Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 19

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 19

–**–**–

آسمان پر گہرے بادل موجود تھے ٹھنڈی ہوا نے سردی میں مزید اضافہ کیا تھا شام کے 4 بجے رہے تھے وہ ٹھکا ہوا آفیس سے ایا حور نے ایک ہفتہ کی چھٹی لے لی تھی لائیج میں اس کو اس کی زندگی نظر نہیں ائی تو وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا روم بھی خالی تھا لیکن واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی احان نے اپنا لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھا اور اپنا کوٹ اتارا کر صوفہ پر پھکا ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی اور صوفہ پر بیٹھ کر اپنے شوز اترنے لگا

اس کی وقت. واش روم کا درواذہ کھولا اور حور باہر آئی اس کے چہرے پر پانی موجود تھا شائد منہ دھو کر ائی تھی احان نے اس کو دیکھا وہ اس کے لب مسکرائے لیکن صرف چند سینڈ کے لیے لال آنکھیں لال ناک اس لگ کے وہ روی ہو بہت حور کیا ہوا یار طبعیت ٹھیک ہے احان نے اس کے پاس اکر پوچھا

جی میں ٹھیک ہوں آپ فریش ہو جاے میں کافی بناتی ہو اوو میں بھول گئی چولہے پر سالن رکھا تھا وہ نظریں چڑاتی ہوئی اس کی سننے بغیر وہاں سے چلی گئی لیکن احان اس کی حالت پر بے چین سا اس کے پیچھے جانے لگا لیکن اس کا فون بجا احان نے دیکھا تو ریحان کی کال تھی

ہاں ریحان احان نے کال ریسو کرتے ہوے کہا لیکن ریحان نے جو بات کی ایک منٹ میں اس کا دماغ گھوما تھا اس کی آنکھوں میں سرخی ائی شائد ضبط کی آخری حد پر تھا آج کے بعد میری بیوی تمہارے گھر نہیں ائے گئی احان نے کہا اور کال کاٹی کال بند ہوتے ہی ریحان نے گہرا سانس لیا شائد وہ حق پر ہے ریحان نے سوچ اور ایک نظر اپنی بیوی پر ڈالی جو سر جھکائے رونے میں مصروف تھی رو کیوں رہی ہو ریحان کے لہجہ میں نرمی نہیں تھی ہبی میرا یقین کرے جب امی نے بھابھی سے وہ بات کی میں روم نہیں تھی میں نے بھابھی سے معافی مانگی تھی اگر آپ کہے تو سب کے سامنے ہاتھوں جوڑ کر معافی مانگ لو گئی

رابعہ نے روتے ہوے کہا اس کی ضرورت نہیں ہے آج کے بعد بھابھی یہاں نہیں ائے گئی اب خوش ہو جاو تم ماں بیٹی نہ چاہتے ہوے بھی وہ تلخ ہو گیا یہ بھی بھول گیا کہ وہ اس کی بھی خالہ تھی ریحان ایسا ہی تھا اس کو غصہ بہت کم آتا تھا لیکن جب آتا تو ہر چیز تہس نہس کر دیتا اس کی بات پر رابعہ تڑپ گئی

ہبی ایسے تو نہیں کہے رابعہ نے کہا چپ رابی اگر ایک بھی انسو تمہاری آنکھیں سے گرا تو مجھے سے برا کوئی نہیں ہو گا ریحان نے ضبط کرتے ہوے کہا تو رابعہ نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے اب بس کمرے میں اس کی سسکیوں کی آواز تھی

ریحان کچھ دیر برداشت کرتا رہا پھر اگے بھر کر رابعہ کو بیڈ پر لیٹیا اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلنے لگا احان مجھے بھائیوں سے بھی بھر کر ہے آج جو ہوا وہ نہیں ہونا چاھے تھا ریحان نے کہا

تو رابعہ کو لگا وہ رو رہا ہے ہبی ابھی وہ کچھ اور کہتی ریحان نے اس کی بات کاٹی ششش کچھ دیر آرام کر لو ریحان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوے کہا وہ جانتا تھا اس میں رابعہ کی کوئی غلطی نہیں تھی اوپر سے اس کی طبعیت کو نظر اندز کیے وہ پہلے ہی بہت غصہ کر چوکے تھا

🔥🔥🔥

حور کچن میں کافی بنا رہی تھی جبکہ احان کچن کے درواذہ پر کھڑا اس کو بہت غور سے دیکھا رہا تھا حور جلدی سے روم میں او احان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ حور اس کی آواز پر چونکی اور پھر اس کی پشت کو دیکھی رہ گئ احان صوفہ پر بیٹھیا خود کو ریلکس کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب حور اندر ائی حانی آپ نے چینج نہیں کیا ابھی تک کیا ہوا طبعیت ٹھیک ہے حور نے ٹیبل پر ٹرے رکھتے ہوے کہا تو احان نے نفی میں سر ہلایا اور اس کو اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا تو حور بھی صوفہ پر بیٹھ گئی

احان نے اس کا سر اپنے سینے سے لگیا اور ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈالا بہت ٹھک گیا ہوں میں آج بہت کام تھا آفیس میں لائیچ کرنے کا بھی ٹائم نہیں ملا اب سر میں درد ہے احان نے کہا اور کافی کا کپ ہونٹوں سے لگیا اوو میڈیسن دو آپ کو سوری حانی آج میں نے کچھ نہیں بنایا حور نے شرمندہ ہوتے ہوے کہا

کوئی بات نہیں چندا یہ کافی بہت ہے تم میرے پاس بیٹھوں یہ ہی میری دوا ہے احان نے پیار سے کہا حور اس کے کپ کو غور سے دیکھا رہی تھی آج میری زندگی نے سارا دن کیا کیا احان نے کچھ دیر بعد پوچھا آپ. کے جانے کے بعد میں نے کھیر بنائی اور پھر رابعہ کی طرف چلی گئی حانی کھیر رابعہ کو بہت پسند آئی وہ تو میری فین ہو گئی تھی

حور نے کہا اووو تو میرے لیے کھیر ہے احان نے پوچھا نہیں اگر آپ نے کھانی ہے تو میں کل بنادو گئی حور نے کہا بہت دیر ان کے درمیان خاموشی رہی احان آنکھیں بند کیے حور کے بولنے کا منتظر تھا حانی آج جب میں رابعہ کی طرف گئی تو آنٹی ائی ہوئی تھی حور نے بات کا آغار کرتے ہوے کہا حور کی یہ بات احان کو. بہت اچھی لگتی تھی وہ کوئی بھی بات دل میں نہیں رکھتی تھی ہر بات احان سے شئیر کر لیتی تھی

اچھا احان نے مصنوئ حیرات سے کہا حانی آنٹی نے کہا مجھے کچھ دن رابعہ سے دور رہنا چاہے کیونکہ ہمارے ہاں ایسی کوئی بات نہیں ہے حور نے روتے ہوے کہا اور احان نے قرب سے آنکھیں بند کی حور کچھ لوگوں ایسے ہوتے ہیں جن کی سوچ جاہل ہوتی ہے پتہ ہے کیوں کیونکہ ان لوگوں میں تعلیم کی کمی ہوتے ہیں شعور کی کم ہوتی ہیں دین کی کمی ہوتی ہیں ایسی جاہل سوچ رہنے والے لوگوں اپنی زندگی اور آخرت برباد کرتے ہیں میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا حور لوگوں کی باتیں کو دل میں رکھوں گئی تو تم کمزور ہو جاو گئی احان نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوے کہا

میں جانتی ہوں آنٹی نے غلط کہا لیکن مجھے میرا بی بے چاہے حانی حور نے روتے ہوے کہا پہلے تو احان اس کی بات پر حیران ہوا بی بے تو وہ ایسے مانگ رہی تھی کہ وہ کوئی دوکان سے ملتا ہے پھر اس نے قہقہا لگایا اس کے ہنسنے پر حور نے اس کو دیکھا جو اس کو دیکھ رہا تھا اس کے اس طرح دیکھنا سے حور ٹپسٹا گئی کیا ہے اس طرح کیوں. دیکھ رہے ہے حور تڑخ کر بولی

کچھ نہیں احان نے پھر سے قہقہا لگتے ہوے کہا اور اس کے گال پر لب رکھے حور اس کو گھورتی ہوئی وہاں سے اٹھی اور الماری سے اس کے لیے ایک سوٹ نکلا حانی آپ مجھے سے محبت نہیں کرتے حور نے اس کو سوٹ دیتے ہوے کہا

میرے کس عمل سے تمہیں لگا ہے کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا احان نے اس کو گھورتے ہوئے کہا بوا کو گئے ایک ماہ ہوگیا ہے آج ان کا فون ایا تھا وہ کچھ دن اور وہاں رہے گئی اس ایک ماہ میں ایک دن آپ نے نہیں کہا بیگم آج کھانا نہ بنائے ہم باہر ڈنر پر چلتے ہے حور نے کہا

تو اس میں کون سی بات ہے ہم ابھی چلتے ہے احان نے سر کھجاتے ہوے کہا مجھے نہیں جانا اب میں پیز آڈرد کر چوکی ہوں حور نے کہا اور وہاں سے چلی گئی چل احان غلطی تو تم سے ہوئی ہے اب سزا کے لیے تیار ہوجا احان نے خود سے کہا اور واش روم کی طرف بڑھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: