Tumhare Jaisa Na Koi by Hadiya Sahar – Episode 2

0

تمہارے جیسا نہ کوئی از ہادیہ سحر قسط نمبر 2

اچھا میری مام سے تو مل لو اس نے اصرار کیا۔

نہیں پہلے تم میرے والدین سے مل لو پھر۔حمزہ تیزی سے بولا۔

اگر میں تمہارے پیرنٹس کو پسند نہ آٸ تو۔۔۔ایش نے شرارت سے پوچھا۔

تو کوٸ بات نہیں میں کسی اور کا انتظام کر لوں گا وہ اس کی شرارت سمجھ کر بولا۔

میں جان لے لوں گی ایش نےغصے سے کہا۔

نہیں یار تمہیں بھی کوٸ اچھا لڑکا مل جاۓ گا اپنی جان مت لینا حمزہ اسے مکمل طور پر زچ کرنے پہ تلا تھا۔

سدھر جاٶ وہ دانت کچکچا کر بولی۔

اوکے اوکے سوری اچھا گھر سے فون آ رہا ہے میں بعد میں کال کرتا ہوں اس نے جلدی سے فون کاٹا۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

حمزہ بولا۔

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

گھرکب آناھے؟

دوسری جانب شرجیل تھا۔

کیوں خیریت؟

وہ حیران ہوا کیوں کہ پہلے کبھی اس نے بات نہیں کی تھی گھر میں سب ٹھیک ہیں وہ گھبرایا۔

جی فوجی وہ ہنسا اماں پوچھ رہی تھیں۔

اچھا میں دو دن تک آٶں گا حمزہ نے بتایا۔اماں سے بات کرواٶ۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

حمزہ پتر کی حال ہیں اماں نے پوچھا۔

:وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ الحَمْدُ ِلله اماں میں بالکل ٹھیک ہوں اللہ آپکو صحت دے آپ ٹھیک ہیں نا اس نے فکرمندی سے پوچھا۔

مولا دا کرم اے کب گھر آنا ہے انہوں نے بھی شرجیل کا سوال دہرایا۔

اماں جمعرات کو ان شاء اللہ۔وہ مسکرا دیا۔

اچھا چل پتر خیال رکھنا اپنا ٹائم پہ روٹی شوٹی کھانا باہر کی چیزیں کم کھانا۔اماں نے نصیحت کی۔

جی اماں اس نے سعادت مندی سے کہا اور اماں نے اللہ حافظ کہہ کر فون رکھ دیا۔

جمعرات کو وہ گھر گیا تو چہل پہل کا احساس ہوا اماں آج کوٸ آ رہا ہے کیا اس نے پوچھا۔

نہیں جا چاچے کو دیکھ کے کب آۓ گا چھیتی اس کو نال لے کے آ۔اماں نے حکم نامہ جاری کیا۔

وہ چاچا کو لے کے آیا اور انہوں نے بڑے بھاٸ سے کہا آپ ہی اس سے بات کریں۔

وے حمزہ جب تم پیدا ہوۓ تھے تو تیری بہشتی ماں نے کہا تھا کہ تیرے چاچے کی کوٸ بیٹی ہوٸ تو اس سے شادی کرے گا کنیز کی پیداٸش پر یہ بات پکی ہو گٸ تھی ویسے تے مینوں پتہ ہے تینوں کوٸ اعتراض نہیں پر پرجاٸی نے کہا میرے منڈے کولوں پچھ لینا کوٸی زیادتی نہ کرنا۔

وہ ساکت ہو گیا اس کی خاموشی کو وہ اقرار سمجھے اور ایک دوجے سے گلے ملنے لگے وہ اٹھ کر اندر آ گیا۔

کچھ دیر بعد اس نے کنیز کو بلایا وہ شرماتی ہوٸ اندر آٸ کنیز مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے حمزہ بے حد سنجیدہ ہوا۔

جی وہ جھکی نظروں سے بولی۔

یہاں آٶ اس نے اسے قریب بلایا۔

وہ بیٹھی تو اس نے منت زدہ انداز میں اس کا ہاتھ تھاما اور سب کچھ بتا دیا اس نے ڈھیلے سے انداز میں کنیز کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

اس کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی ہوٸ تو محسوس ہوا

یہی وہ مقام ہے جہاں رستہ بدلنا ہے۔

ٹھیک ہے میں سب کو منع کر دوں گی اس نے کہا اور چلی گٸ اگلے دن وہ بھی واپس آ گیا۔

******************************

اگلے دن شعیب نے فہام سے کہا میم دیا تم سے بہت پیار کرتی ہیں نا۔

وہ تو سب اساتذہ ہی کرتے ہیں اس نے کہا۔

ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو وہ شیطانی انداز میں مسکرایا اور پوچھا تم؟

ظاہر ہے میں بھی میم دیا سے بہت پیار کرتا ہوں وہ ہیں ہی اتنی اچھی۔فہام کے لہجے میں عقیدت تھی۔

اچھااااااااااا وہ بولا۔

کیا چل رہا ہے بواٸز ایک سر ان کی طرف آۓ۔

سر فہام کہہ رہا ہے یہ اور میم دیا ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اس نے غلط انداز میں بات کی۔

کیا بکواس ہے یہ؟ وہ غصے سے بولے۔

سر وہ میرا یہ مطلب۔۔۔۔۔فہام اب اسکی بات سمجھا۔

تم نے یہ کہا ہے یا نہیں انہوں نے غصے سے پوچھا۔

سر وہ۔۔۔۔۔فہام ہکلا گیا۔

ہاں یا نہ کہا ہے یہ آپ نے؟

جی سر اس نے سر جھکایا۔

ایک زوردار تھپڑ اس کے چودہ طبق روشن کر گیا۔

آج فہام نہیں آیا میم دیا نے پوچھا۔

شعیب اور ظہیر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا میم وہ پرنسپل کے روم میں ہے شعیب نے کہا۔

کیوں؟میم دیا اور عمر خان ایک ساتھ بولے۔

اس نے ساری بات بتاٸ شٹ اپ شعیب میرا دوست ایسا نہیں عمر خان نے اس پر حملہ کیا لڑکوں نے ان کو الگ کیا۔

میں نہیں مانتی فہام ایسا بچہ نہیں ہے تمہیں کوٸ غلط فہمی ہوٸ ہو گی میم نے کہا۔

اچھا تو میم پھر مجھے کیسے پتہ کہ آپ دونوں شاپنگ پر گۓ تھے وہ کمینگی سے بولا۔

ہم دونوں مگر کب؟ وہ حیرت سے بولی۔

میم یہ تب کا کہہ رہا ہے جب اس نے آپکو اتفاقاََ دیکھ کر گاڑی میں سامان رکھوا دیا تھا اور اس نے دیکھ لیا تھا عمر خان نے نفرت سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔

اچھا مگر فہام نے تو بتایا تھا کہ آپ اور وہ شاپنگ پر۔۔۔۔۔۔

میم دیا آپکو سر بلا رہے ہیں کام والی نے آکر پیغام دیا

اور عمر بھی کلاس سے باہر نکل گیا۔

میم دیا کیا یہ سچ ہے؟

نو سر آپ مجھے جانتے ہوۓ بھی ایسا سوال کر رہے ہیں انہوں نے صدمے سے پوچھا۔

مگر یہ بچہ اس چیز کا اعتراف کر رہا ہے۔

سر میں نے یہ کہا کہ میم سے پیار کرتا ہوں جیسے کہ سب اساتذہ سے کرتا ہوں فہام روتے ہوۓ بولا۔

اوکے آپ کلاس میں جاٸیں پرنسپل نے اسے کلاس میں بھیجا۔

میم دیا بی کٸیر فل مجھے آپ پر یقین ہے مگر آپ اس سے بھی باقیوں جیسا سلوک کریں اب آپ جا سکتی ہیں۔

ان کو غصہ تو بہت آیا مگر انہوں نے ضبط کیا اور یہ سوچ کر کلاس میں چلی گٸ کہ وہ نہ گٸ تو سب شعیب کو درست سمجھیں گے اب انہیں اصل بات کا پتہ لگانا تھا۔

اگلے کہیں روز ایسے گزرے کہ وہ جہاں سے گزرتی سب فہام کا ذکر کرنے لگتے تنگ آ کر انہوں نے کالج چھوڑ دیا۔

*****************************

حال فہام کیا ہم کہیں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں میم دیا نے پوچھا۔

جی کیوں نہیں وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں آ بیٹھے اور داستان ادھر سے ہی شروع ہوٸ اور انکو پتہ چلا کہ ان تینوں نے ایک ہی دن کالج چھوڑا تھا۔

اصل میں ہوا کچھ یوں تھا کہ شعیب اور ظہیر کسی لڑکی کو تنگ کر رہے تھے کہ عمر خان نے ان کو سمجھایا جس پر وہ بولا تیرا یہ دوست تو بیچ والا لگتا ہے یہ تو کسی کو چھیڑ نہیں سکتا تو اس لٸۓ ہم پر غصہ ہو رہا ہے اس بات پر ہماری ہاتھا پاٸ ہو گٸ وہ دل میں بغض پالتے رہے اور یہ گھٹیا حرکت کی۔فہام نے تفصیلاََ بتایا۔

مگر آپکو یہ سب کیسے پتہ؟میم نے پوچھا۔

اسی دن انہوں نے بتایا ہماری بات پر یقین کسی نے کرنا نہیں تھا تب ہم خاموش رہے۔

اچھا۔۔۔۔۔۔کیا کرتے ہو آٸ مین جاب؟میم نے پوچھا۔

ریڈیو پر پروگرام کرتا ہوں ساتھ آفس میں۔

اور عمر۔۔۔۔۔

وہ پاک آرمی میں تھا فہام نے نظر جھکا کر کہا۔

تھا اب کس میں ہے۔انہوں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

عمر کا آخری جملہ تھا۔

پرچم لپیٹ دیجیۓ گا میرے کفن کے ساتھ

زندہ رہوں میں حشر تک اپبے وطن کے ساتھ

اوہ آٸم سوری فہام وہ بولی۔

نو میم وہ شہید ہوا ہے ہمارا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔

***************************

اماں میں حمزہ سے شادی نہیں کروں گی کنیز نے کہا اور اماں کا ہاتھ اٹھا اور اس کے گال پر نشان چھوڑ گیا۔

آنے دو اپنے باپ کو میں کرتی ہوں اس سے بات کیویں کہہ رہی ہے میں اودے نال نیٸں ویاہ کرانا تے کتھے کرانا ای اس ریڈیو والے نال اماں غضبناک انداز میں گویا ہوٸیں۔

اماں پلیز میری بات تو سنیں۔وہ گڑگڑاٸ۔

منہ بند کر کنیز تیرے توں چنگا میرا منڈا اے اک لفظ ہور نیٸں کیا من گیا آرام نال اماں فخر سے بولی۔

اسی کا تو سارا رولا ہے وہ بڑبڑاٸ۔

اماں

:وہ حمزہ نے مجھے کہا ہے انکار کرو وہ سیدھی سادی دیہاتی دوشیزہ تھی جھوٹ بولنے کی عادی نہیں تھے سو سچ بتا دیا۔

نہیں حمزہ پہ الزام نہ لگاٶ میرا پتر تیرے ورگا نیٸں۔

اف وہ اکتا کر باہر اپنے کمرے میں چلی گٸ۔

وہ چھوٹی سی تھی تب سے اسے حمزہ پسند تھا اس نے ایک دفعہ خواہش کی تھی کہ حمزہ فوج میں جاۓ اور پھر وہ اس سے شادی کرے اور تب اس نے حمزہ سے کہا تھا اور وہ کہنے لگا افففففففف شادی اور تم سے ۔۔۔۔ میں تو ہر گز نہیں کرونگا۔یہ ان کے بچپن کی بات تھی ایسی کٸ یادوں کے دریچے کھلے اور وہ ان میں کھو گٸ۔

*****************************

چلیں ہماری باتیں تو ہو گیٸں اب آپ بتاٸیں آپ اتنی کمزور کیسے ہو گٸ ہیں اور شادی ہونے والی تھی نا آپکی فہام نے پوچھا۔

کمزور تو نہیں ہوٸ البتہ شادی ٹوٹ گٸ انہوں نے نظریں جھکاۓ جواب دیا۔

اچھا کیسے اسے افسوس ہوا۔

لمبی کہانی ہے چھوڑو میں چلتی ہوں دیر ہو گٸ ہے کافی انہوں نے کہا۔

آپ مجھے نمبر دیں گی اپنا اس نے ججھکتے ہوۓ کہا۔

ہممممم دیا نے نمبر بولا اور وہ اپنے اپنے راستے ہو لیۓ۔

*****************************

ایش مجھے تمہیں اپنے گھر والوں سے ملوانے جانے ہے منڈے کو۔۔۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: