Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 19

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 19

–**–**–

پھر جس شام شاہنواز کو لحد میں اتارا گیا اسی شام زلیخا نے زندگی موت سے لڑتے ایک ان میچور بچے کو جنم دیا تھا ۔۔

زلیخا کو دوسری صبح ہوش آگیا تھا لیکن اسکی نازک حالت کے پیش نظر مزید دو دن دواؤں کے زیر اثر مصنوعی بے ہوشی میں رکھا

بچے کو ابھی اینکوبیٹر میں رکھا گیا تھا
وہ شاہنواز کے سوئم کی شام تھی جب زلیخا مکمل ہوش میں آئی تھی اور آنکھ کھولتے ہی اس نے اپنے بچے کا پوچھا تھا۔

ربنواز صاحب جو تھوڑی دور بیٹھے تھے فوراً سے اٹھ کر آئے تھے۔۔

وہ بلکل ٹھیک ہے اور آپکی اماں جان کے پاس ہے ربنواز صاحب نے اسے آدھی ادھوری سی تسلی دی تھی
دادا کا فون آیا؟
زلیخا نے سرسری سا ذکر کیا تھا
ہاں بات ہوئی تھی میری وہ بہت کوشش کر رہے ہیں جیسے ہی کوئی سبب بنے گا پہنچ جائیں گے ربنواز صاحب نے رخ پھیر کر کہا تھا جیسے کچھ چھپا رہے ہوں
وہ زلی کو بتا نہیں پائے تھے کہ فون تو آیا تھا مگر علی کریم صاحب کا نہیں بلکہ ایمبیسی والوں کا یہ بتانے کے لیے کہ طواف کے دوران بھگڈر مچنے کی وجہ سے علی کریم صاحب کی ڈیتھ ہوگئی ہے

شاہنواز کا نا اسے نے پوچھا نا انہوں نے بتایا بس ایک دلاسہ تھا جو دونوں سسر بہو نے ایک دوجے کو غمگین آنکھوں سے دیا تھا

وہ شاہنواز کی شہادت کو دسواں دن تھا جب زلیخا اور احمد شاہنواز گھر آگئے تھے۔۔

بچے کا نام ربنواز صاحب نے احمد شاہنواز رکھا تھا ایک درد کی خاموشی تھی جو اس گھر کے تینوں نفوس پر اپنی اپنی طرح اثر انداز تھی اس خاموشی اس جمود کو کبھی کبھی ننھے احمد کی قلقاریاں تو کبھی رونے اور چیخنے کی آوازیں توڑتیں گھر میں پھیلے موت کے سناٹے میں زندگی کا احساس ہوتا تھا۔

زلیخا کا علی کریم صاحب سے رابطہ نہیں ہوپایا تھا ۔
رات سے احمد کی طبعیت بھی کچھ ٹھیک نا تھی ابھی بڑی مشکل سے سویا تھا ۔۔
آج صبح سے اسکا دل بہت بے چین تھا جیسے کچھ برا ہوگا یا ہوچکا ہے وہ احمد کے لیے دودھ بنانے کچن میں کی طرف چلی آئی ۔

کچن کی طرف جانے سے پہلے اسے پیچھلے صحن سے اماں کے رونے کی آواز آئی نا چاہتے ہوئے بھی اسکے قدم صحن کہ جانب اٹھ گئے

ربنواز صاحب میں کہتی ہوں کب تک چھپائیں گے بتا دیں بچی کو میرا تو کلیجہ جلتا ہے ۔۔۔

زلیخا کو تجسس سا ہوا جب ربنواز صاحب بولے

کیا بتا دوں نیک بخت پاگل ہوئی ہو کیا ابھی تو وہ شاہنواز کے غم سے نہیں سنبھلی اب اس پر ایک اور پہاڑ توڑ دوں کیا؟
شاہنواز کا غم تو ہماری زندگیوں کا روگ ہے جی اماں مسلسل رو رہی تھیں لیکن زلی کو یوں قسطوں میں دکھ اور اذیت نا دیں اب ہمارا ہے ہی کون اسکے اور احمد کے علاوہ بتا دیں اسے علی کریم بھائی فوت ہوچکی ہے ۔

ایک تیز رفتار ٹرین نے زلیخا کے جسم کو روندا تھا یا جیسے برف کی بہت سی سلیں اسکے وجود کے آر پار ہوئی تھیں

اماں بابا نجانے اور بھی کیا کہہ رہے تھے وہ سن نہیں پائی سکتے کی سی حالت میں کھڑی رہی کتنی دیر کھڑی رہتی لیکن اندر سے احمد کے رونے کی آواز نے اسے واپس لایا تھا بہت سے آنسو یکبارگی اسکی آنکھوں سے نکلے تھے ۔۔

زلی زلی پتر احمد کیوں رو رہا ہے اماں کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے ہٹ جاتی اپنے بوڑھے ساس سسر کا بھرم رہنے دیتی لیکن اماں اور انکے پیچھے ابا اندر چلے آئے تھے اور اسے یوں حال سے بحال ہوتے دیکھ چکے تھے ۔۔

اماں شائد اپنے غم میں تھیں سمجھ نہیں سکیں بس اسکے سر پر ہاتھ دھرتے اندر احمد کو اٹھانے چلی گیئں جبکہ ربنواز صاحب اسکی طرف بڑھے ہاتھ اسکے سر پر رکھا۔

اسکی آنکھوں میں التجاء تھی جیسے کہہ رہی ہو بابا کہہ دیں کہ یہ جھوٹ ہے؟

لیکن انہوں نے کہا تھا زلی پتر یہ بات بتانے کا مجھ میں حوصلہ نہیں تھا مجھے معاف کر دینا پتر لیکن یہی سچ ہے۔

زلیخا کے منہ سے دبی دبی چیخیں بلند ہوئی تھیں پھر ربنواز صاحب نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور زلیخا کی چیخیں بلند ہوتی گئیں تھیں.

—————————-
زندگی کا کام ہے گزرنا ہر حالت میں چاہے آپ دکھ سے آدھ موئے ہی کیوں نا ہوں انکی زندگی بھی اچھی یا بری چلنے لگی تھی۔

وہ سب اپنے اپنے غم میں تھے کسی کو کسی کا کوئی ہوش نہیں تھا ہر کوئی اپنے اندر برپا حشر سے لڑتا صبر کر رہا تھا۔
ایسے میں احمد شاہنواز ہی تھا جو ان سب کی امیدوں کا مرکزتھا یا انکے غموں کا مداوا بن کر رہ گیا تھا۔۔

وقت گزرنے لگا تھا انکی زندگیاں جس جمود کا شکار تھیں آہستہ آہستہ اس میں دراڑ پڑنے لگی تھی وجہ ننھا احمد شاہنواز تھا ۔
احمد بہت حساس بچہ تھا دو سال کا ہوتے ہی وہ عام بچوں سے قدرے مختلف اور سمجھ بوجھ رکھنے والا بن گیا تھا ۔۔

دادا دادی اور ماں کو ہر دم اپنے پیچھے لگائے رکھتا تھا ربنواز صاحب اور انکی بیگم کو مزید جینے کا سہارہ مل گیا تھا وہ اسے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے تو دوسری جانب جوان جہان زلیخا انہیں غموں میں دھکیل دیتی تھی عمر ہی کیا تھی اسکی محض اکیس سال جو دو سال سے بیوگی کی چادر اوڑھے انکے ساتھ جیے چلی جارہی تھی ۔۔
———————

شاہنواز کی میت وہ لوگ اپنے آبائی گاؤں لے آئے تھے پھر زلیخا کت کہنے پر ربنواز صاحب نے مستقل وہیں سکونت اختیار کر لی تھی۔

احمد تین سال کا تھا جب ربنواز صاھب ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ تین چار ماہ کے کیے بیڈ کے ہو کر رہ گئے تو زلیخا نے چپ چاپ گھر کی ذمہ داریاں اٹھانا شروع کردیں
وہ سارا دن گھر کے کام کرتی کھانا بناتی باقی کا ٹائم احمد اور اماں بابا کے ساتھ گزارتی تھی ۔
جیسے جیسے احمد بڑا ہوتا جارہا تھا زلیخا کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا وہ بعج اوقات چڑ سی جاتی تھی جس کا اظہار کبھی موسم پر تو کبھی گھر کسی چیز کبھی لسی نوکر کو جھاڑ جھنکار کر کے کرتی ۔

ربنواز صاحب اور انکی بیگم محض مسکرا کر رہ جاتے تھے کر بھی کیا سکتے تھے؟
عاقل و بالغ تھی آج ہی الگ دنیا بسانے کا سوچتی تو اسکے لیے ہزاروں راہیں کھلی تھیں کیونکہ زلیخا کی عمر کی کئی لڑکیوں کی انکے گاؤں میں ہی شادی ہوئی تھی اور وہ اس عمر میں چھ سات سال سے بیوگی کی زندگی گزار رہی تھی۔
وہ دونوں میاں بیوی دل ہی دل میں خود کو کم ظرف بھی کہتے لیکن اکیلے ہو جانے کے ڈر سے زلیخا کی شادی بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔

رہ گئی زلیخا تو اسے چھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا وہ صبح کی نماز پڑھتی پھر دبے قدموں افسردگی اور بیوگی کی چادر اوڑھے قبرستان کی طرف نکل جاتی وہاں جاکر شاہنواز کی قبر پر دیا جلاتی پھول چڑھاتی اور چپ چاپ واپس چلی آتی نا کوئی گلہ نا شکوہ حالانکہ اسے شاہنواز سے گلے تھے شکوے تھے
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ افسردگی اور بیوگی کی چادر اتار پھینکتی اسکی جگہ ایک زمہ دار ماں ایک رابعدار بیٹی لے لیتی تھی۔

———————
وقت کچھ اور گزرا تو ایک دن ربنواز صاحب سے انلے بھتیجے علی سبحان نے رابطہ کیا تھا جسکا زکر بہت سال پہلے تک انکے گھر میںہر سو ہوتا تھا پھر اسکے ماں باپ کی یکسیڈنٹ موت واقع ہوگئی اسکی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئی تھی اور ایک ٹانگ بھی ضائع ہوگئی تھی ۔
جس وقت شاہنواز کی شہادت کی خبر اسے پہنچی تھی وہ خود بستر پر تھا بلکہ اس کے بعد بھی دو سال لگ گئے تھے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں ربنواز صاحب سے اسکی کم کم ہی بات ہوتی تھی لیکن جب بھی ہوتی وہ انہیں اپنے ساتھ لے جانے کا کہتا تھا اور ربنواز صاحب ہر بار ہی منع کردیتے. اسی ہاں نا میں انکے آٹھ سال گزر گئے تھے نا انہوں ساتھ جانے کہ حامی بھری نا وہ آیا
لیکن اب ربنواز صاحب کو لگتا تھا وہ ختم ہوتے جارہے ہیں انکا دل کہتا تھا کم از کم زلیخا کو ایل مضبوط چھت مہیا کر دیں تاکہ وہ آرام سے مر سکیں ۔

اپنی موت کا وہم ہوتے ہی انہوں نے علی سبحان ست رابطے تیز کر دیے تھے انکی ایک ہی ڈیمانڈ تھی کہ ہمیں آکر لے جاؤ

ربنواز صاحب نے سوچا تھا کہ علی سبحان کے آتے ہی زلیخا کا کسی اچھی جگہ نکاح کردیں گے اور خود احمد اوراپنی بیوی کو لے کر علہ کے ساتھ چلے جائیں گے

اپنی ہی سوچوں میں وہ اس بار بھی خود غرضانہ فیصلہ کیے ہوئے تھے لیکن پھر بھی انہیں علی کا انتظار تھا۔

———————–

وہ دن چڑھے تک قبرستان میںرلا رہا تھا پھر جب رو رو کر دل کو کچھ سکون ملا تو گھر جانے کے لیے اٹھ کھڑ ا ہوا اسکی چال میں ایک واضح لنگڑاہٹ تھی دور سے دیکھنے والے کوءی عام سا بندہ سمجھ کر منہ پھیر لیتے تو پاس سے دیکھنے افسوس سے ہاتھ ملتے کہ کتنا سوہنا صحت مند جوان ہے اور اتنے واضح عیب کے ساتھ؟؟
علی کو ایسی نظروں کی عادت ہوچکی تھی اسی لیے سب کو اگنور کرتا گھر کے دروازے تک پہنچ گیا.

اس نے دستک کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اندر سے آتی سریلی سی آواز سے اسکا ہاتھ کانپ گیا تھا اور جسم میں خون کی گردش بڑھ سی گئی تھی۔

بن کے خیرالورا آگئے مصطفیٰ
بن کے خیرالورا آگئے مصطفیٰ

علی سبحان کو لگا اس نے یہ آواز کہیں سنی ہے اسے لگا وہ اس آواز سے اور اس آواز والی سے انجان نہیں ہے

ہم گناہگاروں کی بہتری کے لیے
بن کے خیر الوارا آگئے مصطفیٰ

اس نے نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ دروازے پر زوردار سی دستک دی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: