Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 20

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 20

–**–**–

یہ رات کا دوسرا پہر تھا سردی ہر طرف بڑھ گئی تھی آج آسمان میں گہرے بادلوں کے ساتھ چاند بھی تھا احان کے روم کی طرف او تو روم میں پر سکون خاموشی تھی جس کو فون کی بیل نے توڑا احان کی آنکھ کھولی نمبر دیکھا کر احان کے ماتھے پر بل ائے اس نے کال کاٹی اور موبائل وابریشن پر لگیا

احان کچھ سوچ رہا تھا جب اس کی نظر اس کے حصار میں سوئی اس کی زندگی پر پڑی وہ احان کے چہرے پر مسکراہٹ ائی اور بہت غور سے حور کو دیکھنے لگا

پل بھر تمہیں تو نہ سوچوں تو!
دھڑکنے ترسنے لگتی ہیں💔
تم کو جو دیکھ لوں نم آنکھیں بھی 😥
ھولے سے ہنسنے لگتی ہیں😍
دل سے دل کا یہ مل صنم💑
جو کل ہو جاے کم 💔
حالات بگڑ بھی جائیں اگر 👎
ہم دونوں بچھڑ بھی جائیں اگر 😢
یادوں کے چاند شیکارے پر 🔥
میں تم سے ملنے آوں گا

ابھی وہ حور کے دیکھا رہا تھا کہ موبائل ایک بار پھر سے روشن رہا لیکن احان نے اگنور کیا پھر ایک بار دو بار تین بار شائد کال کرنے والا بہت ڈھیٹ تھا احان نے بہت نرمی سے حور کو تکیہ پر لیٹیا اور اس کے ماتھے پر لب رکھے

شرٹ پہنتا ہوا فون لے کر روم سے باہر چلا گیا کچھ دیر تک وہ واپس ایا اور پریشان سا بیڈ پر لیٹ گیا کس کا فون تھا حور نے بند آنکھوں سے سوال. کیا احان نے چوکر اس کو دیکھا اور اس کی طرف کروٹ لی میری گرل فرینڈ کا وہ آنکھوں میں شرارت لیے بولا اووو تو یار اپنی گرل فرینڈ سے بولے آدھی رات کو چورو کی طرف فون نہ کیا کرے نیند خراب ہوتی ہے اس کی بات پر احان نے اس کو گھورا کیا تمہیں مجھے پر اتنا یقین ہے حور

ہاں خود سے بھی زیادہ حور نے کہا فرض کرو اگر میں نے کبھی تم سے بے وفائی کی تو احان نے پوچھا اس کی بات پر حور نے اپنی بند آنکھیں کھولی جس دن احان اپنی حور سے بے وفائی کرے گا

اس دن حور کا اس دنیا میں آخری دن ہو گا حور کی بات پر احان نے دل میں کچھ ہوا اس نے جلدی سے حور کو اپنی طرف کیھچا اور خود میں بیھچا گرفت مضبوط کر دی اگر تم. نے اب مرنے کی بات کی حور تو میں تمہاری جان اپنے ہاتھوں سے لو گا اور پھر خود کو بھی مار لو گا احان نے شدت سے کہا اس کی شدت اس کی جنونیت کو دیکھا کر حور اندر تک سرشار ہوئی حانی میرا سانس بند ہو جاے گا یار حور نے بغیر مزاحمت سے کہا احان نے گرفت ڈھیلی کر دی اور اس کی گردن پر لب رکھے حانی مجھے نیند. آرہی ہے حور نے اس کو پھیلتے دیکھ کر کہا یہ آج کل تمہیں نیند کچھ زیادہ نہیں آرہی ہے احان نے اس کو گھورتے ہوئے پوچھا

زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے سو جائے آپ بھی حور نے کہا اور کروٹ لی ٹھیک ہے آج سو جاو کل تمہیں بتاو گا کہ فری ہونا کیا ہوتا ہے احان نے. کہا اور اس کو اپنے حصار میں لے کر سونے کی کوشش کرنے لگا

🔥🔥🔥

صبح کا آغار ہوا سورج کی کرنوں نے زمیں کو چھوا اور اپنی روشنی سے زمیں روشن کی لیکن آسمان پر کہی کہی بادل بھی موجود ہے ٹھنڈی ہوا سرد موسم کا پتہ دے رہی تھی احان تیار ہو کر گھر سے نکلا تو حور بھی گھر کے کاموں میں لگئی کچھ دیر بعد اس کا فون بجا حور نے فون دیکھا تو

اننوں نمبر سے مسیج ایا تھا حور میں احان اس جگہ جلدی پیھچوں تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے مسیج پڑھ کر حور ٹھٹکی تھی احان گھر سے گیا تھا اس نے ایسی کوئی بات نہیں کی اور احان کا میسج اننوں نمبر سے کیوں ایا حور نے جلدی سے احان کو کال کی

لیکن نمبر بند تھا پھر حور نے اس اننوں نمبر پر کال کی تو یہ بھی بند تھا بہت دیر حور سوچتی رہی پھر جانا کا فصیلہ کیا

یہ لاہور کا سب سے مشہور ہوٹل تھا جس کے ایک کمرے کا درواذہ کھول کر احان اندر ایا

سامنے ایک خوبصوت سی لڑکی تیار سی بیڈ پر بیٹھی تھی تو اس کو اندر اتے دیکھ کر مسکرائ اور اٹھ کر اس کے پاس ائی اس کے گلے لگئی حانو میں نے تمہیں بہت مس کیا احان نے اس کو. خود سے الگ کیا تمہیں جو بات کرنی ہے کرو کچھ دیر میں میری ایک اہم میٹنگ ہے مجھے آفیس جانا ہے احان نے کہا اور صوفہ پر بیٹھ گیا

اففف حانوں تم آج بھی نہیں بدلے ممی سے تمہاری شادی کا پتہ چلا اچھا اور ماسی کو کس نے بتایا احان نے مصنوئ حیرات ہے پوچھا ممی کو آنٹی خیر چھوڑ جس نے بھی بتایا اس نے بری حوبصورتی سے بات بدلی حانوں تمہیں وہ دن یاد ہے وہ لندن کی شامئیں وہ تمہارا میرا خیال رکھنا حانوں میں ابھی تم سے بہت محبت کرتی ہوں

میں جانتی ہوں تم نے یہ شادی اپنا اس انکل کے کہنے پر کی ہے تم اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتے ہو تم مجھے سے محبت کرتے ہو اس لڑکی نے کہا اور احان کے سینے پر سر رکھا احان نے نرمی سے اس کو خود سے الگ کیا اور اس کا ہاتھ تھام کر بولا میں خود لندن کے وہ دن نہیں بھولا

صیح کہا تم نے یہ شادی میں نے انکل کے کہنے پر کی ہے میں حور سے آج بھی محبت نہیں کر پایا احان نے کہا تو وہ مسکرائی

جبکہ باہر کھڑی حور کو لگا اب سانس نہیں ائے گا حور ابھی ہوٹل ائی تھی نیچے موجود لڑکی نے اس کو بتایا یہ کمرے مسز احان کے نام بک ہے اور مسز احان پیچھے تین دن سے یہاں موجود ہے ایک پل کے لیے اس کا دماغ گھوما تھا اور اب اندر احان اور اس لڑکی کو دیکھا کر ان کی باتیں سن کر اس کی آنکھوں میں آنسو اگئے پھر وہ وہاں سے چلی گئی

یہ ہی سب سنا چاہتی ہو نہ تم احان نے کہا اور پھر ایک تھپر اس کے منہ پر مارا تھپر لگنے سے وہ صوفہ سے اچھل کر زمیں پر جاگرئی شاک سی احان کو دیکھنے لگئی احان صوفہ سے اٹھا اور اس کو زمیں سے اٹھیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: