Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 23

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 23

–**–**–

کچھ دن پہلے🌹

ریحان کو احان نے زبردستی گھر جانا کو کہا کیونکہ وہ رات ہپستال میں تھا اور صبح ہوتے ہی وہ آفیس چلا گیا اور پھر آفیس سے سیدھا ہپستال ایا تھا ابھی وہ گھر آیا تھا

فریش ہوا اور لان میں ایا جہاں سب چائے پی رہے تھے اب کیسی طبعیت ہے حور کی مجھے بھی ہپستال جانا ہے پتہ نہیں احان کیسا ہو گا ذکریہ بیگم ( ریحان کی امی ) نے پوچھا امی آپ پریشان نہیں ہو بس دعا کرے جلدی بھابھی ٹھیک ہو. جاے ریحان نے پریشانی میں کہا اس ہی وقت دور سے احان آتا دیکھی دیا

کیا ملا آپ کو یہ سب کر کے احان ڈھارا احان کیا ہوا یار تو ایسے کیوں بول رہا ہے ریحان نے اس کے طرف بڑھتے ہوے کہا بس ریحان آج تو کچھ نہیں بولے گا سچ سن تیری بیوی نے اور تیری ساسس نے پیسوں کے لالچ میں میرا بچا مار ہے اور یہ دونوں قتل ہے میرے بچے کی اگر میری حور کچھ ہوا تو ریحان قسم سے یہ دونوں جیل میں سڑے گئی

اس دوستی کے راشتہ مجھے سے میرا بچا لے لیا لیکن آج میرے یہاں سے جانے کے بعد میں مر گیا تیرے لیے ریحان اور تو میرے لیے یہ دوستی ختم بس اب ہم بزس پاڑنز کے علادہ کچھ نہیں یہ دوستی مر گئی احان نے کہا اور وہاں سے یہ جا وہ جا

جبکہ ریحان کی آنکھوں میں آنسو اگئے تھے ہبی رابعہ ابھی کچھ کہتی بس ریحان نے کہا اور وہاں سے اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ ذکریہ بیگم نے ایک افسوس بھر نظر اپنی بہن اور بہو پر ڈالی اور وہ بھی چلی گئی

حال 🌹

کچھ دیر ان کے درمیان خاموشی رہی حور اس کے سینے پر مکارے مارنے لگئی احان حیران ہوا اس کی حرکت پر میری جان ہوا ہے یار آپ سب جانتے تھے میں کیوں پریشان ہو پھر بھی آپ نے مجھے سے بات نہیں کی اس بارے میں اور تو اور یہ کو ابھی آپ نے حرکت کی اپنی جان لینے لگے تھے آپ اور مجھے ڈدر بھی وہ روتے ہوے بولی سوری یار تم مجھے سے بات نہیں کر رہی تھی بس لیے اور میں نے تم سے اس لیے بات کلیر نہیں کی مجھے یہ تھا تم خود بات کرو گئی اس بارے میں

آئیندہ اگر آپ نے ایسی حرکت کی نہ تو میں اس گن سے خود آپ کی جان لو گئی وہ سوں سوں کرتی ہوئی بولی تو احان اس کے ہونٹوں پر جھکا پھر کچھ بعد وہ اس کے الگ ہوا حور اس کو گھورتے ہوئے سانس بحال کر رہی تھی تو احان نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا حانی جو ہوا اچھا نہیں ہوا لیکن اس سب میں ریحان بھائ کی غلطی نہیں تھی

جانتا ہوں لیکن اپنے بچے کو کچھ کہتے ہوئے وہ چپ ہو گیا اپنے بچے حور زیر لب بولی کیا اپنے بچے حانی بات مکمل کرے حور نے اس سے الگ ہوتے ہوے کہا

تو احان نے اس کو خود میں بھچا اور گرفت مضبوط کر دی حور کو کچھ غلط ہونے کا انداز ہوا حانی کیا اپنے بچے ؟؟؟ وہ چیخ کر بولی حور اس حادثہ میں ہم نے اپنا بچا کھو دیا احان نے قرب سے بولا تو حور کو لگا سات آسمان ایک ساتھ اس پر گرے ہے وہ اس کی باووں میں جھول گئی
🔥🔥🔥

کچھ دن بعد 🌹

یہ رات کا دوسرا پہر تھا ہر طرف خاموشی کا راج تھا آج جنوری کی آخری رات تھی احان کا فون بجا حور جو اس کے حصار میں سوئی تھی اس کی آنکھ کھولی اس نے فون پکڑا اور کال پک کی ہیلو لیکن اگے وہ بات کی گئی تو پریشان ہو گئی

حانی اٹھے ہمہیں ابھی ہپستال جانا ہے حانی حور نے کہا تو احان اٹھ گیا کیا ہوا تم ٹھیک ہو احان نے پوچھا نہیں حانی کچھ ٹھیک نہیں ہے ہمیں ابھی ہپستال جانا ہے ریحان بھائ ہپستال میں ہے حور نے کہا کیا ؟؟؟

وہ دونوں ابھی ہپستال ائے ہی تھی کہ ایمرجیسی روم کے باہر ان کو ذکریہ بیگم نظر ائی تو وہ ان کے پاس ائے آنٹی کیا ہوا ہے بھائ کو حور نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوے پوچھا احان میرے بچے کو معاف کر دو وہ مر رہا ہے احان اس بچ لو میں تمہارے اگے ہاتھ جوڑتی ہوں اس کو بچ لو ذکریہ بیگم نے روتے ہوے کہا آنٹی یہ. نہ کرے مجھے بتائے اس کو ہوا کیا ہے احان نے کہا

ھاٹ اٹیک ہوا ہے ذکریہ بیگم نے ٹوٹے ہوئے لہجہ میں کہا جبکہ احان نے قرب سے آنکھیں بند کی احان روم میں ایا بڑی ہوئی شیو آنکھوں پر گہرے ہلکے چہرے پر بلا کی سنیجدگئی کمزور کی وجہ سے وازن بھی کم تھا وہ کہی سے بھی ہنستا مسکراتا ریحان نہیں لگ رہا تھا احان کنتی دیر اس کو دیکھتا پھر اپنے الفاظ اس کو یاد ائے
آج سے میں مر گیا تیرے لیے ریحان اور تو میرے لیے ،،،،
نہیں نہیں کمنیہ انسان اٹھ سالے تو میرے ساتھ ایسا ریحان پلیز یار مجھے پر رحم کر ریحان اگر تو اب اٹھا نہیں نہ تو میں تجھے بہت مارو گا احان نے روتے ہوے کہا اتنی دیر میں حور اندر ائی حور اس کو کہوں مجھے نتگ نہیں کرے تمہاری بات سن لے گا یہ کہتا تھا تم اس کی بھابھی بہن اور ماں ہو حور یہ میری بات کا جواب نہیں دے رہا سالے اٹھ جا احان نے روتے ہوے کہا تو حور خود بھی رو پڑی

صبح 10 بجے ریحان کو ہوش ایا تو سب نے اللہ کا بہت شکر ادا کیا حور اور ذکریہ بیگم ریحان کے پاس تھی بھابھی وہ کہاں ہے ریحان نے احان کا پوچھا بھائ آپ لیے کچھ لینے گیا ہے حور نے کہا

کچھ دیر تک حور اور ریحان نے زبردستی ذکریہ بیگم کو گھر بیھج دیا اور حور بھی روم سے باہر چلی گئی ریحان بھی آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کرنے لگا جب روم کا درواذہ کھولا اور احان اندر ایا اس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا ریحان سالے اٹھ احان نے کہا تو ریحان نے آنکھیں کھولی اور احان کو دیکھا کر اس کو شاک لگا خطرہ کی بو محسوس ہوئی

احان میرے یار میں بیمار ہو کچھ خیال کر لے ریحان نے کہا اور بہت مشکل سے اٹھ کر بیٹھ اچھا خیال کو یہ کرے گا وہ بھی اچھے طریقہ سے احان نے ڈنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا

احان میری جان مجھے ھاٹ اٹیک ہوا ہے ایسی باتیں کرے گا تو مجھے ایک اور ھاٹ اٹیک اجانا ہے ریحان نے کہا

اس کی بات سن کر. احان نے ریحان کے منہ پر زور کر ٹھپر مار اگر اب کوئی بکوس کی تو مجھے سے برا کوئی نہیں ہو گا کچھ دیر ان کے درمیان خاموشی رہی کیوں کیا ایسا تم نے احان نے نم آواز سے کہا تم مجھے چھوڑ کر چلے گئے کیوں میری بات نہیں سننی رابعہ کی غلطی پر تم نے مجھے سزا سنائی کیوں وہ بھی نم آنکھوں سے بولا

غصہ میں تھا جو منہ میں ایا وہ بکوس کر دی معاف کر دے احان نے ہاتھ جوڑتے ہوے کہا تو ریحان تڑپ گیا نہیں احان نہیں کر یہ سب ریحان نے کہا تو احان بیڈ پر بیٹھ کر اس کو گلے سے لگیا تو نے مجھے تھپر مارا ریحان نے شکوہ کیا اولے میرا بچا تجھے کس نے کہا تھا بکوس کرنے کو احان نے کہا

ایک ہفتہ بعد🌹

آج ریحان کو چھٹی ملی تھی وہ سب اس وقت ریحان کے روم میں موجود تھے رابعہ نہ تو ہپستال ائی اور اب وہ گھر میں بھی موجود نہیں تھی اس بات کو حور اور احان دونوں نے نوٹ کیا تھا

ریحان بھابھی کہاں ہے وہ جو بیڈ پر لیٹ تھا اس کی بات پر چونکا لیکن پھر نارمل ہو گیا تیرے جانے کے بعد وہ بھی چلی گئی تو نے ان کو گھر سے نکل دیا احان نے شاک میں کہا میں نے کیسی سے کچھ نہیں کہا اور تیرا بچا اس کا کیا احان نے پریشان ہوتے ہوے پوچھا ایک ماہ پہلے پتہ چلا تھا کہ بیٹا ہوا ہے ریحان نے لا پرواہئی سے کہا

تو اپنے بیٹے بھی ملنے نہیں گیا اگر میں وہاں جاتا تو یہ راشتہ نہیں بچتا ریحان نے کہا ٹھیک ہے مانتا ہوں بھابھی نے غلط کیا وہ تیری بیوی ہے تیرے بچے کی ماں وہ تیرے ساتھ تو مخلص تھی احان نے ایک اور کوشش کی اس کی بات پر اس نے قہقہا لگایا مخلص ہاں مخلص تھی میرے ساتھ میرے آدھیے سے زیادہ شیئر اس نے دھوکے سے اپنے نام کرو لیا اور تو کہتا ہے مخلص تھی وہ میرے ساتھ اور یہ بات بھی اس کے جانے کے بعد مجھے پتہ چلی جبکہ احان کے ساتھ حور

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: