Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 7

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 7

–**–**–

اسلام و علیکم بھابھی کیسی ہے آپ میں ریحان احان کا دوست ریحان نے حور سے کہا جو ابھی باہر آئی تھی و علیکم اسلام حور نے آہستہ آواز میں کہا بیٹھ بھابھی ریحان نے کہا تو حور بیٹھ گئی بھابھی لگتا ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں ہے تو حور اس کی بات پر کنفثور ہو گئی اور نفی میں سر ہلایا

یااللہ یہ سب سننے سے پہلے میرے کان کیوں خراب نہیں ہو گئے ریحان نے ڈرمائی اندز میں کہا تو احان مسکرایا جبکہ حور اور کنفثور ہو گئی اچھا بھابھی آپ کو اپنے عمر انکل یاد ہے ریحان نے کہا جبکہ حور اپنے یادشت پر زور دینے لگئی وہی عمر انکل جو میرے لیے چاکلیٹ لاتے تھے اور میں احان کے حصہ کی بھی لے لیتی تھی حور کے منہ سے بے ساختہ نکلا تو ریحان نے قہقہا لگایا جبکہ احان اپنی مسکراہٹ چھپا گیا اپنی بات پر حور شرمندہ ہوئی گئی جی وہی عمر انکل میں ان کا بیٹا ریحان عمر ریحان نے اس کو شرمندہ دیکھ کر کہا آنٹی کیسی ہے حور نے پوچھا امی ٹھیک ہے آج کل کراچی میں ہے اپنی بہن کے پاس

عمر صاحب اعجار صاحب کے بزس پاڑنر تھے اس طرح وہ طاہر صاحب کی بھی دوست بن گئے آپس میں ان سب کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا لیکن افسوس کے ان تینوں میں سے کوئی بھی اس دینا میں موجود نہیں تھا

پھر کہ ریحان کی نہ ختم ہونے والی بات شروع ہو گئی اس نے حور کو بتایا کہ وہ بزس کے سلسلہ میں لندن گیا تھا آج ھی واپس ایا ہے اور اس کو انکل کا سن کر افسوس ہوا ہے جبکہ حور اپنے بابا کا سن کر اداس ہو گئی

ویسا بھابھی آپ بہت پیاری ہے مجھے تو وہ لڑکی یاد ہے جو لال فراک پہن کر گھومتی تھی اس کی بات پر حور مسکرائ آج اتنے دن بعد اس کو مسکراتا دیکھا کر احان پر سکون ہوا اور ریحان کو بھی اس کی محنت کا پھل مل گیا جو اتنے وقت سے اس کو ہسنے کی کوشش میں تھا اتنا میں بوا وہاں ای کھانا لگنے کی اطلاع دی تو وہ سب اب کھانا کھا رہے تھے

بھابھی آپ کو کھانے میں کیا اچھا بنانا آتا ہے ریحان نے کھاتے ہوے پوچھا مجھے کھانا نہیں بنانا آتا حور نے جواب دیا کوئی بات نہیں آپ کے شوہر کو بہت اچھا کھانا بنانا آتا ہے یہ لندن میں خود کھانا بناتا تھا ریحان نے بتایا جبکہ حور نے اس کی بات پر منہ بنایا

مجھے میٹھا بنانا آتا ہے اور میں دنیا میں سب سے اچھا میٹھا بناتی ہوئی اور پیپز کے بعد میں ویسے ہی کھانا بنانا سیکھنے والی تھی حور نے کہا جیسے کہنا چاہتی رہی ہو وہ احان سے کم نہیں ہے وہ شروع سے ہی ایسی تھی جہاں احان کی تعریف ہوتی وہاں وہ جل جاتی تھی 😒😒

احان نے اس کی بات پر ریحان کو دیکھا جیسا کہنا چاہ رہا ہو میں نے کہا تھا نا یہ آج بھی نہیں بدلی جبکہ ریحان نے ایک بار حور کو دیکھا اور ایک بار احان کو دیکھا اور دل سے دعا کی یااللہ ان دونوں کے دلوں نے ایک دوسرے کے لیے محبت پیدا کر دے ورنہ یہ دونوں اپنی ضد میں اکر اپنی زندگی برباد کر لے گئے

ویسا بھابھی آپ نے پڑھا کیا ہے ریحان نے پوچھا میں نے بزس پڑھا ہے حور نے. جواب دیا اچھا اور اگے کیا کرنے کا ارادہ ہے ریحان نے پوچھا پہلے تو جوب کرنے کا تھا لیکن ابھی میں نے کچھ سوچا نہیں حور نے کہا اچھا ہماری کمپنی میں ویکنسز ائی ہے ایک ہفتہ تک انٹروز شروع ہوگئے اگر آپ چاہے تو اپلر کر سکتی ہے ریحان نے کہا تو حور سوچ میں پرھ گئی کیا سوچ رہی ہے بھابھی ریحان نے پوچھا میں نے ابھی کچھ سوچا نہیں بھائ حور نے ہوش کی دنیا میں آتے ہی کہا اوکے پھر اچھے سے سوچ لے

بھائ آپ چائے پیے گئے کھانے سے فارغ ہوتے ہی حور نے ریحان سے پوچھا جی بھابھی ریحان نے مسکراتے ہوے کہا اور آپ اب وہ احان سے مخاطب ہوئی وہ جو تب سے ان دونوں کی باتیں سن کر بھی انجان بنا ہوا تھا مگر میں کافی پیوں گیا احان نے کہا اور پھر سے فون میں مصروف ہو گیا جبکہ اس کے بات کرنے کے اندز سے حور دانت پیستی رہ گئی

🔥🔥🔥

اس وقت وہ دونوں ڈنر کررہے تھے جبکہ حور احان سے بات کرنے کے لیے الفاظ تلاش کر رہی تھی
کیا میں جوب کر سکتی. ہو حور نے ہمت کر کے پوچھا تو. احان کو شاک لگا اس کی بات پر یعنی وہ اجازت مانگ رہی ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے

تم ریحان سے پوچھا لو انٹروز کب سے شروع ہے احان نے کہا اور پھر کے کھانے لگ لیکن مجھے آپ سے کہنے تھا کمپنی میں کیسی کو یہ نہیں پتا لگنی چاہے کہ میں آپ کی بیوی ہو اگر انٹرو میں پاس ہو گئی تو ٹھیک ہے ورنہ میں دوسری کمپنی میں کوشش کرو گئی حور نے کہا تو احان مسکرایا اس. کو حور کی سوچ طاہر انکل جیسی لگی ٹھیک ہے اب کھانا کھاو احان نے کہا

وہ کب سے دیکھ رہا تھا حور کو جو کھا کم رہی ہے اور سوچ زیادہ رہی ہے اس کی بات پر حور نے سر ہلایا اور کھانے لگئی

🔥🔥🔥

صبح کی آزان کے وقت اس کی آنکھ کھولی وہ اٹھی اور واش روم کی طرف بڑھی وضو کر کے واپس آئی نماز ادا کی اور قران پاک کی تلاوت کی وقت دیکھا تو ابھی 6:30 ہوے تھے وہ کمرے سے باہر نکالی اور لان کی طرف ائی وہ اب آسمان کی طرف دیکھا رہی تھی

جہاں ابھی تھوڑی سا اندھیر بکی تھا یہ اندھیر اس کو اپنی زندگی میں محسوس ہو رہا تھا کچھ دیر میں کی سورج اپنی آب و تاب سے نکالا لیکن حور کی آنکھوں میں آج اداسی تھی اس کی سیاہ
آنکھیں مایوس سی اندر کی طرف بڑھی جبکہ دو آنکھیں بہت غور سے سے منظر دیکھ رہی تھی احان جو جوگنک کرتا ہوا ابھی واپس ایا تھا حور کو لان میں دیکھ کر

حیران ہوا وہی اٹھا اس کو دیکھتا رہا پھر وہ مایوس سی اندر گئی تو احان بھی اندر کی طرف بڑھا..

وہ تیار ہو کر روم سے باہر آئی تو اس کی نظر سامنے احان پر پڑی جو کہ تیار سا ناشتہ میں مصروف تھا اس کو ناشتہ کرتے دیکھ کر حور نے منہ بنایا ایک بات کا اندز حور کو اچھے سے ہو گیا تھا کہ احان کو کھانا پینے کا بہت شوق ہے حور واپس روم میں جانے کے لیے موڑی لیکن ہاے رے قمست احان کی اس پر نظر پرچکی تھی حور اجاوں ناشتہ کرو پھر چلتے ہے احان نے کہا تو حور چپ کر کے ٹیبل کے پاس ائی اور. بیٹھ گئی

حور نے گلاس میں پانی ڈالا. اور آہستہ آہستہ پینا شروع کر دیا حور نے ٹیبل پر دیکھا جہاں کھانے کی مختلف قسم کی ڈشز موجود تھی ایک بار اس نے احان کو دیکھا جو ناشتہ کر رہا تھا کوئی صبح صبح اتنا کیسے کھا سکتا ہے حور نے سوچا پھر اس کا دل خراب ہونا شروع ہو گیا تو وہ اٹھ گئی میں روم میں ہو آپ فارغ ہو جاے تو چلتے ہے حور نے کہا اور وہاں سے چل پڑی حور واپس او احان نے کہا احان کی آواز پر

حور روکی اور چلتی ہوئی اس کے پاس آئی ناشتہ کیوں نہیں کررہی احان نے پوچھا لیکن دوسری طرف خاموشی تھی میں کچھ پوچھ رہا ہو اس بار لہجہ میں نرمی نہیں تھی وہ میں ناشتہ نہیں کرتی اگر میں دو منٹ بھی یہاں روکی تو آپ کو کھاتے دیکھا کر مجھے قے اجاے گئی حور نے کہا کیا مطلب احان نے حیران ہوتے ہوے پوچھا

بچین میں ایک دو بار بابا نے مجھے ناشتہ کرونے کی کوشش کی تھی اس کی وجہ سے مجھے دو دن ہپستال رہنا پرا بابا نے ڈاکٹر سے پوچھا تو ڈاکٹر نے کہا یہ نارملی بات ہے کچھ لوگ ایسا ہوتے ہے جو ناشتہ نہیں کر سکتے میں ان میں سے ہو حور نے اس کے ماتھے کے بل دیکھ کر تفیصل بتائی تو کیا تم ناشتہ میں کچھ نہیں لیتی تھی احان نے پوچھا بس بابا زبردستی جوس پیلا دیتے تھے حور نے کہا

بوا احان. نے بوا کو آواز دی جی بیٹا بوا فورا کیچن سے باہر آئی بوا آپ فریش جوس بنا دے احان نے کہا اور حور کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ منہ بنا کر بیٹھ گئی حور انٹرو ہو جاے تو میرے روم میں اجانا میں کچھ مصروف ہو گا ریحان تمہیں گھر چھوڑ دے گا احان نے کافی پیتے ہوے کہا تو حور. نے ہاں میں سر ہلایا پھر جلدی سے جوس ختم کیا اور وہ دونوں گھر سے نکلے
🔥🔥🔥

حور اس وقت نروس ہو رہی تھی پھر اس کی باری ائی وہ خود کو حوصلہ دیتی ہوئی اندر کی طرف. بڑھی جہاں انٹرو ہو. رہا تھا حور اندر ائی تو اس کی نظر ریحان پر گئی تو وہ مسکرایا ریحان کے ساتھ ایک لڑکی تھی اور ایک لڑکا پھر سوال جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا

مس حور ہم آپ کو کال کرے گئے اب آپ جاسکتی ہے اس لڑکی نے کہا تو حور نے گہرا سانس لیا. اور وہاں سے باہر گئی کیا آپ مجھے بتا سکتی ہے احان کا روم کہاں ہے حور نے باہر اکر ایک لڑکی سے پوچھا تو اس لڑکی نے اس کو سر سے پیر تک دیکھا پھر اس کو روم کا بتایا حور کو وہ لڑکی کچھ عجیب سی لگئی

حور احان کے کمرے میں آئی تو روم خالی تھا حور غور سے روم کو دیکھا رہی تھی پھر اس کی نظر ایک تصویرو پر پری جو کہ انکل اعجاز آنٹی اور احان کی تھی وہ فوٹو کو دیکھا کر مسکرائ کبھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں احان کی بیوی بناوں

گئی حور نے گہرا سانس لیا اور کرسی پر بیٹھ گئی
کچھ وقت بعد روم میں ریحان ایا سوری بھابھی کچھ کام کی وجہ سے دیر ہو گئی ریحان نے کہا تو حور مسکرائ کوئی بات نہیں بھائ چلے گھر نہیں پہلے چائے پیتے ہے پھر چلتے ہے ریحان نے کہا نہیں بھائ میرا موڑ نہیں چلے حور نے کہا ٹھیک ہے چلے

راستہ میں ریحان نے حور سے بہت ساری باتیں کی حور کو پہلی ملاقات میں بھی پتا چل گیا تھا کہ ریحان کو بولنا بہت پسند ہے پھر ریحان نے حور کر گھر چھوڑ اور خود واپس آفیس گیا

ریحان احان کے روم نے ایا تو احان سر فائیل میں دیے ہوے تھا یار کیسی رہی میٹنگ ریحان نے پوچھا اچھی احان نے ایک لفظ میں جواب دیا احان یار بھابھی نے کیا انٹرو دیا ہے میں تو خود حیران ہو گیا تو احان مسکرایا اچھا بات ہے یہ کیا بات ہوئی اچھی بات ہے ریحان نے تپ کر کہا

تو کہا کہوں احان لاپروئ سے بولا احان تم میرے ہاتھوں سے قتل ہو جاو گے ریحان نے کہا تو احان نے قہقہا لگایا یار تو غصہ کرتے. ہوے پیارا لگتا ہے اور رہی حور کی بات تو مجھے پتا ہے اس کی ذاہینت کا یہ جوب اس کو ملے گئی احان نے فجر سے کہا تو کمینے انسان پہلے یہ بات نہیں کرسکتا تھا ریحان نے گھورتے ہوے کہا

🔥🔥🔥

وہ اس وقت ڈنر کر رہا تھا اور حور درواذ پر مسلسل دیکھا رہی تھی جیسے کیسی کا انتظارا کر رہی ہو احان جو کھانا کھا رہا تھا اور اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا لیکن بول کچھ بھی نہیں تھوڑی دیر اور گزرای تو حور مایوس ہو گئی اس ہی وقت ریحان گھر کے اندر ایا سوری سوری بھابھی میں تھوڑ لیٹ ہو گیا ریحان نے کہا اور کرسی کیھچ کر بیٹھ گیا

بھائ تھوڑ نہیں بہت لیٹ ائے ہے آپ حور نے منہ بناتے ہوے کہا تو ریحان. مسکرایا. تو یہاں کیسے احان نے پوچھا وہ مجھے بھابھی نے ڈنر پر بلایا تھا ریحان نے مسکراتے ہوے کہا پھر سب نے مل کر کھانا کھایا کھانے سے فارغ ہو کر حور کیچن میں گئی اور کھیرا کا باول کے کر واپس آئی..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: