Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 5

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 5

–**–**–

کچھ وقت پہلے اپنے ہاتھوں سے اس نے پیارے انکل کو قبر میں اتار تھا وہ اس وقت بھی قبرستان میں موجود تھا سب لوگوں کے جانے کے بعد وہ ٹوٹ کر زمیں پر بیٹھ گیا اس کا ضبظ جواب دے گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اس کی سیاہ آنکھیں سرخ ہو گئی اور اس کا دل کر رہا تھا کہ چیخ چیخ کر پوری دنیا سے کہے کہ آج وہ پھر سے یتم ہو گیا ہے اس کے انکل اب دنیا میں نہیں ہے

وہ اتنے سال پاکستان میں نہیں تھا لیکن اس کی زندگی میں کوئی ایسا دن نہیں آیا اس نے طاہر صاحب سے بات نہیں کی کبھی کوئی مشکل ہوتی تو وہ ان کو فون کرتا

انکل کیسے رہوں گا آپ کے بغیر جاتے ہوے مجھے وہ طریقہ بتاتے ہوے جاتے انکل میں نے آپ کی ہر بات مانی ہے پھر کیوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے وہ 28 سال کا مرد بچوں جیسی باتیں کر رہا تھا کافی دیر وہ وہاں بیٹھ کر آنسو بہتا رہا پھر خود پر کنٹرول کرتا اپنے آنسو صاف کیا اور ہاتھ اٹھ کر دعا کرنے لگا

قبرستان سے باہر آیا تو اس کا فون بجا تو اس نے فورا کال ریسو کی پلیز واپس آجائے میں ٹوٹ گیا ہوں اس نے گاڑھی میں بیٹھتے ہو کہا اگے سے کچھ کہا گیا جس سے اس کے اندر سکون پیدا ہوا یا شائد صبر اگیا تھا اس کو

🔥🔥🔥

احان بھائی ،،،،
وہ اس وقت گھر میں داخل ہوا تو کیسی نے اس کو پیچھے سے پکارا وہ موڑ تو وہاں ایک لڑکی تھی جو چلتی ہوئی اس کے پاس ائی
جی احان نے کہا
میں پریشے حور کی دوست مجھے آپ سے بات کرنی ہے پریشے نے کہا

جی کہے احان نے کہا
حور نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا تھا بہت مشکل سے میں نے اس کو ٹھیور سا کھالا ہے میں نے اس کو میڈیسن دے دی ہے اب وہ سو رہی ہے مجھے اب گھر جانا ہے یہ میرا نمبر اگر رات کو ضرورت پڑی تو مجھے فون کرے گا میں اجاوے گئی پری نے کہا

کیونکہ وہ دو دن سے حور کے پاس تھی اب اس کو گھر جانا تھا

بہت شکریہ آپ کا احان نے اس سے نمبر لیتے ہو کہا تو وہ مسکرای شکریہ کی کوئی بات نہیں بس آپ میری دوست کا خیال رکھے گا پری نے کہا اور وہاں سے چلی گئی احان نے ہاں میں سر ہلایا اور ایک نظر حور کے کمرے کے بند درواذ کو دیکھا اور افسوس سے سر ہلاتا دوسرے روم کی طرف بڑھا

وہ دو دن سے طاہر صاحب کے گھر میں تھا گھر میں لوگوں کا بہت آنا جانا تھا اس لیے اس کو وقت نہیں ملا نہ ہی وہ آفیس گیا اور نہ ہی حور سے ملا

🔥🔥🔥

حور اپنے کمرے میں بیٹھی تھی اب تو آنسو بھی خشک ہو گئے تھے یا آنکھیں بہنے سے انکار کر رہی تھی بس ذاہین میں ایک ہی سوچ تھی کہ اس کے بابا
دنیا میں نہیں ہے کاش یہ سب جھوٹ ہوتا

وہ ابھی بھی کچھ سوچ رہی تھی جب درواذ نوک ہوا لیکن چپ زمیں کو گھور رہی تھی ایک بار پھر سے دستک ہوئی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا پھر دو بار دستک ہوئی اور پھر دستک ہونا بند ہو گئی لیکن حور ویسے ہی زمیں کو گھورتی رہی

کچھ وقت بعد

شام کے سایے ہر طرف پھیل رہے تھے وہ مغرب کی نماز پڑھ کر روم سے باہر آئی اور چلتی ہوئی اپنے بابا کے کمرے کی طرف بڑھی کمرے میں آکر وہ خالی خالی نظروں سے خالی کمرے کو دیکھا رہی تھی جب اس کو احساس ہوا کہ پیچھے کوئی ہے وہ موڑی تو وہاں احان تھا

احان چلتا ہوا اس کے پاس ایا اس کو اپنے پاس اتا دیکھا کر وہ نظریں جھکا گئی میں دوپہر میں تمہیں کمرے میں ایا تھا تم نے درواذ کیوں نہیں کھولا احان نے پوچھا جواب میں وہ خاموش رہی حور اپنا سامان پیک کر لو ہمیں صبح گھر جانا ہے احان نے کہا تو حور نے سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ حیران اس کو جاتے دیکھا رہا تھا احان کو لگا وہ اعتراض کرے گئی جیسے کہ بچین میں کرتی تھی آج تک احان نے کچھ بھی کہے ہوا اور حور اس کی بات مان جائے ایسا ہو نہیں سکتا

💖💖💖

دو دونوں گھر میں داخل ہوے تو احان بولا بوا بوا تو بوا باہر آئی جی بیٹا بوا نے کہا بوا یہ حور ہے احان نے کہا تو بوا نے حور کے سر پر پیار کیا بوا حور کا کمرا تیار ہے احان نے پوچھا جی بیٹا

احان حور کو لے کر روم میں ایا تو حور روم کو دیکھا کر کنفثور ہوئی اس کو کنفثور دیکھا کر احان بولا
حور دیکھوں یہ نکاح جن حالات میں ہوا میں چاہتا ہوا رخصتی کچھ عرصہ بعد ہو جب تک تم مجھے جاننے کی کوشش کرو اور میں تمہیں

جبکہ حور کو اس کی بات پسند آئی جی ٹھیک ہے حور نے کہا جبکہ احان اس بار حور کے جھکے ہوے سر کو دیکھا اور وہاں سے چلا گیا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: