Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 24

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 24

–**–**–

دونوں کو شاک لگا تھا ابھی احان کچھ کہتا کہ اس کے گھر کی ملازم روم میں آئی ریحان صاحب ایک لڑکی آپ سے ملنے ائی ہے وہ کہتی ہے آپ سے ضروری بات کرنی ہے اچھا باجی آپ ان کو روم میں ہی لے ائے احان نے کہا تو ریحان نے بھی خود کو ریلکس کرنے کے لیے گہرا سانس لیا

مسڑ ریحان وہ لڑکی اندر ائی اس نے کہا جی آپ کون ریحان نے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا میں علینہ ہوں رابعہ کی وکیل وہ آپ سے طلاق چاہتی ہے ان نے سائن کر دے ہے اس لڑکی نے اپنے بیگ سے پیپز نکل کر اس کی طرف بڑھے روم میں. موجود سب پریشان ہوئے سوائے ریحان کہ وہ مسکراتا ہوا اگے بڑھا اور پیپز پر سائن کر دیے اس کو واپس کیے

مس رابعہ آپ کے بچے کو اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتی اس لیے انہوں نے بچے کی کسیڈڈی آپ کو دے دی ہے علینہ نے کہا اور روم میں ایک لڑکی بچے کو لے کر اندر ائی سب کی سانیس سینے میں اٹک گئی تھی ریحان اپنے دل پر ہاتھ رکھتا ہوا اپنے بچے کہ پاس ایا اور اس کو اپنی گود میں لیا کنتی دیر وہ اس کو تکتا رہا ماشاءاللہ تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ کیوٹ ہو ریحان نے کہا اور اس کے سرخ گال پر بوسہ دیا اس منظر کو دیکھا کر حور کی آنکھوں میں آنسو اگئے اور احان چپ ریحان کو دیکھا رہا تھا جبکہ ذکریہ بیگم روتے ہوئے روم سے باہر چلی گئی
😢😢😢

رابعہ ریحان سے محبت نہیں کرتی تھی ریحان پورے خانداں میں امیر لڑکا تھا اور وہ رابعہ کو پسند بھی کرتا تھا رابعہ بھی ریحان سے جب ملتی اچھے سے ملتی تھی پھر ایک دن ریحان نے اس سے اظہار محبت کیا رابعہ تو خوشی سے پاگل ہو گئی تھی لیکن شادی کے بعد اس کو پتہ چلا کہ کمپنی کے زیادہ شئیر احان کے نام ہے اس نے ایک پلئن بنایا کہ وہ حور کو احان سے الگ کر دے گئی اور احان حور کی یاد میں. پاگل ہو جائے گا

اس سب کے لیے اس نے نورین کی مدر لی احان نے نورین کو ڈی پورٹ کرو کر اس کے پلین ہر پانی پھیرا تھا رابعہ کو اس بات کا انداز نہیں تھا کہ حور کا اکیسڈنٹ ہو جائے گا پھر احان نے گھر اکر ان دونوں ماں بیٹی کو دھمکی دی تو رابعہ اور اس کی ماں کیسی کو بتائے بغیر راتوں رات گھر چھوڑ دیا بچے کہ پیدا ہونے کہ بعد رابعہ کو ریحان سے بھی زیادہ امیر انسان مل گیا تھا وہ اس سے بہت جلد شادی کرنے والی تھی
🔥🔥🔥

کچھ ماہ بعد 🌹

آج اتور کا دن تھا احان بیڈ پر سو رہا تھا اس کے ساتھ چھ ماہ کا ماس سویا ہوا تھا حور روم میں. ائی تو ان دونوں کو دیکھا کر مسکرائی اور دل ہی دل میں ان کی نظر اتاری

ریحان نے احان سے گزاش کی کہ جب تھا کوئی ایا کا انتظام نہیں ہو جاتا اس کا بیٹا حور بھابھی کے پاس ہی رہے گا اس طرح اس دن ماس ان دونوں کی زندگی میں ایا حانی اٹھ جائے حور نے احان کے بالوں میں. ہاتھ پھیرتے ہوے کہا یار آہستہ بولو اب یہ ابھی اٹھ جائے گا احان نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا ابھی حور کچھ کہتی درواذہ نوک ہوا اور بوا نے اندر اکر بتایا کہ ریحان ایا ہے

اسلام و علیکم بھائ کیسی طبعیت ہے اب آپ کی حور نے صوفہ پر بیٹھتے ہوے کہا بس بھابھی طبعیت کا کیا ہے کبھی اپ کبھی ڈون احان کہاں ہے ریحان نے کہا

وہ فریش ہونے گئے ہے بس آتے ہی ہو گئے اور ماس رات کو دیر کر کھیلتا رہا ہے اس لیے ابھی تک سو رہا ہے حور نے کہا تو ریحان مسکرایا پھر حور اس کو ماس کی شرارت بتانے لگئی اتنے میں احان بھی نیچے اتراتا ہوا دیکھئی دیا

آپ لوگوں بتائیں کرے میں بوا کو ناشتہ کا کہتی ہوں حور نے کہا اور وہاں سے جانے لگئی ارے بھابھی روکے مجھے آپ دونوں سے بہت ضروری بات کرنی ہے ریحان نے کہا تو حور دوبارا بیٹھ گئی

ریحان نے کچھ پیپر ان کے سامنے کیا اور پھر اپنے بات کا آغار کیا

میں چاہتا ہوں ماس کی ذمہ دای آپ دونوں لے لیا وہ آپ دونوں کا بیٹا بنے آپ دونوں اس پیپر پر سائن کر دے آج سے ماس آپ کا بیٹا ہے اتنے میں ماس کی رونے کی آواز ان کو ائی احان جلدی سے روم کی طرف گیا جبکہ حور شاک سی ریحان کو دیکھا رہی تھی

احان نے ماس کو ریحان کی گود میں دیا جو کہ اپنے بڑی بڑی آنکھوں سے ریحان کو دیکھا رہا تھا پھر مسکرایا اور ریحان کی داڑھی کیھچنے لگا اس کی حرکت پر ریحان درد سے کراہ اور اس کے دونوں گالوں پر باری باری بوسہ دیا ریحان کے اس عمل سے ماس نے اس کو گھورا اب وہ حور کی گود میں آنے کے لیا ہاتھ پاوں مار رہا تھا

ریحان. تم نے کہا جب تک کوئی انتظام نہیں ہو جاتا ماس کو حور سنمبالے گئی میں چپ رہا کیونکہ تیری طبعیت ٹھیک نہیں تھی اور ابھی اتنے چھوٹے بچے سنمبال نہیں سکتی تھی لیکن میں یہ چاہوں گا کہ تو اپنی ذمہ دای سے بھاگے اور یہ بھی نہیں کہ تو خود کو اکیلا کرے احان نے کہا تو ریحان مسکرایا

مجھے غور سے دیکھا احان کہاں سے تجھے لگتا ہے کہ میں ایک ذمہ دار باپ نہیں ہوں تو جانتا ہے کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں رہتی اور رات کو دوا لیے بغیر مجھے نیند نہیں اتی اور میں سوتا ہوں تو مجھے دنیا کا ہوش نہیں رہتا ہے میں کیسے ماس کو دیکھوں گا اور ایا کو میں اپنا بچا نہیں دو گا آج کل کا وہ دور نہیں ہے کہ بچے ملازم کے پاس رہے اور اگر تو مجھے دوسری. شادی کا مشورہ دے تو بھی میں اپنا بچا دوسری عورت کو نہیں دو گا پتہ نہیں میرے بچے کہ ساتھ کیا کرے گئی میں چاہتا ہوں بھابھی اس کو اپنے آغوش میں لے مجھے پورا بھروسہ ہے تم دونوں پر میرے بچے یہاں ایک اچھا انسان بنے گا ریحان نے کہا

احان ابھی اس کو کچھ کہتا حور بولی ٹھیک ہے بھائ

ماس پہلے بھی ہمارے بیٹا تھا ہم سائن کرنے کے لیے تیار ہے لیکن میری ایک بات آپ بھی مانے گئے حور نے کہا تو احان نے حور کو گھورا حور یہ کیا بات ہوئی ابھی وہ کچھ اور کہتا حور نے اس کی بات کاٹی حانی پلیز ہم بعد میں بات کرے گئے حور نے کہا ٹھیک ہے بھابھی میں آپ کی طرح بات مانوں گیا ریحان نے کہا ایسے نہیں بھائ وعدہ کرے حور بولی ٹھیک ہے وعدہ ریحان نے کہا اور ماس کو حور کو دیتا وہاں سے چلا گیا

یہ تم نے اچھا نہیں کیا حور وہ خود کو تنہائی کی سزا دے رہا ہے احان نے بے بسی سے کہا آپ دونوں اپنی اپنی جگہ صیح ہو آپ اپنے دوست کا سوچ رہے ہے اور بھائی اپنے بچے کا ایک باپ بن کر سوچے حانی آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا حور نے کہا حور کی بات پر احان نے ماس کو دیکھا جو حور کی گود میں اس کے دوپٹہ کے ساتھ کھیل رہا تھا احان کے دیکھنے پر وہ اب احان کے پاس انے کی کوشش کر رہا تھا احان نے اس کو اپنی گود میں لیا اور اس کا گال چوما میرا شیر تو ماس کی کھکھلایا

حور اور احان کی کہانی یہاں مکمل ہوتے ہے اور ان کی زندگی میں ماس کے انے سے وہ دونوں بھی مکمل ہو گئے ناول یہاں مکمل ہو گیا لیکن لیکن لیکن ایک سرپرائز ابھی بکی ہے سو آپ لوگوں انتظارا کرے کل یا پرسو انشاءاللہ ائے گا سو کیسی لگئی آخری قسط؟؟ دعاوں میں یاد رکھیے گا اللہ حافظ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: