Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 17

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 17

–**–**–

وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ابا ابھی ابھی فجر پڑھ کر سیدھا اسکے پاس آئے تھے پھر اس پر دم کرکے آرام کرنے کا کہہ کر باہر چلے گئے تھے ۔۔

شاہنواز کو گئے پندرہ دن ہوگئے تھےابا اور اماں سے وہ تقریباً روز ہی فون پر بات کرتا تھا ۔
لیکن زلیخا سے اس نے عجیب سی لاتعلقی برتی ہوئی تھی۔

جب اماں بابا کو فون کرتا اگر وہ آس پاس ہوتی تو اماں اسے فون پر بلاتیں
آگے سے شاہنواز چند رسمی سے جملے بولتا جسکا وہ ہوں ہاں میں جواب دیتی اور فون بند.

وہ بچی نہیں تھی جو شاہنواز کا گریز بھانپ نا پاتی ۔۔
لیکن چاہ کر بھی وجہ جانے سے قاصر تھی شاہنواز کے ساتھ گزرا محبت کی انتہاؤں کو چھوتا ایک ہفتہ پھر جاتے ہوئے آخری رات میں اسکا رونا تڑپنا اور اب یہ لاتعلقی ان سب نے مل کر زلیخا کے ذہن کو بہت الجھا دیا تھا ۔۔

وہ جتنا سوچتی الجھتی چلی جاتی تھی ان سوچوں تو اسکے وجود پر خزاں طاری کردی تھی۔
پیچھلے چار پانچ دن سے اسکی طبعیت بھی گری گری سی تھی پرسوں شام کچن میں کام کرتے اسے تیز بخار نے آلیا تب سے اب تک اماں بابا نے اسے بیڈ پر بٹھا رکھا تھا۔

دو دن سے بیڈ پر پڑے پڑے وہ خود کو بیمار سمجھنے لگی تھی ۔
جبھی آج ساری سستی اور بیماری کو بھگانے کا ارادہ کرتے اس نے سارے گھر کی تفصیلی صفائی کروانے کا سوچا تھا ۔

اماں ناشتے کی ٹرے لے کر کمرے میں آئیں تو وہ نہا کر چینج کر چکی تھی ۔

ارےارے میرا بچہ یہ کیا کیوں اٹھ گئیں بھئی
کیوں تمہارے بابا جان نے میری کلاس کروانی ہے ۔
اماں ٹرے سائیڈ پر رکھتیں اسکی طرف آئیں پھر پیار سے اسکا ماتھا چوم کر اسے بیڈ تک لے آئیں ۔

اماں جی دو دن ہو گئے ہیں آرام کرتے کرتے اب مجھے لگتا ہے اگر لیٹی رہی تو سچی مچی کی بیمار پڑ جاؤں گی ۔

ہی ہی ہی اماں اسکے معصومیت سے کہنے پر ہنستے ہوئے بولیں

اسکا مطلب اب تک جھوٹی موٹی کی بیمار تھیں ۔
ہا ہا ہا یوں ہی سمجھ لیں وہ بھی اماں کی بات سمجھ کر جواب دیتے ہنس دی ۔

پھر ساس بہو نے ایک ساتھ ناشتہ کیا برتن وہ انکے نانا کرنے ہر بھی خود، کچن تک لے گئی پھر کام والی کے ساتھ مل کر سارا گھر چمکانے لگی ۔

گھر کا کونا کونا چمکانے کے بعد اب باری تھی اسکے اپنے کمرے جب سے شاہنواز گیا تھا وہ کمرہ صرف دن میں ہی استعمال کرتی تھی رات کو وہ اماں کے کمرے میں سوتی تھی۔۔

سارے کمرے کی سرسری سی جھاڑ پونچھ کی پھر الماری کی طرف چلی آئی اسکی اپنی تو ٹھیک ہی تھی اس لیے اس نے شاہنواز کی الماری کھول لی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ شاہنواز کی الماری اس سے زیادہ سلیقے سے سیٹ کی ہوئی تھی کئی دنوں کی کلفت خودبخود ایک پیاری سی مسکان میں ڈھل گئی

شاہنواز کے ساتھ رہتے ہوئے اسکے جانے کے بعد زلیخا نے اسے سوچا تھا بہت سوچا تھا دل میں کہیں،کہیں نئی امنگوں نے انگڑائیاں لینی شروع کی تھیں
یا شائد نکاح کے بولوں کا اثر تھا میجر شاہنواز اس پر اسکے دل و دماغ پر قابض ہونے لگا تھا ۔
نئی نئی بات تھی محبت کا نیا نیا خمار تھا ۔

آپ ہی آپ اسکے ہاتھ ایک ہینگر کی طرف بڑھے جس پر ٹی شرٹ ہینگ کی گئی تھی اس نے ٹی شرٹ پے ہاتھ پھیرا تو دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تھا۔۔
کچھ دیر وہ ٹی شرٹ ہاتھ میں لیے پریشان کن سوچوں کو جھٹک کر شاہ کے ساتھ گزرے خوش کن لمحات میں کھوئی رہی۔
پھر کچھ یاد آنے پر دھیمی مسکان کے ساتھ خود کو سرزنش کرتے شرٹ واپس ہینگ کرنے لگی تو اسکی نظر اندر چھپے انویلپ پر پڑی
اسے یاد تھا کہ یہ شاہنواز کے جانے سے ایک دن پہلے کورئیر سے آیا تھا ۔

تو وہ ساتھ کیوں نہیں لے کر گئے دیکھوں تو کیا ہے اس سوچ کے ساتھ اسنے انویلپ اٹھایا. الماری بند کی اور بیڈ پر آگئی۔

متجسس ہوتے اس نے بہت آرام سے انویلپ کی ٹیپ ہٹائی آہ ہ ہ
ٹیپ ہٹتے ہی بہت سی تصویریں اسکی گود اور بیڈ پر گری تھیں اور اسکا ہاتھ بے اختار منہ پر گیا تھا۔۔

سلور نیٹ کے ڈوپٹے میں مقید سر میسی نے اسے تھام رکھا تھا دونوں کی نگاہیں ایک دوجے کو دیکھ رہی تھیں ۔
ان پر کچھ پھول بھی گرے تھے
پہلی نظر میں دیکھنے والے کو پرفیکٹ کپل کا رومانٹک فوٹو شوٹ لگتا تھا
ایک ہی پوز کو مختلف اینگلز سے کھینچا گیا تھا
زلیخا کو محسوس ہوا اسے چکر سا آیا ہے
کچھ تصویریں جھیل سیف الملوک کی تھیں جن میں سر میسی کو ایڈیٹ کیا گیا تھا
اسکی آنکھیں نم ہونا شروع ہوگئیں اسکے بعد ایک ڈاکومنٹ فائل تھی جس میں زلیخا کی گمشدگی کی رپورٹ درج تھی پھر دوسرے پیپر پر ایک رات بعد مل جانے کی تحریر درج تھی ۔
اور آخر میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ پوری رات زلیخا نے علی سبحان نامی پروفیسر کے ساتھ اسکے خیمے میں گزاری تھی

اسے لگا اسکا سانس بند ہونے لگا ہے
دا دادا اسکے منہ سے گھٹی گھٹی چیخ نکلی تھی۔

اسنے جلدی سے سب سمیٹ کر الماری میں رکھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھ ک باہر کی طرف بھاگی لیکن دروازے تک پہنچتے اسکے اعصاب نے جواب دے دیا وہ تیورا کرگری تھی ۔

ایک تکلیف نے اسکو، چاروں جانب سے گھیرا تھا ذہن ڈوبنے لگا تھا کے جب اسکی سوچوں میں وہ انجان ساحر آیا تھا۔
وہ پیڈ پائپر جو سانسوں سے جادو کرتا تھا جس نے اسکی جان بچائی تھی لیکن اسے بدنامی کے گڑھے میں دھکیل کر بھاگ گیا تھا۔۔
پہلی بار اس انجان ساحر نے اسکے خواب چھینے تھے اب وہ اسکی زندگی چھیننے آپہنچا تھا ۔

زلیخا کو ہوش کھونے سے پہلے جو آخری احساس محسوس ہوا تھا وہ نفرت تھی بے انتہا نفرت اس بزدل ساحر سے جو مسیحا تو تھا ہر مسیحا نہیں تھا۔۔
—————

وہ ہوش میں آئی تو اماں اسکے سرہانے بیٹھی تسبیح پڑھ رہیں تھیں بابا تھوڑی دور کرسی پر آنکھیں موندے سر ٹکائے ہوئے تھے ۔
اسے آنکھ کھولتا دیکھ کر اماں سیدھی ہوئیں
ارے میرا بچہ اٹھ گیا ۔
دو دن بعد ہوش آیا ہے تمہیں

بابا بھی اٹھ کر اسکے پاس آگئے اور دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بولے
کیا ہوا تھا بھئی زلی خان

زلیخا جو اب تک غائب دماغی کی کیفیت میں تھی اچانک سے سب کچھ یاد آنے پر سسک اٹھی تھی ۔

اماں نے کچھ کہنا چاہا لیکن بابا نے انہیں منع کر دیا تو وہ چپ کرکے باہر چلی گئیں

کافی دیر رونے کے بعد اسکی سسکیوں میں کچھ کمی آئی تو بابا کی آواز گونجی

فوجی جوان کہ بیوی کو اتنی بزدلی سوٹ نہیں کرتی ویسے

اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر انہیں دیکھا

انہوں نے آنکھوں میں نرم سا تاثر دے کر بات جاری رکھی۔

زلی پتر ایک فوجی جوان کی بیوی کو اتنا بہادر تو ہونا چاہئے نا کہ وقت آنے پر اپنے لیے آواز اٹھا سکے لڑ کر خود کو جیت سکے

وہ پھر سے سسکنے لگی اسکے نوخیز خواب داؤ پر لگے تھے کیسے نا تڑپتی
بابا اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھے۔

زلی پتر ایک فوجی کی بیوی کو اتنا بہادر تع ہونا چاہئے نا کہ وقت آنے پر اپنے ساتھ ساتھ بوڑھے ماں باپ کو سنبھال سکے

با با

نا بابا کی جان ایسے نہیں روتے.
انہوں نے اٹھ کر زلی کو سینے سے لگا لیا تھا

بابا میں میں، نے کچھ نہیں، کیا
وہ جھوٹ ہے بابا وہ سب
بابا وہ
مجھے پتا ہے پتر

تم پریشان کیوں ہوتی ہوبچے بھائی علی کریم کو یقین تھا مجھے یقین ہے تمہاری اماں کو یقین ہے ہماری زلی میں کوئی برائی نہیں

نہیں بابا انہیں یقین نہیں ہے
وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے بابا
انہوں نے مجھ سے پوچھا بھی نہیں
میرا جرم ثابت کیے بغیر
سزا دے گئے۔۔۔

انہیں کہیں نا بابا ایک بار بس ایک بار مجھ سے پوچھتے تو ؟
یوں نا کرتے مجھے اتنی بڑی سزا نا دیتے
وہ روئے جا رہی تھی
ربنواز صاحب خود بھی پریشان ہو گئے وہ جس مسلئے کو چھوٹا سا سمجھ رہے تھے وہ اچھا خاصہ بگڑ چکا تھا۔

وہ کل سے کئی بار کوشش کر چکے تھے شاہنواز سے رابطہ کرنے کی لیکن نہیں کر پائے تھے۔
،زلیخا کے رونے کی آواز سن کر اماں بھی گھبرائی ہوئی واپس بھاگیں تھیں لیکن زلیخا کی اگلی بات نے انہیں دروازے کے بیچو بیچ ساکت کردیا تھا تو دوسری طرف بابا بھی اسکے لہجے کی سردی محسوس کر کے چونکے تھے۔

بابا یہ مرد کو ہمیشہ سے عورت کے کردار کی فکر کیوں رہی ہے ؟
مرد سارے ایک سے ہوتے ہیں عام سے بہت خاص نظر آنیوالے مرد بھی آزمائش کی کسوٹی پر اپنا عامیانہ پن ظاہر کر دیتے ہیں ۔

وہ بھی خاص نظر آتا تھا لیکن وہ عام تھا جس کے نام نے مجھے بے نام کیا جس کے ذکر نے اب تک میرا پیچھا کیے ہوئے ہے

وہ بہت عام تھا ورنہ یوں بزدلوں کی طرح بھاگ کر نا جاتا ۔

اماں بے چینی میں آگے بڑھی تھیں ۔

شاہنواز بھی عام مرد ہی نکلے باباجان بلکل عام بغیر کچھ پوچھے بغیر کچھ سنے آدھی باتوں کا پورا مطلب نکالے یوں سزا دے کر بھاگ گئے۔۔۔

یہ قدرت کا کیسا انصاف ہے بابا غلطی مرد کرتا ہے بھرپائی بے چاری عورت کو کرنی پڑتی ہے۔.-

کیوں بابا
کیوں؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: