Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 6

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 6

–**–**–

ایک ماہ بعد🌹

ایک ماہ ہوگیا حور کو اس گھر میں آئے اس ایک ماہ میں حور نے ایک الفاظ بھی منہ سے نہ نکلا احان اور اس کی ملاقات ڈنر کے وقت ہوتی شروع شروع میں احان نے ایک دو بار اس کی طعبیت کا پوچھا تو حور نے کہا جی میں ٹھیک ہو اس کے علادہ دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی دونوں خاموشی سے ڈنر کرتے اور پھر حور اپنے کمرے میں بند ہو جاتی احان بوا سے پوچھتا کہ حور گھر میں کیا کرتی ہے سارا دن تو انہوں نے بتایا کہ حور سارا دن اپنے کمرے میں بند رہتی ہے اور اگر بوا اس سے بات بھی کرے تو وہ ہاں یا نہ میں جواب دیتی ہے ورنہ وہ اکثر ہی
خاموش رہی ہے

احان خود ایک سنیجدہ مزج اور کم گو انسان تھا زیادہ بات کرنا وہ پسند نہیں کرتا تھا لیکن حور زیادہ باتیں کرنی والی شرارتے کرنی والی لڑکی تھی وہ جب تک کیسی کو نتگ نہیں کرتی اس کو شائد ہی کھانا ہضم ہوتا ہو حور کی خاموشی اب احان کو پریشان کر رہی تھی لیکن پھر وہ سوچتا کہ وقت ہر زخم کی مرہم ہوتا ہے حور کو بھی کچھ وقت کی ضرورت ہے وہ وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جاے گئی

🔥🔥🔥

جس کا وہ ایک ماہ سے انتظارا کر رہا تھا وہ وقت آگیا وہ اس وقت ائیرپوٹ پر موجود تھا کچھ دیر میں ایک انسان باہر آیا وہ احان کی مسکراہٹ نے اس کا استقبال کیا اس کی نظر احان پر پڑی تو اس مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی وہ چلتا ہوا احان کے پاس ایا تو احان نے اس کو گلے سے لگیا

یار قسم سے تو ایسا خوش ہو رہا ہے جیسے میں تیری بیوی ہو ریحان نے کہا تو احان نے اس کو گھورا ریحان بکوس نہیں کر تو ریحان مسکرایا اچھا قسم سے یار میں نے تجھے بہت مس کیا ریحان نے کہا میں نے بھی چل اب گھر احان نے کہا اور اس کو گردن سے پکرا کر گاڑھی کی طرف بڑھا

احان اور ریحان بچین کے دوست تھا جب احان کے ماں باپ کے مرنے کے بعد احان لندن چلا گیا تو تین سال کے بعد ریحان بھی پڑھی کے لیے لندن چلا گیا اس طرح ان کی دوستی اور بھی گہری ہو گئی احان اپنی ہر بات ریحان سے شئیر کرتا ریحان ایک اچھا دوست کی طرح اس کی بات سنتا اس کو مشوہ دیتا احان کی زندگی ریحان کی بغیر اور ریحان کی احان کے بغیر نامکمل تھی

احان کیا بات ہے میں کافی دیر سے دیکھا رہا ہو تم کچھ پریشان لگ رہے ہوں ریحان نے پوچھا وہ دونوں اس وقت ریحان کے گھر میں تھا جبکہ احان خاموش ہی رہا دیکھا احان جو ہونا تھا وہ ہو گیا مجھے بھی دکھ ہے انکل کے جانا کہ اب تمہیں حور سے شادی کر لینی چاہے اپنی ضد چھوڑ دو وہ تمہاری منگیتر ہے ہر بار کی طرح ریحان نے اس ہر بار کی طرح کو سمجھیا کیونکہ وہ بھی چاہتا تھا کہ احان اپنی خالی زندگی میں زنگ بھرے

اس کی بات سن کر احان نے گہرا سانس لیا ریحان میرا اور حور کا نکاح ہو گیا ہے احان نے اس کے سر پر بم گرایا اور پھر ریحان کو ساری بات بتانی شروع کی جبکہ ریحان اس کو گھورا رہا تھا یار میں اس لیے تجھے کہ رہا تھا کہ جلدی واپس اجا تجھ سے ضروری بات کرنی ہے احان نے کہا احان مجھے تجھ سے یہ امید نہیں تھی ریحان نے افسوس سے سر ہلایا یار میں جانتا ہوں مجھے تمہیں بتانا چاھے تھا لیکن میں چاہتا تھا کہ تو ایک بار واپس اجاے پھر تجھے بتاوں گا احان نے کہا

تو کیا سوچ رہا ہے میں تجھ سے اس لیے ناراض ہو کہ تو نے مجھے بتایا نہیں بلکہ تو جو بھابھی کہ ساتھ کر رہا ہے مجھے بس اس بات کیا افسوس ہے ریحان نے کہا میں نے کیا کیا حور کے ساتھ احان نے حیران ہوتے ہوے پوچھا دیکھ بھائ پہلی بات جب نکاح ہو گیا تو بھابھی کو گھر لے ایا تو یہ رخصتی نہ کرنا یہ کیا بات ہوئی دوسری بات تم نے کہا کہ تو بھابھی کو جاننا چاہتا ہے لیکن تو نے اس سے ایک بار بھی بات نہیں کی یار اس لڑکی کا باپ مرا تھا وہ اب بھی صدمہ میں ہے بجاے تو اس کو اس سب سے نکلتا تو اس کا خیال رکھتا تو نے اس کو تنہاں چھوڑ دیے ریحان نے غصہ سے کہا

اس کی بات سن کر احان گہرا سانس لیا تو جانتا ہے وہ مجھے سے کنتی نفرت کرتی ہے بچین سے میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی نفرت کم ہو جائے گئی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جب انکل نے اس سے کہا کہ اس کا اور میرا نکاح ہے تو میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اس کی خاموشی مجھے سے چیخ کر کہ رہی تھی کہ “تم واپس کیوں ائے ہو تم ہمیشہ میرے لیے منحوس ثابت ہوے ہو” لیکن انکل کی بات پر وہ ان کی خواہش کو پوری کرنے کہ لیے تیار ہو گئی اور. پھر انکل کے چلے جانا پر مجھے یہ تھا کہ وہ مجھے سے. کہے گئی کہ وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی

لیکن وہ پھر بھی خاموش رہی اس لیے جب تک میں اس کی آنکھوں میں خود کے لیے کوئی احساس نہیں دیکھتا تب تک یہ رخصتی نہیں ہو گئی احان نے کہا کیا وہ اب بھی تم سے نفرت کرتی ہے ریحان نے پوچھا ابھی کا مجھے کچھ پتا نہیں اور جہاں تک یہ بات اس کی خاموشی کی تو وہ مجھے خاموش ہی اچھی لگتی ہے ورنہ وہ بولتی ہو تو کیسی کو بولنے نہ دے احان نے شرارت سے کہا

کیا مطلب ریحان نے پوچھا تجھ یاد ہے میں نے ایک لڑکی کو لیفٹ کی تھی احان نے پوچھا ہاں وہی نا جس نے تجھ پر لعنت بیجی تھی ریحان نے سوچے ہوے کہا ہاں وہ کوئی اور نہیں حور تھی احان نے کہا ooo my god ریحان کی منہ بے ساختہ نکالا چل اب ریحان ہنستے ہوے اٹھ کہاں احان نے پوچھا تیرے گھر مجھے بھابھی سے ملنا ہے ریحان نے کہا تو احان سر ہلاتا ہوا اس کے پیچھے ہو لیا

💖💖💖

حور کمرے میں بیٹھی تھی اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھا رہی تھی جب درواذ نوک ہوا اجاے حور نے کہا تو احان اندر ایا حور میرا دوست ایا ہے تم کچھ دیر کے لیے باہر اجاوں احان نے کہا اور بغیر اس کی بات سننے وہاں سے چلا گیا جبکہ حور اس کی پست کو گھورتی رہے گئی

اسلام و علیکم بھابھی کیسی ہے آپ میں ریحان احان کا دوست ریحان نے حور سے کہا جو ابھی باہر آئی تھی و علیکم اسلام حور نے آہستہ آواز میں کہا بیٹھ بھابھی ریحان نے کہا تو حور بیٹھ گئی بھابھی لگتا ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں ہے تو حور اس کی بات پر کنفثور ہو گئی اور نفی میں سر ہلایا
_________
اسلام و علیکم
کنجوس لوگوں کم سے کم مجھے بتایا تو کرو ناول کیسا ہے آپ سب کو کہانی کیسی لگئی اب اگر آپ لوگوں نے کمنٹ نہیں کیے تو پھر نہیں کہنا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: