Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 1

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ کسی میدانی علاقے کا خوبصورت سا دور دراز گاؤں تھا۔

گاؤں کے پاس سے گزرتی پکی سڑک پر کچھ گاڑیاں اور دو کوسٹرز آکر رکیں کیونکہ اس سے آگے گاڑیوں کے جانے کا راستہ نہیں تھا ۔۔
جہاں کوسٹرز اور گاڑیوں سے زرق برق فینسی کپڑوں میں اپنے آنچل سنبھالتی عورتیں نیچے اترنے لگیں وہیں مرد حضرات بھی بچوں کا ہاتھ تھامے نیچے اترے تھے۔

اور بجھے دل کے ساتھ ہی سہی لیکن اترا تو وہ بھی تھا جو سفر کے آغاز سے اب تک برے برے منہ بناتا آیا تھا ۔
کیونکہ وہ دلہے کا یار خاص تھا ۔

پھر اسکے بعد دلہا صاحب اترے جنکے اترتے ہی ڈھول کی تھاپ بلند ہوئی اور کچھ گانے والوں نے سروں کی اونچی تان اٹھائی۔

(رکھاں پیراں ہیٹھ کپاہ وے شکر اے آونڑیاں اے)

خدا کا شکر ہے تم جو آئے ہو تمہارے پیروں کے نیچے مخملی قالین بیچھاؤں میں

( میری پوری ہوئی ہر منشاء وے شکر اے آونڑیاں اے)

میری ہر مراد پوری ہوئی خدا کا شکر ہے تم جو آئے ہو

ان لوگوں نے جیسے ہی گاؤں کو جاتے کچے راستے پر پاؤں دھرے آس پاس ہرے بھرے کھیت ہمسفر ہو ئے جو تا حد نظر پھیلے ہوئے تھے۔

اسکا پھر سے منہ بن گیا

سرسبزو شاداب کھیتوں میں تھوڑی دور گھرے کچے پکے گھر اور ان کچے گھروں کے درمیان کچھ پکی اینٹوں کے چند ایک گھروں میں سب سے اونچے اور نمایاں گھر پر سجاوٹی لائٹیں جو دور سے ہی شادی والا گھر لگ رہا ہے

اسے یہ سب دیکھ کر بار بار کوفت کے جھٹکے لگ رہے تھے ۔
بھلا شاہنواز کے ابا جی کو چنیوٹ شہر کے دور دراز گاؤں میں اس کچی حویلی کے علاوہ پورے ملک میں اور کوئی جگہ نا ملی اپنے میجر بیٹے کی شادی کے

آہ ہ ہ

وہ بڑبڑایا تھا اور ساتھ ہی کمر میں ایک گھونسہ کھایا تھا۔
دلہا بنے شاہنواز نے گلے میں پہنے پھولوں اور نوٹوں کے ہاروں کا فائدہ اٹھاتے ایک زوردار مکا اسے مارا جس کی بک بک گھر سے شروع ہوئی تھی اور اب تک جاری تھی۔

بیٹا مجھے لگا چاچا سائیں زبردستی کر رہے ہیں لیکن یہاں تو تم بھی۔
یعنی کے حد ہوگئی ۔
جہنم میں جاؤ

وہ درد کرتی کمر کو نامحسوس طریقے سے سہلاتا دور ہو گیا

گرمیاں اپنے بھرپور عروج کے بعد اب جانے کی تیاریوں میں تھیں۔
جبھی آج کا موسم ٹھنڈی میٹھی بہار کا پیام لایا تھا۔
دوسرے لفظوں میں میجر شاہنواز کی بارات اپنی تمام تر رنگینوں سمیت بہار موسموں کا پیام بن کر اس گاؤں میں اتری تھی۔

تھؤرے راستے کے بعد ہی ان لوگوں کے ساتھ ٹھنڈے میٹھے پانی کی نہر بہنا شروع ہوگئی ۔
ہلکے سروں میں چلتی صاف شفاف ہوا کسی بھی بڑے برانڈ کے اے سی کو مات دیتی نظر آتی تھی۔
اسکی کوفت تھوڑی دلچسپی میں ڈھلی یہ پرسکون ہوا اسے بہا رہی تھی
کیونکہ یہ رب کا عطیہ تھی جو ہر خاص و عام کے لیے یکساں ہوتا ہے ۔

ہرے بھرے کھیتوں پر رسیلے پھل دار درخت پھلوں کے بوجھ سے جھکے ہوئے تھے جو دور سے ہی دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے۔

وہ تو شروع سے نیچر کا شدائی تھا.جبھی شادی کا سارا ہنگامہ چھوڑ چھاڑ اس طرف چلا آیا۔

نہر کے بہتے پانی میں ہوا سرسراتے ہوئے گزر رہی تھی اسے کچھ سکون سا محسوس ہوا ذہن کہیں ماضی میں کھونے لگا وہ بھی ایسا ہی ٹھنڈا میٹھا سا دن تھا۔

———–000-———–

آج وہ تین دن بعد آیا تھا اسے سپیریر یونیورسٹی میں لیکچرار کی پوسٹ پر پورے دو ماہ ہوگئے تھے وہ خود حیران تھا کہ دو ماہ ایک جگہ ٹک کیسے گیا کیوں کہ بقول اسکی اماں بابا کہ علی سبحان میں پارا فٹ ہے جو اسے ٹک کر کہیں رہنے نہیں دیتا ۔
اسے خود بھی یہی لگتا تھا زندگی کے گزرے 28 سال صرف وہ سال ہی گھر ٹک کر رہا تھا جب تک کے وہ خود مختار نہیں ہوگیا تھا اٹھارویں سال کے شروع ہوتے ہی اس نے پھرنا شروع کیا تعلیمی مراحل کی ہر نئی ڈگری وہ کسی الگ ملک کی الگ یونی سے لیتا آیا تھا ۔

دس سال کے عرصہ میں وہ بہت کم پاکستان آیا تھا اکثر اسکے ماں بابا ہی اسے مل آتے تھے یہی وجہ تھی ۔
سوائے اپنے چاچا کی فیملی کے اسکی کسی سے خاص جان پہچان نہیں تھی اور چاچا کی فیملی میں بھی اسکا خاص تعلق تھا شاہنواز خان سے جو اسکا دوست جگر سب کچھ تھا اور آجکل پاک آرمی میں میجر تھا۔۔

وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان آیا ہی تھا جب اسے بہت سی جگہوں سے جاب آفر ہوئی اسکا ارادہ اپنا کالج بنانے کا تھا جبھی ساری ہینڈسم جابز کو چھوڑ کر شاہنواز کے کہنے پے سپیریر یونی میں لیکچرار کی پر کشش آفر قبول کر لی تاکہ پاکستان کے تعلیمی ماحول کو جانچ سکے ۔

پیچھلا پورا ہفتہ نئے سیشن کے ہنگاموں میں گزرا تھا اسی وجہ سے اس نے تین دن کا بریک لے کر اپنے کالج پرجیکٹ کے بہت سے کام کر لیے تھے۔

گرمیاں ہونے کے باوجود آج موسم بہت خوشگوار تھا رات ہونے والی بارش سے سب کچھ اجلا اجلا تھا اور اب بھی صبح اے چاروں طرف بادل گھرے ہوئے تھے
ساری یونی نکھری نکھری سی لگ رہی تھی۔

وہ شروع سے ہی نیچر لور تھا جبھی
سرسراتی خمار آلود ہوا جس میں ایک عجب سی مستی تھی اسے بھی بہکا رہی تھی۔

گاڑی اس نے ایڈمن بلاک کھڑی رہنے دی اور جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کلاس کی طرف چل پڑا تھا۔

بلو جینز کے ساتھ ڈارک چاکلیٹ کلر کی ڈریس شرٹ جسکی سلیوز فولڈڈ تھیں ماتھے پر ہلکے سے گرے بالوں کے ساتھ وہ لاابالی سا بندہ کہیں سے بھی پروفیسر نہیں لگ رہا تھا۔

کلاسز ابھی کافی دور تھیں جب ہلکی ہلکی کن من ہونے لگی اسکے علاوہ جو جو بھی گراونڈ میں تھا انکی چال میں تیزی آگئی تھی

ایک وہی تھا جو جیبوں میں ہاتھ ڈالے بڑے آرام سے چلا جارہا تھا بلکہ بارش نے اسکیاک چال میں ایک ردھم پیدا کردیااک ا ہونٹ خود ہی when you love some one کی مدھر سی دھن بجانے لگے ۔
وہ اپنے آپ میں مگن خدا کی رحمت میں جھومتا جھامتا لان کے بیچ بنے راستے پر کلاس کی طرف چلا جارہا تھا۔

ابھی وہ انگلش بلاک کے پیچھلی طرف تھوڑا دور تھا جب اپنی دھن میں مڑا اور اسکا پاؤں کسی چیز الجھا تھا۔

———000———

اسکے ماں باپ بچپن میں ہی گزر گئے تھے وہ اپنے دادا کے ساتھ انکے گاؤں میں رہتی تھی ۔
دوسرے لفظوں میں وہ ایک دوسرے کا سہارا تھے کریم صاحب جانتے تھے اسے پڑھائی کا جنون ہے اسکے باوجود بھی وہ کبھی بھی دادا کو چھوڑ کر اتنے بڑے شہر میں پڑھنے نا آتی اگر دادا اسے مجبور نا کرتے۔

انٹر میں اپنے علاقے میں شاندار نمبروں لینے پر اسے سوپئیریر یونی کے انگلش ڈپارٹمنٹ میں بہت آرام سے داخلہ مل گیا تھا اور ہاسٹل کا ارینجمنٹ دادا کے کسی رشتہ دار نے کروا دیا یوں وہ جو
“زلیخا علی کریم” تھی

اپنے خوابوں میں رنگ بھرنے نئی دنیا کے سفر پر چلی آئی تھی۔

پہلا پورا ہفتہ کلاسز اور ٹیچرز کو جاننے میں لگ گیا رملہ اور آیت سے دوستی بھی ہوگئی جو اس کی روم میٹ تھیں اور اسکی طرح کسی گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں ۔
سٹوڈنٹ فولنگ سے وہ تینوں تاحال بچی ہوئی تھیں ثانیہ کی وجہ سے جو انکی چوتھی روم میٹ اور انہی کے ڈپارٹمنٹ میں ایک سال سینئیر تھی ۔۔

دو دن پہلے وہ چاروں جب کلاس لے کر باہر نکلیں تو زلیخا کو اپنا رجسڑ یاد آگیا جو وہ فوٹو. کاپی شاپ پر بھول آئی تھی ان تینوں کو دو منٹ رکنے کا کہہ کر وہ کینٹین کی طرف چلی آئی جہاں ایک سینئیرز کا گروپ کچھ دن سے اسی کو تاڑے ہوئے تھا۔۔

اس نے جلدی سے کاپی شاپ پر رکھا اپنا رجسٹر اٹھایا پھر جیسے ہی مڑی کوئی اس سے ٹکرایا تھا بلکہ ٹکرائی تھی۔

ٹکرانے والی نے اسی پر بس نہیں کی تھی بلکے اسکا چشمہ بھی اتار لیا تھا اور چپ چاپ پلٹ گئی تھی۔

مائی ۔
وہ اپنی زبان میں کوئی گندی سی بات کہنے لگی تھی جب ثانیہ کی یاد دھانی یاد آئی
( ایک بات سن لو تم سب اول تو میں ایسا کوئی موقع آنے نہیں دوں گی یہ بس کچھ دن اور ہیں اسکے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن اگر تم میں سے کوئی کسی سئنیر کے ہتھے چڑھ گیا تو آرام سے بھیگی بلی بن کر پیش آنا کیونکہ جتنا زیادہ اکڑو گی اتنا ہی زیادہ تنگ کیا جائے گا).

تھی تو وہ پکی جٹی چشمہ چھینے والی مائی کا ایک منٹ میں حشر کرسکتی تھی لیکن کچھ جونئیر ہونے کی جھجک اور کچھ ثانیہ کے پڑھائے اسباق اسی لیے چپ کر گئی۔
اور چپ چاپ رونی صورت بنائے سئینرز کے گروپ کی طرف چلی آئی ۔

ہاں جی کیا نام ہے آپکا کہاں سے تشریف لائی ہیں اور کہاں جانا ہے میڈم

پورے گروپ میں جو لڑکا اسے زہر لگ رہا تھا سوال بھی اسی کی طرف سے آیا تھا ۔

باندر کا پتر وہ ایک منٹ میں پہچان گئی تھی ان میں سے کچھ اسے پیچھلے ایک ہفتے سے آتے جاتے گھور گھور کر دیکھتے تھے اور یہ باندر تو بڑی لہری آنکھ سے دیکھتا تھا

وہ نظریں جھکائے اندر ہی اندر تاؤ کھاتے ہوئے چپ کھڑی رہی البتہ ڈوپٹے کا پلو انگلیوں پر گھمانا شروع کردیا تھا۔

ہاؤ سویٹ کچھ لڑکیوں نے اسکے غصے سے لال پڑتے چہرے اور ضبط کی حدوں کو چھوتے ڈوپٹے کے پلو کو گھمانے کو شرماہٹ کا نام دیا۔

کچھ پوچھا ہے یا گونگی ہو باندر کا پتر تھوڑا پاس آکر دھاڑا تھا ۔

زلیخا نے بس ایک لمحہ لگایا فیصلہ کرنے میں اور اپنا اونچی ایڑھی والا جوتا جو وہ آج شوق، شوق میں پہن کر آئی تھی پوری قوت سے اس لڑکے کے پاؤں پر مارا جہاں سارے گروپ کی او نکلی وہی اس باندر جئے کی ہائے نکلی تھی درد سے کراہتے عینک اسکے ہاتھ سے چھوٹ گئی جسے زلیخا نے جھپٹ کر کیچ کیا اور اپنے گروپ کی طرف بھاگی تھی۔۔

———–000-———-

رملہ لوگوں کے پاس آتے ہی اس کی شکل یتیم مسکین سی ہوگئی ۔

کیا ہوا زلیخا اتنی لیٹ کیوں کردی بھئی
اور جانو یہ منہ کیوں اترا ہوا ہے تمہارا؟

یہ رملہ تھی جسے اپنے چوہدری ہونے کا بڑا زّعم تھا اور جو اپنے بدمعاش منگیتر کی شہ پر خود کو بڑی توپ چیز سمجھتی تھی۔

زلیخا نے دو تین گہرے سانس لیے پھر اپنی کارستانی بتائے بغیر مرچ مسالہ لگا کر آدھی ادھوری حقیقت انکے گوش گزار کی آیت اور ثانیہ تو چپ کر گئیں لیکن رملہ کا چوہدری خون ابل پڑا تم بس نام بتاؤ ان سب کا میں ابھی شیر علی جی کو بلواتی ہوں قسم سے تکہ بوٹی نا بنا دے تو رملہ چوہدری نام نہیں میرا وہ سرخ بھبھوکا چہرے کے ساتھ بولی تھی۔

اوو بس کرو یار اتنی تم کسی دتو قصائی کی کچھ لگتی نا ہو تو جب دیکھو تکہ بوٹی سے کم تم بات ہی نہیں کرتی ہو۔

کچھ بھی نہیں ہوا یہ چھوٹی سی بات ہے زلیخا یار تم ایویں ہی گھبرا گئیں یہ تو عام رواج ہے کالج یونیورسٹیوں کا آج تمہارے ساتھ ہوا کل کو تم لوگ کر لینا جونئیرز کے ساتھ

ثانیہ جو پیچھلے ایک ہفتے سے رملہ کے منہ سے شیر علی جی، شیر علی جی سن کر پک چکی تھی رملہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور ساتھ ساتھ زلیخا کو سمجھانے بھی لگی۔

لیکن فیر بھی ثانیہ آآ

ایک منٹ رملہ پلیز آپی نا کہنا مجھے
تم سے ایک سال چھوٹی ہوں تمہارا آئی ڈی دیکھا تھا میں نے اپنی نالائقی کو کم عمری مت بناؤ

رملہ برے برے منہ بناتی چپ ہوگئی تو ثانیہ مزید گویا ہوئی

یار میں یہ نہیں کہہ رہی چپ بیٹھ جاؤ لیکن سارے گروپ اے پنگا لینے سے بہتر ہے اسی ایک شخص کو ٹارگٹ کیا جائے جس نے زلیخا کے ساتھ بدتمیزی کی؟

بات پتے کی تھی اور اب سب کی سمجھ میں آنے لگی تھی اور پھر چاروں نے سر جوڑ کر ایک پلان بنایا جسے عملی جما پہنانے کا موقع انہیں ٹھیک دو دن بعد مل گیا تھا۔

———-000–———

آج موسم بڑا خوشگوار تھا زلیخا نے اپنا سفید پاؤں تک چھوتا سینڈریلا فراک پہنا تھا ساتھ سلور نیٹ کا دوپٹہ بڑے سٹائل سے لہراتے جب وہ یونی پہنچیں ان چاروں کا موڈ بھی خوشگوار ہوگیا کیوں انہیں رپورٹ ملی تھی آج انکا شکار اکیلا یونی آیا ہے
اپنے گروپ کے کسی بھی لڑکے کے بغیر سو ثانیہ کے ذمہ اس گروپ کی لڑکیوں کو باتوں میں لگانے کا کام سونپا گیا۔
باقی کا سارا کارنامہ زلیخا رملہ اور آیت نے سر انجام دینا تھا۔

وہ اسے آدھے گھنٹہ پہلے ایڈمن بلاک کی طرف جاتا دیکھ چکیں تھیں ۔
جبھی انگلش ڈپارٹمنٹ کی پیچھلی طرف لگے گلاب کے پودوں کی اوٹ لیے کھڑی ہوگئیں۔
بیچ راستے میں رسی بیچھا دی گئی تھی جسکا ایک کو نہ گلاب کے ساتھ باندھا گیا تھا جبکہ دوسرا زلیخا اور رملہ کے ہاتھ میں تھا جو دونوں پودوں کی اوٹ میں چھپی بیٹھی تھیں ۔

وہ بڑا اکڑ کر چلا آرہا تھا ۔
تمہیں تو بچوں آج مزہ آئے گا زلیخا سوچتی آیت کو اشارہ کرتی گلاب کے پیچھے چھپ گئی ۔

آیت چونکہ ڈر پوک تھی اسی لیے اسے صرف اشارہ کرنے کا کام سونپا گیا تھا ۔۔
لیکن یہ ان کی بدنصیبی تھی کہ جب زلیخا اشارہ کرتے چھپی تھی وہ لڑکا تبھی ان سے تھوڑی دور ایک موڑ سے مڑ گیا تھا
اور آیت نے نئے اسکے پیچھے پیچھے بڑی خمار آلود چال چلتے نئے آنیوالے انگلش کے پروفیسر کو وہ سمجھا تھا۔

آیت نے انہیں تھمبز اپ کا اشارہ کیا اور جلدی سے ان تک آئی ۔
ہائے نا کرو یار زلی اتنا پیارا اتنا معصوم لڑکا ہے یار تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔
زلیخا نے ایک تیز نظر آیت پر ڈالی
او ہو یار میرا مطلب تھا تمہارا چشمہ تو تمہارے پاس تھا نہیں کیا پتا تم کسی غلط بندے کو سزا دے رہی ہو؟
میرا دل نہیں مانتا اس بندے نے تمہیں
تنگ کیا ہوگا

وہ بندہ پاس آچکا تھا۔

قسمیں ایسا لگتا ہے میسی لگ رہا پے بلکہ یوں لگتا ہے جیسے
وہ فٹبال چھوڑ کر ادھر ہماری یونی میں آگیا ہو
میسی کے نام پر زلیخا کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی کیونکہ آیت کے ساتھ ساتھ اسکا اپنا بڑا کرش تھا
اس سے پہلے کہ وہ لگ رہے میسی کو ایک آنکھ دیکھتی

ارے جانے دو تم دونوں
اس میسی کی تو ایسی کی تیسی

رملہ نے باآواز بلند کہتے رسی کھینچ دی تھی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: