Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 22

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 22

–**–**–

احان کیا ہوا ہے ریحان نے پوچھا حور، ہپستال ،اکیسڈنٹ ، یہ تین الفاظ احان کے منہ سے بہت مشکل ادا ہوے تھے کیا ؟؟ ریحان نے ایک بار احان کو غور سے دیکھا جو کہ سکتے میں تھا احان چل میرے ہپستال جانا ہے احان چل ریحان نے اس کا بازو کھچتے ہوئے کہا لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلا ہی نہیں احان تو مجھے سن رہا ہے ریحان نے ایک تھپر احان کے منہ پر مارا تو احان ہوش کی دنیا میں ایا ریحان حور میری حور اس سے اگے اس سے بولا نہیں گیا اس کی حالت پر ریحان کے دل میں کچھ ہوا کچھ نہیں ہو گا بھابھی کو سچ احان نے پوچھا تو ریحان نے ہاں میں سر ہلایا

💔💔 💔

وہ دونوں اس وقت ہپستال کے راستے میں تھے احان کے سامنے حور کا ہنستا مسکراتا چہرے تھا

لمبیاں جدایاں حصہ ساڈے ائیاں
رب وے محبتاں کیوں تو بنیاں
تیرے راستوں سے دور
تیرے رابطوں سے دور
مجھے ہو جانے دے آج
خود سے تو دور💔

ہپستال کے باہر بھی ان کو عمران نظر آیا تو وہ دونوں بھاگ کر اس کے پاس ائے سر چلے اس طرف عمران پریشان سا بولا اور ان کو لے کر ایمرجیسی روم کی طرف ایا

ڈاکٹر ان کے پاس ایا اپ کیا لگتے ہے مرض کے ڈاکٹر نے پوچھا یہ بھابھی کے شوہر ہے جواب ریحان کی طرف سے ایا سوری سر ہم آپ کے بچے کو نہیں بچا سکے ڈاکٹر نے کہا
مجھے میرا بے بی چاہے ،،،،
دور کہی حور کی آواز اس کے کانوں میں پڑی اس نے اور حور نے کنتی دعاوں کی تھی اس دن کے لیے احان نے قرب سے آنکھیں بند کی سرجری کرنی ہو گئی آپ ان پیپر پر سائن کر دے ڈاکٹر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا

احان خالی خالی نظروں سے پیپز کو دیکھا رہا تھا جبکہ پاس کھڑے ریحان کی آنکھ نم تھی جلدی سے اس نے اپنی آنکھیں صاف کی یار سائن کر اس کی بات سن کر احان نے ریحان کو خود میں بھچا وہ ٹھیک ہو جاے گئی

کچھ گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر آیا سرجری کامیاب ہوئی ہے لیکن ان کے ہوش میں آنے تک کچھ کہا جا نہیں سکتا آپ بس دعا کرے کیا میں مل سکتا ہوں احان نے پوچھا ٹھیک ہے کچھ دیر تک ہم انہے روم میں شیفٹ کرتے ہے پھر آپ مل سکتے ہے ڈاکٹر نے کہا
🔥🔥🔥

احان روم ایا تو اس کی زندگی دنیا جہاں سے بے خبر بے ہوش تھی احان چلتا ہوا اس کے بیڈ تک ایا کاپبتے ہوے ہاتھ سے اس نے حور کا ڈرپہ والا ہاتھ تھاما کتنی دیر وہ اس کو دیکھتا رہا حور اٹھ جاو یار اپنے حانی کو تنگ نہیں کرو تمہیں پتہ ہے نہ تمہارے لیے میرا دل بہت کمزور ہے تم مجھے سے لڑلو شکوہ کرو تم مجھے سے بات بھی نہیں کرنا میں سب برداشت کرلو گا لیکن میری جان مجھے چھوڑ کر نہیں جانا حور تم سن رہی ہو نا مجھے چھوڑ کر نہیں جانا احان نے کہا اور اس کے پیٹی والے ماتھے پر بوسہ دیا

دو ہفتہ بعد 🌹

سرجری کے بعد حور کو دو دن بعد ہوش ایا ڈاکٹر بہت حیران تھے کیونکہ انہوں نے امید چھوڑ دی تھی ایک ہفتہ انہوں نے اور حور کو ہپستال رہا اس کے بعد حور کو گھر بیجھے دیا ان دو ہفتوں میں حور نے احان سے کوئی بات نہیں کی بات تو احان چپ چاپ اس کی. بے رخی برداشت کر رہا تھا لیکن احان نے اس کا ہر طرح سے خیال رکھا

یہ رات کا وقت تھا دیسمبر کی آخری رات آسمان پر گہرے بادل موجود تھے ٹھنڈی ہوا نے سردی میں اضافہ کر دیا تھا کچھ دیر تک ان گہرے بادلوں کی وجہ سے زمیں پر روشنی ہوئی یعنی بجلی چمکی تھی احان نے کمرے کا درواذہ کھولا اور اندر داخل ہوا

حور بیڈ پر بیٹھی فون میں مصروف تھی کچھ دیر وہ بہت غور سے حور کو دیکھتا رہا حور اکیسڈنٹ والے دن تم اس جگہ پر کیا کر رہی تھی احان نے پوچھا اس کے سوال پر حور کی فون پر چلتی انگلیاں روکی تھی بس ایک منٹ کے لیے حور مجھے میرے سوال کا جواب چاہے

لیکن دوسری طرف گہری خاموشی تھی اچھا تو تم کچھ نہیں کہوں گئی احان نے کہا اس کی بات پر حور نے غصہ سے اپنا فون کیھچ کر زمیں پر مار اور بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے جانے لگئی اگر تم اس روم سے باہر گئی تو میرا مارا ہوا منہ دیکھوں گئی احان نے کہا ایک پل کے لیے حور کے دل میں کچھ ہوا لیکن پھر اس کو اگنور کرتی ہوئی ایک قدم اگے بڑھی احان نے اس کا بازو پکڑا اور اس کو اپنے سامنے کیا اپنے پاکٹ سے گن نکالی اور اپنی کانپٹی پر رکھی حور اس کی حرکت پر شیشدہ ہوئی اس کی آنکھوں میں آنسو اگئے

اب بولو مجھے میرے سوال کا جواب دو گئی یا میں گولی چلاوے احان نے کہا احان نہیں حور بہت مشکل سے بولی میرے سوال کا جواب دو گئی یا نہیں احان نے پھر سے کہا نہیں حانی پلیز خود کو کچھ نہیں کرنا حور نے روتے ہوے کہا ہاں یا نہ ٹھیک ہے ٹھیک ہے اس کو نیچے کرے میں آپ کے ہر سوال کا جواب دو گئی

احان نے دیکھا وہ بہت بری طرح ڈدر گئی تھی اور کاپب بھی رہی تھی احان نے گہرا سانس لیا اور گن اپنی کانپٹی سے ہٹا لی پھر روتے ہوئے حور نے احان کو سب بتایا کیسی اننوں نمبر سے مسیج آنا پھر اس کا ہوٹل جانا اور کمرے کے باہر سب باتیں سننا

احان نے جلدی سے حور کو اپنے ساتھ لگیا اور اس کے ماتھے پر لب رکھے اس کو خود سے الگ کیا کیا تمہیں مجھے پر بھروسہ نہیں ہے حور احان نے پوچھا اس کی بات پر حور زمیں پر بیٹھی گئی شادی میں محبت ہو یا نہ ہو لیکن بھروسہ ہونا چاہے ورنہ راشتہ توڑ جاتا ہے مجھے آپ پر بھروسہ تھا لیکن اب نہیں ہے حور نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوے کہا احان بھی زمیں پر بیٹھ گیا

جب میں لندن گیا وہاں مجھے پتہ چلا کہ میری ایک کزن بھی ہے نورین میری ماسی کی بیٹی میں بہت کم ہی کیسی سے بات کرتا تھا اس طرح تین سال گزار ایک دن ماسی نے مجھے

اپنے روم میں بلایا اور روتے ہوے مجھے سے کہا کہ نورین ان کی کوئی بات نہیں مانتی ہے اس نے بہت سے ایسے لڑکوں سے دوستی کی جو کہ صیح نہیں ہے تم میری نورین سے دوستی کر لو اور اس کو غلط صیح کا بتاو مجھے یقین ہے وہ تمہاری بات مان لے گئی پہلے میں نے سوچا منع کر دو لیکن ماسی کے آنسو نے مجھے منع کرنے سے روک لیا اس طرح میں نے نورین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا

میں جو کہتا نورین مان لیتی اس طرح کچھ سال اور گزراے ابھی ہم یونی میں تھے ایک رات مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو سوچ کافی بنا لو میں اپنے روم سے باہر آیا تو ماسی کے روم سے آوازے آرہی رہی تھی مجھے لگا کہ ماسی اور نورین لڑ رہی ہو میں بات کو جاننے کے لیے ماسی کے روم کی طرف بڑھا تو ماسی نورین پر چیخ رہی تھی اور نورین ماسی پر ان کی باتیں سن کر مجھے حیرات کا جٹھک لگا نورین بہت جلد مجھے سے اظہار محبت کرے گئی اور پھر وہ میری جئیداد میری کمپنی اپنے اور ماسی کے نام کروا لے گئی

وہ دونوں ماں بیٹی اتنی لالچی بھی ہو سکتی ہے مجھے نہیں پتہ تھا میں چپ کر کے اپنے روم میں واپس چلا. گیا اور پھر پاکستان انکل کو فون کیا اور سب بتایا انکل بھی سن کر حیران ہوے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ماسی ہر ماہ ان سے بہت بڑی رقم لیتی ہے میرے نام پر اس بات پر میں بہت پریشان ہوا

اور راتوں رات میں نے وہ گھر چھوڑا کیسی کو بغیر بتائیں پھر ریحان کی شادی پر میں اس کی خالہ ( رابعہ کی امی ) میلا میں حیران ہوا کیونکہ آنٹی ماسی کی دوست تھی لیکن مجھے دیکھ کر آنٹی نے ایسے شو کیا کہ وہ مجھے جانتی نہیں ہے سو میں بھی چپ رہا کچھ دن پہلے مجھے نورین کا میسج ایا کہ وہ پاکستان میں ہے اور تو اور وہ تمہیں مجھے سے بدگمان کر دے گئی اور بھی بہت کچھ کہا اس نے میں بہت پریشان ہوا

میں نے پتہ کرویا تو یہ بہت بڑی گیم کھیلی جارہی تھی اس دن میں گھر پر ایا تو ریحان نے مجھے بتایا کہ آنٹی نے تمہیں رابعہ بھابھی سے دور رہنے کو کہا اور بے اولادی کا طعنہ بھی دیا یہ سب مجھے وآن کرنے کے لیے کیا گیا تھا سو میں نورین سے ملنے چلا گیا اس کو تو میں نے ڈی پوٹ کروا دیا

وہ سب تم تک پہیچ گئے تھے اس بات سے میں بے خبر تھا میں نے ریحان کہا تم کو بھابھی نے دور رہنا چاہے اس میں ہی سب کی بہتری ہے لیکن وہ پاگل بھابھی کو طلاق دینے کی بات کر گیا میں نہیں چاہتا تھا کہ اس دوستی کی وجہ سے اس کا اپنی بیوی سے راشتہ خراب ہو سو میں چپ ہو گیا احان نے کہا تو حور آنکھوں میں آنسو لیے حیرات سے اس کو دیکھا رہی تھی پھر تمہاری سرجری کے بعد میں نے پتہ کرویا کہ تم وہاں کیا کر رہی تھی میرے لیے یہ بات شاک سے کم نہیں تھی تمہیں پتہ ہے وہ نمبر کس کا تھا جس سے تمہیں مسیج ایا تھا احان نے پوچھا تو حور نے نفی میں سر ہلایا رابعہ بھابھی کا ایک بم احان نے اس کے سر پر گرایا تھا

کیا لیکن رابعہ نے ایسا کیوں کیا چلو یہ بات تو مانی جاسکتی ہے کہ آنٹی ( رابعہ کی امی ) نے اپنی دوست کی محبت میں یہ سب کیا لیکن رابعہ نے ایسا کیوں حور نے پوچھا تو احان مسکرایا غلط مسز بالکل غلط آنٹی نے اپنی دوست کی محبت میں یہ سب نہیں کیا بلکہ پیسوں کے لالچ میں. یہ سب کیا اور ان کی بیٹی بھی ان جیسی ہے نہ چاہتے بھی وہ تلخ بولا پھر ڈاکٹر نے امید چھوڑ. دی انہوں نے مجھے سے کہا کہ شائد ہی تم بچ سکوں یہ سن کر میں مر گیا حور لیکن غصہ میں ریحان کی طرف چلا گیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: