Tum Main aur yah Rasta Novel by Hashmi Hashmi – Last Episode 25

0
تم میں اور یہ راستہ از ہاشمی ہاشمی – آخری قسط نمبر 25

–**–**–

کچھ ماہ بعد

حور کی دوست پری کی آج شادی تھی اپنے کزن حمزہ کے ساتھ ابھی دو دونوں واپس ہی ائے تھے حور آنئیہ کے سامنے کھڑی کچھ سوچ رہی تھی جبکہ احان اندر ایا احان نے سوئے ہوئے ماس کو آرام سے بے بی کاٹ میں لیٹیا اور اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے الماری کی طرف بڑھا اپنے کپڑے لیے اور واش روم میں چلا گیا وہ واپس ایا تو حور ابھی بھی وہی کھڑی تھی حانی آپ کو سعدیہ آپی کیسی لگئی حور نے کہا اچھی لگئی جو ان کے ساتھ ہوا سن کر افسوس ہوا احان نے کہا اور بیڈ ہو لیٹ گیا حور بھی فریش ہونے چلی گئی

وہ واپس آئی اور بی بے کاٹ کے پاس اکر کتنی دیر ماس کو تکتکی رہی اور احان بھی کافی دیر سے نوٹ کر رہا تھا کہ حور کچھ سوچنے میں مصروف تھی حور میری جان کیا بات ہے احان نے پوچھا تو وہ ہوش کی دنیا میں آئی اور ماس کو پیار کیا احان کے سینے میں سر رکھا کر لیٹ گئی حانی صبح ریحان بھائ ائے گیا نہ ہاں ایا گا وہ احان نے اس کے بالوں میں بوسہ دیتے ہوے کہا

ریحان ہر اتور کو ان کے گھر آتا تھا اور ماس کو لے کر باہر چلا جاتا تھا کچھ وقت وہ اپنے بیٹے کے ساتھ گزرار کر ماس کو واپس احان کی طرف چھوڑتا اور گھر چلا جاتا تھا
🔥🔥🔥

ریحان ابھی ان کی طرف ایا ہی تھا تو حور ماس کو لیے کر نیچے ائی میرا شیر کیسا ہے ریحان نے ماس کو اپنی گود میں لیتے ہوئے کہا اور اس کے دونوں گال چومے ماس نے اپنی زبان میں کچھ کہا اور ریحان کو گھورتے ہوئے اس کی داڑھی کیھچی ماس باتیں تو بہت کرتا تھا لیکن کچھ کی سمجھ اتی تھی اور کچھ کی نہیں بھائ مجھے آپ سے بات کرنی ہے حور نے کہا جی بھابھی وہ جو باہر جانے کے لیے اٹھا تھا دوبارا صوفہ پر بیٹھ گیا بھائ آپ کو آپ کا وعدہ یاد ہے حور نے پوچھا جی بھابھی آپ کچھ کہے گئی اور میں آپ کی بات مانوں گا

ریحان نے سوچتے ہوے کہا بھائ آپ اب شادی کر لے میری پسند کی لڑکی سے حور نے کہا ریحان کتنی دیر زمیں کو گھورتا رہا اور پھر اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑا بھائ آپ نے میری. بات کا جواب نہیں دیا حور نے پوچھا بھابھی میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا میں اسے پورا ضرور کرو گا ریحان نے کہا اور وہاں سے یہ جا وہ جا جبکہ حور نے گہرا سانس لیا

سعدیہ پری کی کزن تھی اور پری کے بھائی علی کی بیوی تھی علی ایک پولیس والا تھا سے شادی کے تین ماہ بعد علی شہیدہ ہوگیا حور کو سعدیہ شروع سے بہت اچھی تھی وہ بھی پری کی طرف جاتی سعدیہ سے بہت سی باتیں کرتی تھی شادی پر اس نے فصیلہ کر لیا تھا کہ وہ سعدیہ کی شادی ریحان سے کر وائے گئی

ریحان صوفہ پر بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا آج اس کا نکاح ہوا تھا اور ایک لڑکی اس کے روم میں اس کا انتظارا کر رہی تھی یہ ہی سوچ کر اب اس کا سر درد کر رہا تھا او تو ابھی تک روم میں. نہیں گیا احان نے کہا تم دونوں میاں بیوی نے اچھی نہیں کیا میرے ساتھ ریحان نے غصہ سے کہا رابعہ کے جانے کے بعد اب اس کو بات بات پر غصہ اجاتا تھا تو احان نے قہقہا لگایا لوگوں کہتے ہے کہ انسان شادی کے بعد روتا ہے آج میں نے دیکھا بھی لیا احان نے اس کو چڑاتے ہوئے کہا اس کی بات پر اور جل کر اٹھا اور اپنے روم کی طرف جانے لگا ریحان وہ جو لڑکی اندر ہے نہ تو نکاح کر کے لایا ہے میں امید کرتا ہوں تم اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرو گئے احان نے کہا ریحان نے قرب سے آنکھیں بند کر کے کھولی اور ہاں میں سر ہلاتا ہوا وہ سے چلا گیا جبکہ احان نے آسمان کی طرف دیکھا کر اس کی خوشیوں کی دعا کی
🌹🌹🌹

ریحان اندر ایا تو پورے روم کو مختلف پھولوں سے سجایا گیا تھا اور بیڈ پر ایک لڑکی چہرے پر گوگنٹ لیا اس کا انتظارا کر رہی تھی

وہ چلاتا ہوا بیڈ تک ایا اسلام و علیکم یہ شادی صرف میں نے حور بھابھی کے کہنے پر کی ہے میں آپ کے تمام حقوق پوراے کرنے کی کوشش کرو گا میں آپ سے امید کرتا ہوں آپ کبھی مجھے سے میرے ماضی کے بارے میں بات نہیں کرے گئی اور نہ ہی میں آپ کے ماضی کے بارے میں بات کرو گا ریحان نے کہا اس کی آواز میں کہی بھی نرمی نہیں تھی اس کی بات پر سعدیہ نے ہاں میں سر ہلایا ریحان کو لگا وہ رو رہی ہے آپ رو رہی ہو ریحان نے پوچھا تو سعدیہ نے ہاں میں سر ہلایا لیکن کیوں ریحان نے حیرات سے پوچھا تو سعدیہ نے اپنا گوگنٹ اٹھیا ریحان اس کو دیکھتا رہ گیا اتنی حوبصورت لڑکی شائد ہی اس نے اپنی زندگی میں دیکھی ہو گئی مجھے بھوک لگئی ہے میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اور مجھے سے بھوک برداشت نہیں ہوتی وہ سوں سوں کرتی ہوئی بولی تو ریحان ہوش کی دنیا میں ایا کیا ٹھیک میں کچھ کھانے کو لاتا ہوں ریحان نے کہا اور روم سے جانے لگا سننے کیا میں چینج کر لو سعدیہ نے کہا کر لے ریحان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا سعدیہ بیڈ سے اٹھی اور آنئیہ کے پاس ائی خود کو دیکھا کر اس کے منہ سے چیخ نکلی تھی اففف کتنی بری لگ رہی ہوں میں سعدیہ نے کہا اور واش روم کی طرف بڑھی آج تک سعدیہ نے میک آپ نہیں کیا تھا اپنی شادی پر بھی اس نے علی سے کہا کہ وہ میک آپ نہیں کرے گئی تو علی اس کی بات مان گیا کیونکہ وہ بغیر میک آپ میں ہی اتنی پیار لگتی تھی آج اس نے پہلی بار میک آپ کیا تھا اس لیے اس نے خود کو دیکھا کر چیخ ماری کچھ دیر بعد وہ باہر آئی لان کے سوٹ میں اتنے میں ریحان بھی ٹرے لیے روم میں داخل ہوا اور ٹرے ٹیبل پر رکھی سعدیہ کھانے میں مصروف ہو گئی اور ریحان بیڈ پر بیٹھ کر فون میں وہ کھانے سے فارغ ہوئی اور برتن لے کر باہر جانے لگئی تو ریحان بولا

روکے گھر میں مہمان ہے آپ کا اس وقت روم سے جانا مناسب نہیں لگئے گا ریحان نے کہا اور ٹرے لے کر روم سے چلا گیا کچھ دیر تک وہ واپس ایا تو حیران ہوا سعدیہ نماز پڑھ رہی تھی رابعہ نے تو کبھی سر پر دوپٹہ بھی نہیں لیا تھا نماز پڑھنا کو دور کی بات تھی کنتی دیر وہ اس کو دیکھتا رہا پھر میڈیسن لے کر بیڈ پر لیٹ گیا اس کو دیکھتے دیکھتے وہ نیند کی وادی میں چلا گیا سعدیہ نماز سے فارغ ہوئی تو ریحان کو دیکھا جو سو گیا تھا اور دوپٹہ اتارا کر بیڈ کی دوسری سائیڈ پر لیٹ گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگئی

6 ماہ بعد 🌹

ان 6 ماہ میں ریحان اور سعدیہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے اجبنے تھے دونوں میں بات بھی بہت کم ہوتی تھی سعدیہ نے پورا گھر کو سنمبال تھا وہ ہر کام خود ہی کرتی وہ ریحان کا ہو یا ذکریہ بیگم کا اس کے ساتھ وہ ریحان کی میڈیسن کا بھی خیال رکھتی تھی کیونکہ ریحان کو تین ماہ پہلے ڈپریشن کا اٹیک ہوا تھا

وہ لیب ٹاپ میں مصروف تھا جب سعدیہ روم اندر ائی الماری سے اپنے کپڑے لیے اور واش روم میں چلی گئی کچھ دیر تک واپس آئی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے سعدیہ نے کہا تو ریحان چوکا اور ہاں میں سر ہلایا اور پھر سے لیپ ٹاپ میں مصروف ہو گیا سعدیہ کچھ دیر اور کو گھورتی رہی اور وہ اس کے بولنے کا انتظارا کرتا رہا سعدیہ نے اگے بڑھ کر لیپ ٹاپ بند کیا اس کی حرکت پر ریحان حیران ہوا پھر اس کو غصہ ایا یہ کیا حرکت تھی وہی سخت لہجہ وہ جب بھی اس سے بات کرتا سخت لہجہ میں کرتا تھا مجھے بس دو منٹ آپ کے چاہے کہ آپ میری بات سننے گئے مجھے اپنے گھر جانا ہے ایک ہفتہ کے لیے رابعہ نے کہا اوکے آئیدہ یہ حرکت نہیں ہونی چاہے ریحان نے کہا اور لیپ ٹاپ میں مصروف ہو گیا جبکہ سعدیہ بیڈ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگئی

وہ سب ناشتہ میں مصروف تھے جبکہ سعدیہ تیار ہو کر باہر آئی ماشاءاللہ ذکریہ بیگم نے کہا تو وہ مسکرائی ریحان نے ایک نظر اس کو دیکھا اور پھر ناشتہ میں مصروف ہو گیا بیٹا تھوڑ سا میک کر لیتی ذکریہ بیگم کہا آنٹی مجھے میک آپ پسند نہیں ہے سعدیہ نے کہا اور ناشتہ کرنے گئی اس کی بات پر ریحان حیران ہوا شادی کے بعد اس نے کبھی سعدیہ کو میک آپ میں نہیں تھا ریحان بہو پہلی بار میکے جارہی ہے تم چھوڑ او ذکریہ بیگم نے کہا تو ریحان نے ہاں میں سر ہلایا

وہ ٹھک کر آفیس سے ایا اور صوفہ پر بیٹھ کر ریحان نے ٹالی کی نوٹ ڈھیلی کی کافی دیر کو سعدیہ کا انتظارا کرتا رہا کیونکہ وہ اس کے گھر انے پر پانی اور چائے لے کر اتی تھی سعدیہ ریحان نے آواز دی تو گھر کی ملازم ائی جی ریحان صاحب اس نے کہا سعدیہ کہاں ہے ریحان نے حیرات سے پوچھا وہ بی بی جی تو اپنے میکے گئی ہے اس کی بات پر ریحان کو یاد ایا کہ وہ صبح خود اس کو چھوڑ کر ایا تھا ٹھیک ہے تم جاو اور چائے لے کر او میرے لیے

وہ نیچے ایا تو ذکریہ بیگم اس کا انتظارا کرتی نظر ائی وہ ان کو اسلام کرتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا اور پھر لپیٹ میں کھانے ڈال کر کھانے لگا یہ کیسا کھانا ہے ریحان نے برا سا منہ بناتے ہوے کہا تو ذکریہ بیگم ہسنی لگئی اب آپ کیوں ہنسنے رہی ہے امی ریحان نے کہا کیونکہ اج کھانے کک نے بنایا ہے تو کیا کک روز نہیں بناتا وہ حیرات سے پوچھنے لگا نہیں روز سعدیہ کھانا بناتی ہے ذکریہ بیگم نے کہا کچھ دیر وہ کھانے کو گھورتا رہا پھر بولا امی میں احان کی طرف جا رہا ہوں وہاں یہ جا وہ جا
🔥🔥🔥

ریحان ابھی گھر آیا تھا فریش ہوا اور سونے کے لیے لیٹا اچانک اس کی نظر سامنے گئی جہاں وہ نماز پڑھتی تھی پھر نفی میں سر ہلاتا ہوئے اس کی نظروں کا زاویہ بدلہ تو یہاں وہ صوفہ پر بیٹھ کر کوئی کتاب پڑھتی تھی اس نے پھر سے نظروں کا زاویہ بدلہ تو وہ الماری میں کپڑے رکھتی نظر ائی اس نے گہرا سانس لیا ریحان وہ یہاں نہیں ہے اس نے خود سے کہا پھر اس کی نظر بیڈ کی دوسری سائیڈ پر گئی جہاں وہ سوتی تھی بس پھر ریحان نے اس کا تکتہ خود سے لگیا جس میں سعدیہ کی خوشبوں تھی اب وہ اس خوشبوں کو محسوس کر رہا تھا وہ خاموشی سے اس کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی اففف سعدیہ آپ نے مجھے بے بس کر دیا ہے یہ اچھی بات نہیں ہے. پہلے اپنی عادت ڈالوں اور پھر چھوڑے کر چلے جاو ریحان نے کہا اور اس کا تکتہ خود میں بیھچا کچھ دیر بعد اس نے فون لیا اور سعدیہ کو کال. کرنے لگا لیکن میرے پاس سعدیہ کا نمبر نہیں ہے ریحان نے کہا امی ہاں امی کے پاس ہو گا ریحان ذکریہ بیگم کے کمرے میں خاموشی سے ایا اور ان کے فون سے سعدیہ کا نمبر نوٹ کیا اور خاموشی سے روم سے چلا گیا کیونکہ ذکریہ بیگم سو رہی تھی احان نے وقت دیکھا تو رات کا ۱ ‘بج رہا تھا اللہ کا نام لے کر اس کی کال کی

سعدیہ جو اپنے روم میں سو رہی تھی کیسی کی کال انے پر اس نے بند آنکھوں سے فون اٹھیا اس نے دیکھا تو کوئی اننوں نمبر تھا ہیلو ،،، ہیلو سعدیہ جی میں سعدیہ آپ کون اس نے حیرات سے کہا میں ریحان ،،، تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی آپ سب ٹھیک ہے نہ آپ کی طبعیت ٹھیک ہے نہ دیکھا ریحان پریشان نہیں ہو گہرے گہرے سانس لیے اور ٹیبل کے پاس آپ کی میڈیسن کا ڈبہ ہے اس میں سے وائٹ والی گولی اپنے زبان کے نیچے رکھے اور ہاں پانی زیادہ پینا احان بھائ کو فون کرے وہ آپ کے پاس اجاے گئے اور ہپستال چلے جانا ،،،،،، بس بس آپ اپنے گاڑھی کو بریک لگائے یار میں ٹھیک ہوں ،،،، ریحان نے مسکراتے ہوئے کہا وہ اس کا احساس کرتی ہے یہ بات اس کو اندر تک سرشار کر رہی تھی

تو پھر آپ نے مجھے آدھی رات کو فون کیوں کیا،،،، وہ حیرات سے بولی کیونکہ میں آپ کو صبح لینے آرہا ہو تیار رہنا ریحان نے کہا اور کال بند ہو گئی سعدیہ فون کو کتنی دیر گھورتی رہی پھر رونے لگئی ،،،
💖💖💖

آج اتور تھا وہ صبح سعدیہ کو واپس لے ایا تھا ابھی وہ احان کے گھر سے واپس ایا تھا کچھ دیر ذکریہ بیگم کے پاس رہا اور پھر ان کو سونے کا کہتے ہوئے اپنے روم میں ایا سعدیہ سیٹڈی ٹیبل پر بیٹھ کر کچھ لکھ رہی تھی اور ساتھ رو بھی رہی تھی اس کے انے پر جلدی سے سعدیہ نے اپنا منہ صاف کیا سعدیہ کیا آپ رو رہی ہے پر کیوں وہ پریشان سا بولا نہیں تو سعدیہ نے کہا اور اس سے بیڈ پر لیٹ گئی پلیز لائٹ بند کر دے مجھے نیند آرہی ہے سعدیہ نے کہا اور اپنی آنکھیں پر بازو رکھ لیا وہ کنتی دیر اس کو دیکھتا رہا پھر لائٹ بند کر کے اپنی جگہ لیٹ گیا سعدیہ میں بہت اچھا دوست ہوں اگر آپ شوہر نہیں تو دوست سمجھ کر شئیر کر سکتی ہے ریحان نے اس کی طرف کروٹ لیتے ہوے کہا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور رونے لگئ ریحان بوکھکلا کر اٹھ یار کیا ہوا ہے آج علی کی سالگر ہے میں ہر سال اس کے کیک بنتی تھی مجھے لگ رہا ہے وہ ابھی یہی سے اندر ائے گا اور مجھے سے بولے گا موٹو ابھی تک کیک نہیں بنیا تم نے سعدیہ نے درواذہ کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا دس سال کی تھی میں جب مما پاپا کی موت کے بعد میں پہلی بارا نانو کے گھر آئی نانو نانا مجھے سے بہت محبت کرتے تھے مما پاپا کے جانے کے بعد میں خاموش ہو گئی بس سکول سے گھر اپنے روم میں ھی ہوتی تھی جب میں 15 سال کی ہوئی تو نانو نے مجھے بتایا کہ میرا علی سے نکاح ہے مجھے تو نکاح کا مطلب بھی پتہ نہیں ہے سو میں نے ان سے کچھ نہیں کہا علی مجھے سے 4 سال بڑا تھا اس دن سے علی نے مجھے سے دوستی کر لی کچھ باتیں میں علی سے شئیر

پر کچھ بس اپنے دل میں ھی رہتی اس طرف وقت گزار گیا میں نے Fsc میں پورے کالج میں ٹوپ کیا اور گھر میں سب سے کہا مجھے ڈاکٹر بنا ہے پر ماموں مامی نے صاف انکار کر دیا اور کہا ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہے کہ مجھے ڈاکٹر بنائے پیسے تو ان کے پاس بہت تھے لیکن ایک یتمیم پر کوئی کیوں اتنے پیسے لاگتا اس رات میں بہت روی ایک ہی خواب میں نے دیکھا تھا ڈاکٹر بنے کا وہ بھی پورا نہیں ہو سکا پھر علی میرے پاس ایا اور مجھے سے کہنے لگا وہ میرا خواب ضرور پورا کرے گا اس نے اپنے ماں باپ کو پتہ نہیں کیسا مانیا اس طرف میرا میڈکل کالج میں ایڈمیشن ہو گیا دو سال پورے ہوئے تو علی نے مجھے سے کہا کہ وہ رخصتی چاہتا ہے اس کی بات پر میں پریشان ہو گئی کیونکہ میڈکل کی پڑھی بہت مشکل تھی میں تو کہی دن تک سوتی نہیں تھی میں نے علی سے کچھ نہیں کہا لیکن وہ میری پریشانی بھاپ گیا اور مجھے سے بولا جب تک میں ڈاکٹر نہیں بن جاتی وہ مجھے سے اپنا کوئی حق نہیں مانگے گا اس طرح رحضتی بھی ہو گئی شادی کے تین ماہ بعد میرے پیپر ہو رہے تھے اور علی کی سالگر تھی اس نے کہا کہ میں کیک بنوں لیکن مجھے پڑھنا تھا میں نے انکار کر دیا تو وہ ناراض ہو کر چلا گھر سے باہر چلا گیا تو میں اس کی ناراضی پر مسکرائی اور اس کے لیے کیک بنیا لیکن وہ ساری رات گھر نہیں آیا وہ اکثر ایسا ہی کرتا تھا پولیس کی نوکری ایسی ہی ہوتی ہے صبح میں کالج کے لیے تیار ہوئی تو اس ہی وقت گھر میں اس کی میت ائی وہ تو مجھے سے ناراض ہو کر دنیا سے چلا گیا پھر میری زندگی میں کبھی صبح نہیں ہوئی مامی نے کالج بند کرو دیا پری کی شادی پر بہت سے لوگوں نے بتائیں بنائی تو حور آپ کا راشتہ لے کر ائی مامی ماموں کو اور کیا چاہے تھا دنیا کہ سامنے تو وہ مجھے سے بہت محبت کرتے تھے

اس طرح مجھے سے پوچھ بغیر میرے نکاح کی تاریخ رکھ دی گیا اس رات بھی میں بہت روئی لیکن نانو نے میرے سامنے ہاتھ جوڑے میں مان گئی آپ سے میں نے کہا کہ مجھے ایک ہفتہ کے لیے گھر جانا ہے میں آپ کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی آج کی رات میں نے اپنا سب کھود دیا علی ،،،اپنی زندگی،،،،اپنا خواب ،،،، سعدیہ نے کہا اب اس کے رونے میں شدت آگئی تھی

سانس لیتے ہے جو زندگی کے
لیے دل سارے پریشان ہے
پورے ہوتے نہیں پھر بھی دیکھ
بہت خواب آنکھوں پر حیران ہے
دل لگانا زندگی سے یہ تو الجھی
ڈور ہے لوٹ لے گئی سب تمہارا
دل میں جیتنا اور ہے
آے زندگی یہ بتا کیا ملا
کیا کھود دیا 🌹
وہ رو رہی تھی اور ریحان اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا اففف اللہ اس کے گھر والوں نے جو اس کے ساتھ کیا غلط کیا لیکن میں نے کیا کیا اس لڑکی کے ساتھ رابعہ کے یادوں میں اس طرح کھویا رہا کبھی اس سے اچھی طرح بات نہیں کی کبھی اس سے یہ نہیں پوچھا وہ کیسی ہے لیکن پھر بھی اس نے مجھے سے کبھی شکوہ تک نہیں کیا میں نے بہت غلط کر دیا اس اچھی لڑکی کے ساتھ ریحان نے سوچا آپ ٹھیک ہو سعدیہ کچھ دیر بعد ریحان بولا جی میں ٹھیک ہوں سوری میری وجہ سے آپ کی نیند خراب ہوئی آپ نے میڈیسن لے لی ہے سعدیہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اس لڑکی کو اب بھی تیری فکر ہے ریحان ،،،ریحان نے خود سے کہا سعدیہ کو خود سے لگیا اس کی حرکت پر سعدیہ حیران ہوئی وہ تو کبھی اس کے اتنے پاس نہیں آیا تھا یہ یہ آپ کیا کر رہے ہے سعدیہ نے گھبرا کر کہا کچھ دیر تک ریحان نے اس کو خود سے الگ کرتے ہوئے کہا چلے اٹھے منہ دھو کر ائے تو وہ شرمندہ سی اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھی کچھ دیر تک وہ باہر آئی تو ریحان بولا چلے میرے ساتھ کہاں وہ حیران سی بولی کچن میں ریحان نے کہا

آپ کو پتہ ہے مجھے بہت اچھا کیک بنانا آتا ہے سو آج ہم مل کر کیک بیک کرے گئے ریحان نے کہا تو سعدیہ اس کو دیکھنے لگئی کیا دیکھی رہی ہے ریحان نے اس کا دیکھا محسوس کرتے ہوئے پوچھا تو وہ سپٹپا گئی کچھ نہیں سعدیہ نے جلدی سے کہا سعدیہ صبح سے محسوس کر رہی تھی وہ اب آج خاموش نہیں تھا وہ اس سے کچھ نہ کچھ بات کر رہا تھا ریحان کا یہ روپ دیکھ کر وہ حیران تھی
🔥🔥🔥

وہ آفیس سے گھر آیا تو سعدیہ کچھ دیر بعد پانی اور چائے لے ائی وہ اس کو دیکھا کر مسکرایا سعدیہ میں آپ کے لیے کچھ لایا ہوا ریحان نے کہا اور اس کو صوفہ پر اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ بیٹھ گئی ریحان نے ایک ایوپ اس کو دیا سعدیہ نے اس کو کھولا تو وہ پریشانی سی کبھی ان پیپر کو دیکھتی تو کبھی ریحان کو پھر غصہ میں اکر اس نے فارم پھاڑ دیا جو کہ میڈکل کالج کا تھا ریحان نہیں کرے میرے ساتھ یہ سب جب خواب توڑتے ہیں تو بہت درد ہوتا ہے اس بار خواب تواڑ تو میں مر جاو گئی سعدیہ نے کہا اور وہاں سے جانے لگئی تو ریحان نے اس کو ہاتھ تھام کر روکا اور اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ منہ پھیر گئی ریحان مسکرایا وہ غصہ میں بہت کیوٹ لگ رہی تھی ریحان نے اس کو اپنے اوپر گرار سعدیہ اس حملہ کے لیے تیار نہیں تھی سعدیہ مجھے پر بھروسہ کرے اس بار میں آپ خواب توڑنے نہیں دو گا ریحان نے کہا تو سعدیہ کی نظروں میں آنسو اگیا جس کو وہ اس نے اپنے لبوں سے چنا تھا
💖💖💖
کچھ سال بعد 🌹

ریحان آفیس میں لیپ ٹاپ میں سر دیے ہوئے کہا اج سعدیہ کا رزلت آنا تھا جو وہ دیکھ رہا کچھ پھر اس کی چہرے پر مسکراہٹ ائی سعدیہ نے پورے کالج میں ٹوپ کیا تھا کچھ سوچ کر اس نے حور کو کال کی بھابھی مجھے آپ سے ایک کام ہے ریحان نے کہا
🌹🌹🌹

وہ کچن میں کچھ کام کر رہی تھی جب حور اس کے پاس ائی اسلام و علیکم سعدیہ آپی ارے حور تم اوے بیٹھوں سعدیہ نے جلدی سے ہاتھ دھوتے ہوے کہا نہیں اپی مجھے مال جانا ہے چلے میرے ساتھ حور نے کہا اچھا ٹھیک ہے تم بیٹھوں میں چینج کر لو

وہ واپس آئی اور ٹھک کر صوفہ پر بیٹھ گئی باجی پانی پیلا دے اففف آج اتنی گرمی تھی باہر سعدیہ نے ملازم کو آواز دی پانی پی کر وہ روم کی طرف چل پڑی سعدیہ نے درواذہ کھولا تو پورا روم گاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا وہ حیران ہوتی بیڈ تک ائی بیڈ پر ایک پیپر پڑا تھا اس کو پڑھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو اگئے مبادک ہو مسز ،،، ریحان نے اس کے پاس اکر سرگوشی کی تو وہ چونکی مجھے یقین نہیں ہو رہا ریحان سعدیہ نے کہا تو ریحان نے نفی میں سر ہلایا اور اس کے آنسو صاف کیے یہ آپ کی محنت کا نتجہ ہے ڈاکٹر سعدیہ ریحان نے کہا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تو وہ مسکرائی ریحان نے اس کی گردن پر لب رکھے تو وہ گھبرا گئی یہ آپ کیا کر رہے ہے وہ جلدی سے بولی سعدیہ مجھے پر بھی کچھ ترس کھا لے اتنا صبر کیا ہے میں نے اب پھل کھانے کا وقت ہے ریحان نے آنکھوں میں محبت لیے کہا تو وہ شرما گئی ریحان نے اس کو باووں میں اٹھیا اور بیڈ پر لایا اور اس پر جھکا

تنہا تنہا جیتے تھے
خود سے باتیں کرتے
تم سا کوئی مل جائے گا
دل پر لکھتے رہتے تھے
دل پر لکھ
تے رہتے تھے
نظریں چڑانا
لاگے سہانا
بالی عمر سے جانا
اووووو یارا
کیا دل نے کیا ؟
کیا تم نے سنا؟
جو دل نے کہا !
وہ میں نے سنا !

اسلام و علیکم
الحمداللہ میرا تیسرا ناول بھی مکمل ہو گیا ہے آپ سب کا بہت شکریہ میرے ناول کو پسند کرنے کے لیے اور بہت جلدی وہ ہی کہانی پھر سے سیزن ٹو شروع ہو گا تب تک کے لیے دعاوں میں یاد رکھیے گا اللہ حافظ

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: