Tumhare Jaisa Na Koi by Hadiya Sahar – Episode 4

0

تمہارے جیسا نہ کوئی از ہادیہ سحر قسط نمبر 4

حمزہ میرے پیرنٹس سے ملو اور شادی کی بات کرو ایش نے اسے کال کر کہا۔

اتنی جلدی وہ حیران ہوا۔

جلدی کہاں ہے مام اپنی کسی کینیڈین فرینڈ کے بیٹے سے میری شادی کرنا چاہتی ہیں اس لیۓ میں چاہ رہی ہوں تم ان سے ملو آج شام کو۔اس نے حکم جاری کیا۔

لیکن یار۔۔۔۔۔۔

لیکن ویکن کچھ نہیں تم آ رہے ہو یا نہیں ایش نے اس کی بات کاٹ کر پوچھا۔

نہیں اس نے ایک لفظی جواب دیا۔

کیا وہ چلاٸ۔

ابھی نہیں آ رہا نا شام کو آٶں گا وہ ہنسا۔

جان لے لوں گی میں تمہاری وہ غصے سے بولی۔

میری جان تو تم ہو ایش حمزہ مسکرایا۔

خیریت ہے نا دوسری طرف وہ مشکوک ہوٸ آج کچھ رومینٹک ہو رہے ہو۔

یار سوچا شادی ہونے والی ہے پریکٹس کر لوں وہ گویا ہوا۔

اوکے تو شام کو آ جانا پانچ بجے گھر میں میں نے بتا دیا ہے ایش نے کہا اور فون رکھ دیا۔

شام کو وہ ان کے گھر گیا۔

ایش نے خوشدلی سے اس کا استقبال کیا مام کا موڈ تھوڑا آف ہے اس نے بتایا۔

وہ دونوں اس سے ملے اس کی مام کافی روڈ انداز میں ملی جبکہ ڈیڈ نارمل رہے۔

کیا کرتے ہو تم اس کے والدہ نے نخوت سے پوچھا۔

اس نے ایش کو دیکھا اور بولا میں پاک آرمی میں۔۔۔

کتنا کما لیتے ہو انہوں نے اس کی بات کاٹ کر تیزی سے پوچھا۔

اتنا کما لیتا ہوں جتنے میں آپکی بیٹی خوش رہ سکے اس نے نپے تلے انداز میں جواب دیا۔

اتنے میں ملازم کھانے پینے کے لوازمات لے آیا۔

ویل مجھے نہیں لگتا انہوں نے تنفر سے سر جھٹکا ایش آٸ ڈونٹ لاٸک ہم وہ اس کی جانب مڑی۔

وہ غصے سے اٹھ کھڑا ہوا اتنا روڈلی کوٸ مہمان سے پیش آتا ہے کیا۔

ریلیکس ایش نے اسے کھینچ کر دوبارہ بٹھایا۔

بٹ مام آٸ لو ہم وہ لاپرواٸ سے ٹانگ جھلاتی بولی۔

اوکے دین بیسٹ آف لک فار یور میریڈ لاٸف وہ کہہ کر چل دی۔

بیٹا برا مت ماننا یہ ایسی ہی نیچر کی ہیں میرے ساتھ تو اسکا وہ سلوک تھا کہ شادی کے شروع کے چند مہینوں میں تو سب کو یہ ہی لگتا تھا کہ میں نیا ملازم ہوں انہوں نے ماحول شگفتہ بنانے کے لیۓ بےپرکی اڑاٸ مگر وہ مسکرا بھی نہ سکا۔

بیٹا تمہارے پیرینٹس ۔۔۔۔انہیوں نے پوچھا۔

جی ان کو کوٸ اعتراض نہیں وہ بولا۔

یوں ایک کھٹی میٹھی شام ان کے گھر گزار کر وہ واپس آ گیا۔

اس نے گھر کال کی اور فون شرجیل نے اٹھایا اسے تھوڑا عجیب لگا کیونکہ کنیز انکے ہاتھ میں فون نہیں دیتی تھی کہ بچوں کا کیا کام فون سے۔

کنیز فاطمہ کہاں ہے اس نے سلام دعا کے بعد دریافت کیا۔

شرجیل نے فون نیچے کر کے کنیز سے پوچھا جس نے حمزہ کا نام دیکھ کر فون شرجیل کو پکڑا دیا تھا۔

جو کر رہی ہوں وہ ہی بتاٶ نا کنیز جھنجھلا کر بولی۔

شرجیل سو گۓ ہو حمزہ غصے سے بولا۔

وہ آپی آٹا گوندھ رہی ہیں شرجیل بولا۔

اوکے اماں سے بات کرواٶ۔

اسنے فون اماں کو پکڑا دیا اود اندر بیٹھ کر ہوم ورک کرنے لگا۔

اماں وہ میں آج عاٸشہ کے گھر والوں سے ملنے گیا تھا اس نے بتایا۔

اچھا کیسے لوگ ہیں اچھے لگے تمہیں انہوں نے دریافت کیا۔

اس نے پوری بات بتا دی وہ خود میں چور سا ہو گیا کہ اسنے انکی بیٹی سے شادی سے انکار کیا مگر واقعی انہوں نے ثابت کیا کہ وہ اس کی بھی اماں ہیں۔

اماں آپکو گھٹنوں میں درد ہے اگر ابا جی اور لالا(وہ کنیز کے والد کو پیار

سے لالا کہتا تھا) انکے گھر رشتے کے لیۓ جاٸیں وہ ججھک کر بولا۔

کد جانا ای انہوں نے پوچھا۔

جب آپ کہیں وہ خوشی سے بولا۔

تمہاری واپسی پر تمہارے ساتھ ہی چلیں گے لالا پیچھے سے بولے وہ خوشی سے ان سے لپٹ گیا۔

یوں اگلے دن وہ ایش کے گھر پہنچے اس کی والدہ کا رویہ ویسا ہی تھا مگر والد بہت اچھے انداز میں پیش آۓ۔

اگلے مہینے کی ٢٦ تاریخ کو ان کی شادی طے کر دی ویسے بھی لڑکا لڑکی راضی تھے والدین تو رسمی طور پر ملے۔

حمزہ نے اماں کو فون پر بتایا وہ بہت خوش ہویٸں اور بےحد دعاٸیں دیں۔

شادی شہر میں ہو گی کیونکہ انکے مہمان گاٶں نہیں جا سکتے۔

حمزہ نے تھوڑے ردوکد کے ساتھ بات مان لی.

اماں نے کنیز کو کن اکھیوں سے دیکھا جس کا گلاب چہرہ دن بدن مرجھاتا جا رہا تھا وہ بیٹی کے جذبات سے کافی حد تک آگاہ ہو چکیں تھیں لیکن ان کے ہاتھ محض بے بسی تھی وہ کافی دیر تک اسے دیکھتی رہیں اور ایک فیصلہ کن انداز میں اٹھی کنیز مجھے حمزہ دا فون ملا کر دے وہ اس کے پاس آٸیں۔

اس نے چونک کر انہیں دیکھا اور فون ملا کر ان کے حوالے کر کہ اندر چل دی اس کی چال بہت شکست خوردہ تھی کسی ہارے ہوۓ جواری کی طرح جو اپنا سب کچھ لٹا کر خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔

حمزہ نے بے حد خوشی سے اماں کا فون اٹھایا۔

حمزہ تیری ووہٹی کتھے رہے گی انہوں نے پوچھا۔

اماں وہ ججھکتے ہوۓ بولا وہ گاٶں میں نہیں رہ سکتی۔

اماں نے ایک آسودہ سی سانس فضا کے حوالے کی۔

شادی میں پورا مہینہ تھا دونوں طرف سے شادی کی زوروشور سے تیاریاں شروع ہو چکیں تھیں۔

کنیز اسے لگا حمزہ نے اسے آواز دی وہ دوڑتی ہوٸ حمزہ کے کمرے میں گٸ خالی کمرہ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔

میری ہنسی تجھ سے

میری خوشی تجھ سے

تجھے خبر کیا بے قدر

جس دن تجھ کو نہ دیکھوں

پاگل پاگل پھرتی ہوں

کون تجھے یوں پیار کرے گا

جیسے میں کرتی ہوں

وہ سسک اٹھی اسے یاد آیا ایک مرتبہ عید پہ اس نے حمزہ کے کپڑے استری کر کہ رکھے جونہی وہ پلٹی حمزہ نے اسے ڈرا دیا اس نے زور کا تھپڑ اس کے بازو پہ مارا وہ ہنستا ہوا سامنے بیٹھ گیا۔

یار ویسے ایک بات ہے اس نے سسپنس پھیلاتے ہوۓ کہا۔

وہ کیا بھلا کنیز فاطمہ نے بےچینی سے پوچھا۔

تم میرے سارے کام ابھی سے کر دیتی ہو تو شادی کے بعد مجھے کوٸ مشکل پیش نہیں آۓ گی حمزہ شوخی سے بولا۔

اس کا دل حمزہ کی اس بات پر زور سے دھڑکا مگر اس کے اگلے جملے پہ وہ ایکدم اس کی جانب دیکھنے لگی۔

میری بیوی ریسٹ کیا کرے گی مہارانیوں کی طرح تم پر حکم چلایا کرے گی حمزہ شرارت سے بولا۔

اس نے نیچے بیٹھ کر رونا شروع کر دیا۔

کنیز میں مذاق کر رہا ہوں وہ اس بات پر روٸ کہ وہ کسی اور سے شادی کرے گا جبکہ وہ سمجھ رہا تھا وہ اس بات پر رو رہی ہے کہ اس نے کہا میری بیوی مہارانی کی طرح حکم چلاۓ گی۔

کنیز آپی آپ یہاں ہیں اف میں آپکو پورے گھر میں ڈھونڈ چکا ہوں شرجیل نے اسے وہاں دیکھ کر کہا۔

اس نے جلدی سے آنسو صاف کیۓ مگر وہ دیکھ چکا تھا آپی کیا ہوا رو کیوں رہی ہیں وہ پریشان ہوا۔

کچھ نہیں وہ سر درد کر رہا ہے اس نے کہا حقیقتاً اسکو سر میں شدید درد تھا۔

اوہ آٸیں میں دباٶں وہ اس کا سر دبانے لگا اس نے منع کیا مگر وہ زبردستی اس کو لٹا کر سر دبانے لگا اس کو کنیز بہت پیاری تھی اور کنیز کو بھی وہ بہت پیارا تھا ہر الٹی سیدھی بات آکر وہ کنیز کو بتاتا اور اگر کبھی اس کو مار پڑنے لگے تو وہ اس کے پاس ہی آتا اسکو یقین ہوتا کہ آپی مجھے بچاۓ گی اور وہ ہمیشہ اس کی ڈھال بن جاتی وہ ایک الگ بات ہے کہ بات میں اسے سمجھاتی ڈانتی مگر سب کےسامنے اس کو کچھ نہ کہتی نہ کہنے دیتی۔

شرجیل کے سر دبانے سے اس کو اتنا سکون ملا کہ وہ سو گٸ۔

_____________

بولیں کہ کہیں کنیز فاطمہ کے دل کا راز اس پر عیاں نہ ہو جاۓ۔

اس نے قطعی انداز میں کہا ہمیشہ ہوتا ہے تب ہی تو چیک کروانا ہے کہ کیوں ہوتا ہے۔

اور جس کے متعلق بات ہو رہی تھی وہ یوں لاتعلق انداز میں بیٹھی تھی گویا کسی اور کی بات ہو رہی ہو۔

حمزہ نے جھنجھلا کر اسے دیکھا اور اسے زبردستی تیار ہونے بھیج دیا۔

وہ بے دلی سے تیار ہو کر آکر حمزہ کے ساتھ کھڑی ہوٸ تو اماں نے بے ساختہ نظر چراٸ وہ دونوں ساتھ کھڑے مکمل لگ رہے تھے۔

اماں نے اسے بڑی چادر اوڑھاٸ اتنے میں حورین اور شرجیل بھی آ گۓ۔

تسی تے اینج تیار او جیویں ویاہ تے چلے او اماں نے انکو گھورا۔

ہاہاہاہا وہ کھلکھلا کر چل دٸے اماں کی نظروں نے دور تک ان کا پیچھا کیا اور اپنے بچوں کی خوشیوں کے داٸمی ہونے کی دعا مانگی۔

کنیز اور حمزہ آگے بیٹھے جبکہ حورین اور شرجیل پیچھے براجمان ہوۓ۔

اب تم مجھے بتاٶ کہ تمہیں سر میں درد کیوں ہے کوٸ فکر پریشانی ہے تو بتاٶ مجھے حمزہ نے کنیز سے پوچھا۔

وہ خاموشی سے گاڑی سے باہر دیکھنے لگی۔

کنیز پلیز مجھ سے بھی شٸر نہیں کرو گی دیکھو تم ہر بات بتاتی تھی نہ مجھے اب کیا ہوا میں بھی وہی ہوں تم بھی وہی ہو پھر ایسے اجنبی کیوں ہو؟

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: