Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 16

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 16

–**–**–

وہ شاہنواز کے بارے ہی سوچ رہی تھی جب ربنواز صاحب کمرے میں داخل ہوئے بیٹا شاہو سے بات ہوئی آپکی؟

نا نہیں بابا جان انہوں نے جانے کے بعد مجھ سے اب تک رابطہ نہیں کیا میں تو انتظار کر رہی تھی
نا چاہتے ہوئے بھی زلیخا کے لہجے میں ناراضگی در آئی جس کے اظہار پر وہ خود سے حیران ہوئی تھی ۔

او ہاہاہاہاہا. اچھا تو ہمارا زلی خان ناراض ہے میجر صاحب سے

ربنواز خان زلیخا کے انداز پر مسکرائے تھے
زلیخا شرمندہ سی ہوئی

نا نا نہیں بابا میں تو بس ویسے ہی

اٹس اوکے بیٹا جانی میرا شیر جوان پتر ہے ہی اتنا اچھا
انکے لہجے میں بے پناہ محبت تھی۔

لفظ ہے ہی اتنا اچھا پر زلیخا کا دل رک ل
کر دھڑکا تھا۔

اور مجھے بھی آپکو یہ بتانا تھا کہ شاہو کا فون آیا تھا صبح جب میں مارکیٹ گیا تھا کہہ رہا تھا علی کی سرجریز میں اتنا ٹینس تھا کہ کچھ ہوش ہی نہیں رہا۔

آج علی کی حالت کو ڈاکٹرز نے خطرے سے باہر قرار دیا تو ریلیکس ہوکر فون کر رہا ہوں اب کل ایک اور سرجری ہے اسکے بعد وہ سیدھا پاکستان آکر اپنی ڈیوٹی جوائن کرے گا اور ان شاء اللہ اگلے ماہ گھر آئے گا

ربنواز صاحب اسے ساری حقیقت بتا رہے تھے ۔

اور بیٹا جی اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ زلی کو الگ سے فون کرے گا سو انتظارکرو اب بیٹھ کر میجر صاحب کے فون کا

وہ بچوں کے سے شریر انداز میں اسکا سر تھپتھپاتے جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے

زلی بچے

وہ جاتے جاتے ایک پل کو رک کر پلٹے اور زلیخا کو مخاطب کیا

وہ جو انکی باتیں سمجھنے کہ کوشش کر رہی تھی چونکی

جی جی بابا جان

بابا کی جان میرے شاہو سے ناراض مت ہونا پتر

انکے لہجے میں ایک بہت محبت کرنے والے باپ کی سی شفقت بول رہی تھی۔

زلیخا نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا

زلی علی شاہنواز کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے بیٹا یوں سمجھو علی میں اسکی جان بستی ہے ۔
بچپن میں جب تمہاری اماں جان کو ڈاکٹرز نے یہ کہا کہ وہ مزید اولاد پیدا نہیں کر سکتیں تو ہم بہت پریشان ہوئے تھے ۔

لیکن صبر کیا پھر اسکے کچھ عرصہ بعد ہی علی پیدا ہوا علی کی ماما بیمار تھیں تو علی کی ساری ذمہ داری تمہاری اماں جان نے لے لی شاہنواز اس وقت تین سال کا تھا جب تک بھائی لوگ باہر نہیں شفٹ ہوگئے علی زیادہ تر ہمارے پاس ہی رہا شاہنواز نے علی کے ساتھ ہمیشہ بڑا بھائی بن کر برتاؤ کیا۔۔

اسی لیے اب تم علی کے معاملے میں شاہو کو تھوڑی سی رعایت دینا بیٹا

وہ تفصیل سے ساری بات بتاتے اسکے سر پر دوبارہ سے ہاتھ پھیرتے باہر نکل گئے

جبکہ زلیخا کو کچھ خاص فیل نہیں ہوا ہاں یہ بات سچ تھی کہ وہ شاہنواز کو مس کر رہی تھی شاہنواز کے ساتھ گزرا ایک ہفتہ اپنے ہر ہر پہلو سے اسے یاد آیا تھا لیکن ان سارے خوشنما خوبصورت لمحات کے اختتام کی اذیت اسے بے چین کیے ہوئے تھی ۔

وہ جاننا چاہتی تھی کہ ایسی کون سی بات تھی جو شاہنواز کو ایسا ری ایکٹ کرنے پرمجبور کر رہی تھی۔

——————————

وہ کچھ دیر کھڑا اپنے آپ کو سمجھاتا رہا تھا ۔۔
پھر نجانے اسے کیا سوجھی پلٹ کر قبرستان چلا آیا اور شاہنواز کہ قبر پر آکر چپ چاپ گم سم سا بیٹھ گیا۔۔

اسکے آس پاس زندگی سے بھرپور چہکتی ہوئی آواز گونجی تھی۔

سبحی او میرے یار میرے دلدار
یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے سوہنے

وہ مکمل ڈس ایبل تھا اپنی زندگی سے تقریباً ہمت ہار چکا تھا اماں بابا کی موت نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا جبھی کسی سے کوئی بات نہیں کر رہا تھا سب بہن بھائی اسکا ہر ممکن خیال کر رہے تھے لیکن اس پر ایک ہی چپ طاری تھی۔۔۔

ایسے میں ایک دن انگلینڈ کے ہسپتال کے اس پرائیویٹ روم میں وہ چپکے سے چلا آیا تھا ۔
میجر شاہنواز خان شاہو جو اسکا ہمراز تھا اسکا دوست تھا بھائی تھا۔

علی سبحان نے خاموش سی نظروں سے اسے دیکھا ۔

او تینوں کہہ رہا ہوں یارا
کیا مریض بن کر بیٹھا ہے او میرا مطلب لیٹا ہے

جانی تیرے لیے اپنیایک ہفتے کی نئی نویلی بیوی کو چھوڑ کر آیا ہوں ویکھ تے سہی؟

شاہنواز نے اپنے لہجے کو ہر درجہ خوشگوار بنا کر کہا تھا۔۔

علی کی آنکھوں میں نم سا تاثر جاگا ۔

او میری جان اب اٹھے گا نہیں تو تیری وہ سانولی سلونی سی حسینہ کیسے ڈھونڈیں گے یار

یہ بات کہتے شاہنواز کی آنکھوں نے اسکے لہجے کا ساتھ نہیں دیا تھا

علی کی آنکھیں ہلکی سی نرمی لیے بے تاثر ہی رہیں۔۔

علی سبحان خان مجھے بڑا بھائی بننے پر مجبور نا کرو بچے

اس بار شاہنواز کے لہجے میں پتا نہیں ایسا کیا تھا کہ علی سبحان کی آنکھوں میں ایک دکھ سا جھلملایا تھا۔

تایا تائی کی کمی پوری نہیں ہوسکتی یار لیکن یوں بھی زندگی نہیں گزرنی پتر ہوش کر ہمت کر میری جان

شاہنواز کا لہجہ دکھی ہوا تھا

یہاں کسی کو من چاہا نہیں ملتا پھر جو چیز اللہ پاک کی تھی اس نے لے لی صبر کرنے والوں کے لیے انعام ہے سبحی صبر کر

ایک آنسو علی کی آنکھوں سے نکلا تھا پھر بچوں کی سی معصومیت سے بولا تھا

شاہو

جی کرے شاہو
شاہنواز نے ہر بار کی طرح جی بسم اللہ کی تھی۔

میں ہی کیوں شاہو میری ٹانگ میرے ہاتھ

آآ ں نا نا نا
علی سبحان خان وہ جو سب دیتا ہے جب کچھ واپس مانگ لے تو شکوہ نہیں کیا جاتا شاہنواز کی آنکھیں نجانے کیوں بھیگ سی گئیں تھیں۔

جب وہ ہمیں ہماری اوقات سے زیادہ نوازتا ہے کیا تب ہم نے کبھی کہا کہ میں ہی کیوں؟؟

علی نے صرف اسے دیکھا بولا کچھ نہیں

اسوقت ہم یہ نہیں کہتے بلکہ اپنا حق سمجھ کر زندگی سے ہر خوشی وصول کرتے چلے جاتے ہیں تو زرا سے دکھ پر تھوڑے سے درد پر واویلا کم ظرفوں کا شیوہ ہے میرے یار ۔

علی کو کچھ سکون سا ملا تھا لیکن آنکھیں اتنے عرصے میں پہلی بار نم ہوئی تھیں

اسے شاہنواز کی ایک ایک بات یاد آئی تھی
اس نے فاتحہ پڑھی اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔

پھر جب اس نے واپسی کے لیے قدم بڑھائے تو ایک بار پھر سے شاہنواز کی آواز اسکے آس پاس گونجی

سبحی یہ جسم کے درد کچھ نہیں ہوتے یار اصل درد تو روحوں کے ہوتے جینا مشکل تو دلوں کے درد کرتے ہیں
جو جیتے جی ہمیں سولی پر لٹکائے رکھتے سکون نہیں لینے دیتے

شاہو کا لہجہ بہت سادہ تھا لیکن آنکھوں سے لگتا تھا جیسے خون رسنا چاہتا ہو۔

اور پتا ہے سبحی دل کے درد میں ہمیں بغیر کسی سے کچھ کہے دل کو اسکے ارمانوں کو مارنا پڑتا ہے اس اذیت میں ہم روز مرتے ہیں پھر بھی نہیں مرتے یارا

اس لیے میری جان ان چند زخموں کو آڑ بنا کر اسکی ناشکری نا کر ویرے

ہمت کر آج نہیں تو کل تم ٹھیک ہوجاؤ گے پھر میں اپنے یار کے دل کا سکون ڈھونڈ لاؤں گا اسکے لیے سریلی آواز والی وہ سلونی لڑکی ڈھونڈ لاؤں گا۔۔

علی سبحان کی آنکھیں برسنے لگی تھیں

جب اس نے تڑپ کر پکارا تھا

شاہ

شاہو

لیکن اس بار مٹی کے ڈھیر سے

جی کرے شاہ
جی کرے شاہو کی صدا نہیں آئی تھی

علی سبحان خان آج پورے آٹھ سالوں بعد اپنے شاہو سے ملا تھا اور اپنے ماں باپ کی وفات کے بعد آج پہلی بار بچوں کے سے آنسوؤں کے ساتھ رویا تھا۔

کیا درد تھا شاہ بھائی بولے کیوں نہیں کون سا گھاؤ تھا بتایا کیوں نہیں اپنے سبحی کو تو بتاتے نا سبحی ساری اذیت سمیٹ لیتا اپنے شاہو کی ساری خواہشیں پوری کرتا کسی خواہش کو مارنے نا دیتا

شاہو
میرے کان آٹھ سالوں سے ترس گئے یار کوئی میری صدا پر جی کرے میں کہوں

شاہو

تم کہو جی کرے شاہو

اسکی باتیں بین کی صورت اختیار کر گئی تھیں

گورکن کسی کے رونے کی آواز پر اپنی جھونپڑی سے نکلا تھا پھر صبح نظر آنے والے شہری بابو کو میجر شاہنواز خان کی قبر پر روتا دیکھ اسکے ہونٹوں سے بڑی آسودہ سی آہ نکلی تھی

بڑی ہی کوئی نیک روح تھا میجر صاحب لگتا ہے بڑا ہی بیبا بندہ تھا

یہاں لوگ دفنا کر کل بھول جاتے ہیں اس کے لیے آج بھی لوگ تڑپ کر روتے ہیں۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: