Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 13

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 13

–**–**–

زلیخا کے سکتے کو اسکی ساس کی آواز نے توڑا تھا جو ناشتہ لانے کا کہہ رہی تھیں ۔۔

جی آئی اماں کہتے وہ جلدی سے اٹھی ہاتھ صافی سے صاف کیے برش سے چوڑیوں کا پھیلاوا سمیٹا ناشتہ ٹرے میں رکھ دوبارہ سے چائے کا پانی رکھا اس سب کے دوران اس نے ہاتھوں کی تکلیف کو نظر انداز کیے رکھا پھر جب ٹرے سیٹ کر کے اٹھانے لگی تو دھیان اپنے ہاتھوں کی طرف گیا ہھر سے خون کی لکیریں نازک سی سانولی کلائیوں پر پھیل رہی تھیں۔

دروازے پر آہٹ ہوئی اس نے جلدی سے ہاتھ سنک کے نیچے کر دیے ۔

سسسسس آہ ہ ہ

سسکاری زخموں پر گرتے پانی سے ہونیوالی جلن کی وجہ سے نکلی تھی
لیکن آہ کا موجب کسی کا زور سے ہاتھ پکڑنا تھا۔

وہ جو کوئی باہر کھڑکی سے لگا کھڑا تھا کچھ دیر پہلے جسکا دل ان نازک سانولے حنائی ہاتھوں کو چھونے کو چاہ رہا تھا چومنے کو چاہ رہا تھا ۔

وہی کوئی بڑی محبت سے بڑی شدت سے اسکے پیچھے کچن میں آیا تھا اپنے دل کی معمولی سی خواہش پر سانولے چہرے پر لرزتی پلکوں کو دیکھتے اسنے بڑے حق سے زلیخا کے ہاتھ تھامے تھے لیکن زلیخا کی سسکی نے اسے فوراً سے پہلے متوجہ کر دیا تھا۔

او او یہ کیا ہوا یہ چوٹ کیسے لگائی اماں اماں آپ کتنی غیر ذمہ دار ہیں ۔

وہ حدرجہ پریشان ہوکر اماں کو آوازیں دینے لگا تھا زلیخا جو اسکے اچانک کچن میں آجانے پر ساکت سی ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی اماں اماں کی صداؤں پر اسنے گیلا ہاتھ جلدی سے شاہنواز کے منہ پر رکھا تھا۔۔۔

وہ جو سخت مضطرب اور پریشان سا ہاتھوں کا جائزہ لے رہا تھا اس اچانک افتاد پر اس نے نظر اٹھائیں سامنے وہ اپنی بڑی بڑی شہد رنگ آنکھوں میں خفگی لیے اسی کو گھورتے گردن نا میں ہلا رہی تھی ۔

شاہنواز کی آنکھیں مسکرانے لگی تھیں اگر زلیخا کا ہاتھ اسکے منہ پر نا ہوتا تو وہ کھل کر مسکراتا
وہ جو میجر شاہنواز تھا جس کے دل نے اپنی بیوی کے ہاتھ چومنے کی معمولی سی خواہش کی تھی اور وہ اپنی تمام تر جرأت کو بروئےکار لا کر بھی ایسا کبھی نا کرپاتا ۔

وجہ ایک ان دیکھا سا گریز تھا جو شادی کی پہلی رات سے اب تک قائم تھا اپنی زندگیوں میں ایک دوسرے کی جگہ اور حیثیت قبولنے کے بعد بھی ان دونوں میں ایک دیوار سی حائل تھی شاہنواز نے اپنی طرف سے انکی عمروں کے دس کے فرق کو جھجھک کا باعث گردانا تھا

اور اب زلیخا کا خود سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھنا اس نے ہنستی آنکھیں اوپر آسمان کی طرف اٹھائیں اور بے حساب خوش تھا۔

وہ دونوں ہی ٹرانس کی سی کیفیت میں تھے جب باہر سے ربنواز صاحب کی آواز آئی تھی شاہو پتر تیری یونٹ سے ٹیلیگرام آیا ہے۔

———————–

رملہ نے ساری یونی میں زلیخا کی شادی کہ تصویریں بانٹی تھیں اس وقت وہ دوستوں کے گروپ میں بیٹھی تھی جبھی سب کو ٹھوک بجا کر کہنے لگی

اللہ ہر کسی کا بہترین کارساز ہے زلیخا بے قصور تھی جبھی رب کی طرف سے آزمائش میں صبر کیے رہی اور رب سوہنے نے بدلے میں
“میجر شاہنواز خان بلوچ”

کی شکل میں اسے انعام دیا ۔

اب یہ شاہو بھائی کی پک غور سے دیکھو اور بتاؤ اپنی پوری یونی میں اتنا ہینڈسم اور گڈ لکنگ کوئی بندہ ہے؟

ہائے یار زلی کی تو لاٹری نکل آئی نیں؟؟

ہائے صدقے کیا ظالم مسکراہٹ ہے میجر صاحب کی؟؟

ارے وہ اپنے سر میسی تو پانی بھرتے نظر آرہے مجھے

غرض ہر طرف سے زلیخا کی قسمت کو سراہا جارہا تھا اسکے نصیب پر رشک کیے جا رہا تھا
ان میں وہ بھی بیٹھی تھی جو زلیخا سے اللہ واسطے کا بیر پالے ہوئے تھی حسد کا ناگ ایک بار پھر سے اسکے اندر سر اٹھانے لگا تھا۔

یار ہمیں تو زلی نے بلایا ہی نہیں اب اسے کسی دن مبارک باد دینے چلتے ہیں بلکہ اسی فرائیڈے کو رکھتے ہیں سب کیوں کیا خیال ہے۔۔
سب نے اثبات میں سر ہلائے

زلی یہاں لاہور ہی آئی ہے نا شادی کے بعد؟؟
ثانیہ نے چہرے پر دوستانہ سی مسکراہٹ سجا کر پروگرام بناتے سب سے رائے لی اور لگے ہاتھوں رملہ سے ایڈریس بھی پوچھنے لگی۔

نہیں وہ اپنے گاؤں لالیاں ہی ہے شاہو بھائی کی حویلی ہے وہاں کچھ عرصہ بعد آئیں گے وہ لوگ رملہ نے جواب دیا

اچھا یار نمبر ہی دے دو بندہ فون پر ہی بات کر لے ثانیہ نے بڑی لگاوٹ سے کہا تھا

زلی کا تو ابھی نہیں ہے شاہو بھائی کا سینڈ کرتی ہوں تمہیں صبر

آیت رملہ کو گھورتی رہ گئی لیکن وہ رملہ چوہدری ہی کیا جو اپنی عقلمندی سے بے وقوف ہونے کا ثبوت نا دے

اس بار بھی خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے اس نے پوری ایمانداری سے اپنی بے وقوفی کا ثبوت دیتے ثانیہ کو شاہنوازکا نمبر سینڈ کردیا تھا۔

———————–

ہیلو میجر صاحب میں ثانیہ بات کررہی ہوں ۔
جی جی محترمہ فرمائیں کیا آپکو زلہ سے بات کرنی ہے؟
بلواؤں اسے؟

ارے نہیں نہیں میں نے صرف آپ سے بار کرنے کے لیے فون کیا ہے آپ پلیز زلی کو مت بتانا ورنہ وہ مجھ سے خفا ہوجائے گی۔

شاہنواز کو عجیب سا لگا لیکن خود پر قابو پاتے ہوئے بولا

جی کہیں کیا بات کرنی تھی آپ کو؟

وہ سر بات دراصل یہ ہے کہ زلی کو پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن کالج میں کوئے حادثے اور دادا کی وجہ سے زلی کو پڑھائی ادھوری چھوڑنی پڑی ؟

حادثہ کیسا حادثہ؟
شاہنواز نے اسے بیچ میں ٹوک کر پوچھا

اوہ ہو تو آپکو نہیں پتا؟
ثانیہ نے چونکنے کی اداکاری کرتے ہوئے بڑی مکاری سے کہا؟

نہیں مس آپ بتا دیں ؟ شاہنواز کا وہی عاجزانہ سے لہجہ برقرار تھا

نہیں نہیں ار اگر آپکو نہیں پتا تو خیر ہے میں بھی بتا کر بری نہیں بنوں گی

اتنا کہہ کر اس نے ایک ڈرامائی وقفہ لیا پھر بولی

خیر میں نے اس، لیے فون کیا ہے کہ ہم اب کا لاسٹ سمسٹر ہے تو ہم سب نے مل کر پارٹی کرنے کا سوچا ہے چونکہ زلی ہمارے گروپ کا اہم رکن تھی تو اب فرینڈز کا کہنا ہے کہ پارٹی میں چیف گیسٹ نیولی میرڈ کپل کو رکھنا چاہئے

ثانیہ کی بات پر شاہنواز پر مسکراہٹ آگئی اپف یہ ٹین ایج بچے بھی نا؟؟

پھر کچھ اور باتوں کے بعد زلی کو سرپرائز دینے کا کہہ کر ثانیہ نے شاہنواز سے اسے نا بتانے اور لے کر آنے کا وعدہ لے کر فون بند کر دیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: