Tumhare Jaisa Na Koi by Hadiya Sahar – Episode 1

0

تمہارے جیسا نہ کوئی از ہادیہ سحر قسط نمبر 1

اگر میں یہ تحریر مکمل کر پاٸ ہوں تو ان کا اس میں بڑا ہاتھ ہے تھینک یو سر نوید اللّٰہ آپکی پریشانیاں دور کرے اور آپ کے لیۓ زندگی کے ہر میدان میں آسانیاں پیدا کرے آمین۔

:ماضی چھ سال پہلے،

یار فہام آج کالج کا فرسٹ ڈے ہے نا جلدی اٹھ اس کے کزن اور گہرے دوست عمر خان نے اسے جگایا۔

سونے دووووووو اس نے کروٹ بدلی۔

پانچ منٹ بعد بارش کی بوندیں پڑنے سے وہ ہڑبڑا کر اٹھا مگر جسے وہ بارش سمجھ رہا تھا وہ عمر خان کے ہاتھوں میں موجود پانی کے جگ کی کارستانی تھی رک تیری تو وہ اس کی جانب بھاگا مگر وہ جھکاٸ دے کر نکل گیا۔

فہام نے اٹھ کر ہاتھ منہ دھویا ناشتہ کر کے کالج کے لیۓ تیار ہوا اور باہر عمر خان باٸیک لیۓ اس کا منتظر تھا۔وہ پڑوسی تھے اور دور کے کزن بھی مگر ان دونوں گھرانوں میں دوستی بہت تھی اگر انکو لنگوٹیے دوست کہا جاۓ تو غلط نہ ہو گا۔

آج چونکہ پہلا دن تھا تو تعارف میں ہی گزر گیا ان دونوں کو کالج پسند آیا تھا۔

دوسرے دن سینٸرز نے ان کو بتایا کل جو اردو والی ٹیچر کا تعارف ہوا تھا پتہ ہے بہت سخت ہیں مسکراتی بھی نہیں فلاں فلاں۔انکو جو نۓ کالج کا خمار تھا میم دیا علی کے پیریڈ میں اتر گیا۔وہ ان کی توقعات سے بڑھ کر سخت ثابت ہوٸیں انہوں نے فی الفور ان کو الگ کر دیا کوٸ دوست ساتھ نہیں بیٹھ سکتا یہ کو ایجوکیشن کالج تھا لیکن ان کے پیریڈ میں وہ یوں سہمے تھے گویا پلے گروپ کے بچوں

:کا پہلا دن ہو۔

فہام پیچھے مڑ کر عمر کی بات سن رہا تھا اور میم دیا کی نظر پڑ گٸ اور انہوں نے ان دونوں کو کھڑا کر دیا اس نے کچھ کہنا چاہا مگر میم نے کتاب اٹھا کر پڑھانا شروع کر دیا۔افففففففففف اوپر سے لڑکیوں کی ہنسی۔خیر ان کو تو میم نے ڈانٹ کر چپ کروا دیا یہ ان کا پہلا امپریشن تھا جع میم پر کافی خراب پڑا فہام تو خاصا پریشان ہوا لیکن عمر نے ذرا پرواہ نہ کی اور کلاس میں میم سے جان بوجھ کر اتنے سوالات کرتا کہ وہ زچ ہو جاتی۔ایک دن میم سے عمر خان نے پوچھا میم جب گھوڑا ہنہناتا ہے تو وہ کیا کہتا ہے؟

ان کے پیریڈ کے آخری دس منٹ سوال جواب کے لٸے مخصوص تھے۔

اس سوال پر ان کو غصہ آ گیا کیا یہ سوال ہمارے موضوع سے مطابقت رکھتا ہے انہوں نے کافی غصے سے پوچھا۔

Read More:  Hijab Novel By Amina Khan – Episode 24

نو میم بٹ انفارمیشن میں اضافہ ہوتا ہے اسے میم کا تپا تپا چہرہ دیکھ کر ہنسی آ گٸ۔یہ سوالات تم اپنے اسلامیات کے سر سے پوچھا کرو میم نے کہا۔

کیوں میم آپکو نہیں پتہ؟پیچھے سے آواز آٸ؟

نہیں پتہ اور غصے سے اپنا بیگ اٹھا کر باہر چلی گٸیں۔

پیچھے پوری کلاس کی ہنسی کو آواز تھی فہام نے پیچھے مڑ کر اس کو ڈانٹا اتنے میں کلاس کی مانیٹر نے ان کو غصے سے دیکھا اور

:اور میم کو منانے ان کے پیچھے چل دی چمچی وہ پھر سے ہنسے۔

چند لمحوں بعد وہ منہ لٹکاۓ واپس آٸ۔اس دن اس نے عمر خان سے بے حد ناراضگی کا اظہار کیا جس پر اس نے فہام کو بزدل کا لقب دیا۔

اگلے دن میم دیا کلاس میں نہیں آٸ اور فہما میں ضبط کا یارانہ نہ تھا وہ گیا سٹاف روم میں اور میم دیا علی کچھ پیپرز سیٹ کر رہی تھی مے آٸ کم ان کی آواز پر انہوں نے سر اٹھایا اور سر ہلا دیا۔

میم آپکا پیریڈ ہے کلاس میں آٸیں اس نے نظر جھکا کر ادب سے کہا۔

گو ٹو یور کلاس دیا علی نے کہا۔

میم پلیز

نو

میم پلیز اب ایسا نہیں ہو گا نہ پلیز وہ رو دینے کو تھا ان کو حیرت ہوٸ۔

اوکے میں آتی ہوں جاٶ۔

تھینکس وہ مسکرا کر چلا گیا۔اس کی بچپن کی عادت تھی کہ اگر اس سے کوٸ راضی نہ ہو پاتا تو وہ رو پڑتا۔

میم کلاس میں آگٸ اور عمر کو مخاطب کیا آپ نے جو کل سوال پوچھا تھا اس کا جواب ہے پاک ہے میری حفاظت فرمانے والا جب جنگجو لڑتے ہیں اور مردان کار لڑاٸ میں مصروف ہوتے ہیں۔

تھینکس مجھے پتہ ہے میم عمر خان نے مسکرا کر کہا فہام نے اسے دل ہی دل میں دو چار القابات سے نوازا۔

میم نے اسے نظرانداز کر دیا۔یوں ہی دن گزرتے جا رہے تھے عمر کے ٹیسٹ کافی اچھے

:ہو رہے تھے اس کے برعکس فہام کے برے ہو رہے تھے وہ جتنی بھی تیاری کرتا مگر پیچھے رہ جاتا میم نے اسے دو تین مرتبہ ڈانٹا بھی مارا بھی مگر اسے سمجھ ہی نہ آتی کہ مسلہ کیا ہے باقی مضامين میں وہ اچھا تھا اسی لیۓ وہ خاصا پریشان تھا۔

ایک دن ٹیسٹ تھا میم نے کلاس میں ہی چیک کر کہ دٸیے اس دن ٹیسٹ کافی گندے ہوۓ تھے انہوں نے کافی غصے میں سٹک منگواٸ ور مارنا شروع کر دیا ہر بچے کے پاس کوٸ نہ کوٸ وجہ تھی مگر انہوں نے کسی کی بات پر دھیان ہی نہ دیا جب فہام کی باری آٸ تو وہ بولا میم۔۔۔۔

Read More:  Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumera Shareef Toor – Episode 4

نو ایکسکیوز انہوں نے غصے سے کہا۔

نہیں میم وہ میرا ٹیسٹ۔۔۔۔۔۔۔

چپ۔

میم میرا ٹیسٹ۔۔۔۔

شٹ اپ فہام ہاتھ آگے کرو میم نے کہا اور اس نے چپ چاپ ہاتھ بڑھایا باقی بچوں کو چار چار پڑی مگر اس کی بحث اور نالاٸقی کی وجہ سے اس کو چھ پڑی اس کے ہاتھ سرخ پڑ گۓ اس نے بمشکل آنسو ضبط کٸے۔

مارنے کے بعد میم نے سب سے ٹیسٹ گندا ہونے کی وجہ پوچھی ان کی غلطیوں کی نشاندہی کی جب فہام کے پاس آٸ اس نے اپنا ٹیسٹ آگے کیا۔

میں نے ٹیسٹ نہیں مانگا آپ سے۔انہوں نے ایک نظر اس کے ٹیسٹ پر ڈال کر کہا۔

نو میم میرے مارکس۔۔۔۔

اوہ نو انہوں نے اس کے ٹیسٹ کو دوبارہ

دیکھتے ہوۓ بےساختہ کہا۔

نکمے جب تمہارے نمبر پورے تھے تو تم نے مار کیوں کھاٸ میم نے افسوس سے کہا۔

میم میں آپ کو بتا رہا تھا مگر آپ نے میری بات ہی نہیں سنی فہام نے وضاحت کی۔

ہاتھ دکھاٶ انہوں نے کہا۔

اس نے سامنے کر دیا۔

آٸ ایم ریٸلی ویری سوری فہام مجھے لگا آپ کے نمبر کم ہوں گے۔

کوٸ بات نہیں میم اس نے ان کو شرمندگی سے نکالا کہتے ہیں کہ جہاں استاد مارے وہاں آگ حرام ہو جاتی ہے۔

میم آپکو پہلے نمبر دیکھنے چاہیۓ تھے عمر غصے سے بولا۔

ہاں یہ میری غلطی۔۔۔۔۔میم نے کہنا چاہا۔

عمر چپ کرو فہام ناراضگی سے بولا اتنے میں میم مومنہ کلاس میں داخل ہوٸیں اور دیا علی چلی گٸیں۔

*******************************

یار سدھر جاٶ روز غاٸب ہو جاتے ہو آخر تم جاب کیا کرتے ہو ایش نے ناراضگی سے فہام کو کہا۔

سوری یار وقت آنے پر بتاٶں گا اوکے آج میں بالکل فارغ ہوں اس نے مسکراتے ہوۓ کہا اوکے پھر ہم مووی دیکھنے چلیں گے ایش نے ایک دم کہا۔

یار موویز۔۔۔۔

پلیز حمزہ اس پر بحث نہیں ایش اس کی بات کاٹ کر تیزی سے بولی۔

اوکے اس نے سر تسلیم خم کیا۔

پتہ ہے کیا ہم شادی کے بعد ہر ہفتے کوٸ مووی دیکھیں گے ایش نے پلان بنایا۔

اتنی دور کا مت

:سوچو وہ سنجیدہ ہوا خدا جانے ہمارے نصیب میں کیا ہے۔

حمزہ ڈرا رہے ہو یار ایش نے خفگی سے سر جھٹکا۔

حمزہ نے اسے اپنی جاب کے سوا ہر بات بتاٸ تھی کہ وہ گاٶں کا باسی ہے مگر ایش کو کوٸ اعتراض نہیں تھا۔

******************************

ماضی۔

اس کے بعد میم دیا علی کا رویہ اس کے ساتھ بہت بہتر ہو گیا تھا لیکن عمر کو وہ ناپسند تھی۔

Read More:  Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 11

ایک دن فہام نے گھڑی پہنی تھی وہ بار بار ٹاٸم دیکھ رہا تھا ایک دو بار انہوں نے منع کیا تیسری بار گھڑی اتروا لی اور دو تین دن دینا بھول گٸ کٸ دن بعد انہوں نے گھڑی لا کر اسکو دی۔

میم یہ میری گھڑی نہیں اس نے ان کو واپس کی۔

ڈاٸل دیکھو یہ گھڑی آپ کی ہی ہے بس چین بدلی کی ہے اس دن میرے چھوٹے بھتیجے نے پرس سے نکالی اور دانتوں سے خراب کر دی اس لٸے میں نے بدلوا دی وہ شرمندہ شرمندہ سی بولیں۔

کوٸ بات نہیں میم اٹس اوکے یہ اس کی نسبت خوبصورت لگ رہی ہے۔فہام نے کہا اور بات آٸ گٸ ہو گٸ۔

عمر پتہ ہے میم دیا اور فہام کا چکرچل رہا ہے ایک لڑکے نے عمر سے کہا۔

بکواس بند کرو وہ محض استاد شاگرد ہیں۔عمر خان کو بے حد برا لگا اس نے تلخی سے کہا۔

اوہ نہیں میں نے کل خود ان دونوں کو شاپنگ کرتے دیکھا

:اس نے زور دے کر کہا۔

مگر کل تو میں اور فہام گۓ تھے۔عمر بولا۔

میں نے خود ان کو دیکھا تھا یار تم پوچھ لینا فہام تو دوست ہے تمہارا بتا دے گا تمہیں سب کچھ۔

اچھا وہ الجھتا ہوا فہام کی جانب آیا وہ اس وقت لاٸبریری میں تھا۔

فہام بات سنو۔عمر نے اسے مخاطب کیا۔

جی۔اس نے کتاب بند کر کہ پوچھا۔

کل ہم شاپنگ کرنے گۓ تھے نا۔عمر خان بولا

ہاں کیوں اس نے حیرت سے پوچھا۔

اچھا وہ شعیب بکواس کر رہا تھا کہ کل تم اور میم دیا شاپنگ کر رہے تھے اس سے تو میں۔۔۔۔۔۔عمر غصے سے اٹھنے لگا کہ فہام نے اسکا ہاتھ پکڑا۔

کل مال میں میم ملی تھی اور میں نے ان کی گاڑی تک ان کا سامان پہنچایا تھا بس۔فہام نے بتایا۔

میں کہاں تھا؟عمر نے پوچھا۔

تم پے منٹ کر رہے تھے۔فہام بولا۔شعیب کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیۓ تھی۔

اس کو تو میں ٹھیک کروں گا عمر غصے سے بولا۔

نہیں تم نظرانداز کرو وہ ہے ہی گھٹیا۔فہام نے بات رفع دفع کی۔

***********************************

حمزہ مجھے تمہاری فیملی سے ملنا ہے ایش نے کہا۔

یار میں نے ابھی اپنے پیرینٹس کو نہیں بتایا ان کو بتاٶں گا پھر تمہیں لے کر جاٶں گا حمزہ سر کھجا کر بولا۔

کب بتاٶ گے وہ بے تابی سے بولی۔

ہممممممم

اس دفعہ۔

اچھا کب گھر جاٶ گے اس نے دریافت کیا۔
دو دن تک۔حمزہ نے جواب دیا۔

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: