Tumhare Jaisa Na Koi by Hadiya Sahar – Episode 3

0

تمہارے جیسا نہ کوئی از ہادیہ سحر قسط نمبر 3

آج تھرسڈے ہے ریڈی رہنا حمزہ نے ایش کو بتایا۔

ہاں ٹھیک ہے تم مجھے ڈریسنگ وغیرہ کا بتا دو اس نے کہا اور حمزہ اسے سب بتانے لگا۔

*************************

آج جمعہ ہے۔۔۔۔

کیا آپ مجھ سے ملنےآ سکتی ہیں ایش؟فہام نے پوچھا۔

سوری میں وہ کوٸ روکھا سا جواب دینے والی تھی کہ وہ ایکدم بولا آج میری سالگرہ ہے پلیز۔۔۔۔

اوکے وہ بادل نخواستہ بولی۔

اس نے جھٹ اسے جگہ بتاٸ اور خوشی سے تیار ہونے لگا۔

وہ مطلوبہ جگہ پہنچی سامنے ہی حمزہ نظر آیا جو اسے دیکھ کر تیزی سے اس کی جانب بڑھا وہ اس کے آنے پر مسکرا دی۔

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ایش نے اسے گلدستہ دیا۔

تھینک یو ایش۔وہ کھل کر مسکرا دیا۔

میں جلدی میں کچھ اور نہیں لا سکی۔اس نے معذرت خواہانہ انداز اپنایا۔

اٹس اوکے اس سے بہترین تحفہ کوٸ اور ہو بھی نہیں سکتا تھا۔وہ بہت خوش تھا اور خوشی اس کے ہر ہر انداز سے جھلک رہی تھی۔😊

انہوں نے ساتھ جو وقت گزارا وہ فہام کے لٸے بہت قیمتی تھا۔

میں چلتی ہوں کافی دیر ہو گٸ ہے مجھے آۓ ہوۓ ایش نے اٹھتے ہوۓ کہا۔

اچھا وہ مایوس ہوا ابھی تو میں نے جی بھر کے ایش کو دیکھا بھی نہیں ہے اس نے دل میں کہا۔

ایش اس نے آواز دی وہ چلتے چلتے رکی

اور حیران نظروں سے کیا ہوا؟ اس نے پوچھا۔

فہام نے اسی کے لاۓ ہوۓ پھول اس کی جانب بڑھاۓ اور اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ول یو میری می ایش۔۔۔۔۔وہ اپنی پرشوق نگاہیں اس پر جماۓ اس کے جواب کا منتظر تھا۔

ایش نے مسکرا کر گلدستہ تھاما وہ خوشی سے کھڑا ہو گیا۔

ایش نے گلدستہ ایک جانب پھینکتے ہوۓ ہاٶ ڈیر یو میرے لاۓ ہوۓ پھولوں سے ہی مجھے پرپوز کر رہے ہو ٹٹ پونجیۓ کہیں کہ میں تو محض تمہارا دل رکھنے کے لیۓ تم سے ملنے آ گٸ شکل دیکھی ہے تم نے اپنی۔۔۔

ایکسکیوز می لیڈیز اینڈ جنٹلمینز ایش نے تالی بجا کر ان کو بھی متوجہ کیا جو اپنی دنیا میں مگن تھے۔

یہ شخص ایک آواز بیچنے والا مجھ سے ایش سے شادی کرنا چاہتا ہے کیا یہ کپل بنتا ہے؟؟؟

پہلوۓ حور میں لنگور کسی نے جملہ کسا۔

فہام کی رنگت پیلی پڑ گٸ تھی۔ ایش میری بات تو سنو میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا پلیز۔۔

ایش نے غصے سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا بند کرو اپنی بکواس جا رہی ہوں میں وہ تن فن کرتی چل دی۔

اس نے اردگرد دیکھا کسی آنکھ میں اس کے لیۓ ترحم تھا اور کسی میں تمسخر۔

وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔

سارا راستے وہ روتا رہا اس کے کانوں میں ایش کا یہ ہی جملہ گونجتا رہا

آواز بیچنے والا اسے لگا ہر ایک اس کی طرف انگلی کر کے کہہ رہا ہے آواز بیچنے والا۔

Read More:  Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 15

وہ گھر پہنچا اور بستر پر لیٹ گیا۔

اسکی آواز فون کی بیل سے کھلی اسے ریڈیو سے کال آٸ تھی اس نے ناسازی کا کہہ کر آنے سے معذرت کر لی۔

اچانک اس بہت اکیلا پن محسوس ہوا اسے بہت خوف محسوس ہوا اس نے بلا سوچے سمجھے دیا علی کا نمبر ملایا۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

دیا نے کہا۔

میم پلیز آپ مجھ سے ملنے آ جاٸیں اس نے التجا کی۔

ناجانے اس کے لہجے میں کیا تھا کہ وہ ایکدم بولی کہاں ہو آپ اس نے گھر کے نزدیکی پارک کا بتایا اور پارک چلا گیا۔

*****************************

آج حمزہ ایش کو لے کر گھر جا رہا تھا ایش بولی حمزہ میں نے پہلی مرتبہ قمیض شلوار پہنی ہے بہت عجیب لگ رہا ہے کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔۔۔

اچھی لگ رہی ہو بہت یار کنیز فاطمہ نے بتا تو دیا ہے گھر میں مگر پتہ نہیں کیوں مجھے اتنا ڈر لگ رہا ہے حمزہ نے کہا۔

فوجی ہو کر ڈرتے ہو ہاہاہا ایش نے اسے چھیڑا۔

بدتمیز تمہیں میں نے اپنا فوجی ہونے کا بتا کر غلطی کی ہے حمزہ نے موڑ کاٹتے ہوۓ کہا اور یونہی ہنسی مذاق کرتے وہ گھر پہنچ گۓ-

*****************************

ریلیکس ہو جاٶ فہام مت رو ایسے، دیکھو تم بہتر کی جانب قدم بڑھاتے ہو اللّٰہ تعالیٰ تمہیں بہترین عطا فرماتا ہے دیا علی نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا۔

میم اس نے مجھے صرف ریجیکٹ کیا ہوتا تو اتنا دکھ نہ ہوتا اس نے میرا سب کے سامنے تماشہ بنایا ہے مجھے ہر بندہ اپنی جانب انگلی اٹھاتا ہوا لگتا ہے کہ وہ دیکھو یہ وہی ہی جسکو ایک لڑکی نے بری طرح سے ذلیل کیا ہے میں کہاں جاٶں میں کیا کروں۔فہام بے بسی کی انتہا پر تھا۔

کچھ نہیں ہوتا فہام کون اس بات کو یاد رکھے گا تم دیکھنا کل تم اسی جگہ جاٶ کوٸ تمہیں پہچانے گا بھی نہیں تم خوامخواہ کانشس ہو رہے ہو دیا علی نے اسے کہا۔

نو میم ہر بندہ یہ بےعزتی یاد رکھے گا میرے امی بابا بھی چلے گۓ کوٸ نہیں ہے میرا میں کس سے اپنے دکھ بانٹوں کون میری اذیت بانٹے گا وہ سسکنے لگا۔

اس اونچے لمبے مرد کو روتے ہوۓ کٸ لوگوں نے حیرت سے دیکھا اور دوبارہ سے اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہو گۓ۔

فہام میری طرف دیکھو دیا علی نے اسے اپنی جانب موڑا۔میں ہوں تمہاری میں تمہاری اذیت بانٹوں گی آج سے تمہارا ہر دکھ اور سکھ ہمارا۔دیا علی نے اسے کہا۔

وہ بے یقینی سے انہیں دیکھنےلگا۔

دیکھو فہام وہ ایک گہری سانس لے کر بولی تمہارے دوست بھی ہوں گے تمہارے ساتھ کام کرنے والے بھی تمہارے قریب ہونگے مگر ان سب لوگوں کو چھوڑ کر تم نے مجھے کیوں بلایا پتہ ہے؟

نہیں کیوں؟ اس نے بچوں سی معصومیت سے پوچھا۔

اس لیۓ کہ یہ اللّٰہ نے چاہا ہے دکھ درد کے وقت میں تمہارا سہارا بنوں ہم دکھ میں اسی کے پاس جاتے ہیں جو ہمیں سب سے زیادہ سمجھتا ہے جس سے کہہ کر ہمارا دکھ ہلکا ہو جاۓ۔اور واقعی فہام کو اپنا آپ ہلکا پھلکا لگا یوں دیا علی فہام کی خوشی اور غم کی ساتھی بن گٸ۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 9

***************************

حمزہ یہ کیسا عجیب سا گھر ہے تمہارا ایش نے منہ بنایا۔

اششش چپ ابا جی سامنے ہی ہیں یااللّٰہ بچا لینا حمزہ بولا۔

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ ابا جی وہ ان کے سامنے آیا انہوں نے اس سے منہ موڑ کر ایش کو دیکھا اور کھڑے ہو کر اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور چلے گۓ۔

وہ شرمندہ سا صحن میں کھڑا رہا جب باقی سب ان سے آ کر ملے سب کا انداز نارمل تھا کنیز چاۓ رکھ کر چلی گٸ اور باہر نہیں آٸ۔

اندر جا کر کنیز پھوٹ پھوٹ کر رو دی مجھے کیا پتہ تھا حمزہ کہ تم اتنے بدل جاٶ گے تمہیں میں کیوں نہیں نظر

:آٸی یا اللّٰہ یہ ہمارے درمیان کیوں آٸ ایسے میں حورین کمرے میں داخل ہوٸ آپی بھیا کی شادی ان سے ہو گی جو باہر بیٹھی ہیں؟

ہاں اس نے رخ موڑے بنا جواب دیا اور ایک آنسو اس کے گال پر پھسل گیا حورین اچھلتی ہوٸ باہر چلی گٸ۔

شرجیل نے ایش سے پوچھا آپی آپ بھینس کو نہلا لیں گی شادی کے بعد؟ گو کہ وہ بہت مدبر بنا بیٹھا تھا مگر خود کو یہ سوال کرنے سے روک نہ پایا۔

واٹ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا ایش غصے سے بولی اسے بھینس کا نام سنتے ہی غصہ آ گیا اپنے گھر میں اس نے ہل کر کبھی پانی تک نہ پیا تھا اور یہ تو سیدھا بھینس کو نہلانے لگا تھا۔

شرجیل روہانسا ہو گیا ایش وہ مذاق کر رہا ہے حمزہ نے اسے کہا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں چپ رہنے کا اشارہ کیا۔

اس کے بعد سارا وقت شرجیل خاموش رہا۔

بیٹا آپکے ابو کیا کرتے ہیں کنیز کے والد نے پوچھا۔

انکل ان کا اپنا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس ہے اور آپ کیا کرتے ہیں؟

اس کے سوال پر سب کا منہ کھل گیا دیہات میں بزرگوں سے جوابی سوال کرنا بے حد معیوب سمجھا جاتا تھا۔

کیوں بیٹا آپ نے انکو بتایا نہیں انہوں نے حمزہ کی طرف دیکھا اور بولے میری دکان ہے۔

کتنی ایش نے ایک اور سوال کیا۔

ایک ہی ہے۔وہ

:مسکرا دیۓ۔

یوں کچھ دیر بعد وہ واپسی کے لیۓ روانہ ہو گۓ تمہاری کزن کو تم سے شادی نہ ہونے کا تو صدمہ نہیں تھا کہ ایک منٹ کے لیۓ باہر آٸ ایش نے تنفر سے کہا۔

ارے نہیں یہ وقت اس کے ریڈیو سننے کا ہے اور ہاں میں نے منع کیا تھا نا کہ کسی سے کوٸ سوال نہ کرنا اور تم شرجیل سے اتنا روڈ کیوں ہوٸ۔

حمزہ پلیز میں دیہاتی ماحول دیکھ کر اکتا گٸ ہوں تھوڑی دیر ریلیکس ہو جاٶں ایش اکتا کر بولی۔

Read More:  Filhal By Muhammad Shariq – Last Episode 15

حمزہ نے کچھ کہنے لیۓ منہ کھولا مگر پھر اس کے تاثرات دیکھ کر لب بھینچ کر ڈراٸیو کرنے لگا۔

************************

فہام فارغ ہو تم دیا علی نے فہام کو فون کیا۔

جی تقریباً دو گھنٹے بعد میرا شو شروع ہونے والا ہے تب تک فارغ ہوں کیوں؟اس نے بتایا اور پوچھا۔

مجھے ہاسپٹل جانا تھا امی کی رپورٹس لینی تھی اکیلے نہیں جاتا تم چلو دیا علی نے بتایا۔

جی چلوں گا اس نے جواب دیا۔

انہوں نے اسے بس سٹاپ پر آنے کو کہا اور خود بھی گھر سے روانہ ہو گٸیں۔

وہ بس سٹاپ پر پہنیچیں تو انہوں نے ادھر ادھر دیکھا مگر انہیں وہ کہیں نظر آیا دیا علی نے فون نکال کر اسے فون کیا۔

آپ کے سامنے جو کالے رنگ کی گاڑی آ رہی ہے میں اس میں ہوں اور پھر وہ گاڑی

دیا کے سامنے آ کر رکی اور فہام نے ان کے لیۓ فرنٹ ڈور کھولا۔

وہ ججھکتے ہوۓ بیٹھ گٸیں فہام ہم بس سے چلے جاتے دیا نے کہا۔

نہیں میں گاڑی نکالتا ہی نہیں ہوں باٸک ہی استعمال کرتا ہوں آج آپ کی وجہ سے یہ نکالی آپکو اگر انکمفرٹیبل لگ رہا ہے تو اسے ادھر ہی چھوڑ کر بس پر چلتے ہیں فہام نے مسکراتے ہوۓ کہا۔

نکمے چلو اب دیا علی نے اسے ہاسپٹل کا نام بتایا۔

ایک بات پوچھوں آپ سے فہام نے کہا۔

ہمممممممم۔

آپکی شادی۔۔۔۔۔

آہمممم دراصل میری شادی میری پھوپھو کے بیٹے سے طے تھی اللّٰہ بھلا کرے شعیب کا اس نے میرے کزن کو بتایا کہ میں اپنے ایک سٹوڈنٹ کو پسند کرتی ہوں اور ہماری شادی ٹوٹ گٸ دیا نے بتایا۔

خدا غارت کرے شعیب کو آپ یہ کیوں کہہ رہیں ہیں کہ اس کا بھلا ہو اس نے قدرے ناراضگی سے پوچھا۔

وہ اس لیۓ فہام کہ جو رشتہ اتنا کمزور ہو وہ ٹوٹ ہی جانا چاہیۓ اسکی مجھ سے شادی رہی تھی اور وہ مجھ پر رتی بھر بھروسہ نہیں کرتا تھا اس نے نہ مجھ سے صفاٸ مانگی نہ وضاحت بدکردار ہونے کا ٹھپہ لگا کر مجھے چھوڑ دیا مجھے دکھ نہیں ہوا خوشی ہوٸ کہ ایسا شخص میری زندگی میں شامل ہونے سے پہلی ہی خارج ہو گیا لیکن ایک دکھ البتہ ہوا کہ اس صدمے سے میرے والد چل بسے وہ سسکنے لگی۔

دیا پلیز سنبھالیں خود کو وہ بے چین ہوا۔

کیا کہا دیا؟

وہ رونا بھول کے اسکی جانب مڑی۔

ہاں وہ۔۔۔۔گڑبڑایا آپ میری دوست ہیں تو دوست کو نام سے ہی پکارتے ہیں اس نے انکو دیکھے بنا جواب دیا اسکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

دوست؟ وہ حیران ہوٸ؟

ہاں جس سے آپ اپنا دکھ بانٹو وہ دوست ہی ہوتا ہے فہام نے فلسفہ جھاڑا۔

اچھا دوست گاڑی روکو ہاسپٹل سامنے ہے وہ مسکراٸی۔

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: