Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 16

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 16

–**–**–

میں بھولا چاہتی تھی یہ سب اور یقین کرے بہت وقت لگا اور میں بھول گئی پھر ایک دن بابا نے بتایا کہ آپ واپس آریے ہے یہ خبر میرے لیے شاک سے کم نہیں تھی

میں ساری رات. نہیں سو سکی ساری رات ماضی کو یاد کرتی رہی پھر آپ پاکستان ائے کچھ دن تک بابا بھی پریشان رہے میں نے ان سے پوچھا لیکن وہ ٹال گئے مجھے کہی نہ کہی اس بات کا انداز تھا کہ وہ آپ کی وجہ سے پریشان ہے پھر اس رات بابا کی طبعیت خراب ہونا آپ کا مجھے سڑک پر ملنا

اور پھر بابا کا نکاح کے لیے کہنا مجھے اس وقت دنیا کے سب سے برے انسان آپ لگے وہ انسان جو جب بھی میری زندگی میں آتا ہے مجھے پریشان کرتا ہے لیکن نکاح کے وقت میں نے خود سے عہد کیا کہ میں اس راشتہ کو ایک موقع ضرور دو گئی

حور بات کرتے ہوے روکی احان جو اس کی بات کو غور سے سنا رہا تھا اس کے روکنے پر احان نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پرے گلاس میں پانی ڈالا اور اس کو دیا حور نے ایک ہی سانس میں پانی ختم کیا اور گلاس واپس احان کو دیا احان نے گلاس ٹیبل پر رکھا اور حور کا ہاتھ تھاما

حور نے احان کو دیکھا اور پھر سے بولنا شروع کیے پھر بابا چلے گئے حور نے ایک سکسکی لیتے ہوے کہا سب ختم ہو گیا حانی سب نہ رونے کو دل کرتا اور نہ ہنسنے کو میری ساری دنیا خالی ہو گئی آپ مجھے یہاں لے ائے آپ نے مجھے سے کہا آپ رخصتی نہیں چاہتے تب مجھے پہلی بار احساس ہوا اس نکاح کی مدت بہت کم ہے بہت جلد سب ختم ہو جاے گیا

ایک ماہ گزار گیا اس ایک ماہ میں آپ نے مجھے ہر طرح سے اس بات کا احساس دلایا کہ میں آپ کی زندگی میں زبردستی ائی ہوں آپ کی خاموشی مجھے اندر ہی اندر مار رہی تھی اب حور کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے

🔥🔥🔥

پھر اس دن آپ میرے روم میں ائے آپ نے مجھے یہ ڈبی دی حور نے ڈبی احان کے ہاتھ میں دی اور. مجھے سے کہا آپ کو یہ آپ کی ماما نے دی تھی اس دن مجھے پتہ چلا کہ راشتہ والی بات آپ بچین سے جانتے تھے میں بے خبر تھی اس راشتہ سے اگر میں آپ کے ساتھ بے روخی سے پیش اتی تو یہ نارمل بات تھی

کیونکہ میرے لیے یہ سب اچانک قبول کرنا مشکل تھا مجھے آپ پر بہت غصہ ایا حانی تین تین گھنٹے میں لان میں روتی رہی اور آپ بے حسوں کی طرح مجھے دیکھتے رہے ایک بار نہیں مجھے سے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہوں تم اب وہ روتے ہوے شکوہ کر رہی تھی

وقت کا کام ہے گزرانا تو وہ گزار آپ میرا خیال رکھنے لگئے آپ نے مجھے پر اعتماد کیا اب ہمارے درمیان خاموشی نہیں رہتی تھی میں شرارت کرتی تو آپ مسکراتے جب آپ غصہ کرتے تو میں خوش ہوتی مجھے لگا ہمارے درمیان آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو گیا ہے

لیکن آپ نے آج رخصتی کی بات کی یہ بات میرے لیے صدمہ سے کم نہیں تھی میں اٹھی اور روم سے چلی گئی آپ نے ایک بار بھی مجھے نہیں روکا مجھے سے کچھ نہیں پوچھا کیوں احان کیوں رخصتی کا کہ کے آپ کس پر احسان کر رہے ہے مجھے پر میرے مرے بابا پر یا اپنے مرے ہوے ماں باپ پر نہ چاہتے ہوے بھی وہ تلخ ہو گئی

حور نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیے میں نے کبھی اس راشتہ سے کوئی امید نہیں لگئی کبھی اس راشتہ کے بارے میں کوئی خواب نہیں دیکھا آپ ختم کر دے یہ راشتہ حور آخر ہمت کر کے بولی احان جو غور سے اس کی بات سن رہا تھا

اس کی آخری بات پر تڑپ گیا احان نے اپنی طرف حور کو کھیچا اور خود میں بھچے ہوے گرفت مضبوط کر دی 💔

حور اس حملہ کے لیے تیار نہیں تھی وہ اب اس کے حصار میں تڑپ رہی تھی احان چھوڑے مجھے احان چھوڑے ورنہ میں آپ کا سر پھار دو گئی حور نے کہا

💔💔💔

حور نے اپنے ہاتھ کا موکا بنایا اور احان کو مارنے لگئی اس کی حرکت سے احان نے اپنے گرفت اور مضبوط کر دی کچھ دیر بعد وہ ٹھک گئی تو احان کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا حانی نہ کرے چھوڑے دے مجھے حور نے روتے ہوے کہا اب حور ہار گئی وہ خود کو ٹوٹ ہوا محسوس کر رہی تھی

احان نے نرمی سے اس کو خود سے الگ کیا اور حور کے آنسو صاف کیے اتنی بدگمانی اچھی نہیں حور احان نے کہا اور اس کے ماتھے پر لب رکھے حور اس کے لمس کو محسوس کر کے تڑپ گئی

اب آپ میرے قریب بھی ائے تو میں آپ کا قتل کر دو گئی حانی حور نے سرخ آنکھوں. سے اس کو گھورتے ہوے کہا اس کی بات پر احان مسکرایا جبکہ حور کو اس کی مسکراہٹ زہر لگ رہی تھی

ٹھیک ہے میری جان رات بہت ہو گئی ہے اب سو جاو میں وعدہ کرتا ہوں صبح تمہارے ہر سوال کا جواب دو گا تمہارے تمام شکوہ دور کرو گا احان نے بہت پیار سے کہا کیوں اس وقت آپ کے پاس میرے سوالوں کے جواب نہیں ہے وہ تڑخ کر بولی

احان نے زبردستی اس کو بیڈ پر لیٹیا اور خود بھی لیٹ گیا حور سو جاوں احان نے اس کو اپنے حصار میں لیتے ہوے کہا اس کی حرکت اور بات پر حور کو اور غصہ ایا حانی چھوڑے مجھے مجھے یہاں نہیں سونا یہ رخصتی تب تک نہیں ہو گئی. جب تک مجھے میرے سوالوں کے خواب نہیں مل جاتے

حور نے کہا حور سو جاوں ورنہ میں وہ کرو گا کہ تم ساری زندگی یاد کرو گئی احان نے لہجہ میں سختی لاتے ہوے کہا حانی آپ کو مجھے پر ذرہ رحم نہیں ارہا حور نے باقاعدہ روتے ہوے کہا نہیں احان نے ایک لفظ میں جواب دیا اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلنے لگا

کچھ دیر بعد وہ سو گئی تو احان نے جھکا کر اس کے ماتھے پر لب رکھے اور کل کے بارے میں سوچنے لگا وہ حور کی بدگمانی ابھی دور کر سکتا تھا احان کے پاس اس کے پر سوال کا جواب تھا

صبح سے وہ بھاگ دور میں لگئی تھی وہ چاہتا تھا حور کچھ دیر آرام کر لے کل کے بارے میں سوچے ہوے وہ خود بھی سو گیا
🔥🔥🔥

صبح حور کی آنکھ کھولی تو خود کو کو احان کے حصار میں پایا کچھ دیر وہ احان کو دیکھتی کل رات کو یاد کر کے ایک اسود سی مسکراہٹ حور کے چہرے پر ائی حور نے وقت دیکھا کو صبح کے 9 بج رہے تھے اس کو افسوس ہوا فجر کی نماز نہ پڑھنے کا اس نے ایک بار پھر سے احان کو دیکھا

جو اب بھی سو رہا تھا کچھ دیر وہ اس کو گھورتی رہی پھر اس کے حصار سے نکلی اور کمرے سے باہر چلی گئی

کچھ وقت بعد 🌹

احان کی آنکھ کھولی اور حور کو کمرے میں نہ پاکر پریشان ہوا احان واش روم کی طرف بڑھا تو وہ خالی تھا نہیں حور تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکی احان بڑابڑیا اور کمرے سے باہر کی طرف بھاگا حور ،حور ،حور احان بھاگ کر نیچے ایا اور پاگلوں کی طرح حور کو پکارا رہا تھا
______________

اسلام و علیکم
کیسی لگئی آج کی ایپی اپنی رائے کا اظہار کرے
کیا حور کی بدگمانی دور ہو گئی ؟؟
کیا حور احان کو چھوڑ کر جاچکی ہو گئی ؟؟
کیا ان کے راستوں کو منزل ملے گئی ؟؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: