Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 15

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 15

–**–**–

شاہنواز کو بہت کوشش کے بعد بھی کل رات کی ٹکٹ ملی تھی گزری رات اس گھر کے مکینوں پربہت بھاری تھی ۔

زلیخا بظاہر علی اور اسکی فیملی سے نہیں ملی تھی پھر بھی گھر والوں کی پریشانی میں وہ سب کی ہر ممکن دلجوئی کر رہی تھی ۔
اس وقت دن کے دو بج رہے تھے جب دروازے پے بیل ہوئی ۔
وہ کچن میں بابا جان کے لیے سوپ بنا رہی تھی شاہنواز کسی کام سے باہر تک گیا تھا۔

بیل دوسری بار ہوئی وہ چولہا آہستہ کرتے دروازے تک آئی کورئیر کمپنی کا نمائندہ تھا ۔

شاہنواز کے نام لاہور سے پارسل آیا تھا زلیخا نے دستخط کرکے پارسل وصول کیا پھر دروازہ بند کرکے اندر آئی اندر آتے آتے اس نے پارسل کو الٹ پلٹ کر بھیجنے والے کا نام پتا پڑھنے کی کوشش کی پارسل پر بھیجنے والے کا نام پتا نہیں لکھا تھا پارسل کو سٹڈی ٹیبل پر رکھتے وہ اوپس کچن میں چلی آئی

پھع جب تک اس نے کھانا لگایا شاہنواز واپس آچکا تھا کھانے کے دوران اسے نے شاہنواز کو پارسل کا بتایا باقی کھانے کے دوران کوئی بات نہیں ہوئی تھی سوائے اسکے کہ علی کے والدین کی موقع ہر ڈیتھ ہوگئی ہے علی آئی سی یو میں ہے اور ڈاکٹر اسکی زندگی کے کیے بھی پر امید نہیں ہیں۔

کھانے کے بعد علی اٹھ کر کمرے میں چلا گیا اماں کو اس نے سہارا دے کر لاونج میں ہی بٹھا دیا اور خود کچن سمیٹنے لگی

وہ برتن دھو رہی تھی جب اسے کمرے میں کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی سنک کا نل بند کرتے جلدی سے کمرے کی طرف بڑھی
شاہنواز کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا ساتھ کانچ کا گلاس ٹوٹا پڑا تھا۔

اف اللہ یہ یہ چوٹ؟
یہ چوٹ کیسے لگی آپ کو

وہ گھبرا کر کہتے آگے بڑھی اور اپنے دوپٹے سے خون صاف کرنا چاہا تاکہ زخم کا اندازہ کر سکے۔۔

پتا نہیں
شاہنواز نے عجیب سے لہجے میں یک لفظی جواب دیا

کیا مطلب ہتا نہیں حد ہے اتنا خون نکل رہا ہے چوٹ لگوا لی اور پتا نہیں
آج زلیخا کے رنگ ڈنگ ہی الگ تھے

مجھے اکثر انجانے میں بہت گہری چوٹیں لگ جایا کرتی ہیں۔

شاہنواز کے جواب پر زلیخا نے چونک کر اسکی طرف دیکھا جن آنکھوں میں اتنے دن اسے صرف اور صرف پیار محبت جانثاری نظر آئی تھی آج وہ آنکھیں لال انگاروں کی طرح دھک رہی تھیں اسے لگا آج ان آنکھوں میں آگ ہے صرف آگ

زلیخا کو اس آگ سے اپنا آپ روح سمیت جلتا محسوس ہوا تھا اس فوراً سر جھکا کر زخم صاف کرنا شروع کردیا

شاہنواز رخ پھیرنا چاہتا تھا ہاتھ کھینچنا چاہتا تھا ۔
لیکن بے حس و حرکت رہا زلیخا نے اسکا ہاتھ صاف کیا پھر فرسٹ ایڈ باکس لا کر بینڈیج کی

زلیخا کیا آپ ہماری شادی سے خوش تھیں؟
وہ سامان باکس میں واپس رکھ رہی تھی جب شاہنواز کی سلگتی ہوئی آواز اسکے کانوں میں پڑی

زلی سے فوراً زلیخا پر اسکا چونکنا بنتا تھا لیکن وہ گھبرا گئی تھی رخ دوسری طرف ہونے کی وجہ سے شاہنواز اسکے چہرے کا بدلتا رنگ نہیں دیکھ سکا تھا ۔

وہ اس سوال کو نظر انداز کرنا چاہتی تھی لیکن شاہنواز اسے اپنے پیچھے کھڑا محسوس ہوا اسکی سانس رک سی گئی۔

بولیں زلیخا کیا آپ ہماری شادی سے خوش تھیں؟
سخت سے ہاتھوں نے پیچھے سے اسکے کندھوں کو تھاما تھا

جی جی ہاں نا خوش ہونے کی وجہ بھی کوئی نہیں تھی

زلیخا نے اپنی طرف سے منمناتے ہوئے بھی تسلی آمیز جواب دیا

ہاتھوں کی سختی نرم سی ہوگئی تھی پھر اس نے زلیخا کا رخ اپنی طرف پلٹایا اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا

زلیخا دم سادھے شاہنواز کے ساتھ لگی کھڑی رہی کچھ دیر بعد اسے اپنے سر پر نمی کا احساس ہوا جیسے بوندیں گر رہی ہوں

اس احساس کے ہوتے ہی فوراً چونکی اپنا سر ہٹانا چاہا لیکن شاہنواز نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا اور گویا ہوا

نا نا زلیخا
ابھی دور نا جاؤ یار پھر نجانے موقع ملے نا ملے میں تمہیں پوری طرح سے خود میں سمانا چاہتا ہوں۔۔

شاہنواز کی آواز بھیگی ہوئی تھی زلیخا کا اندازہ سچ تھا وہ رو رہا تھا مگر کیوں؟؟

َزلیخا کا دل بھی بھر آیا وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن کہہ نہیں پا رہی تھی اس نے ایک بار پھر سے شاہنواز کے سینے پر سے سر اٹھانا چاہا تاکہ اسے دیکھ سکے اس سے پوچھ سکے۔

نا نا نا زلیخا
پلیز ابھی میں ان لمحوں میں جینا چاہتا ہوں
مجھے جینے دو زلی
پلیز مجھے کچھ اور جینے دو

زلیخا کے آنسوؤں اس درد مند سے شخص کے درد پر پلکوں کی باڑ پھلانگتے بہہ نکلے تھے ۔۔۔

شاہنواز نے اسے خود میں بھینچنا شروع کردیا جیسے کسی چھوٹے سے بچے سے اسکی من پسند چیز مانگی جائے تو وہ اس من پسند چیز کو خود سے لگا کر بھینچنا شروع کردیتا ہے خود میں چھپانا چاہتا ہے تاکہ اسے سے اسکی من پسند چیز کوئی چھین نا سکے کچھ ایسا ہی شاہنواز بھی کر رہا تھا۔

وقت نے بہت بُرا کیا میرے ساتھ زلی
مجھے سب کچھ دے کر اب واپس مانگ لیا ہے ظالم وقت نے

قسمت نے بڑا کاری وار کیا مجھ پر زلی
مجھے سب کچھ واپس کرنا ہوگا
اور محرومی کوئی سی بھی موت ہوتی ہے زلی بس اس وقت مجھے جینے دو یار

مجھے کچھ اور جینے دو

وہ اونچا لمبا سا فوجی جوان سسک ہی تو پڑا تھا۔

وہ پوری شاہنواز نے سوتی جاگتی کیفیت میں زلیخا کو خود سے لگائے گزار دی تھی
صبح فجر کے وقت اٹھ کر نماز پڑھنے کے بعد وہ بنا زلیخا کی طرف دیکھے سامان اٹھا کر باہر نکلتا چلا گیا تھا۔۔

———————–

گورکن کی بات سنتے ہی اس کا پورا وجود بھڑ بھڑ کر کے جلنے لگا تھا

لیکن با با یہ یہ کیسے یہ تو اتنی کم عمر سی ہے اور میجر شاہنواز کا تو بیٹا بھی ہے نو دس سال کا

اس نے ذہن میں کلبلاتا سوال فوراً سے پوچھا تھا؟
پتا نہیں بابو وہ سب تو میں نہیں جانتا مجھے صرف اتنا پتا ہے کہ یہ میجر شاہنواز خان کی بیوہ ہے ۔

گورکن بات مکمل کر کے اپنی جھونپڑی کی طرف چلا گیا

سیاہ لبادے والی لڑکی اب چادر کی بکل مارے واپسی کے سفر پرگامزن تھی۔

علی سبحان بھی اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگا لیکن گھر سے تھوڑی دور رک گیا

لڑکی گھر میں داخل ہوئی تو وہ کچھ دیر وہاں کھڑا رہا اور خود کو اس حقیقیت کا یقین دلاتا رہا کہ واقع میجر شاہنواز کی بیوہ اور ایک بیٹے کی ماں اتنی کم عمر ای ہوسکتی ہے؟

تمہارے ذکر نے مارا
قسط نمبر 12 پارٹ 2
از میرب علی بلوچ

—————————-
برائے مہربانی بغیر اجازت کاپی پیسٹ کرنا منع ہے اور گروپ رولز کے خلاف بھی

—————————

( وقت نے بہت برا کیا میرے ساتھ زلی سب دے کر سب واپس مانگ لیا )

نہیں نہیں وہ صرف سر ہلا پائی

(قسمت نے بڑا کاری وار کیا ہے مجھ پر )

نہیں پلیز ایسی باتیں نا کریں آپ شاہ
اس بار بھی وہ اس پیارے سے شخص کےانجانے درد پر صرف کرلا ہی سکی تھی۔

نا نا نا زلی
ابھی دور نا جاؤ میں ان لمحوں میں جینا چاہتا ہوں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں

مجھے جینے دو زلی

مجھے کچھ اور جینے دو

آہ ہ ہ ہ
زلیخا نے ایک جھٹکے سے کراہتے ہوئے آنکھ کھولی تھی او خدا تو آج پھر وہ خواب دیکھ رہی تھی؟

اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اچھے بھلے موسم میں بھی اسکا چہرہ پسینے سے تر تھا اور شائد وہ خواب میں روتی بھی رہی تھی۔

کیا تھا شاہنواز کے لہجے میں کیا ڈر تھا کس بات کا دکھ تھا زلیخا کو اب تک سمجھ نہیں آئی تھی

آج شاہنواز کو گئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا اس سارے عرصے میں اس نے زلیخا سے رابطہ نہیں کیا تھا۔

َزلیخا کے وجود پر شاہنواز کے جانے والے دن سے اب تک مردنی سی چھائی تھی اسکا کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا بات بات پر آنکھیں بھر آتی تھیں

وہ آخری رات وہ آخری ملاقات شاہنواز کا بے تاب محبت بھرا آخری لمس اسکی التجاء اسکے لفظ زلیخا کو سونے نہیں دیتے تھے ۔۔

آج بھی وہ دن کے سارے کام نبٹا کر کمر سیدھی کرنے لیٹی تھی اور شاہنواز کی سرگوشیوں نے ایک بار پھر اسے جگا دیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: