Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 15

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 15

–**–**–

فجر کی آزان پر حور کی آنکھ کھولی کچھ دیر وہ چھت کو گھورتی رہی پھر اس کی کروٹ لی تو اس کی نظر احان پر گئی جو اس کی طرف کروٹ لیے سو رہا تھا احان کو اپنے کمرے اپنے بیڈ پر سوتا دیکھا کر حور پریشان ہو گئی اور جلدی سے اٹھ بیٹھی اور پاس پڑا دوپٹہ سر پر لیا اور کل کے بارے میں سوچنے لگئی حور نے دماغ پر بہت زور ڈالا

بس ایک بات یاد ائی احان اس کو لے کر شاور کے نیچے کھڑا تھا اس کے بعد بوا نے اس کے کپڑے چینج کیا بس اس سے پہلے کیا ہوا اور اس کے بعد کیا ہوا حور کو کچھ یاد نہیں تھا حور بیڈ سے اتاری اور واش روم کی طرف بڑھی

وضو بنا کر واپس آئی اب وہ نماز پڑھ ہی رہی تھی کہ احان کا الارم بجا اس وجہ سے احان کی آنکھ کھولی گئی احان نے سامنے دیکھا جہاں حور نے اسلام پھیرا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھئے تھے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئ احان نے الارم بند کیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا

حور دعا مانگ کر فارغ تو احان بیڈ سے اتار اور چلتا ہوا اس کے پاس ایا چندا طبعیت کیسی ہے اب احان نے حور کو نئے نام سے پکارا مجھے کیا ہوا تھا اپنے نئے نام چندا کو اگنور کرتے ہوے حور نے پوچھا تمھیں کل رات بخار ہو گیا تھا اور تو اور تم بے ہوش بھی تھی احان نے کہا اچھا حور نے اچھا کو لمبا کیھچا

اور صوفہ پر بیٹھ گئی طبعیت کیسی ہے اب کچھ کھانے کو لاو احان نے پوچھا اب ٹھیک ہوں بس سر میں ہلکا سا درد ہے ابھی بس ارآم کرو گئی حور نے کہا اور صوفہ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لی ٹھیک ہے میں جوس لاتے ہوں تمہارے لے پھر میڈیسن لے کر سو جانا احان نے کہا اور اگے بڑھ کر حور کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوے وہاں سے چلا گیا

احان کے جانے کے بعد حور کی آنکھوں سے دو موتی گراے احان کا اس کا خیال رکھنا اس ماتھے پر بوسہ دینا سب اس کو طاہر صاحب کی یاد دیلتا تھا حور نے گہرا سانس لیا اور اپنے آنسو صاف کیا

🔥🔥🔥

دو دن بعد

آج ریحان کی مہندی تھی حور اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھی اتنے میں درواذہ نوک ہوا اجاے حور نے کہا اور نیچے جھکے کر جوتا بند کرنے لگئی بوا یہ بند کر دے مجھے سے نہیں ہوا رہا حور کی چولی کی ڈوری کی بات کرتے ہوے بوا سے کہا یہ جاننے بغیر کے کمرے میں بوا نہیں احان ایا تھا

کیونکہ اس کی پیھٹے احان کی طرف تھی اس لیے اور دوسرا وہ نیچے جھکے جوتا پہنہ رہی تھی اس لیے حور نے احان کو نہیں دیکھا بوا جلدی کر دے پہلے ہی اتنی دیر ہو گئی ہے ابھی احان نے شور ڈال دینا ہے حور اپنی ہی روہ میں بولی جارہی تھی

احان نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا اور چلتا ہوا اس کے پاس ایا اس کے لمبا سیاہ بال ایک سائیڈ پر کیے اور ڈدری بندھنے لگا شکریہ بو،،، حور کہتے ہوے احان کی طرف موڑی تو بکی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے

حور کی احان کو دیکھا کر بولتی بند ہو گئی جبکہ احان نے اس کا سر سے پاوں تک جائزہ لیا گریں اور اورینج زنگ کے لہنگے چولی پہنے مناسب سا میک آپ دونوں ہاتھوں میں بھر کر چوڑیا اور کانوں میں بڑے بڑے جمھکے پہنے وہ آسمان سے اتاری کوئی حور لگ رہی تھی

احان کے اس طرح دیکھنے سے حور کو احساس ہوا کہ وہ دوپٹہ کے بغیر ہے حور جلدی سے بیڈ کی طرف بڑھی ہی تھی کہ احان نے اس کو اپنی طرف کیھچا اور وہ سیدھی احان کے سینے سے الگئی

احان کے اس کا چہرہ اوپر کیا اور اس کے ہونٹوں پر جھکا کمرے میں کچھ دیر محبت بھری خاموشی رہی احان نے حور کو۔ نرمی سے خود سے الگ کیا بہت پیاری لگ رہی ہو جلدی سے باہر او میں انتظارا کر رہا ہو

احان نے حور کے کان میں سرگوشی کی اور اس کے کان کی لو چومتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ حور حیرات سے اس کو جاتا دیکھ رہی تھی
💖💖💖

احان بہت دیر تک باہر انتظارا کرتا رہا لیکن حور باہر نہیں آئی تو وہ دوبارا حور کے کمرے کی طرف بڑھا احان نے درواذہ کھولا تو حور گم سم سی کھڑی تھی وہاں جہاں وہ چھوڑ کر گیا تھا اس کے پاس بوا تھی احان دیکھوں حور کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے نہ کچھ بول رہی تھی اور تو اور چہرہ کا زنگ کیسا لال ہو رہا ہے بوا پریشان سی بولی ان کی بات پر احان اپنی مسکراہٹ چھپا گیا

بوا آپ پریشان نہیں ہو آپ گاڑھی میں بیٹھے میں اس کو لے کر آتا ہوں نے کہا تو بوا سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی احان نے بیڈ سے حور کا دوپٹہ اٹھیا اور حور کے پاس ایا دوپٹہ اس کے سر پر دیا احان کو اپنے پاس دیکھا کر حور ہوش کی دنیا میں ائی اور دو قدم پیچھے ہوئی اس کی حرکت پر احان مسکرایا اور اس کی طرف بڑھا حور پیچھے جاتی جا رہی تھی

پھر دیوار سے لگ گئی احان اس کے قریب ایا اور اپنے دونوں ہاتھوں دیوار پر رکھ کر راستہ بند کیا اس کی حرکت پر حور میں سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لی اس کی حرکت پر احان کے عنابی لب مسکرائے حور تم تو ابھی سے ڈدر

گئی میری شدت کیسے برداشت کرو گئی احان نے کہا اس کی بات سن کر حور لال ہو گئی اس کا دل بہت زور سے ڈرھکا پلیز جانے دے حور نے بے آواز کہا اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا احان کو اس کی حالت پر ترس ایا اور اس کو تنگ کرنے کا ارادہ ترک کیا ٹھیک ہے پہلے خود کو ری ریلکس شاباش احان نے کہا اور اس کے ماتھے پر لب رکھے حور نے گہرا سانس لیا اور اپنی بند آنکھیں کھولی

گاڑھی ریحان کی گھر اکر روکی حور احان اور بوا تینوں گاڑھی سے اتارے مہندی کا فنشن گھر پر ہی تھا

تم نے میری شادی پر بھی مہمانوں کی طرح آنا تھا تو لعنت ہے ہماری دوستی پر ریحان نے کہا جو سٹیج سے اترتے احان کے پاس ایا تھا ریحان کب سے احان کو فون کر رہا تھا

اس کی بات پر احان مسکرایا یار حور کی وجہ سے دیر ہوئی ہے میں تو وقت پر تیار ہو گیا تھا احان نے کہا اس کی بات پر حور کی اس کو گھورا بھابھی کیا حال ہے آپ کا ریحان نے احان کو اگنور کرتے ہوے حور سے اس کا حال پوچھا

میں ٹھیک ہوں بھائ حور نے مسکراتے ہوے کہا چلے میں آپ کو اپنی ہونے والی سے ملوتا ہوں ریحان نے کہا اور حور کو لے کر وہاں سے چلا گیا

بھابھی رابعہ ہے میری مسز اور رابعہ یہ حور بھابھی ہے ریحان نے کہا اسلام بھابھی رابعہ نے مسکراتے ہوے کہا و علیکم اسلام کیسی ہوں حور نے پوچھا کیونکہ وہ حور کی ہم عمر ہی تھی

رابعہ ریحان کی کزن تھی ریحان رابعہ سے محبت کرتا تھا دو سال پہلے ریحان اور رابعہ کا نکاح ہوا تھا اور رخصتی اب ہو رہی تھی

حور کو رابعہ بہت پسند آئی کچھ دیر میں رسم حنا شروع ہوئی یار کیوں بیویوں کی طرح ناراض ہے احان نے ریحان سے کہا جو منہ پھیلے بیٹھا تھا

اس کی بات پر ریحان نے اس کو گھورا اچھا سوری غلطی ہو گئی آج تیرا دن ہے انجوئے کر یار احان نے ایک اور کوشش کی یہ غلطی جو آج ہوئی ہے کل نہیں ہونی چاہیے ورنہ ساری زندگی معاف نہیں کرو گا ریحان نے کہا اوکے میری جان اب مسکرا دے احان نے کہا تو ریحان ہنس دیا ریحان کبھی احان سے زیادہ دیر ناراض نہیں ہو سکتا تھا اس ہی بات کا فائدہ احان اٹھتا تھا

بھابھی ائے آپ بھی رسم کرے ریحان نے حور سے کہا جو ایک سائیڈ پر کھڑی تھی حور نے سر ہلاتی ہوئی اگے بڑھی حور بیٹی روکو احان کہاں ہے اس کے ساتھ رسم کرنا یہ ریحان کی امی ( ذکریہ بیگم )نے کہا تھا حور نے ایک بار سارے لان میں دیکھا تو احان اس کو کہی نظر نہیں آیا امی احان تو کیسی کام سے باہر گیا ہے بھابھی آپ ائے رسم کرے ریحان نے کہا حور مسکراتی ہوئی رابعہ کی طرف بڑھی

ہمارا ذکر ہوا ہر افسانہ تو
کیا ہوا اگر دیر ہو گئی آنا میں

احان نے کہا تو سب نے ہونٹگ کی احان حور کے پاس ایا اور پھر دونوں نے رسم کی اب احان رابعہ سے اس کا حال پوچھا رہا تھا اور حور سیٹنچ سے اتری اور آخر پر ایک خالی ٹیبل کی طرف بڑھی یہاں آفیس کے کچھ لوگوں بھی موجود تھے حور ان سے بھی ملی تھی اب تو سب کو پتہ چل گیا تھا کہ حور احان کی مسز ہے

حور کرسی کھیچ کر بیٹھ گئی اپنے پرس سے فون نکالا اور اس میں مصروف ہو گئی احان بھابھی آج اتنی چپ چپ کیوں ہے ریحان نے حور کی طرف دیکھا کر احان سے پوچھا تو احان کے چہرے پر مسکراہٹ اگئی

تمہاری بھابھی کو آج شاک لگا ہے احان نے معنی خیز بات کی کیا. مطلب ریحان نے حیران ہوتے ہوے پوچھا احان کی بات اس کے سر سے گزاری تھی کچھ نہیں احان نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوے کہا. اور وہاں سے چلا گیا

حور کو اپنے اوپر مسلسل کیسی کی نظریں محسوس ہو رہی تھی وہ جانتی تھی کہ احان اس کو دیکھا رہا ہے لیکن پھر بھی انجان بنی خود کو فون میں مصروف کرنے کی کوشش کر رہی تھی

لیکن اس کا ذہین اور ہی کہی تھی آج جو گھر میں ہوا احان کا اس کے قریب. آنا احان کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا اور بھی بہت سی سوچے اس کے ذہین میں سوار تھی

کچھ دیر تک سوچتی رہی پھر گہرا سانس لے کر خود کو ریلکس کیا حور نے سوچ لیا تھا اب وہ احان کے سامنے اس طرح بی ہیو کرے گئی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہو اور فون میں مصروف ہو گئی کھانا کیوں نہیں کھا رہی ہوں احان نے کہا جو ابھی اس کے پاس ایا تھا بھوک نہیں ہے حور نے احان کی آنکھوں میں دیکھا کر کہا اور پھر سے فون میں مصروف ہو گئی

احان ویٹر کو اشارہ کیا کچھ دیر میں وہ کھانا لے کر ایا اتنی دیر وہ بس حور کو دیکھتا رہا جو مغرورنہ اندز میں فون استعمال کر رہی تھی احان نے ایک پلیٹ بنائی اور ایک نیوالا حور کے منہ کے قریب لے کر گیا حور جو فون میں مصروف تھی لیکن اس کی ایک ایک

حرکت نوٹ کر رہی تھی حور جلدی منہ کھولو بہت مزہ کا کھانا ہے احان نہیں کرے حور نے منہ بناتے ہوے کہا تو احان نے اس کو گھورا تو حور منہ بناتی ہوئی اس کے ہاتھ سے کھانے لگئی

بھابھی کیسی لگئی تمہیں احان نے رابعہ کے بارے میں پوچھا بالکل آپ کے جیسی حور نے کہا کیا مطلب احان نے پوچھا مطلب رابعہ سنیجدہ مزج کی ہے اور کم گو بھی مجھے لگا تھا بھائ ریحان اپنے جیسی کیسی لڑکی سے شادی کرے گئے

مطلب باتونی لڑکی سے حور نے کہا تو احان حیران ہوا اتنی جلدی اس کو پتہ بھی چل گیا کہ رابعہ کیسی لڑکی ہے واہ مسز آپ تو بہت ذہین ہو احان نے کہا تو حور مسکرائ دی واپسی پر بہت ٹائم ہو گیا تھا سو حور گاڑھی میں ہی سو گئی تھی احان نے اس کو اپنی باہوں میں اٹھیا اور اس کے کمرے کی طرف بڑھا

💖💖💖

آج بارات تھی وہ دونوں ابھی گھر آئے تھے حور اپنے روم میں جانے والی تھی جب احان نے اس کو روکا حور مجھے تم سے بات کرنی ہے احان نے کہا جی بولے حور نے کہا تو احان نے حور کا ہاتھ پکڑا اور اس کو لے کر اپنے روم کی طرف بڑھا حور بھی بغیر کیسی مزاحمت سے اس کے ساتھ چل پڑی

احان نے اپنے روم کا درواذہ کھولا اور اس کو لے کر اندر ایا اور حور کو بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا حور خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئی اور کمرے کو دیکھنے لگئی آج پہلی بار وہ احان کے روم میں آئی تھی بچین میں وہ اکثر اس کے روم میں اتی تھی

احان کا روم ویسا ہی تھا اس کے روم میں کچھ نہیں بدلا تھا لیکن اب وقت بدل گیا تھا حالات بدل گئے تھے وہ بچین گزار گیا تھا وہ شرارت وہ مسکراہٹ وہ رونا سب کہی کھود گیا تھا حانی آپ کو یاد ہے یہ جگہ حور نے بیڈ کے ساتھ خالی جگہ پر اشارہ کیا

تو احان مسکرایا ہاں یاد ہے یہاں تم گری تھی اور تمہارا سر سے خون بھی نکلا تھا میں بہت ڈدر گیا تھا حور احان نے کہا اور پھر میں نے انکل آنٹی اور بابا سے آپ شکایت کی تھی حور نے ماضی کو یاد کرتے ہوے کہا ہاں جھوٹی شکایت میں نے تمہیں دھکا نہیں دیا تھا حور احان نے سنجیدگئی سے کہا

جانتی ہوں حور نے کہا اور چپ ہو گئی کچھ دیر ان کے درمیان خاموشی رہی پھر احان نے بات کا آغار گیا حور میں چاہتا ہوں اب رخصتی ہو جاے جبکہ حور کو لگا کہ اس روم کی چھت اس پر گرئی ہے وہ حیران پریشان نظروں احان کو دیکھنے لگئی پھر اٹھ کر وہاں سے چلی گئی احان خالی خالی نظروں سے اس کو جاتا دیکھ رہا تھا

🔥🔥🔥

حور کے جانے کے بعد احان کھڑکی کے پاس ایا اور آسمان پر دیکھنے کر کچھ سوچنے لگا بہت وقت گزار گیا پھر اچانک اس کے کمرے کا درواذہ کھولا تو وہ چونکا اندر انے والی حور تھی وہ چلتی ہوئی بیڈ تک ائی اور اس پر بیٹھ گئی احان نے ایک بار اس کو دیکھا جو فریش سی لان کی سوٹ میں بیڈ پر بیٹھی تھی اور پھر کھڑکی کے باہر آسمان کو دیکھنے لگا

بہت وقت گزار احان انتظارا کر رہا تھا کہ وہ. بات کرے گئی لیکن وہ چپ رہی کمرے میں مکمل خاموشی تھی جیسے طوفان سے پہلے ہوتی ہے احان نے گہرا سانس لیا کھڑکی بند کی اور چلتا ہوا بیڈ کے تک ایا اس کے پاس بیٹھ گیا

حور جو اپنے ہاتھوں کو گھورا رہی تھی احان کے بیٹھنے پر ایک بار احان کو دیکھا جو اس کو دیکھا رہا تھا یا شائد اس کے بولنے کا انتظارا کر رہا تھا

جب آپ لندن جانے لگے تھے تو میں آپ کے پاس ائی تھی یاد ہے آپ کو حور نے اپنی بات کا آغار کرتے ہوے کہا تو احان نے ہاں میں سر ہلایا میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ کب واپس ائے گئے تو آپ نے کہا کبھی نہیں اس رات میں بہت روری پتہ نہیں کیوں ایک ہفتہ تک میں نے آپ کا بہت انتظارا کیا لیکن آپ نہیں ائے بابا کو پتہ چل گیا کہ میں آپ کو مس کرتی تھی

پر وہ بھی خاموش رہے آپ کے جانے کی سب سے زیادہ مجھے خوشی ہونی چاہے تھی لیکن نہیں ہوئی حور کے لہجہ میں بے بسی تھی وقت گزار گیا لیکن آپ واپس نہیں ائے میں پہلے آپ سے ناراض تھی پھر یہ ناراضی نفرت میں بدل گئی ہاں مجھے نفرت ہو گئی آپ سے آپ کی یادوں سے آپ کی باتوں سے

میں بھولا چاہتی تھی یہ سب اور یقین کرے بہت وقت لگا اور میں بھول گئی پھر ایک دن بابا نے بتایا کہ آپ واپس آریے ہے یہ خبر میرے لیے شاک سے کم نہیں تھی
💔💔💔

کیا احان اور حور کے راستوں کو کبھی منظر مل سکے گئی ؟ یا جدائی ان کے مقدر میں ائے گئی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: