Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 14

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 14

–**–**–

حور نے عروج کا باووں پکرا اور اس کو زبردستی وہاں سے گھسیتی ہوئی احان کے روم کی طرف بڑھی اس کے ری ایکشن پر عروج حیران ہوئی اور عمران. بھی اس کے پیچھے ایا لیکن پھر بھی وہ دونوں ری ریلکس تھے حور احان کے روم میں آئی تو اس کے روم میں کچھ لوگوں موجود تھا ان کو وہ کچھ سمجھا رہا تھا

مجھے آپ سے بات کرنی ہے ابھی حور نے سب کو اگنور کرتے ہوے کہا اور عروج کا باووں بھی چھوڑا مس حور آپ کچھ دیر انتظارا کرے احان نے کہا اور پھر سب کی طرف متوجہ ہوا احان ابھی حور نے تیز لہجہ میں کہا تو احان اور ریحان. کے ساتھ باقی سب بھی حیران ہوے احان کرسی سے اٹھ کر حور کے پاس ایا آپ سب باہر جاے میٹنگ ختم احان نے وہاں بیٹھے لوگوں کو کہا

سب حیران پریشان سے ہاں میں سر ہلاتے ہوے وہاں سے چلے گیا سوائے ریحان کے ہاں تو کیا کہ رہے تھے آپ دونوں حور سب کے جانے کے بعد عروج اور عمران کو مخاطب کیا حور کیا ہوا ہے احان نے پوچھا کیونکہ آج تک حور نے کبھی احان سے تیز لہجہ میں بات نہیں کی تھی آپ لوگوں اپنے بکوس کٹینیو کرے لیکن ایک بات میں آپ کو بتانا چاہتی ہو

یہ سامنے جو شخص ہے شوہر ہے میرا حور نے عروج اور عمران سے کہا اس کی بات پر عروج اور عمران کے چہرے پر ایک زنگ اکر گیا یہ سب آپ دونوں کو بتانا کا میرا مقصد یہ نہیں تھا کہ میں اپنی کردار کی صافئی دے رہی ہو آپ کو

سر میری پہلی غلطی یہ تھی کہ جب آپ نے پہلی بار مجھے سے بدتیمزی کی مجھے احان کو بتانا چاھے تھا تاکہ آج آپ میں اتنی ہمت نہ ہوتی حور نے عمران سے کہا

اور مس آپ ایک لڑکی ہو کر آپ کیسے ایک لڑکی کے بارے میں اتنی گھٹیا بات کر سکتی ہے اب وہ عروج سے بولی بہت اسان ہے. نا آپ کے لیے کیسی کو بھی کریکڑ لیس کہ دینا میں کیا پورا سٹاف آپ دونوں کے کریکڑ کے بارے میں جانتا ہے باتیں کرتا ہے میں بھی کر سکتی ہوں لیکن میں نہیں کرو گئی پتہ ہے کیوں کیونکہ آپ دونوں کی وہ مثال ہے اگر ایک گندھے پانی میں پٹھر پھکو گئے تو کپڑے اپنے ہی گندھے ہو گئے حور نے کہا

جبکہ عمران اور عروج اپنی اتنی تعریف پر سرخ ہو گئے اور شرمندہ بھی تھے سر ہمیں ابھی عمران کچھ اور بولتا احان نے ہاتھ سے چپ رہنے کا اشارہ کیا حانی چلے گھر حور نے احان کا ہاتھ پکرا اور باہر کی طرف بڑھی

شرم انی چاھے آپ دونوں کو آپ یہ سب کرنے یہاں آتے چلے جاے میری نظروں کے سامنے سے ورنہ میں کچھ کر دو گیا آپ دونوں کے ساتھ ریحان نے غصہ سے کہا اگر وہ ان کو جانے کا نہ کہتا تو سچ میں وہ ان دونوں کا قیل کر دیتا حور اس کی بھابھی کے ساتھ ایک اچھی بہن بھی تھی

🔥🔥🔥

سارے راستے ان کے درمیان خاموشی رہی گھر جاکر حور اپنے کمرے میں چلی گئی اور. احان اس کے کمرے سے باہر خاموشی سے کھڑا رہا وہ کس طرح خود پر کنٹرول کر کے. وہاں سے. ایا تھا وہ ہی جانتا تھا اب ابھی وہ باہر کھڑا خود کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ روم سے مسلسل آوازے آرہی تھی

کچھ دیر بعد احان نے چابی سے درواذہ کھولا اور اندر ایا پورے کمرے کی ایک ایک چیز تہس نہس ہوئی تھی حور زمیں پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی وہ چلتا ہوا حور کے پاس ایا ابھی وہ کچھ کہتا اس کی نظر حور کے ہاتھ پر پڑی جہاں کانچ کا ایک ٹکرا موجود تھا اور ہاتھ سے خون نکل رہا تھا

احان نے جلدی سے حور کو صوفہ پر بیٹھیا اور اب وہ ہاتھ کا جائزہ لے رہا تھا حور تھوڑا سا درد ہو گا احان نے کانچ نکالتے ہوے کہا لیکن وہ تو کچھ بھی سن نہیں رہی تھی احان نے اس کے ہاتھ پر پیٹی کی اور پھر کمرے سے چلا گیا کچھ دیر بعد واپس ایا

اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں پانی تھا اس نے پانی کا گلاس حور کو دیا حور نے گلاس لے کر سامنے دیوار پر مارا اگر احان باوقت سائیڈ پر نہ ہوتا تو یقینا اس کا سر پھٹ جاتا احان جلدی سے حور کے پاس بیٹھا اور حور کو خود سے لگیا

اس کی حرکت سے حور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگئ تو احان نے بھی اس کو رونے دیا

کچھ دیر بعد🌹

حانی اس نے کہا میں ایک رات کا کتنا لیتی ہو حور نے سسکیوں کے درمیان کہا اس کی بات سن کر احان کی آنکھوں میں خون اترا اگر عمران اس کے سامنے ہوتا تو ابھی تک زندہ نہیں ہوتا پھر حور نے ایک ایک کر کے ساری بات بتائی

جیسے جیسے وہ سن رہا تھا اس کا دماغ گھوم رہا تھا حور میری جان چپ اب رونا نہیں ہے جو ہوا سب بھول جاو احان نے حور کو خود سے الگ کیا اور اس کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا لیکن حور پھر بھی روتی رہی حور میں طرف دیکھوں اور مجھے سنوں احان نے کہا تو حور اس کو دیکھنے لگئی

زندگی میں بہت سے ایسے لوگوں بھی آتے ہے جو آپ کو توڑنے کی کوشش کرتے ہے ہر طرح کی بات کر کے آپ کا صبر آزماتے ہے اچھا انسان وہ ہی ہوتا ہے جو ان کا بہادری سے سامنا کرے ان کو ان کے ہی الفاظ سے مارے کچھ انسان چپ کر جاتے ہے اپنا ہر کام اللہ ہر چھوڑے دیتے ہے وہ بھی اچھے انسانوں میں شامل ہوتے ہے لیکن کچھ انسان ان کا مقابلہ نہیں کرتے وہ ٹوٹ ہار جاتے ہے مایوس ہو جاتے ہے وہ انسان کبھی کامیاب نہیں ہوتے وہ ہارے ہوے انسان لیکن تم ان انسانوں میں شامل ہو جو مقابلہ کرتے ہے بہادر ہے آج تمہارا لہجہ مضبوط تھا تمہاری بات میں دم تھا اس لیے عمران اور عروج اپنی باتوں پر شرمندہ ہوے انکل نے تمہیں ایک ایسی لڑکی بنایا ہے جو بہت مضبوط ہے جو غلط بات برداشت نہیں کرتی جو اچھے انسانوں کے ساتھ اچھی اور بروں کے ساتھ بہت بری مجھے فخر ہے تم پر حور لیکن تم اب روتے ہوے ایک ہاری ہوئی لڑکی لگ رہی ہوں

جو دنیا سے ہار گئی جو لوگوں کی باتیں سے ڈرد گئی لوگوں کی باتیں کو دل میں رکھنے ہے تم کمزور ہو جاو گئی میں اور انکل کبھی تمہیں کمزور نہیں دیکھ سکتے تم نے ان برے لوگوں کا تو مقابلہ کر لیا ہیں اب ان بری باتوں کا بھی مقابلہ کرو کیا کرو گئی تم مقابلہ احان نے کہا

حور بہت غور سے احان کی. بات سن رہی تھی اس کا ایک ایک الفاظ حور کے دل میں اتر رہا تھا حور نے جلدی سے اپنی آنسو صاف کیے میں کرو گئی مقابلہ میں ایک کمزور لڑکی نہیں ہو اور نہ ہی بنوں گئی حور نے مضبوط لہجہ میں کہا تو احان نے اگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما چلو فریش ہو کر او احان نے کہا تو وہ واش روم کی طرف بڑھی جبکہ احان نے گہرا سانس لیا

اور خود کو کمپوز کیا حور کی حالت عمران اور عروج کی باتیں اس کے غصہ کو ہوا دے رہی تھی ابھی وہ عمران اور عروج کا دماغ ٹھیک کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن ابھی حور کو بھی اس کی ضرورت تھی اس لیے وہ خود کو کنٹرول کر رہا تھا

💖💖💖

شام کے سائے ہر طرف پھیل رہے تھے آسمان میں چاند ابھی نکلا تھا سورج کے چلے جانے سے گرمی کی شدت کم ہوئی تھی

یہ منظر حور کے کمرے کا تھا جہاں بیڈ پر احان بیٹھ کر لیپ ٹاپ میں مصروف تھا اور اس کے پاس حور فائیل میں سر دیے ہوے تھی احان نے سارا دن حور کو کیسی نہ کیسی کام میں مصروف رکھا تھا اس وقت بھی احان نے حور کو ریپوٹ بنانے کا کہا تھا جو کہ وہ بنانے میں مصروف تھی کچھ دیر بعد احان نے حور کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ ائی حور فائیل میں سر دیے سو گئی تھی

احان نے حور کو بیڈ پر لیٹیا اور حور کے سر سے دوپٹہ اتارا پھر وہ حور کو غور سے دیکھنے لگا

نگاہوں میں دیکھوں ہے 🔥
میری جو ہے بس گیا💖
وہ ہے ملتا تم سے ہوبہو 👸
جانے تیری آنکھیں تھیں👀
یا باتیں تھیں وجہ 😊
ہوے تم جو دل کی آرزو

پھر احان نے حور کے ماتھے پر لب رکھے اس ہی وقت اس کا فون بجا ریحان کی کال تھی وہ کمرے کی لائٹ بند کرتا وہاں سے چلا گیا
🔥🔥🔥

کیا حال ہے اب بھابھی کا ریحان نے کرسی پر بیٹھتے ہوے کہا ریحان ابھی گھر ایا تھا اس وقت وہ دونوں لان میں موجود تھے ٹھیک ہے بھی نہیں بھی احان نے گہرا سانس. لیتے ہوے کہا کیا مطلب ریحان نے اس کے چہرے پر پریشانی دیکھتے ہوے پوچھا جو کچھ آج ہوا اس کو بھولنا اتنا آساں نہیں ہوگا لیکن وہ کوشش کر رہی ہے اور مجھے یقین ہے وہ کامیاب ہو گئی

احان نے مضبوط لہجہ میں کہا ان دونوں کا کیا سوچا پھر تو نے ریحان نے عمران اور عروج کا پوچھا اس کی بات پر احان کے چہرے پر غصہ ایا ان کو ان کے کیے کی سزا ملے گئی تو ٹھیک ہے احان. ریحان نے پوچھا

میں ٹھیک ہوں احان نے خود کو کنٹرول کرتے ہوے کہا پھر پریشان کیوں ہو ریحان نے پوچھا کیونکہ احان کے چہرے پر ابھی بھی پریشانی موجود تھی میں نے فصیلہ کیا ہے کہ اب رخصتی ہو جانی چاہے اس بارے میں میں کل رات حور سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن وہ سو گئی تھی اور آج یہ سب ہوگیا احان نے کہا

یہ تو اچھی بات ہے پر کیا بھابھی. مان جائے گئی ریحان نے حیران ہوتے ہوے پوچھا کیونکہ احان نے کہا تھا کہ جب تک حور کی آنکھیں میں اپنے لیے کوئی احساس نہیں دیکھوں گا رخصتی نہیں ہو گئی مجھے فراق نہیں پڑتا وہ مانے گئی یا نہیں کیونکہ میں اس سے اب محبت کرتا ہوں احان نے کہا

اس کی بات پر ریحان مسکرایا بیٹا محبت تو تو اس سے بچین سے کرتا تھا بس مانا اب ہے ، نہیں میں اس سے محبت نہیں کرتا تھا مجھے بچین میں وہ پسند تھی اور محبت اور پسند میں فرق ہوتا ہے احان نے کہا اور کیا فرق ہے یہ بھی بتادے ریحان نے پوچھا

جو لال فراک پہنے کر لان میں گھول گھول گھومتی تھی وہ اپنے بابا اور میرے ماما پاپا سے میری شکایت کرتی تھی جو میرے خلاف سازش کرتی تھی جو مجھے مارتی تھی جو مجھے دیکھ کر منہ بنایا کرتی تھی جو میرے ساتھ اپنے بابا. کا پیار شئیر نہیں کر سکتی تھی جو بارش کی دیوانی تھی جو غصہ کرتی تو اس کی ناک پھول جاتی تھی مجھے وہ چھوٹی سی. لڑکی بہت پسند تھی احان نے کھوے ہوے اندز میں کہا لیکن اب وہ بڑی ہوگئی ہے اب وہ میری پسند کے ساتھ ساتھ میری محبت بن گئی ہے

اس کے بغیر میں خود کو خالی خالی محسوس کرتا ہوں وہ ہنستی ہے تو میں مسکراتا ہو اور وہ اداس ہوتی ہے تو میں اداس ہوجاتا ہوں میں اس کے بغیر نامکمل ہو احان نے کہا میری دعا ہے اللہ پاک تم دونوں کو خوش رکھے ریحان نے خوش ہوتے ہوے کہا

💖💖💖

ریحان کے جانے کے بعد احان حور کے کمرے کی طرف بڑھا جہاں حور دنیا جہاں سے بے خبر سو رہی. تھی وہ چلتا ہوا بیڈ کے پاس ایا اور اس کے پاس بیٹھ گیا بہت دیر وہ حور کو تکتکی بندھے دیکھتا رہا حور تم سوتے ہوے بہت پیاری لگتی ہوں احان نے مسکراتے ہوے کہا دل میں بہت سی خواہشیں ائی لیکن وہ دبا گیا اور جھکا کر اپنے لب اس کے گال پر رکھے لیکن کرنٹ کھا کر پیچھے ہوا

حور کو بخار ہو رہا تھا احان بھاگ کر کچن میں گیا اور فریج سے ٹھنڈا پانی نکالا اور پھر بھاگ کر واپس ایا اور حور کو پیٹیا کی بہت دیر تک وہ حور کو ٹھنڈے پانی کی پیٹیا کرتا رہا لیکن حور کا بخار کم ہی نہیں ہو رہا تھا اب احان پریشان ہو گیا اس نے جلدی سے حور کو اپنی باہوں میں اٹھیا اور واش روم کی طرف بڑھا شاور کے نیچے لے کر اکھڑ ہوا احان نے شاور آن کیا

حور کو بے ہوش میں سردی محسوس ہوئی تو اس نے منی منی آنکھیں کھولی حانی سردی حور نے کانپتے ہوے کہا بس میری جان تھوڑی دیر اور احان نے حور کو خود میں بیھجتے ہوے کہا

حور کے ہوش آتے ہی احان نے شکر کیا احان نے شاور بند کیا اور اس کو لے کر کمرے میں ایا حور کو بیڈ پر لیٹیا اور الماری سے حور کے کپڑے نکالے اور پھر بوا کو فون کیا بوا کو حور کے کپڑے چینج کرنے کو کہا اور خود بھی اپنے روم میں گیا تاکہ خود بھی چینج کر سکے

وہ حور کے کمرے میں ایا تو حور پھر سے سو گئی تھی احان نے اس کو بخار چیک کیا تو وہ ٹھیک تھی احان نے سکون کا سانس لیا یار حور تم نے تو ڈدر دیا تھا مجھے احان نے سوئی ہوئی حور سے کہا اور اس کے پاس ہی بیڈ کی دوسری سائیڈ لیٹ گیا احان نے حور کو اپنے حصار میں لیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: