹ ائی

احان نے نفی میں سر ہلایا تو حور کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی اور وہ کچن سے باہر نکالی حور واپس او یہ سردیوں کی پہلی بارش ہے بیمار ہو جاو گئی احان نے کہا اور کافی کا کپ لیے کر باہر آیا لان کے درمیان میں حور آسمان کو دیکھا کر گول گول گوم رہی تھی اس کو دیکھا کر وہ اس کو دیکھتا رہ گیا احان کو ایسا لگا کہ آسمان سے کوئی پری یا حور اتری ہے اس کے لان میں

حانی آپ بھی ائے انجوئے کرے سردی کی پہلی بارش حور نے اس کو دیکھا کر کہا احان جو اس حینسں منظر میں کھویا تھا اس کی بات پر ہوش میں ایا حور واپس او سردی لگ جائے گئی احان نے لہجہ میں سختی لاتے ہوے کہا بس ۵ منٹ حانی حور نے کانپتے ہوے کہا

کیونکہ سردی بہت زیادہ تھی اس کی بات پر احان نے اس کو گھورا لیکن وہاں فراق کس کو پڑھتا تھا

🔥🔥🔥

کچھ ماہ بعد 🌹

حور نے ٹیبل پر پڑھا فون اپنا پرس میں ڈالا. اور اپنے کیبن سے باہر آئی تو اس کی نظر عروج پر پڑی حور کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئ مس عروج حور نے کہا تو عروج موڑی عروج نے حور کو دیکھا تو اس کے چہرے پر بے بیزی ائی کیونکہ وہ اکثر حور کی باتیں اور حاکتوں پر زچ ہوتی تھی

جی عروج نے کہا کیا آپ لینچ کرنے جا رہی ہے حور. نے چہرے پر معوصومیت لگتے ہوے کہا ہاں عروج نے اس کو گھورتے ہوے کہا میں اور سر احان بھی جارہے ہیں لینچ پر آپ بھی ہمارے ساتھ چلے حور نے ہمارے پر زور دیتے ہوے کہا اس کی بات پر عروج. کا منہ کھول گیا یعنی حور اور سر ایک ساتھ عروج نے سوچا لیکن پھر اپنی ہی بات کی نفی کی

پھر چلو عروج نے خود پر کنٹرول کرتا ہوے کہا ورنہ تو اس کا دل کیا حور کو کھری کھری سنا دے حور گاڑھی کے پاس ائی جہاں احان اس کا انتظارا کر رہا تھا سر اگر آپ کو برا نہ لگے تو مس عروج بھی ہمیں جوین کر سکتی ہے حور نے احان نے کہا تو احان نے حور کو گھورا احان کو برا لگا وہ بس یہ وقت حور کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا

ٹھیک ہے آئے مس عروج احان نے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لگتے ہوے کہا حور نے جلدی سے فارنٹ ڈور کھولا اور بیٹھ گئی اس کی حرکت پر عروج دانت پیستی رہ گئی سارے راستے احان. منہ بنا کر گاڑھی چلتا رہا😶 حور اپنی شرارت پر مسکراتی رہی😉 اور پیچھے بیٹھی عروج کا دل جلتا رہا 😠

گاڑھی ایک ریستوران کے سامنے روکی حور اور احان ہمیشہ یہاں ہی آتے تھے حور نے بریانی آڑدر کی اور احان نے بھی کیونکہ زیادہ طرح وہ دونوں ایک ہی چیز آڑدر کرتے تھے جبکہ عروج سے یہ برداشت نہیں ہوا تو وہ بولی سر آپ یہاں کا چیز پاستا ٹراے کرے بہت مزہ کا ہوتا ہے مگر سر بریانی آڑدر کر چکے ہے حور احان کے بولنے سے پہلے بولی

احان نے حور کو بہت غور سے دیکھا تو اب بات کچھ کچھ احان کو سمجھ آرہی تھی جی ضرور احان نے عروج سے کہا اور پھر اپنا آڑدر کینسل کرویا اور چیز پاستا آڑدر کیا جبکہ حور کو شاک لگا اور عروج کے چہرے پر مسکراہٹ ائی

ویسا سر میں بھی بہت اچھا پارستا بناتی ہوں آپ کبھی گھر آئے میں آپ کے لیے بنوں گئی عروج نے کہا اچھی بات ہے ورنہ کچھ لوگوں کو کھانا بنانا نہیں آتا احان نے عروج سے کہا لیکن طنز وہ حور پر کر رہا تھا جبکہ حور کو ابھی تک بس دال چاول بنانے ائے تھے بکی وہ سیکھ رہی تھی ابھی

عروج اپنی تعریف پر مسکرائی سر آپ گھر کب ارہے ہے پھر عروج نے کہا جلدی آئے گئے میں اور مس حور احان نے مسکراتے ہوے کہا سوری سر آپ ہی جاے گیا پارستا کھانے مجھے نہیں جانا حور نے دانت پیستے ہوے کہا تو احان کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی اتنے میں کھانا اگیا

کھانے کے دوران عروج کچھ نا. کچھ بات کرتی رہی اور احان اس کی باتیں کا مسکراتے ہوے جواب دیتا رہا جبکہ حور منہ بنا کر اپنی بریانی کو گھورتی رہی احان نوٹ کر رہا تھا کہ حور کھانا کھا نہیں رہی احان کو برا لگا حور کا کھانا نہیں کھانا وہ تو بس حور سے بدلا لے رہا تھا احان نے پارستے والی پلیٹ ایک سائیڈ پر کی

اور بریانی کی ٹرے سے تھوڑی سے بریانی لی اس پر حور مسکرائ اور عروج جل گئی کچھ وقت اور گزار لیکن حور نے کچھ نہیں کھایا اب احان کو خود پر غصہ ارہا تھا کیوں اس نے پارستا آڑدر کیا اور حور کی فکر بھی تھی ایک تو وہ ناشتہ نہیں کرتی اوپر سے اب وہ ضد میں کچھ

کھا گئی بھی نہیں چلے سر عروج نے کہا مس عروج آپ جاے مجھے کچھ کام ہے ہم کچھ دیر تک اتے ہے احان نے کہا جی سر عروج نے کہا اور منہ بناتے ہوے وہاں سے چلی گئی کھانا کیوں نہیں کھا رہی احان نے حور نے پوچھا جو ابھی بھی بریانی کو گھورا رہی تھی دل نہیں کر رہا میرا حور نے احان کو دیکھتے ہوے کہا

طبعیت ٹھیک ہے احان نے کہا اور چمچ میں بریانی بھر کر اس کے منہ کے پاس لایا پتہ نہیں حور نے اس کے ہاتھ سے بریانی کھاتے ہوے کہا اچھا تھوڑا سا کھا لو پھر گھر چلتے ہے احان نے بہت پیار کہا اور اس کو بریانی کھالنے لگا حور بھی خاموش اس کے ہاتھ سے کھاتی رہی

گاڑھی میں بیٹھ کر حور نے سیٹ سے ٹیک لگئی اور آنکھیں بند کر لی احان چپ سا کبھی راستہ دیکھتا اور کبھی حور کو جس کی آنکھوں سے دو موتی گراے تھے جس کو حور نے بے دردی سے صاف کیا تھا شائد میں کچھ زیادہ ہی ہڑٹ کر دیا احان نے سوچا

گاڑھی پورچ میں روکی تو حور اتارنے لگئی لیکن احان نے اس کو اپنی طرف کیھچا تو وہ سیدھی احان کے سینے سے لگئی جب مزاق برداشت نہیں کر سکتی تو کیا بھی نہ کرو احان نے خود میں بھچے ہوے کہا اس کی حرکت پر اور اس کی بات پر وہ تڑپنے لگئی احان چھوڑے مجھے آپ خود

کو سمجھتے کیا ہے حور نے کہا” تمہارا شوہر” احان شوخا ہوا تو پھر آپ نے پارستا کیوں آڑدر کیا اور تو اور اس عروج سے کہا کہ مجھے کھانا بنانا نہیں آتا اور میرے ہی سامنے ایک لڑکی سے مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہے تھے اور مجھے سے کہتے ہے شوہر ہو تمہارا حور نے غصہ سے کہا

سوری یار میں بس مزاق کر رہا تھا میں نہیں تھا پتہ کہ تم اتنی ہڑٹ ہو جاو گئی احان نے اس کو خود سے الگ کرتے ہوے کہا اور حور کے آنسو صاف کیے جس کو دیکھا کر وہ تڑپ گیا تھا آئیدہ اگر آپ نے ایسا مزاق کیا تو میں جان لے لو گئی آپ کی حور نے اس کا گربیاں پکڑتے ہوے کہا

تو احان مسکرایا جی میری جان احان نے کہا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اس کی حرکت پر حور گھبرائی اور جلدی سے گاڑھی سے باہر نکالی لیکن جاتے ہوے اس کو گھورنا نہیں بھولی اب کچھ کرنا پڑے گا مجھے احان نے کہا اور پھر گاڑھی سے اتر کر گھر کے اندر بڑھا
💖💖💖

حور ہاتھ میں فائیل لیے احان کے روم کی. طرف بڑھی درواذہ نوک کیا اجازت ملتے ہی اندر گئی تو ریحان احان سے کچھ کہ رہا تھا احان اس پر سائن کر دے حور نے فائیل ٹیبل پر رکھتے ہوے کہا بھابھی آپ نے تیاری کر لی ریحان نے پوچھا کس چیز کی حور نے کہا میری شادی کی جو کہ اس ہفتہ ہے ریحان نے کہا اس کو لگا کہ حور کو

احان. نے سب بتایا ہو گا کیا شادی اور آپ کی وہ بھی ہفتہ کو حور نے شاک کی کفیت میں کہا کیونکہ ہفتہ انے میں بس چار دن بکی تھے جی ریحان نے دانت نکالتے ہوے کہا کیا آپ کو احان نے کچھ نہیں بتایا ریحان نے پوچھا سوری یار میں بتانا بھول گیا احان نے سائن کر کے فائیل بند کرتے ہوے کہا

میں آپ کی شادی میں نہیں او گئی بھائی میں ناراض ہو آپ سے حور نے غصہ سے کہا اور آپ سے میں بات نہیں کرو گئی اب حور اب احان کی طرح دیکھتی ہوئی بولی اور بغیر فائیل لیے وہاں سے یہ جا وہ جا جبکہ وہ دونوں ارے ارے کرتے رہ گئی

🔥🔥🔥

حور اپنے روم میں بیٹھی آفیس کا کچھ کام کر رہی تھی جب درواذہ نوک ہوا حور جانتی تھی اس وقت کون ہو گا اجاے حور نے کہا اور پھر سے لیپ ٹپ مصروف ہو گئی

دو دن سے حور احان سے بات نہیں کر رہی تھی احان پہلے تو خود چپ رہا یہ سوچ کر جب غصہ ٹھیڈا ہو جاے گا تو خود ٹھیک ہو جاے گئی اور دوسری طرف ریحان نے بہت معافیاں مانگی بہت منتے کی پھر جا کر حور نے کہا ٹھیک ہے میں آپ کی شادی میں او گئی

احان روم میں ایا اور چلتا ہوا صوفہ پر بیٹھ گیا بہت دیر وہ حور کو دیکھتا رہا جو انجان بنتی ہوئی لیپ ٹاپ پر مصروف تھی کب تک ناراض رہنے کا ارادہ ہے احان نے پوچھا میں آپ سے ناراض نہیں ہو حور نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوے کہا تو پھر بات کیوں نہیں کر رہی ہو مجھے سے احان اٹھ کر حور کے پاس بیٹھ گیا آپ کو فرق پڑھتا ہے حور نے طنز کرتے ہوے کہا ہاں احان نے ایک الفاظ میں جواب

دیا نہیں احان آپ کوئی فرق نہیں پرتا میں اگر آپ کی زندگی میں اتنی سی بھی اہمیت رکھتی تو آپ مجھے اتنی بڑی بات بتاتے مجھے ریحان بھائ سے کوئی شکوہ نہیں جب آپ نے میرے ساتھ ایسا کیا تو میں ان سے کیا کہوں حور نے کہا اور منہ پھیر لیا شائد آپ آنسو چھپا رہی تھی

حور مجھے یاد تھا بس ذاہین سے نکل گیا سوری معاف کر دو احان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوے کہا احان کو بلکل اندز نہیں تھا کہ وہ اتنی سے بات کو دل سے لگ کر بیٹھی ہے لیکن حور نے کوئی جواب نہیں دیا حور پلیز معاف کر دو احان نے بے بسی سے کہا ٹھیک ہے جاے اب مجھے نیند آرہی ہے حور کو اچھا نہیں لگا احان کا بار بار معافی مانگنا

نہیں جلدی سے تیار ہو ہم باہر جارہے ہے احان نے کہا مجھے نہیں جانا حور نے کہا حور میں باہر انتظارا کر رہا ہو جلدی او احان نے کہا اور کمرے سے چلا گیا

💖💖💖

وہ مسلسل دو گھنٹوں سے حور کو مال میں گوما رہا تھا اس نے اپنی اور حور کے لیے شادی کے حساب سے شاپنگ کی حانی حور نے اس کو کہا جو ایک اور دوکان کی طرف بڑھا ہی تھا ہاں احان نے حور کو دیکھتے ہوے کہا بس حانی اب گھر چلے میں تھک گئی ہو حور نے کہا

ٹھیک ہے لیکن ادھر ایک ڈریس پسند ایا ہے مجھے تمہارے لیے وہ لیتے ہے پھر گھر چلتے ہے احان نے حور کو اپنے ساتھ لگتے ہوے کہا اور شاپ کے اندر چل پرھا ادھر عمران اپنی بہن کے لیے شاپنگ کرنے مال ایا اس کی نظر حور اور احان پر پڑی تو اس کو شاک لگا شک کو پہلے بھی تھا اس کو لیکن اب اس طرح ان کو ساتھ دیکھا کر یقین ہو گیا

🔥🔥🔥

کچھ کھاو گئی حور احان نے گاڑھی میں بیٹھتے ہوے حور. سے پوچھا ہاں آئسکریم حور نے مسکراتے ہوے کہا تو احان نے آئسکریم پارلر کے سامنے گاڑھی روکی اور پھر ایک آئسکریم آڑدر کی آپ نہیں کھاے گئے حور نے پوچھا تو احان نے نفی میں سر ہلایا

گاڑھی گھر کے گیٹ کے پاس روکی کچھ دیر میں گھر کا گیٹ کھولا اور گاڑھی اندر گئی عمران جو ان کے پیچھے پیچھے تھا حور کو احان کے گھر جاتے دیکھا کر حیران ہوا

حور تم ایسی لڑکی ہو سکتی ہو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا آفسوس کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا تھا عمران نے کہا اور پھر وہاں سے چلا گیا

🌹🌹🌹

حور ایک کپ کافی مل سکتی ہے احان نے کہا وہ جو اپنے روم میں جا رہی تھے ٹھیک ہے اپ جاے میں تھوڑی دیر میں بنا کر لاتی ہوں حور نے کہا اور اپنے روم میں چلی گئی احان کافی خود بھی بنا سکتا تھا لیکن وہ اس وقت حور سے ضروری بات کرنا چاہتا تھا اس لیے حور کو کافی کا بولا

کافی دیر ہو گئی احان کو انتظارا کرتے لیکن حور نہیں ائی آخر وہ کمرے سے باہر آیا نیچے ایا جہاں اندھیر تھا کچن کی بھی لائٹ آوف تھی. وہ حیران سا حور کے روم کی طرف بڑھا

وہ درواذہ کھول کر اندر ایا. تو حور بیڈ پر سو رہی تھی. اس کے پاوں میں جوتے موجود تھا اور شاپنگ بیگ بھی بیڈ پر تھے اس کی حالت پر احان مسکرایا وہ بچین میں بھی جب تھک جاتی تھی تو کہی بھی ایسے بھی سو جاتی تھی احان نے اس کے پاوں سے جوتے آزاد کیا اور شاپنگ بیگز کو

الماری میں رکھا پھر حور پر کمبل دیا اس کا حجاب کھولا وہ اکثر ہی حجاب لیتی تھے باہر جاتے وقت احان نے بہت غور سے حور کے چہرے کو دیکھا جہاں تھکن کے تاثرات تھے احان نے اس کے ماتھے پر لب رکھے اور پھر لائٹ بند کر کے روم سے چلا گیا

💖💖💖

وہ ابھی آفیس ائی تھی کہ اس کے کیبن میں عمران اور عروج ائے ان دونوں کو دیکھا کر وہ حیران ہوئی گڈ مارننگ سر گڈ مارننگ مس عروج حور نے کہا مس حور آپ سے ایک کام تھا عمران نے کہا

جی سر حور نے کہا مس حور آپ مجھے ایسی لڑکی لگتی نہیں تھی لیکن مصعوم چہروں کے پیچھے شیطان ہوتے ہے عمران نے مسکراتے ہوے کہا

کیا مطلب آپ کی بات. کا حور نے غصہ سے کہا اووو مس عروج دیکھے مس حور کو غصہ اگیا عمران نے کہا جی ان جیسی لڑکیوں کی وجہ سے سب لڑکیاں بدنام ہے یہ آپ کیا بکوس کر رہی ہے حور نے ضبط کرتے ہوے کہا ویسا مس حور آپ ایک رات کا کتنا لیتی ہے یقین کرے میں سر احان سے زیادہ دو گا عمران نے حور کو آنکھ مارتے ہوے کہا

اور بھی. پتہ نہیں وہ حور کو کیا کچھ کہ رہے تھے جبکہ حور کے دماغ میں یہ ہی الفاظ تھا آپ ایک رات کا کتنا لیتی ہے بس ایک الفاظ اور نہیں آپ. چلے میرے ساتھ میں بتاتی ہو میں کتنا لیتی ہو حور نے اونچی آواز میں کہا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: