Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 18

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 18

–**–**–

بہت وقت ایسے ہی گزار حور کل ولیمے ہے ہمارے حور اس بات پر کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئی ولیمے وہ بھی کل اور آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں حور نے اس کو گھورا کہا یار سرپرائز دینا چاہتا تھا میں تمہیں احان نے مسکراتے ہوے کہا لیکن حانی کل میں نے ابھی کوئی تیاری نہیں کی حور اب پریشان ہوئی یار میں ہوں نہ ساری تیاری مکمل ہے بس تمہیں کل اچھے سے تیار ہونا ہے میرے لیے ان ہاتھوں پر میرے نام کی مہندی لگونے ہے احان نے اس کے دونوں ہاتھوں پر بوسہ دیتے ہوے کہا تو حور شرمائی

اس ہی وقت احان کا فون بجا شائد اس نے الارم لگیا تھا لیکن کیوں حور حیران سی اس کو دیکھا رہی تھی احان نے الارم بند کیا چلو حور میرے ساتھ احان نے بیڈ سے اٹھتے ہوے کہا کہاں حور نے پوچھا لیکن احان نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا اور اس کو لیے کر گھر کی بیک سائیڈ پر ایا

اگے کا منظر دیکھ کر حیران ہوئی پول سائیڈ کو بہت سارے پھولوں اور چھوٹی بڑی لائٹوں سے بہت اچھی سجایا گیا تھا درمیان میں ایک ٹیبل پر کیک پڑا تھا
Happy birthday my love
احان نے سرگوشی کی تو حور نم آنکھوں سے مسکرائی آپ کو یاد تھا حانی آنکھوں میں چاہت لے کر اس نے سوال کیا تو احان نے ہاں میں سر ہلایا یہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتا یہ دن میری زندگی کے اچھے دنوں میں سے ایک ہے چلو اب کیک کاٹوں احان نے کہا

احان نے حور کا ہاتھ تھام کر اس کو ٹیبل تک لایا پھر حور نے کیک کاٹا اور ایک ٹکرا احان کی طرف بڑھا اس سے پہلے احان منہ کھولتا حور اس کے چہرے پر کیک لگا چوکی تھی احان منہ کھولے اس کو دیکھا رہا تھا جبکہ حور کا زندگی سے بھرپور قہقہا فضا میں بلند ہوا اب حور اگے اگے اور احان اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا
💖💖💖
ایک سال بعد 🌹

یہ صبح کا وقت تھا سورج کی کچھ کرنوں نے آسمان کو کچھ روشن کیا تھا سردیوں شروع ہونے والی تھی ابھی بھی آسمان پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی وہ سڑک پر بھاگ رہا تھا اس کے ذہین میں بہت سی سوچے سورا تھی سوچتے ہوے وہ گھر سے کافی دور اگیا تھا پھر اپنی سوچوں کی نفی کرتے ہوے احان نے گھر کی راہ لی

وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کی نظر لان پر گئی اس کی زندگی ہمیشہ کی طرح لان میں موجود نہیں تھی احان حیران ہوتا ہوا گھر کے اندر بڑھا

احان نے اپنے. کمرے کا درواذہ کھولا تو سامنے بیڈ پر اس کی زندگی سو رہی تھی اس کو سوتا دیکھ کر وہ اور بھی حیران ہوا کیونکہ حور فجر کی نماز باقاعدہ پڑھتی تھی جبکہ وہ آج اب تک سو رہی تھی احان نے الماری سے اپنا سوٹ نکلا اور فریش ہونے چلا گیا

کچھ دیر بعد وہ واپس ایا تو وہ ابھی بھی سو رہی تھی احان چلتا ہوا بیڈ تک ایا اور اس کے پاس بیٹھ گیا چندا اٹھ جاو آفیس نہیں جانا کیا احان نے اس کو اٹھتے ہوے کہا حور اٹھ جاو یار تمہیں پتہ ہے نہ آج کتنی اہم میٹنگ ہے اس کی بات پر حور نے منی منی آنکھیں کھول کر احان کو دیکھا اور اٹھ کر احان کے سینے پر اپنا سر رکھا

اس. کی حرکت پر احان مسکرایا اور دل میں سب خیر کی دعا کی زیادہ تک حور کو اس پر اتنا پیار اس وقت کرتا تھا جب اس نے کوئی الٹی سیدھی شرارت کی ہوتی تھی یا اپنی کوئی بات مانونی ہوتی تھی جانم کیا بات ہے احان نے اس کے. کندھے پر بوسہ دیتے ہوے کہا

حانی مجھے نہیں جانا آفیس آج حور نے اس طرح کہا جیسے کوئی بچا سکول نہ جانے کی بات کرتا ہے کیوں نہیں جانا اور گھر رہ کر کیا کرو گئی احان نے حیران ہوتے ہوے پوچھا کیونکہ حور نے پہلی بار اس طرح نہ جانے کی بات کی تھی اور تو اور بوا بھی ایک ماہ کے لیے پشاور گئی ہوئی تھی اپنی بیٹی کے پاس

حانی مجھے سونا ہے بہت زیادہ حور کی اب نیند میں ڈوبی ہوئی آواز ائی احان کو اس پر ترس ایا بوا کے چلے جانے سے گھر کی ساری ذمہ دای اس پر آگئی تھی اور آج کل آفیس میں. بھی دو نئے پروجیک پر کام ہو رہا تھا ٹھیک ہے یار سو جاو احان نے اس کو لیٹے ہوے کہا اور وہاں سے جانے لگا حانی ناشتہ حور نے فکر سے کہا آفیس میں کچھ کھا لو گا احان نے کہا اور خدا حافظ کہتا وہاں سے چلا گیا

حور صوفہ پر بیٹھ کر فلم دیکھنے میں مصروف تھی جب احان گھر میں داخل ہوا وہ چلا ہوا اس کے پاس ایا اور صوفہ پر بیٹھ گیا احان نے بہت غور سے حور کو دیکھا جو دنیا کا ہوش بھولے فلم دیکھنے میں مصروف تھی کیونکہ یہ سیلمان خان کی مووی تھی ایک سیلمان خان کی مووی ہو اور حور ہو پھر دنیا جاے بھار میں حور کو فرق نہیں پرتا تھا احان نے اس کو دیکھا کر افسوس ہی کیا اور وہ کر بھی کیا سکتا تھا

احان نے اپنا سر حور کے کندھے پر رکھا تو حور کے منہ سے چیخ نکلی یا اللہ حانی آپ نے تو مجھے ڈدر دیا حور نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا

تو تمہیں کس نے کہا تھا اتنی مگن ہو کر مووی دیکھوں کہ دنیا کا ہوش نہ رہے احان نے اس کے ہاتھ سے چیپس کی پلیٹ لیتے ہوے کہا

حور اٹھ کر کچن میں چلی گئی احان اس کو جاتا دیکھ کر مسکرایا کچھ دیر تک واپس آئی اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی اس نے پانی کا گلاس احان کو دیا

کافی اور چیز سینڈوچ ٹیبل پر رکھے اتنی جلدی اگے آج آپ میٹنگ کیسی تھی حور نے اس کے پاس بیٹھے ہوے پوچھا اچھی تھی اور تمہارا بغیر آفیس میں میرا دل نہیں لگ رہا تھا اس لیے جلد اگیا احان نے اب کافی کا کپ اٹھتے ہوے

اور آفیس میں اس کون موجود ہے حور نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوے پوچھا ریحان ایک لفظ میں جواب ایا شرم تو نہیں اتی آپ کو اس وقت رابعہ کو بھائ کی ضرورت ہے اور ان کو گھر بیھجنے کی بجائے آپ خود گھر اگئے حور نے گھورتے ہوئے کہا کیونکہ رابعہ کا آخری مہینہ چل رہا تھا

یار میں نے تو اس سے بہت کہا لیکن وہ نہیں مانا مجھے لگتا ہے وہ بھابھی سے محبت نہیں کرتا لیکن مجھے دیکھوں تم سے کتنی محبت کرتا ہو تم آج آفیس نہیں گئی تو میں جلدی اگیا احان نے مزہ سے کہا لیکن مجھے لگتا ہے ریحان بھائ ایک ذمہ دار انسان ہے کام کے وقت بس کام اور محبت کے وقت محبت آپ کی طرح فارغ انسان نہیں ہے حور نے طنز کرتا ہوے کہا

میری محبت تمہیں فارغ لگتی ہے حد ہے لڑکی جس دن میں نہ رہا اس دن مجھے اور میری محبت کو یاد کرو گئی احان نے برا مانتے ہوے کہا اللہ نہ کرے حانی کیسی باتیں کر رہے ہے آپ کو میری عمر بھی لگ جائے حور نے جلدی سے کہا

میں کیا کرو گا تمہاری عمر لے کر حور ہے تو احان ہے حور نہیں تو احان بھی نہیں احان نے اس کا ماتھا چومتے ہوے کہا اس کی بات پر دور کھڑی قمست نے قہقہا لگایا یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ قدرت نے ان سے کیا امتحان لینا ہے کیا وہ دونوں اس امتحان میں کامیاب ہو گئے ؟! کیا ان کی محبت ہار جائے گئی ؟ کیا ان کے راستوں کو منزل مل کر بھی جدائی ان کے مقدر میں ائے گئی ؟؟
🔥🔥🔥

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: