Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 8

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 8

–**–**–

بھائ تھوڑ نہیں بہت لیٹ ائے ہے آپ حور نے منہ بناتے ہوے کہا تو ریحان. مسکرایا. تو یہاں کیسے احان نے پوچھا وہ مجھے بھابھی نے ڈنر پر بلایا تھا ریحان نے مسکراتے ہوے کہا پھر سب نے مل کر کھانا کھایا کھانے سے فارغ ہو کر حور کیچن میں گئی اور کھیرا کا باول کے کر واپس آئی

مجھے آج کمپنی سے کال آئ تھی اور یہ جوب مجھے مل گئی ہے اس ہی خوشی میں نے کھیر بنائی ہے حور نے خوش ہوتے ہوے کہا اور ان دونوں کو گھیر دی بہت بہت مبارک ہو بھابھی ریحان نے کہا دونوں کو اس بات کا پتا تھا لیکن پھر بھی اس کی بات پر وہ حیران ہوے بھابھی کھیر تو بہت مزہ کی ہے میں نے آج سے پہلے ایسی کھیر نہیں کھائی ریحان نے کھاتے ہوے کہا تو حور مسکرائ

اب ریحان احان کو آنکھیں دیکھ رہا تھا کہ وہ کچھ کہے لیکن وہ بے نیاز سا کھیر کھانے میں مصروف تھا کچھ دیر وہ احان کو گھورا ارہا لیکن دوسری طرف پرواہ کیسے تھی پھر افسوس میں سر ہلایا بھابھی یہ میں آپ کے لیے لایا. ہو آج آپ نے پہلی بار کچھ بنایا ہے اس لیے ریحان نے اس کی طرف ایک شاپر بڑھا

نہیں بھائ اس کی ضرورت نہیں تھی حور تو کنفثور ہو گئی نہیں بھابھی میں نہ نہیں سنوں گا ریحان نے کہا تو حور نے ایک بار احان کو. دیکھا جو حور کو دیکھا رہا تھا لے لو حور تم خوش نصیب ہو ریحان تمہیں گفٹ دے رہا ہے احان نے کہا تو حور نے لے لیا

تم نے ان کو مبادک بھی نہیں دی کھیر کی تعریف بھی نہیں کی اور میں نے تمہیں کہا تھا کہ بھابھی کے لیے کوئی گفٹ لانا تم وہ بھی نہیں لائے آخر تم چاھتے کیا ہوا احان اس طرح یہ راشتہ نہیں چلے گا جب تک تمہیں خود احساس نہیں ہو گا تم ان کو اس راشتہ کا احساس نہیں کرو سکتے تم نے مجھے بہت مایوس کیا ریحان نے کہا وہ دونوں اس وقت پورچ میں تھے

اس کی بات پر احان خاموش ہی رہا اس کی خاموشی پر ریحان لعنت بیجتا ہوے وہاں سے چلا گیا ریحان کو جاتا دیکھ کر احان اندر کی طرف بڑھا

کچھ دیر تک بعد🌹

حور کے کمرے کا درواذہ نوک ہوا پہلے تو وہ حیران ہوئی پھر اس نے درواذہ کھولا تو سامنے احان تھا اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی کیا میں اندر اجاو احان نے حور سے پوچھا تو حور نے اس کو راستہ دیا احان چلتا ہوا صوفہ کے پاس ایا اور اس پر بیٹھ گیا تم نے آج کھیر بنائی تو میں نے سوچا کے تمہارے لیے میں چاے بنا دو احان نے کہا ایک کپ اس کو دیا حور کو چاے کی بہت طالب ہو رہی تھی

شکریہ حور نے کپ تھامتے ہوے کہا وہ چاے جبکہ احان کافی پی رہا تھا کچھ دیر ان کے درمیان خاموشی رہی کھیر بہت اچھی بنائی تھی تم نے یہ گفٹ تمہارے لیے ماما نے مجھے دیا تھا اور کہا تھا جب تم بہو بن کر گھر میں او گئی تو میں تمہیں دو احان نے کہا اور ایک ڈبی اس کی طرف بڑھی

اس کی بات پر حور حیران ہوئی یعنی اس راشتہ کے بارے میں وہ شروع سے جانتا تھا اس کو حیران دیکھ کر وہ مسکرایا اور کمرے سے باہر چلا گیا حور کو اس کی مسکراہٹ زہر لگ رہی تھی اگر مجھے پتا ہوتا کہ میں اس کی منگیتر ہو تو میں نے بچپن میں ہی اس کو قتل کر دینا تھا پھر احان پر لعنت بیجتی ہو وہاں سے اٹھی اس نے ڈبی کو کھولے کی بھی زحمت نہیں کی اور ڈبی کو الماری میں رکھا

🔥🔥🔥

احان اپنی کمرے میں ایا اس کا دیھان حور کہ طرف تھا ریحان کہتا ہے میں نے حور کی تعریف نہیں کی اس کو مبادک نہیں دی کیونکہ مجھے پتا ہے کہ میں کچھ بھی کہنے یا نہ کہنے حور کو فرق نہیں پرتا آج پھر سے میں نے اس کی آنکھوں میں خود کے لیے

ناپسندگئی دیکھی ہے پتا نہیں اس نکاح کی مدت کنتی ہو گئی میں حور پر زبردستی نہیں کر سکتا میں خود کو اس پر مسلط نہیں کرنا چاہتا یہ ہی وجہ تھی کہ وہ حور سے سنیجدگئی سے بات کرتا تھا یا. خاموش رہ کر اس کا محسوس کرتا

نکاح میں محبت ہو یا نہیں لیکن ایک دوسرے پر اعتماد ہونا چاھے ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہے یہ راشتہ ان چیزوں کے بغیر ناممکن ہے احان نے کہا اور چلتا ہوا روم کی کھڑکی کے پاس ایا. اس کی نظر نیچے گئی تو لان میں اس کو حور نظر ائی جو ٹہل رہی تھی

ایک گھنٹہ دو ، تین گھنٹے وہ ٹہلتی رہی اور احان اس کو بہت غور سے دیکھتا رہا احان کا دل کیا کر کہ وہ نیچے جاے اور اس کو چپ کرو اس کے آنسو احان کو تکلیف دی رہے تھے لیکن پھر اس کی

بولتی نظروں نے اس کو روک لیا حور نے ایک شکوہ
بھری نظر آسمان پر ڈالی اور اپنی سیاہ آنکھوں کو صاف کیا سردی کی وجہ سے اس کی ناک سرخ ہو گئی تھی حور نے گہرا سانس لیا اور اندر کی طرف بڑھی اس کو اندر جاتے دیکھا کر احان نے شکر کا سانس لیا اور اگے کے بارے میں سوچنے لگا

💔💔💔

احان ،،،
حور نے ناشتہ کرتے ہوے احان کو مخاطب کیا تو احان چونکا اچھا لگ. اس کو کہ حور نے اس کا نام لیا ہاں احان نے کہا مجھے گھر سے گاڑھی مانگوں دے حور نے کہا کیوں احان نے پوچھا

مجھے اپنے گھر جانا ہے کچھ سامان لینے اور پھر شاپنگ پر بھی جانا ہے حور نے کہا سردی شروع ہو گئی تھی اور کل سے اس کا آفیس بھی شروع تھا اس لیے حور شاپنگ پر جانا چاہتی تھی رات کو اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ صبح احان سے بات کرے گئی

ٹھیک ہے شام میں تیار رہنا پہلے گھر چلے گئے پھر مال احان نے کہا نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے آپ بس مجھے گھر سے گاڑھی مانگوں دے میں نہیں چاہتی میری وجہ سے آپ کو تکلیف ہو حور نے کہا

دیکھوں حور تم اب میری ذمہ دای ہو اس لیے تمہیں جہاں بھی جانا ہے میرے ساتھ ہی جاو گئی احان نے بات ختم کرتے ہوے کہا پھر احان نے خدا حافظ کہا اور باہر کی طرف بڑھا جبکہ حور اس کو گھورتی رہی گئی حکم کو ایسے دیتا ہے جیسے میرا شوہر ہو حور نے کہا پھر خود کی بات کی نفی کی شوہر تو ہے حور نے خود سے کہا اور ٹیبل سے برتن اٹھنا لگئی ۔

حور تم نے جو لینا ہے لے لو میں ایک کال سن کر آتا ہوں احان نے کہا اور شاپ سے باہر چلا گیا وہ دونوں اس وقت لاہور کے سب سے بڑے مال میں موجود تھے حور کو کچھ ڈریس پسند تو ائے لیکن ان کی قیمت بہت زیادہ تھی اب حور کو غصہ ارہا تھا کہ وہ کیوں احان کے ساتھ ائی ہے اس مال میں آتے ہے حور کو اندز ہو گیا تھا یہ مال بہت مہنگا ہو گا

کاش بابا آج آپ ہوتے تو میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوتا اس ہی وقت احان واپس ایا کچھ پسند ایا احان نے پوچھا تو حور نے نفی میں سر ہلایا کوئی بات نہیں دوسری شاپ پر چلتے ہے احان نے اس کا ہاتھ تھاما اور وہاں سے چل پرھا جبکہ حور اس کی حرکت پر حیران ہوئی

حور کو یہاں بھی کچھ جوڑے پسند آئے لیکن ان کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی تھی اب حور کو اپنی بے بسی پر رونا ارہا تھا جبکہ احان اس کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہا تھا جو کوئی ڈریس دیکھتی اور پھر اس کی قیمت دیکھ کر منہ بناتی احان مجھے کچھ پسند نہیں ارہا کیا ہم گھر چلے حور نے کہا تو احان نے گہرا سانس لیا حور تم یہاں بیٹھوں احان نے کرسی کی طرف اشارہ کیا اور خود کچھ ڈریس پسند کیے ان کو پیک کرو

پھر وہ اس کو لے کر جوتوں والی شاپ پر ایا ڈریس کے ساتھ کچھ جوتے لیے اور پھر اس کو لے کر میک آپ شاپ کی طرف ایا حور جو لینا ہے جلدی لو میں نیچے گاڑھی میں ہو احان نے اپنا کاڈر اس کو دیتے ہوے کہا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ حور اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی

کچھ دیر تک حور گاڑھی کے پاس ائی تو احان فون پر کیسی سے بات کر رہا تھا حور گاڑھی میں بیٹھ گئی اب اس کا رخ ریستوران کی طرف تھا ہم یہاں کیوں ائے ہے حور نے پوچھا یہاں کیوں آتے ہے احان نے اس کے سوال پر سوال کیا تو حور اس کے جواب میں خاموش ہو گئی کچھ دیر میں ایک واٹیر ایا اس نے مینو کارڈ ایک احان کو دیا اور ایک حور کو

کارڈ دیکھ کر حور کا تو دماغ گھوم گیا حد ہے مانا کہ آپ بہت امیر ہے لیکن انسان کو اتنا فضول چرچ نہیں ہونا چاھے حور نے کہا اخر وہ کب تک چپ رہتی کیا مطلب احان نے پوچھا مطلب چلے میرے ساتھ حور کرسی سے اٹھی اور احان کا ہاتھ پکرا کر اور کو بھی اٹھیا کہاں احان نے حیران ہوتے ہوے پوچھا

حور احان کو لے کر ایک ریستوران میں ائی احان اس کو گھورا رہا تھا جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو یہ سب کیا ہے احان آپ نے دیکھا کہ اس ریستوران میں دال چاول کی کنتی مہنگے تھے توبہ ہے حور نے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لایا 😱😱

جبکہ اس کی بات پر احان مسکرایا کیا چیز ہے یہ لڑکی احان نے سوچا اتنی دیر میں ایک لڑکا ان کی ٹیبل کے پاس ایا ہوے ہیلو حور کیسی ہو لڑکے نے کہا تو حور اس کو دیکھا کر مسکرایا اچھی ہوں تم کیسے ہو میں ٹھیک انکل کا سن کر افسوس ہوا وہ بولا جبکہ حور اپنے بابا کا سن کر اداس ہوئی احان اس سے ملے یہ حمزہ ہے میرے ساتھ پڑھتے تھا اور حمزہ یہ احان ہے میرے شوہر حور نے کہا

حمزہ احان سے ملا نہیں کرو یار تم نے شادی کر لی اب میرا کیا ہو گا حمزہ نے کہا تو حور مسکرائ بکوس نہیں کرو حور نے کہا تو حمزہ مسکرایا اچھا کیا کھاوں گئی حمزہ نے پوچھا جو میں کھاتی ہو وہ لے او حور نے کہا اور احان بھائی آپ حمزہ نے اب احان سے پوچھا ان کے لیے تین چار اچھی سی ڈشز لے. او حور نے اس کے زیادہ کھانے پر چوٹ دیتے ہوے کہا 😜😜

یہ ریستوران حمزہ کے فارڈ کا تھا وہ اس کو دیکھتا تھا ٹھیک ہے آپ لوگ انجوئے کرو حمزہ نے کہا اور وہاں سے چلا گیا کچھ دیر بعد کھانا ایا کھانے سے فارغ ہو کر حور نے حمزہ کو اشارہ کیا تو وہ ان کے پاس ایا حمزہ بل لاو حور نے کہا نہیں یار شادی کے بعد تم پہلی بار ائی ہو یہ ڈنر میں طرف سے حمزہ نے کہا میں شادی کے بعد پہلی بار ائی ہو لیکن تمہاری اس بات کے بعد میں یہاں کبھی نہیں او گئی حور نے کہا

تو حمزہ مسکرایا دانت. نہیں نکالو ورنہ مجھے سے مار کھاو گئے حمزہ بل لاو حور نے کہا تو بے ساختہ حمزہ نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا😕😕 حمزہ. نے بل مانگویا بل دیکھا کر احان نے پیسہ نکلے لیکن حور نے احان سے پیسہ لیے اور خود بل ادا کیا بھائ بچ کر رہنا یہ لڑکی بہت بری طرح مارتی ہے حمزہ نے کہا تو احان مسکرایا مجھے سے بہتر کون یہ بات جانتا ہے احان کی بات پر حور شرمندہ ہو گئی 😳😳

حور گھر کب او گئی حمزہ نے پوچھا تمہاری شادی پر اب جلدی سے پری سے شادی کر لو حور نے کہا تو حمزہ نے منہ بنایا حور میں اور پری بس کزن اور اچھے دوست ہے ایک لڑکا اور ایک لڑکی کبھی دوست نہیں ہوتے حور نے مسکراتے ہوے کہا اچھا پھر میں تمہارا کیا ہوں حمزہ نے جل کر پوچھا تم میرے بھائی ہو حور نے کہا توبہ ہے لڑکی کبھی بھائ بناتی ہو تو کبھی دوست حمزہ نے کہا اچھا اب ہم چلتے ہے حور نے کہا اور حمزہ کو اللہ حافظ کہا وہاں سے چل پڑے

🔥🔥🔥

صبح وہ تیار ہو کر روم سے باہر نکالی تو احان نے اس کو جوس دیا منہ بنا کر اس نے جوس ختم کیا اور پھر دونوں آفیس کے لیے روارنہ ہوے اسلام و علیکم بھابھی کیسی ہے ریحان نے کہا میں ٹھیک ہو آپ کیسے ہے حور نے پوچھا تو ریحان مسکرایا میں

ٹھیک چلے میں آپ کو بتاتا ہو آپ کی جوب کے بارے میں ریحان نے کہا اور اس کو لے کر ایک کیبن کی طرف ایا یہ ہے بھابھی آپ کا ٹیبل ریحان نے کہا

مس عروج ریحان نے باہر سے گزارتی ہوئی عروج کو آواز دی تو وہ اندر آئی گڈ مارننگ سر عروج نے کہا مس حور یہ مس عروج ہے احان کی پرسنل سیکٹری ریحان نے پرسنل پر زور دینے ہوے کہا تو حور

مسکرائ اور مس عروج یہ مس حور ہے آپ ان کو ان کا کام بتاے ریحان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا ہیلو مس حور عروج نے مغرور اندز میں کہا ہیلو حور نے جواب دیا پھر عروج نے اس کو بتایا کہ اس کو کیا کرنا ہے اور وہاں سے چلی گئی کچھ دیر میں انٹر فون بج تو حور نے فون اٹھیا ہیلو حور نے کہا مس آپ سامنے والے روم میں ائے کیسی نے کہا اور فون بند ہو گیا تو حور سامنے والے روم میں گئی اور درواذ نوک کیا پھر اجازت ملتے ہی اندر آئی

سامنے ایک خوبصوت سا لڑکا بیٹھا ہوا تھا تو مس کیا نام ہے آپ کا اس نے حور سے پوچھا حور حور نے جواب دیا مس حور میرا نام عمران شاہ ہے آج سے آپ میرے اندر کام کرے گئی عمران نے کہا تو حور نے ہاں میں سر ہلایا یہ فائیل لے جائے اور ایک اچھی سے رپوٹ بنا کر لائے عمران نے اس کو فائیل دیتے ہوے کہا اور حور نے فائیل لی اور وہاں سے چلی گئی اس کے

جانے کے بعد عمران کے چہرے پر پراسرا سی مسکراہٹ ائی جبکہ حور کو یہ آدمی کچھ عجیب لگ عورت اپنے پر اٹھنے والی ہر نظر پہچان جاتی ہے حور کو بھی عمران کی نظریں اچھی نہیں لگئی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: