Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Episode 9

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – قسط نمبر 9

–**–**–

وہ لیب ٹاپ پر مسلسہ انگلیاں چلا رہی تھی کہ انٹر فون بج ہیلو وہ مصروف سی بولی حور میرے روم میں او احان نے کہا اور فون بند ہو گیا حور نے گہرا سانس لیا اور احان کے کمرے کی طرف چل پری درواذہ نوک کیا اجازت ملتے ہی اندر ائی تو. احان کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا جی احان حور اس کو دیکھا کر بولی

چلو لینچ کرنے احان نے کہا احان ابھی نہیں میں بہت مصروف ہو حور نے کہا میں گاڑھی میں انتظارا کر رہا ہوں دس منٹ میں باہر او احان نے اس کو گھورتے ہوئے کہا اور یہ جا وہ جا جبکہ حور ارے ارے کہتی رہ گئی کچھ دیر میں وہ نیچے ائی اور منہ بناتے ہوے گاڑھی میں بیٹھ گئی اس کے منہ بنانے پر احان مسکرایا کچھ دیر میں گاڑھی ایک ریستوران کے سامنے روکی

دونوں نے کھانے کو کچھ ایڈر کیا کیسا رہا آج کا دن احان نے بات شروع کی بہت اچھا مجھے آپ کا آفیس بہت پسند ایا حور نے خوش ہوتے ہوے کہا شکریہ احان نے مسکراتے ہوے کہا احان آفیس کی زندگی بہت مختلف ہوتی ہے مجھے مزہ ایا کام کرنے کا اور آپ کو پتا ہے آفیس میں میرے کچھ دوست بھی بن گئے ہے حور نے کہا اتنی دیر میں کھانا بھی

اگیا مجھے لگ تم کہوں کی آفیس کی زندگی بور ہوتی ہے احان نے کھاتے ہوے کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے حور نے کھاتے ہوے کہا اور پھر حور کی نہ ختم ہونے والی باتیں شروع ہو گئی جبکہ احان کو اچھا لگ وہ اس سے بات کر رہی ہے وہ کبھی اس کی بات پر مسکراتا کبھی اس کو گھورتے اور کبھی اس کی بات کا جواب دیتا اور کبھی خاموش رہا کر بس اس کو دیکھتا جو ہستی مسکراتی دل کے قریب لگتی

🔥🔥🔥

15 دن بعد 🌹

ابھی وہ آفیس ائی ہی تھی کہ انٹر فون بجا ہیلو حور نے کہا مس حور میرے روم میں آئے سر عمران نے کہا جی سر حور نے دانت پیستے ہوے کہا حور اس کے بارے میں سوچنے لگئی یہ شخص بہنے بہنے سے حور کو اپنے روم میں بلاتے اگرچہ آج تک سر عمران نے کبھی حور سے بدتیمزی نہیں کی لیکن اس کی نظروں سے حور کو الھجن ہوتی تھی حور نے کیسی سے کچھ نہیں کہا تھا اس بارے میں

کبھی کبھی عمران کے ایسے دیکھنے پر حور اس کو گھوری سے نوازتی اس سے سخت لہجہ میں بات کرتی لیکن شائد وہ بہت ہی ڈھیٹ تھا وہ اپنی سوچ پر لعنت بیجتی ضبظ کرتی سر عمران کے روم میں آئی سر عمران اس کو دیکھا کر مسکرائے اور اس کو بیٹھنے کا کہا مس حور آپ نے کل جو ریپوٹ بنائی تھی بہت اچھی بنی تھی آپ بہت ذاہین اور قابل ہے سر نے کہا

شکریہ سر حور نے کہا شکریہ سے کام نہیں چلے گا آپ کو میں ڈنر پر لے کر جاو گا آج رات تیار رہے گا عمران نے کہا تو حور کو شاک لگا سوری مجھے آپ. کے ساتھ کہی نہیں جانے حور نے ضبط کرتے ہوے کہا ورنہ وہ اس کی بات اس کا منہ توڑنے کا ارادہ رکھتی تھی تم مجھے انکار کر رہی ہو مس حور عمران نے غصہ سے کہا وہ ایک منٹ میں” آپ ” سے “تم ” پر اگیا تھا

جی سر حور نے کہا تمہیں میں ابھی جاب سے فارغ کر سکتا ہو عمران غصہ سے کرسی سے اٹھا اور اس کے پاس ایا مجھے فکر نہیں پڑتا آپ جو مرزی کرے اور بغیر کیسی وجہ سے آپ مجھے جاب سے فارغ نہیں کر سکتا حور نے غصہ سے کہا اور وہاں سے جانے لگئی تو عمران اس کے راستہ میں حائل ہو گیا یہ کیا بتمزی ہے حور نے کہا مجھے لڑکیوں کا زیادہ زبان چلانا پسند نہیں ہے تیاری کر لو بہت جلد تمہیں میری دستور میں آنا ہے عمران نے مسکراتے ہوے کہا

آئیدہ آپ نے ایسی بات بھی کی تو میں آپ کا منہ توڑنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگوں گئی حور نے کہا اور وہاں سے چلی گئی اس کی بات پر عمران نے قہقہا لگایا آہ جنگلی بلی 😆😆

🔥🔥🔥

حور غصہ سے اپنے کیبن میں ائی عمران کو تو جواب دے ائی تھی لیکن اس کی باتیں سے ڈدر لگ رہا تھا کیا مجھے احان کو بتانا چاہے نہیں اگر وہ مجھے ہی غلط سمجھ یا اللہ یہ میں کس مصیبت میں پھس گئی میری مدر فرما حور نے چھت کی طرف دیکھا کر کہا اور غائب دماغی سے چلی ہوئی احان کے روم میں بغیر نوک کیے ائی

احان جو عروج سے کچھ بات کر رہا کہ اچانک درواذہ کھولنے اور حور کے اندر انے پر حیران ہوا جبکہ عروج نے حور کو گھورا مس عروج آپ یہ فائیل لے کر جاے احان نے کہا اور حور کو بیٹھنے کا اشارہ کیا جبکہ عروج اس کی بات پر حیران ہوئی اس کو لگ کے باس حور پر غصہ کرے گئے لیکن وہ تو اس کو ہی جانے کا کہ رہے ہے جی سر عروج نے کہا اور وہاں سے چلی گئی😠😠

احان بہت غور سے حور کو دیکھا رہا تھا جو کہ زمیں کو گھور رہی تھی اور لب کاٹ رہی تھی احان مجھے بھوک لگئ ہے کچھ کھانے چلے حور نے زمیں کو دیکھتا ہوے کہا احان اس کی بے فضول بات پر کرسی سے اٹھا اور چلتا ہوا اس کے پاس ایا اتنے میں روم کا درواذ نوک ہوا اور ریحان اندر ایا یار احان اس پر سائن کر دے ریحان نے آتے ہی کہا

لیکن احان اور حور کو دیکھا کر حیران ہوا کیا ہوا سب ٹھیک ہے ریحان نے پوچھا ریحان میں کچھ دیر میں آتا ہوا اور تم میں گاڑھی میں انتظارا کر رہا ہوں جلدی نیچے او احان نے پہلے ریحان اور پھر حور سے کہا ریحان اب پریشان ہوا اور اب وہ. حور کو دیکھا رہا تھا اس کے دیکھنے پر حور نظریں چراتی ہوئی روم سے باہر چلی گئی

🔥🔥🔥

گاڑھی میں حور مسلسل اپنی ہاتھ مسلہ رہی تھی اس کے چہرے پر خوف تھا اور بار بار اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر پسینہ صاف کر رہی تھی جبکہ احان اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا گاڑھی گھر کے سامنے روکی کچھ دیر میں گھر کا گیٹ کھولا اور گاڑھی پورچ میں ائی احان گاڑھی سے نکل کر

حور کے نکلنے کا انتظارا کرنے لگا لیکن وہ باہر نہیں آئی تو احان نے گاڑھی. کا درواذ کھولا اور اس کا ہاتھ تھام کر اس کو باہر نکلا اور گھر کے اندر بڑھا احان نے اس کو صوفہ پر بیٹھیا اور خود کیچن کی طرف گیا کچھ دیر میں پانی کا جگ اور گلاس لے کر واپس ایا گلاس میں پانی ڈالا اور حور کی طرف بڑھا

حور نے پانی ایک ہی سانس میں ہی لیا اور حور نے کہا تو احان نے اس کو اور پانی دیا دوسرا گلاس بھی حور نے ایک ہی سانس میں ختم کیا اور گلاس صوفہ کے پاس ٹیبل پر رکھا نام بتاو احان نے ایک سوال کیا حور ابھی بھی اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی جیسے ساری غلطی ان کی ہو

سر عمران حور ہمت کر کے بولی تو احان کی سیاہ آنکھوں میں سرخی ائی جاو آپنے روم میں آرام کرو احان نے کہا اور وہاں سے جانے لگا احان بات تو سن لے حور نے اس کو جاتے دیکھ کر جلدی سے بولی حور شام میں بات ہوتی ہے آرام کرو احان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ حور اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی

وہ اس وقت گاڑھی چلا رہا تھا جبکہ حور اپنے روم میں آگئی دونوں ماضی کی ایک خوبصوت یاد میں چلے گئے 💔💔

ماضی🌹

وہ اس وقت سکول میں موجود تھا بریک کے وقت وہ گھاس پر بیٹھ کر لیز کھا رہا تھا کہ اس کی نظر حور پر پڑی جو پریشان سی اس کے پاس آرہی تھی کیا ہوا حور احان نے پوچھا تو حور کی آنکھوں میں آنسو اگئے تمہیں اس سے کیا وہ تڑخ کر بولی احان نے حور کے آنسو صاف کیے اور اس نفی میں سر ہلایا

احان نے اپنی پانی کی بوتل حور کو دی تو حور نے منہ پھیر لیا وہ حور ہی کیا جو اپنے دشمن یعنی احان کی بات مان لے اب احان کو اس پر غصہ ارہا تھا تو احان نے زبردستی اس کو پانی پی لایا تو حور اس کو غصہ میں دیکھا کر چپ کر گئی ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا وہ احان کو غصہ میں دیکھا کر اس کی ہر بات مان لیتی تھی حور کیا ہوا ہے کیوں رو رہی تھی اگر تم نے مجھے نہیں بتایا تو میں انکل کو کہوں گا کہ تم نے آج پھر مجھے مارا ہے احان نے کہا

تو حور کا منہ کھول گیا آپ جھوٹ بولے گئے بابا سے حور نے کہا ہاں احان. نے ڈھیٹی سے کہا احان اس لڑکے نے مجھے تھپر مارا اور مجھے سے کہا کہ کل سے میں اس کا ہوم ورک کرو گئی حور نے روتے ہوے کہا تو احان کی سیاہ آنکھوں میں سرخی ائی اور اس نے حور کے آنسو صاف کیے اور اپنا لیز اس کو کھانے کے لیے دیا وہ دس سال کا احان 6 سال کی حور کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھا سکتا تھا

احان اس لڑکے کے پاس گیا اور اس پر تھپرو کی برسات کر دی جبکہ پاس بیٹھی حور نے یہ منظر دیکھ کر تالیاں بجیاں احان نے اس لڑکے کو وآن کیا کہ آئیدہ اس نے حور کو تنگ کیا تو اس کی خیر نہیں وہ حور کو خوش دیکھا کر مسکرایا اور اس کے پاس ایا اب خوش چلو پھر مجھے سے دوستی کر لو احان نے ہر بار کی طرح کوشش کی تو حور نے اس کو گھورا تم میرے دشمن تھے دشمن ہو اور دشمن ھی رہوں گئے حور نے کہا اور اپنی کلاس کی طرف چل پڑی جبکہ احان اس کی بات پر افسوس کرتا رہ گیا لیکن ہر بار کی طرح خود سے وعدہ کیا کہ وہ حور سے جلد ہی دوستی کر لے گا

حال💔

دونوں حال میں واپس ائے حور نم آنکھوں سے مسکرائی. اور احان نے گہرا سانس لیا تم آج بھی نہیں بدلی حور لیکن مجھے خوشی ہوئی تو نے مجھے پر اعتماد کیا احان نے کہا اور آفیس کے اندر بڑھا

🔥🔥🔥

روم کا درواذہ نوک ہوا احان نے اجازت دی تو عمران اندر ایا گڈ ماننگ سر عمران نے کہا عمران ریپوٹ بہت اچھی بنائی ہے آپ نے شکریہ سر اس میں مس حور کا ہاتھ ہے وہ بہت قابل ہے عمران نے کہا اس کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر احان کا خون خولا تھا جو حور کے نام پر ائی عمران تمہاری پہلے بھی دو بار شیکات ائی تھی کہ تم نے میل سٹاف کے ساتھ مس بی ہیو کیا ہے میں نے اس بات کو اگنور کیا

لیکن اب فی میل سٹاف کے بتمزی کی ہے تم نے اس بات پر میں تمہیں کمپنی سے نکال سکتا ہو احان نے غصہ سے کہا تو عمران ڈدر گیا سوری سر عمران نے کہا حور کے جانے کے بعد عمران کو احساس ہوا کہ وہ غصہ میں حور کے ساتھ مس بی ہیو کر گیا تھا مجھے آپ کی سوری نہیں چاہے آئیدہ اگر ایسی کوئی بات مجھے تک ائی تو نا صرف آپ کی جاب جاے گئی بلکہ میں آپ پر کیس بھی کرو گا میری کمپنی کا ماحول خراب کرنے کہ میرے سٹاف کو ہرساں کرنا کا احان نے میرے پر زور دینے ہوے کہا

سوری سر آئیدہ ایسا کچھ نہیں ہو گا عمران نے شرمندہ ہوتے ہوے کہا اور وہاں سے چلا گیا اس کے جانے کے بعد احان نے بہت مشکل سے خود کو ریلکس کیا کچھ دیر میں ریحان اس کے روم میں ایا تو احان نے اس کو ساری بات بتائی اس کی بات سن کر ریحان کو غصہ ایا تم نے اس کو فارغ کیوں نہیں کیا ریحان نے غصہ سے کہا

تو جانتا ہے وہ اکیلے گھر میں کمانے والا ہے عمران کے ماں باپ بوڑھے ہے اور ابھی اس کی دو بہنوں کی شادی اب ہونے والی ہے بس اس لیے لیکن میں نے اس کو وآن کیا ہے اگر پھر اس نے ایسا کچھ کیا تو اس کی سزا ملے گئی احان نے کہا اور کرسی سے ٹیک لگ کر آنکھیں بند کر لی پھر تو پریشان کیوں ہے

ریحان نے اس کے چہرے پریشانی دیکھ کر کہا یار یہ سب میری غلطی ہے مجھے حور سے پہلے دن پوچھنا چاہے تھا کہ اس کو کوئی مسلہ تو نہیں یہاں احان نے کہا شکر سے تجھے اپنی ذمہ داریوں کا احساس تو ہوا ریحان نے کہا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: