Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 17

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 17

–**–**–

احان کی آنکھ کھولی اور حور کو کمرے میں نہ پاکر پریشان ہوا احان واش روم کی طرف بڑھا تو وہ خالی تھا نہیں حور تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکی احان بڑابڑیا اور کمرے سے باہر کی طرف بھاگا حور ،حور ،حور احان بھاگ کر نیچے ایا اور پاگلوں کی طرح حور کو پکارا رہا تھا

حور جو فون پر ریحان اور رابعہ سے بات کر رہی تھی احان کی آواز پر اپنے کمرے سے باہر آئی حانی حور نے احان کو پکارا حور کی آواز سن کر وہ اپنی آنکھوں میں نمی صاف کرتا ہوے اس کے پاس ایا اور حور کو اپنے ساتھ لگیا

گرفت مضبوط کر دی حور اس کی حرکت پر حیران ہوئی حانی آپ ٹھیک ہو حور نے پوچھا اس کو اب احان کی فکر ہو رہی تھی پتہ نہیں کیوں

تم کہاں چلی گئی تھی حور میں کنتا ڈدر گیا تھا تمہیں پتہ ہے احان نے کہا اور کی آواز میں شدت تھی جنوں تھا محبت تھی فکر تھی ڈدر تھا

احان مجھے سانس نہیں ارہا چھوڑے مجھے حور نے کہا اس کی بات پر احان نے اپنی گرفت ڈھیلی کر دی لیکن اس کو آزاد نہیں کیا کچھ وقت یوں ہی گزار یہ سب کر کے آپ ثابت کیا کرنا چاہتا ہے حانی حور نے پوچھا

اس کی بات پر احان نے حور کو خود سے الگ کیا اور اس کے ہونٹوں کو قید کیا اس کی حرکت پر حور کی آنکھیں حیرات سے پھیل گئی حور نے اپنے دونوں ہاتھوں اس کے سینے پر رکھ کر اس کو پیچھے کرنے کی کوشش کی

لیکن حور کے اس حرکت پر احان کے. عمل میں اور بھی شدت آگئی حور کو لگا اب سانس نہیں ائے گا لیکن احان اس پر ترس کھانے کی موڑ میں نہیں تھا وہ اپنی اس حرکت سے حور کو احساس کرونا چاہتا تھا کہ وہ حور سے بہت محبت کرتا ہے کچھ دیر بعد احان نے اس کو خود سے الگ کیا اور گہرا سانس لیا حور آنکھیں بند کیے اپنی سانس بحال کر رہی تھی اس کے چہرے پر حیا کے رنگ تھے احان نے اگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر لب رکھے

تیار ہوجاو ہم ریحان کی طرف جارہے ہے احان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا اس کے جانے کے بعد حور نے اپنی بند آنکھیں کھولی اور اب وہ اس جگہ کو گھور رہی تھی جہاں احان تھوڑی دیر پہلے کھڑا تھا

وہ اس وقت رابعہ کے ساتھ پالر میں موجود تھی آج ریحان کا ولیمے تھا بھابھی اب آپ بھی تیار ہو جاے رابعہ نے کہا حور نے ہاں میں سر ہلایا اور پالر والی سے کہا مجھے اتنا زیادہ میک آپ نہیں کرنا سب کچھ نارمل رکھنا

کچھ دیر بعد اس کے موبائل پر احان کی کال ائی اس نے اپنے انے کی اطلاع دی حور نے اچھا کہ کر فون بند کر دیا احان جو باہر کھڑا ان کا انتظارا کر رہا حور کو آتے دیکھا کر کھود گیا پاوں تک اتی نیلا رنگ کی فراک سر پر اچھے سے دوپٹہ لیے خوبصوت سے میک آپ

ہاتھوں میں چوڑیاں کانوں میں جمھکے ایک ہاتھ میں پرس پکڑے جبکہ دوسرے ہاتھ سے رابعہ کا لہنگا پکڑے اس کو نیچے اتارنے میں مدر کر رہی تھی حانی چلے حور نے اس کے پاس اکر کہا تو ہوش میں ایا ہاں چلو احان نے مسکراتے ہوے کہا اور پھر گاڑھی سٹارٹ کر دی

صبح کے بعد اس کے اور حور کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی سارا وقت احان کی نظریں حور پر رھی جبکہ حور کا دل کر رہا تھا اس انسان کا سر پھاڑ دے یا اس کی آنکھوں کا کچھ کر دے لیکن سوائے صبر کے وہ کیا کر سکتی تھی

🔥🔥🔥

وہ دونوں ابھی گھر واپس ائے تھے تقریبا رات کے ۱۱ بج رہے تھے حور اپنے روم میں جانے لگئی تھی تو احان نے اس کا ہاتھ تھام کر روکا کہاں احان نے پوچھا چینج کرنے حور نے سامنے دیکھتے ہوے کہا ابھی نہیں کرو احان نے بہت پیار مان سے کہا لیکن بہت الجھن ہو رہی ہے حور نے اب اس کو دیکھتے ہوے کہا پلیز احان نے ایک اور کوشش کی اس بار بس حور نے گہرا سانس لیا

کیوں میں ہر بار اس انسان کی بات مانتی ہوں حور نے خود سے سوال کیا جس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا یا وہ خود کو دینا نہیں چاہتی تھی احان اس کو لے کر روم میں ایا حور نے اس کے کمرے میں آکر اپنے جمھکے اتارے پھر چوڑیاں اور پھر روش روم میں گئی اچھے سے منہ دھو کر واپس آئی

اب وہ اپنے دوپٹہ کو پینوں سے آزاد کر رہی تھی جبکہ احان اس کی ساری کاروری دیکھ رہا تھا احان نے اپنا کوٹ اتارا اور الماری میں رکھا اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی اور ریلکس ہو کر صوفہ پر لیٹنے کے اندر میں بیٹھ گیا حور نے دوپٹہ سر سے اتر کر کندھے پر لیا اب وہ بھی کچھ حدر تک ریلکس ہوئی

حانی ہم صبح بات کرے گئے حور نے کہا اور بیڈ پر لیٹ گئی وہ جانتی تھی کہ احان اس کو اپنے روم میں جانے نہیں دے گیا احان صوفہ سے اٹھا اور بیڈ پر ایا اس کے پاس بیٹھ کر اس کے اوپر جھکا حانی وہ اس کی حرکت پر پریشان ہوئی اس سے پہلے اور کچھ کہتی احان نے اس کی بات کاٹی ششش مجھے سنوں اور محسوس کرو

ماما. پاپا کے جانے کے بعد میں ٹوٹ گیا وہ 15 سال کا لڑکا بہت رویا یہ دنیا اس کو جھوٹی لگئی ہر راشتہ اس کو دھکا لگا میں نے انکل ( طاہر صاحب) سے کہا مجھے پاکستان نہیں رہنا لندن جانا ہے اپنی ماسی کے پاس کچھ دیر انکل مجھے دیکھتے رہے پھر میرا ماتھا چوما اور مجھے اجازت دے دی

میں بھاگنا چاہتا تھا تم سے اس راشتہ سے پھر اس دن تم ائی مجھے سے ملنے میرے لیے یہ بات حیرانکوں تھی اور اس سے زیادہ تمہارا سوال کہ. میں کب واپس او گا میں نے تم سے سچ کہا تھا حور میں کبھی پاکستان نہیں آنا چاہتا تھا اور میں چلا گیا کبھی نہ انے کے لیے

پھر ایک دن انکل کا فون ایا ہم نے بہت سی باتیں کی پھر انہوں نے کہا ان کو میری ضرورت ہے پاپا کے بزس کو میری ضرورت ہے اور تو اور وہ بہت بیمار ہے اور بھی بہت سی باتیں انہوں نے مجھے سے کی اور آخر پر مجھے واپس انے کا کہا ایک منٹ کے لیے میرا دماغ سن ہوگیا ان کی باتوں سے

لیکن اگے منٹ میں نے پاکستان آنا کا فصیلہ کر لیا اور یہ بھی کہ میں انکل سے اس راشتہ کے بارے میں بات کرو گا کہ مجھے تم سے شادی نہیں. کرنی

میں تمہیں کبھی نہیں بھولا حور ہر رات تمہیں یاد کر کے سوتا لیکن میں تم سے شادی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا حور تم سے کیا میں کیسی بھی لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا میں میں خود کو تنہائی کی سزا دینا چاہتا تھا وہ سزا جو قدرت نے میرے لیے چنی تھی مجھے سے میرے ماں باپ چیھن کر

میں پاکستان آیا انکل کی نظروں کو سمجھ کر اگنور کرنا لگا پھر ایک رات ان کا فون ایا انکل نے مجھے گھر انے کا کہا میں نے بھی ہامی بھر لی لیکن مجھے میں انکار کرنے کی ہمت نہیں تھی کیسے ایک باپ سے کہتا کہ میں اس کی بیٹی سے شادی نہیں کرنا چاہتا

وہ بیٹی وہ بچین سے میرے نام سے بیٹھی ہے وہ بیٹی جو بچین سے مجھے پسند تھی وہ بیٹی جس کی حرکت یاد کر کے میرے لب آج بھی مسکراتے تھے

یہ ہی. سب سوچے مجھے پاگل کر رہی تھی پھر میں نے گاڑھی کی چابی لی گھر سے نکل گیا میں آج پھر بھاگنا چاہتا تھا یہاں سے لیکن راستہ میں تم ملی اور انکل کو بے ہوش دیکھا کر میں ڈدر گیا ایک باپ تو دنیا سے چلا گیا دوسرے کو گھونے کی ہمت مجھے میں نہیں تھی اس ایک پل میں نے بہت سی دعاوں کی انکل کے لیے

اب احان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے حور جو اس کو روتا دیکھ رہی تھی اٹھ کر بیٹھی اور اس کو اپنے ساتھ لگیا دونوں مل کر روے بہت

کچھ دیر بعد احان نے اپنے آنسو صاف کیے اور حور سے الگ ہوا اس کے آنسو صاف کیے اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا خود کو کنٹرول کرتا ہوا پھر سے اپنی بات کا آغار کیا پھر انکل چلے گئے حور میں بہت ڈدر گیا اس 15 سال کے لڑکے سے بھی زیادہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگا میرے پاس کوئی نہیں میرا اپنا رہا کوئی مجھے غلظ صیح بتانے والا نہیں رہا اگر ریحان نہ ہوتا تو میں مر چوکا ہوتا حور تم مجھے سے ایک ماہ کا حساب مانگتی ہو حور وہ ایک ماہ میں نے کیسے گزار ہے حور میں ہی جانتا ہوں

تمہاری پریشانی آفیس کی پریشانی انکل کے جانے سے سارے بزس کی ذمہ دای مجھے پر ائی میں ساری رات سوتا نہیں تھا حور اوپر سے ریحان بھی یہاں موجود نہیں تھا سارا دن تمہیں سوچ کر گزارتا لیکن تم سے بات کرنے سے ڈدرتا کہی بچین کی طرح تم مجھے سے اپنی نفرت کا اظہار نہ کرو

پھر ریحان واپس ایا اس نے مجھے سے کہا مجھے ایک کوشش کرنی اس راشتہ کے لیے مجھے اس کی بات درست لگئی زیادہ سے زیادہ تم مجھے سے کہوں گئی کہ تمہیں یہ نکاح قبول نہیں ہے تم آزادی چاہتی ہوں یقین کرو حور تم مجھے سے ایک بار کہتی میں تمہیں آزاد کر دیتے

لیکن تم نے مجھے سے ایسا کچھ نہیں کہا حور پھر مجھے تم سے محبت ہو گئی حور ہاں محبت. ہو گئی مجھے اب اس کی لہجہ میں بے بسی تھی

کل تم سے رخصتی کی بات کی تم اٹھ کر چلی گئی کمرے سے مجھے افسوس ہوا لیکن میں آج رات تمہیں اپنے روم میں لانے کا ارادہ رکھتا تھا مجھے فراق نہیں پڑھتا تھا حور تم یہ رخصتی چاہتی ہو یا نہیں تم مجھے سے محبت کرتی ہو یا نہیں کیونکہ میری محبت ہم دونوں کے لیے کافی تھی اس کے الفاظ میں اب جنوں تھا شدت تھی مان تھا محبت تھی حور کو اس کے الفاظ اپنے اندر تک اتارتے محسوس ہو رہے تھے وہ تکتکی بندھے اس کو دیکھ رہی تھی

وہ محبت کا اظہار کرتا حور کو اپنے دل کے پاس محسوس ہوا حور کے اس طرح دیکھنا پر احان مسکرایا اور اگے بڑھ کر اس کی دونوں آنکھیں چوم لی اس کی حرکت پر حور. سپٹپا گئی

لیکن تم واپس آئی تم نے مجھے سے اپنی سوچ شیئر کی مجھے وہ سب اچھا لگا لیکن تم بدگمان تھی اس پر افسوس بھی ہوا حور کچھ ہوا اس میں نہ تمہاری کوئی غلطی تھی نہ میری شائد وہ وقت غلط تھا لیکن پھر بھی میری کیسی بات یا عمل سے تم ہڑٹ ہوی ہو تو میں معافی مانگتا ہو تم سے کیا اپنے حانی کو معاف کرو گئی احان نے پوچھا

تو حور نے نفی میں سر ہلایا اور اپنے سر اس کے سینے پر رکھ دیا حانی آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے غلطی میری بھی تھی مجھے اتنا تلخ نہیں ہونا چاھے تھا حور نے کہا تو احان مسکرایا اور اس کے سر پر اپنے لب رکھے

کیسی لگئی آج کی ایپی مجھے تو بہت ایموشنل لگئی اپنی رائے کا اظہار ضرور کرے گا اور دعاوں میں یاد رکھیے گا آپ کی رائٹر ہاشمی ہاشمی💞

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: