Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 4

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 4

–**–**–

اچانک اس کو گھٹن محسوس ہونے لگئی تو وہ گاڑھی کی چابی لے کر گھر سے باہر نکلا بہت وقت تک وہ بے مقصد سڑکوں پر گومتا رہا دماغ میں بہت سی سوچے تھی دل کچھ کہتا دماغ کچھ اس کو سکون کہی میصر نہیں تھا اچانک اس کی نظر سڑک کے درمیان ایک وجود پر پڑی اندھیر کی وجہ سے وہ اس وجود کو دیکھا نہیں سکا لیکن صبح والا واقع اس کو ابھی بھی یاد تھا

اس لیے اس کا گاڑھی روکنے کا کوئی رادہ نہیں تھا اس نے گاڑھی کی سپیڈ تیز کر دی لیکن وہ وجود گاڑھی کے اگے ایا تو اس کو بریک لگانی پڑی اور وہ غصہ سے باہر آیا تمہارا دماغ خراب ہے ابھی گاڑھی کے نیچے اجاتے تو احان نے غصہ سے کہا لیکن پھر اس کی نظر صبح والی لڑکی پر پڑی تو وہ بولا تم پلیز میری مدر کرے میرے بابا کی طعبیت خراب ہے ان کو ہپستال لے کر جانا ہے حور نے اس کی بات کو نظراندرذ کرتے ہوے کہا پھر سے نہیں احان نے آسمان کی طرف دیکھا کر کہا لیکن پھر خراب گاڑھی کی طرف بڑھا اندر طاہر صاحب کو بے ہوش دیکھا کر اس کو شاک لگا انکل وہ جلدی سے ان کے پاس ایا

💔💔💔

حور اپنے بابا کو ہپستال لے کر جا رہی تھی کہ اچانک پھر سے گاڑھی خراب ہو گئی اور طاہر صاحب جو اپنے سینے پر ہاتھ پھیر رہے تھے اچانک ان کی آنکھوں بند ہونا شروع ہو گئی تو بابا آپ کو. کچھ نہیں ہو گا حور نے کہا اور گاڑھی سے باہر آئی اس ہی وقت اس کی نظر احان کی گاڑھی پر پڑی کچھ سوچے بغیر وہ گاڑھی کے سامنے آگئی

احان نے طاہر صاحب کو گاڑھی میں بیٹھیا اور گاڑھی ہپستال کے راستہ کی طرف بڑھی بابا پلیز آنکھیں کھولے آپ کو کچھ نہیں ہو حور نے کہا اور رونا شروع کر دیا احان اس کو روتا دیکھا کر اور پریشان ہوا حور پلیز کچھ نہیں ہو گا انکل کو احان پتا نہیں اس کو یا خود کو حوصلہ دے رہا تھا

💔💔💔

حور ہپستال کے ایمرجیسی روم کے باہر کھڑی اپنے بابا کے لیے دعا مانگ رہی تھی کافی وقت گزار گیا نہ ہی ڈاکٹر باہر آیا اور نہ ہی کوئی نرس حور کیا ضرورت تھی اس وقت اکیلے گھر سے نکلے کی مجھے فون کر دیتی احان نے اس کو کہا احان کو یہ بات پریشان کر رہی تھی کہ اگر وہ اس وقت وہاں نہیں اتا تو جبکہ نور حیران اس اجنبی کو دیکھنے لگئی جو کہ اس کا نام بھی جانتا تھا

میرے پاس آپ کا نمبر نہیں ہے اور مجھے نہیں پتا آپ بابا کو کیسے جانتے ہے حور نے کہا ابھی احان اس کو کچھ کہتا کہ نرس بھاگ کر باہر آئی آپ یہ انجکشن لے آے جلدی سے نرس نے کہا تو احان انجکیشن لینے چلا گیا

کچھ دیر تک ڈاکٹر باہر آیا ھاٹ اٹیک ہو ہے حالت بہت خراب ہے آپ بس دعا کرے ڈاکٹر نے کہا اور چلا گیا جبکہ. حور خالی خالی نظروں سے اس کو جاتا دیکھ رہی تھی صبح فجر کے وقت نرس نے کہا کہ ان کو ہوش اگیا ہے وہ حور سے کچھ بات کرنا چاہتے ہے

حور اور احان دونوں ہی اندر روم میں گئے حور کو اپنے بابا کو دیکھا کر کچھ ہوا بابا حور نے کہا اور ان کا ہاتھ تھام کر رونے لگئ حور میری جان چپ میں ٹھیک ہو طاہر صاحب بولے انکل آپ نے تو ڈدر دیا تھا احان نے کہا تو طاہر صاحب احان کو دیکھا کر چونکے احان تم یہاں کیسے طاہر صاحب نے پوچھا ان کی بات پر حور بھی چونکی کیونکہ اس کو ابھی تک یہ نہیں پتا تھا کہ یہ احان ہے تو احان نے ان کو بتایا کہ کیسے وہ ان کو لے کر ہپستال ایا تھا

احان بیٹا اپنی امانت لے لو اب میں بوڑھا ہو گیا ہو طاہر صاحب نے کہا انکل آپ ری ریلکس رہے ہم بعد میں اس بارے میں بات کرتے ہے احان نے کہا بس وہ اس ٹاپک سے بچنا چاہتا تھا نہیں احان میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں تم ابھی نکاح خوں کو بلاوں ابھی یہ نکاح ہو گا جبکہ حور اپنے بابا کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی بابا یہ کس کی نکاح کی بات ہو رہی ہے

حور میری جان تمہیں اپنے بابا پر بھروسہ ہے طاہر. صاحب بولے جی بابا حور نے جواب دیا تو پھر ابھی تمہارا اور احان کا نکاح ہے طاہر صاحب نے کہا تو حور کو لگ اب سانس نہیں ائے گا روم میں اچانک ایک خاموشی چھاگئی طاہر صاحب کو یہ خاموشی سے دڈر لگ رہا تھا حور احان میرے سامنے موت کھڑی ہے فصیلہ تم دونوں کا ہے کہ میں خوشی خوشی اس دنیا سے جاتا ہو یا یہ غم لے کر کے میرے بعد میرے بچے اس دنیا میں اکیلے رہے گئے طاہر صاحب نے کہا تو وہ دونوں تڑپ اٹھے بابا پلیز ایسی باتیں نہیں کرے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے حور نے کہا اور ان کے سینے پر سر رکھا

جبکہ احان نے ایک بارا اس بوڑھے باپ کو دیکھا جو ان دونوں کی فکر میں تھا پھر ایک بار اس لڑکی کو دیکھا جو اپنے باپ کے سینے پر سر رکھا کر رو رہی تھی ٹھیک ہے انکل میں نکاح خوں کو لے کر آتا ہوں احان نے فصیلہ کرتے ہوے کہا اور وہاں سے چلا گیا تو طاہر صاحب نم آنکھوں سے مسکرائے

🔥🔥🔥🔥

جب حور پیدا ہوئی تھی تو مسز اعجاز (احان کی ماما) نے یہ راشتہ طے کیا تھا اس نسب کے بارے میں سب جانتے تھے سوائے حور کے طاہر صاحب یہ جانتے تھے کہ حور احان کو پسند نہیں کرتی لیکن جب سے احان پاکستان آیا تھا طاہر صاحب کو احان کی سوچ پڑھ کر افسوس ہوا جو کہ حور سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا وجہ وہ اکیلے زندگی گزارنا چاہتا تھا لیکن وہ بھی طاہر صاحب تھے ان دونوں کے باپ جانتے تھے کہ دونوں کو راذی کیسے کرنا ہے

❤❤❤

یا اللہ تو جانتا ہے کہ میں اس شخص کو پسند نہیں کرتی لیکن پھر بھی میں آج دل سے یہ نکاح قبول کرتی ہو اور اپنی پوری کوشش کرو گئی اس شادی کو نہبنے کی حور نے دل میں کہا اور کاپب ہاتھوں کے ساتھ سائن کیا

یا اللہ تو جانتا ہے میری زندگی میں کوئی لڑکی نہیں ہے اور نہ ہی میں کیسی لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا لیکن میں یہ نکاح ساری زندگی نہبھو گا احان نے کہا اور نکاح نامہ پر سائن کیے

جبکہ طاہر صاحب کیا اعجاز صاحب اور ان کی مسز کی روحائیں بھی خوش تھی اپنے بچوں کے نکاح پر

آج ان کے راستے ایک ہو گئے تھے لیکن کیا ان کے راستوں کو منظر ملے گئی یا یہ منظر سے پہلے جدا ہو جائے گیا
🔥🔥🔥

یہ عصر کا وقت تھا حور اپنے بابا کے پاس بیٹھی تھی جبکہ طاہر صاحب سو رہے تھے اور احان روم سے باہر تھا کہ اچانک طاہر صاحب کی آنکھ کھولی تو وہ حور کو دیکھا کر مسکرائے اس کی وقت احان اندر روم میں ایا احان میرا شیر طاہر صاحب نے کہا اور اپنے پاس انے کا اشارہ کیا تو وہ چلتا ہوا ان کے پاس ایا طاہر صاحب نے احان کا ماتھا چوما اور. پھر حور کا میرا بیٹا کا خیال رکھنا حور اور احان میری بیٹی کا خیال رکھنا طاہر صاحب نے کہا اور آنکھیں بند کر لی جبکہ حور اور احان نے ایک انہونی احساس کے تحت کہا انکل بابا لیکن وہاں خاموشی تھی پر سکون خاموشی کبھی نہ بولے والی خاموشی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: