Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 3

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 3

–**–**–

وہ دونوں ڈنر کر رہے تھے بابا کیا بات ہے آپ کچھ دن سے مجھے پریشان لگ رہے ہے حور نے کہا تو طاہر صاحب چوکے نہیں حور کوئی بات نہیں ہے آپ بتاو پیپر کی تیاری کیسی ہے طاہر صاحب نے بات بدلتے ہوئے کہا
بہت اچھی ہے حور نے کہا اور پھر سے کھانے میں مصروف ہو گئی
جبکہ طاہر صاحب احان کے بارے میں پھر سے سوچنے لگے
💖💖💖

وہ جب سے پاکستان آیا تھا ایک بات کے بارے میں سوچ رہا تھا اور وہ تھا انکار کرنا کیا میں انکار کر سکتا ہو ؟؟؟کیا میں یہ کر سکوں گا وہ جب جب طاہر صاحب کو دیکھتا اس کی ہمت جواب دیے جاتی لیکن پھر بھی اس کو انکار کرنا تھا وہ طاہر صاحب کی نظروں کا مطلب سمجھ کر بھی انجان بنتا وہ چاہتا تھا کہ انکل خود اس سے بات کرے ابھی وہ انہوں باتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اس کی نظر سڑک پر اکیلی لڑکی پر پڑھی اس کا گاڑھی روکنے کو دل نہیں کر رہا تھا لیکن لڑکی کے نزدیک جاتے ہی اس لڑکی نے گاڑھی روکنے کا اشارہ کیا تو مجبور اس نے گاڑھی روکی اور گاڑھی کا شسشہ نیچے کیا
_________
وہ یونی کے لیے نکلی کہ راستہ میں ہی اس کی گاڑھی خراب ہو گئی آج آخری پیپر تھا وہ جلدی سے باہر آئی گاڑھی کو دیکھا تو اس کو سمجھ نہیں آیا کہ گاڑھی کو مسلہ کیا ہو ہے اب وہ پریشان ہونے لگئی کیونکہ کچھ دیر میں پیپر شروع ہونے تھا اتنے میں سڑک پر ایک کار اتی دیکھئ دی تو حور نے اس کو ہاتھ سے روکنے کا اشارہ کیا
🔥🔥🔥
جی احان نے پوچھا
وہ میری گاڑھی خراب ہو گئی ہے کیا مجھے اقر یونی تک چھوڑ دے گئے حور نے آہستہ اور اپنی میٹھی آواز میں کہا
مجھے اپ کی یونی کا راستہ نہیں پتہ احان نے انکار کیا
حور کو غصہ تو بہت ایا لیکن پھر اس نے سوچا کہ مصیبت میں کو گدے کو بھی باپ بنایا جاتا ہے
ٹھیک ہے آپ مجھے تھوڑا آگے چھور دے میں پیدل چلی جاو گئی اگر میرا پیپر نہیں ہوتا تو میں آپ سے مدر نہیں مانگتی حور نے. کہا وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی
احان کو اس کی بات کو غور سے سن رہا تھا اس کی آخری بات پر لب بیچ گیا ٹھیک ہے احان نے ضبط کرتے ہوے کہا
حور گاڑھی میں بیٹھ گئی تو گاڑھی میں گانا چل رہا تھا

خاموشیاں احساس ہے
تمہیں محصوص ہوتی ہے کیا
بیقرا ہے بات کرنے کو کہنے
دو ان کو ذرہ خاموشیاں
خاموشیاں تیری میری خاموشیاں خاموشیاں

جبکہ حور کی برداشت جواب دے گئی پلیز آپ یہ گانا بند کرے حور نے کہا
اور احان اس کی بات پر سن چونکا یعنی وہ اس کی کار میں بیٹھ کر اس کو گانا بند کرنا کہ حکم دے رہی ہے
میڈیم آپ شائد ہے یہ. میری گاڑھی ہے اور جو میں چاھوں گا وہ ہی ہو گا
میں نے یہ تو نہیں کہا کہ یہ میری گاڑھی ہے بس مجھے یہ بکوس گانا نہیں سننا حد ہے لعنت بیجتی ہو میں اس گانے پر اس کے سننے والے پر حور نے غصہ سے کہا
جبکہ اتنی انسٹ پر احان کی گہری کالی آنکھوں سرخ ہو گئی احان نے گاڑھی روکی
نکلے گاڑھی سے باہر احان نے کہا
مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے آپ کی گاڑھی میں بیٹھنے کا حور نے کہا اور باہر نکل گئی
بدتیمز جاہل انسان بات کرنے کی تمیز نہیں ہے حور نے کہا اور سڑک پر چلنا شروع کر دیا کیونکہ یونی قریب ہی تھی
بدتیمز جاہل لڑکی بات کرنے کی تمیز نہیں ہے احان نے کہا گاڑھی آفیس کے راستہ کی طرف بڑھی

آخر کار پیپر ختم ہوے تو وہ گھر میں اکر سکون سے سوی اس کی آنکھ کھولی تو رات کے 8 بج رہے تھے حور پریشان ہوئی کہ بابا نے اس کو اٹھیا کیوں نہیں وہ فریش ہوئی وہ نیچے آئی
اسلام. و علیکم بابا حور نے طاہر صاحب سے کہا جو ٹی وی دیکھ رہے تھے و علیکم اسلام اٹھ گیا. میرا بیٹا. طاہر صاحب نے مسکراتے ہوے کہا. جی بابا آپ نے مجھے اٹھیا کیوں نہیں حور نے ان کے سینے پر سر رکھتے ہوے کہا

تو وہ مسکرا کیونکہ آپ اتنے دنوں ٹھیک سے سوی نہیں تھی تو میں نے سوچا نیند پوری کر لو اس لیے نہیں اٹھیا چلو ڈنر کرے جی بابا حور نے کہا اور وہ ڈنر کرنے لگئے
💔💔💔

حور کو نیند نہیں آرہی تھی وقت دیکھا تو رات کا ۱ بجے رہا تھا تو وہ طاہر صاحب کے روم میں آئ طاہر صاحب جو فائیل میں سر دیے ہوے تھے حور کو دیکھا کر مسکرے کیا ہوا میری گڑیا کو نیند نہیں آرہی ہے جی بابا حور نے منہ بناتے ہوے کہا یہاں او طاہر صاحب نے حور کو اپنے پاس بلایا

تو وہ چلی ہوئی ان کے پاس ائی تو طاہر صاحب نے اس کو اپنے ساتھ لگیا حور تمہیں دیکھتا ہوا تو مجھے تمہاری ماما یاد اتی ہے وہ بلکل تمہاری جیسی تھی طاہر نے کہا تو وہ مسکرای بابا مجھے اللہ سے کوئی شکوہ نہیں ہے کہ میں ماما نہیں ہے کیونکہ میرے پاس آپ ہے حور نے کہا اور طاہر صاحب کے گال پر بوسہ دیا

اس کی بات پر طاہر صاحب اندر تک سرشار ہوے حور میں نے کل احان کو گھر بلایا ہے کھانے پر لیکن کل تو مجھے میری دوست کے گھر جانا ہے حور نے کہا اس کو احان کا اپنے گھر آنا پسند نہیں ایا کیونکہ وہ ابھی اپنے بابا کا پیار شئیر نہیں کر سکتی تھی بری بات حور کل بچا گھر آئے گا اور اور تم گھر نہیں ہو گئی تو اس کو برا لگے گا طاہر صاحب نے کہا

تو میں کیا کرو حور نے جل کر کہا تو وہ مسکرا بس تم کل گھر میں رہنا ٹھیک ہے بابا حور نے ہار مانتے ہوے کہا بابا آپ کو اتنا پسینہ کیوں ارہا ہے حور نے طاہر صاحب کو دیکھتا ہوے کہا گرمی ہے نا اس لیے انہوں نے بات کو ٹالا پھر اب ان کے سینے میں درد زیادہ ہونے لگا تو انہوں نے اپنے سینے پر ہاتھ پھیرا

بابا مجھے آپ کی طعبیت ٹھیک نہیں لگ رہی چلے ہپستال حور نے دڈرتے ہوے کہا لیکن اس وقت ہمت سے کام لینا تھا سو اس نے گاڑھی نکلی جو کہ دپہر کو ٹھیک ہو کر گھر آگئی تھی
________

رات کو طاہر انکل کا فون ایا تھا وہ گھر انے کو کہا رہے تھے سو اس کے ہامی بھر لی جانے کی بہت دیر وہ اس بارے میں سوچتا رہا کیا وہ وقت آگیا جس سے وہ دڈرتا تھا ؟؟ اس نے خود سے سوال کیا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: