Tumhare Jaisa Na Koi by Hadiya Sahar – Episode 6

0

تمہارے جیسا نہ کوئی از ہادیہ سحر قسط نمبر 6

حمزہ نے زلزلےسے متاثرین کو جان پر کھیل کر بچایا ایک جانب سے اسے بچے کے رونے کی آواز آ رہی تھی وہ غالباً ملبے تلے دبا تھا حمزہ نے تیزی سے اس جگہ سے ملبا ہٹایا اس نے ابھی اس بچے کو نکالا ہی تھا کہ ایک جھٹکے سے سارا ملبہ اس پر گر گیا اس کے ساتھی تیزی سے اس کی جانب مڑے بچہ وہ انکے حوالے کر چکا تھا مگر اپنا آپ نہ بچا سکا اس نے زور لگا کر خود کو نکالنا چاہا مگر اس کی ٹانگیں جو ملبے تلے تھیں وہ بے جان ہو گیٸں اس کے ساتھیوں نے اسے نکالا اور فوراً ہسپتال لے گۓ۔

حمزہ کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ہسپتال کے بیڈ پر پایا۔

نرس نے اسےہوش میں آتے دیکھا تو ڈاکٹر کو بلانے چل دی۔

ڈاکٹر نے پیشہ وارانہ انداز میں اس سے سوال پوچھے۔

ڈاکٹر صاحب وہ بچہ کیسا ہے اس نے بے تابی سے پوچھا۔

ڈاکٹر مسکرایا تم نے واقعی ثابت کر دیا کہ تم پاک آرمی کے جوان ہو اپنے بجاۓ تمہیں دوسروں کی فکر ہے وہ بچہ اب خطرے سے باہر ہے ڈاکٹر مسکرا کر بولا۔

حمزہ نے اٹھنا چاہا مگر وہ اٹھ نہ پایا۔

ڈاکٹر صاحب مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا اس نے بے بسی سے کہا۔

ڈاکٹر نے نظریں چراتے ہوۓ کہا کمزوری کی وجہ سے نہیں اٹھا جا رہا۔۔

نہیں کوٸ اور بات ہے اس کی چھٹی

حس نے اسے خبردار کیا۔

کیا میری ٹانگیں۔۔۔۔وہ آگے بول نہ پایا۔

ڈاکٹر نے افسوس سے اس کےکندھے پر ہاتھ رکھا اور جانے کو مڑا۔

میرا حوصلہ چٹانوں سے بھی بلند ہے میں پاک آرمی سے وابستہ ہوں اگر میری ٹانگیں وطن عزیز پر قربان ہو گیٸں تو یہ میرے لیۓ فخر کی بات ہے۔

اس کی بات سن کر ڈاکٹر جھٹکے سے پیچھے مڑا اور بے یقینی سے اس کی جانب دیکھنے لگا پھر چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور بولا۔

جیسا کہ یہ ہسپتال فوجیوں کے لیۓ مخصوص ہے ہزاروں کے حساب سے میں نے فوجی دیکھے ہیں مگر تمہارے جیسا جی دار کوٸ نہیں اس نے اسے سیلیوٹ کیا۔

کیا آپ ایک مہربانی کریں گے اس نے پوچھا۔

یس سر آپ حکم کریں ڈاکٹر نے فدویانہ انداز میں کہا۔

میں آپکو ایک نمبر دیتا ہوں آپ انکو یہ اطلاع کر دیں اس نے نمبر بولا۔

ڈاکٹر نے فون ملا کر باہر کی جانب قدم بڑھا دیۓ دوسری جانب کوٸ لڑکی تھی ڈاکٹر نے اسے ایڈریس بتا کر فون بند کر دیا۔

Read More:  Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 12

چند لمحوں بعد حمزہ کو آہٹ کا احساس ہوا سامنے دیکھا تو اماں اور کنیز نظر آٸیں وہ دونوں اسے دیکھتے ہی اس کی جانب تیزی سے بڑھیں۔

اماں نے اس کے ماتھے کو چوما میرا بچہ جبکہ کنیز فاطمہ سسکنے میں مصروف تھی۔

اماں نے اسے ڈانٹا رو کیوں رہی ہے جھلی حمزہ ٹھیک ہو جاٸیگا۔

ادھر آٶ حمزہ نے اسے پاس بلایا وہ روتی ہوٸ اس کے قریب گٸ۔

کنیز نہ رو نا دیکھو میں تمہارے آنسو بھی نہیں صاف کر سکتا اس نے بے بسی سے کہا۔

وہ چپ ہو گٸ۔

اچھا ایک کام کر دو میرا اس نے سرگوشی میں کہا۔

کیا کام اس نے سوالیہ انداز میں حمزہ کو دیکھا۔

ایش کو کال کر کے بتا دو حمزہ نے التجاٸ انداز میں کہا۔

اتنے میں لالا اور ابا شرجیل اور حورین کے ساتھ اندر داخل ہوۓ۔

وہ دونوں اس کے داٸیں باٸیں کھڑے ہو کر رونے لگے بھیا آپکو کیا ہوا ہے حورین نے پوچھا۔

لالا نے پیار سے حورین کا سر تھپکا۔

کنیز فاطمہ نے ایش کو فون کیا وہ شادی کی تیاریوں میں ایک دو دفعہ پہلے بھی اسے فون کر چکی تھی۔

اس نے دل پر جبر کر کہ اسے بتایا اور فون بند کر دیا۔

کیا حمزہ دوبارہ چل پاۓ گا لالا نے ڈاکٹر سے پوچھا۔

ڈاکٹر نے رشک سے ان کو دیکھا جی آپکا بیٹا بہت بہادر ہے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سال کے اندر وہ دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر ہو گا۔

ان شاء اللہ انہوں نے صدق دل سے کہا۔

ایش تیزی سے کمرے میں داخل ہوٸ حمزہ کے قریب آکر ہولے سے بولی حمزہ۔

حمزہ کو ڈاکٹر نے آرام کا کہہ کر سب کو باہر بھیج دیا تھا۔

حمزہ کو لگا اسکی سماعتوں کو دھوکا ہوا ہے مگر جونہی اس نے آنکھیں کھولیں تو ایش کو سامنے پایا۔

میں نے کتنا انتظار کیا تمہارا تم اب آٸ ہو حمزہ نے شکوہ کناں انداز میں کہا۔

مجھے جیسے ہی پتہ چلا تم ہسپتال میں ہو میں فوراً آٸ۔

اچھا بیٹھو اس نے اپنے قریب اشارہ کیا وہ گھوم کر دوسری جانب آکر اس کے بیڈ پر بیٹھی۔

حمزہ ایش نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔

جی وہ جی جان سے اس کی طرف متوجہ ہوا۔

تمہیں پتہ ہے نا میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں ایش نے کہا۔

”میں تجھ کو کتنا چاہتی ہوں

کہ تو کبھی سوچ نہ سکے“

Read More:  Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 2

مجھے پتہ ہے وہ مسکرایا۔

مگر حمزہ میں ۔۔۔۔

وہ جملہ ادھوارا چھوڑ کر اٹھ گٸ۔

مگر کیا وہ بے چین ہوا۔

مگر میں کسی لولے لنگڑے سے شادی نہیں کر سکتی اس کے اس جملے پر حمزہ کو لگا ایک بار پھر وہ ملبے تلے دب گیا ہے پہلے صرف ٹانگیں دبی تھیں مگر اب وہ گردن تک دھنس چکا تھا اس کا سانس رک گیا۔

تم مذاق کر رہی ہو ایش اس نے بے یقینی سے کہا۔

نہیں حمزہ مذاق تو قدرت نے تمہارے ساتھ کیا ہے ایش نے افسوس سے کہا۔

اتنی تکلیف تو حمزہ کو تب نہیں ہوٸ تھی جب اس کی ٹانگیں بے جان ہویٸں تھیں جب ڈاکٹر نے یہ روح فرسا انکشاف کیا تھا۔

تم خود سوچو اگر میں تمہاری جگہ ہوتی تو کیا تم۔۔۔۔اس نے سوال کیا۔

تم اگر میری جگہ ہوتی تب بھی میرے لیۓ قابل قبول ہوتی ایش میرے ساتھ یوں مت کرو وہ رو پڑا۔

جو شخص اپنی معذوری کی خبر سن کر نہیں رویا وہ تمہاری اس بات سے رو رہا ہے ایش مت کرو یوں۔

حمزہ تم جذباتی ہو رہے ہو میں چلتی ہوں اور ہاں شادی میری اسی تاریخ پر ہو گی محض دلہا بدلے گا وہ کہہ کر چل دی۔

”بھلا دیں گے تم کو صنم دھیرے دھیرے

محبت کے سارے ستم دھیرے دھیرے

ابھی ناز ہے ٹوٹے دل کو وفا پہ

کہ ٹوٹیں گے سارے بھرم دھیرے دھیرے“

اماں اس سب سے بے خبر کمرے میں داخل ہوٸیں بیٹا میں اور تمہارے لالا ایتھے ہی ہیں باقی گھر جا رہے ہیں تینوں کوٸ پریشانی تے نہیں اناں دے جان نال اماں نے اس سے پوچھا۔

نہیں اماں میں تھوڑی دیر سونا چاہتا ہوں یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ آپ جا سکتی ہیں۔

اماں اس کی حالت سے بے خبر باہر چلی گٸیں ان کو لگا وہ اپنی ٹانگوں کی وجہ سے پریشان ہے گر وہ اس کے دل کا حال سمجھ جاتی تو وہ اس کا حوصلہ بندھاتی مگر وہ چلی گٸیں۔

****************************

آنٹی پلیز مان جاٸیں نا پہلے آپ کہہ رہیں تھیں کہ دیا نہیں مانے گی اب میں نے اسے منا لیا

اور آپ نہیں مان رہیں فہام پریشانی سے بولا۔

اچھا تم نے دو صورتیں رکھیں ہیں نا کہ یا میں تمہارے گھر چلوں یا تم ہمارے گھر انہوں نے پوچھا۔

جی وہ جھٹ سے بولا۔

تم ہمارے گھر رہو گے انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔

الحَمْدُ ِللّٰہ وہ بے ساختہ بولا۔

****************************

لالا میرا فون آپکے پاس ہے حمزہ نے پوچھا۔

Read More:  Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 6

ہاں پتر تیرے بڑے افسر نے مجھے ہی دیا تھا انہوں نے جیب سے نکالتے ہوۓ کہا۔

اچھا وہ مجھے فہام سے بات کرنی ہے اس نے انکے ہاتھ سے لے کر کہا۔

سب کو ان دونوں کی دوستی کا پتہ تھا۔

میں ملا دوں لالا نے پوچھا۔

لالا ہاتھ سلامت ہیں میرے آپ شاید بھول رہے ہیں ٹانگیں ٹوٹی ہیں صرف وہ تلخ انداز میں بولا۔

لالا ایک پل کو حیران رہ گۓ پھر شرمندگی سے بولے نہیں وہ میں نے یونہی پوچھا۔

وہ جی بھر کر شرمندہ ہوا وہ ایش کا غصہ ان پر کر رہا تھا۔

لالا سوری وہ میرا مطلب تھا۔۔۔۔اس نے کچھ کہنا چاہا۔

لالا نے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا میرا بیٹا حوصلہ نہیں ہارنا مایوسی کفر ہے ایک بات یاد رکھنا جب تم اکیلے ہو گے کوٸ نہیں ہو گا تمہارے ساتھ تمہیں چاروں طرف اندھیرا دکھاٸ دے گا لیکن اللّٰہ تمہارا ساتھ تب بھی دے گا

کیونکہ وہ اللّٰہ ماں سے ستر گنا زیادہ پیار کرتا ہے یہ سب تمہاری آزماٸش ہے اگر اس میں کامیاب ہو گۓ تو وہ تمہیں اپنے انعام سے نوازے گا اور بے شک اللّٰہ کے عطا کردہ انعام کے سامنے ساری دنیا کے انعامات ہیچ ہیں۔

لالا کا ایک ایک لفظ اس کے دل پر اثر کر گیا۔

لالا پنجم تک پڑھے تھے مگر بات یوں کرتے جیسے آج کے پروفیسرز بھی نہیں کر سکتے۔

لالا آپ کو ایک بات بتانی تھی وہ جھجکا۔

بولو بچے وہ شفیق انداز میں گویا ہوۓ۔

ایش نے۔۔۔مجھ سے رشتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توڑ دیا ہے اس نے اٹکتے ہوۓ جملہ مکمل کیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔

تم ایک دفعہ اس سے کھل کر بات کر لو تاکہ بعد میں تمہیں کوٸ پچھتاوا نہ ہو لیکن وجہ کیا ہے لالا نے پوچھا۔

میری معذوری وہ پھر تلخ ہوا۔

جو صرف بہار میں ساتھ دے اور خزاں میں چھوڑ دے ایسے ساتھی کے ساتھ سے تم اکیلے ہی بھلے ہو وہ بولے بہرحال تم ایک بار اپنی طرف سے کوشش کر لو یہ کہہ کر لالا باہر چلے گۓ۔

”اگرچہ کسی بات پر وہ خفا ہوں

تو اچھا یہی ہے تم اپنی سی کر لو

وہ مانیں نہ مانیں یہ مرضی ہے ان کی

مگر ان کو پرنم بنا کر تو دیکھو“

اس نے ایش کو کال ملاٸ جو پہلی ہی بیل پر اٹھا لی گٸ کیوں فون کیا ہے وہ روکھے انداز میں بولی..

جاری ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: