Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 2

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 2

–**–**–

ثانیہ انگلش ڈپارٹمنٹ کی بیک سائیڈ پر برآمدے میں دشمن گروپ کی لڑکیوں کو باتوں میں لگائے کھڑی تھی اور نظریں باقی تینوں کہ نقل و حرکت پر تھیں۔

کانوں میں لگی ہینڈ فری کے ساتھ وہ رملہ کو ہدایات بھی دے رہی تھی۔

اچانک وہ چونکی پھر اسکا منہ کھلتا چلا گیا کیونکہ شکار جسکے بارے زلیخا نے بتایا تھا وہ موڑ مڑ گیا تھا۔
لیکن منہ کھلنے کی وجہ شکار کے پیچھے پیچھے اپنے مست لنگ اے حلیہے میں من چلوں کی سی چال چلتے اپنی پروفیسر علی سبحان تھے ۔

ثانیہ کو پکا یقین تھا کہ کچھ غلط ہونے والا ہے اسی لیے وہ فوراً بدکی اچھا انوشے عبیرہ اب میں چلتی ہوں میری کلاس کا ٹائم ہورہا ہے۔

ساتھ کھڑی لڑکیوں سے کہتی انکا جواب سنے بغیر گلاب کے پودوں کی طرف بھاگی تھی وہ ساتھ ساتھ رملہ کو منع کرنے لگی

نا نا رملہ یہ تو میسی
او نہیں رملہ پلیز یہ سر میسی ہیں

ٹھیک اسی وقت آیت بھی میسی میسی کر رہی تھی۔

اور رملہ چوہدری کو یہ کہاں منظور تھا کہ کوئی اسکے سامنے شیر علی چوہدری کو چھوڑ میسی چیسی کی تعریف کرتا جبھی اس نے ثانیہ کی تنبیہ بلکل نہیں سنی اور باآواز بلند
میسی کی تو ایسی کی تیسی

کہتے رسی وقت سے پہلے ہی کھینچ دی تھی۔
ثانیہ تقریباً بھاگتے ہوئے پہنچی تھی اور کسی افتاد کی طرح رملہ کے ہاتھ پر جھپٹی تھی۔

آیت پہلے ہی ایک سائیڈ پر تھی رملہ کو ہاتھ سے پکڑ کر ثانیہ نے کھینچ لیا تھا۔

زلیخا کی دھڑکن جو میسی چیسی کے اپنی یونی میں ہونے کے انکشاف پر بدلی ہوئی تھی ثانیہ کے اس اچانک حملے پر وہ بوکھلا گئی اور بوکھلاہٹ میں پیچھے کے بجائے آگے کو نکلی اسکا سلور نیٹ کا ڈوپٹہ گلاب کی اونچی ٹہنیوں میں اٹک ہوا تھا جسے چھڑانے کے لیے اس نے جھٹکا مارا اور پھر

آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

وہ اپنی ہی بچھائی رسی سے الجھی تھی اور سیدھا گلِدوپہر کی کیاریوں کی طرف گری تھی

———000———-
You ll do anthing
ہن ہن

When you Love some one

ہن ہوں ہوں وہ انگلش گانے کی دھنیں گنگناتا بے جان لفظوں کو اپنی ساحرانہ آواز سے جان پیدا کرتا چلا آرہا تھا کہ اس کا پاؤں کسی چیز سے الجھا تھا لیکن چونکہ وہ بہت سست روی سے چل رہا تھا اسی لیے اس نے خود کو سنبھال لیا تھا لیکن کوئی اور جلدی میں اس کے آگے سےگزرتے خود کو نہیں سنبھال پایا تھا ۔
اسے پہلے کے وہ الجھ کر گل دوپہر کی کیاریوں میں گر پڑتی علی سبحان نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا۔

ٹھیک اسی وقت زلیخا کے کھینچے گئے سلور نیٹ کے ڈوپٹے کا کونہ گلاب کے پودے سے کئی گلاب کی پنکڑیاں ساتھ لیے آزاد ہوا تھا ۔

————-000————–

آسمان سے برستی ہلکی ہلکی کن من ابھی جاری تھی علی سبحان نے زلیخا کو گرنے سے بچالیا تھا وہ خود سنبھل کر اسے سہارا دیتے کھڑا کرنا چاہتا ہی تھا جب سلور سرمئی سے ستارے ان دونوں پر چھا گئے تھے۔
زلیخا کے سلور نیٹ کے ڈوپٹے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا تھا اسکے ساتھ ہی ڈوپٹے کے پلو سنگ کھنچی چلی آنے والی سرخ و سفید گلاب کی پنکھڑیاں ان پر برسی تھیں۔

دور نزدیک کے کئی ہاتھ حرکت میں آئے تھے اس مکمل منظر کو قید کرنے کے لیے جس سے وہ دونوں لاعلم تھے۔

زلیخا نے صرف ایک پل کو آنکھ اٹھا کر دیکھا تھا میسی چیسی یک ٹک اسی کو دیکھ رہا تھا دونوں ہی سلور نیٹ کے ھالے میں تھے آسمان سے بارش کے ساتھ پھول برسے تھے سب کچھ کسی فیری ٹیل کا سا تھا زلیخا جس کے دل نے صرف میسی کے نام پے ہارٹ بیٹ مس کرنا شروع کردی تھی اب میسی کے اتنا قریب ہوکر تو جیسے اسے آگ ہی لگ گئی تھی ۔
او لفنگے انسان اندھے ہو کیا ؟

زلیخا زبان ہمیشہ ریتی پر تیز کر کے رکھتی تھی

مقابل نے بغیر کچھ کہے صرف گردن نا میں ہلائی تھی

تو پھر چھوڑو

اس نے سر اور گردن سے اشارہ کیا چھوڑ دوں کیا؟

گونگے کے ساتھ بہرے بھی ہو ؟
شائد آج میسی کا کچھ بھی بولنے کا ارادہ نہیں تھا جبھی ایک بار پھر سے گردن نا میں ہلائی
تو پھر چھوڑو بھی چھوڑتے ہو یا اتاروں جوتا ہیں؟
آہ ہ ہ ہ
امی امی
میسی بیچارہ تو شائد نا ہی چھوڑتا لیکن یہاں سے جوتے کے نام پر اس نے واقع چھوڑ دیا تھا اور زلیخا کو ایک منٹ لگا تھا زمین بوس ہونے میں
اگرچہ منظر بہت دلنشین تھا اور فرصت سے دیکھا جا سکتا تھا لیکن وہ دور کھڑے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ محسوس کرچکا تھا جبھی اسے گراتا آگے بڑھتا چلا گیا تھا۔
ارے او مسٹر دو نمبر میسی چیسی کیسی تمہاری تو ایسی کی وہ آگے بھی کچھ بولتی لیکن ثانیہ نے آکر اسکا منہ سختی سے بند کردیا تھا۔

———-000–———-

آج ان تینوں نے کوئی کلاس نہیں لی تھی اور سیدھے روم میں واپس آئیں تھیں۔
جہاں رملہ آیت حیران تھیں وہاں ثانیہ کا غصے سے برا حال تھا واحد زلیخا تھی جسکا دل کر رہا تھا زمین پھٹے اور وہ سما جائے
آنسو بس بہنا ہی چاہتے تھے لیکن ایک بار پھر سے ہمت جتاتے اس نے ثانیہ سے پوچھا
ثانیہ جی اب کیا ہوگا؟
یہ سوال رملہ اور آیت کے بعد زلیخا تیسری بار پوچھ رہی تھی ثانیہ کو اچھی خاصی تپ چڑھ گئی
وہ جو علی سبحان صاحب ہیں نا وہ ایک نمبر کے اکٹرو بد تمیز اور مغرور انسان ہیں پوری یونی ان سے خار کھاتی ہے دوسرے لفظوں میں ڈرتی ہے
اور تم نے نا صرف انہیں گرانے کی کوشش کی بلکہ ان پر اتنے فقرے بھی کسے اور وہ جو سین کری ایٹ کیا اللہ اللہ
اب ہوگا یہ زلیخا علی کریم جی کہ کہ مجھے خود نہیں پتا کیا ہوگا
ثانیہ شائد علی سبحان سے کچھ زیادہ ہی ڈرتی تھی جبھی وہ خود بھی روہانسی ہوگئی۔
پھر کچھ دیر بعد بولی زلیخا بی بی اب کم از کم ایک پورا ہفتہ جب تک یہ بات ٹھنڈی نہیں ہوجاتی تم نے مجھے کیمپس میں نا تو بلانا ہے اور نا ہی میرے قریب آنا ہے ۔

زلیخا نے سین کری ایٹ کے لفظ پر صدمے سے پہلے ثانیہ پھر آیت اور سب سے آخر میں رملہ کو دیکھا جو برے برے منہ بنا رہی تھی۔

ہاں تو تمہیں کس نے کہا تھا بیچ بارش میں اپنی رام لیلا شروع کرنے کو ان تینوں نے بڑی عجیب نظروں سے اسے دیکھا ۔

ہاں تو ایسے کیوں دیکھ رہی ہو بھئی بھلا بندہ ہوچھے اسے کس نے کہا تھا
چاند سفارش
والی اندھی کانی کاجل بنتی پھرے رملہ چوہدری نے چپ رہنا سیکھا ہی نہیں تھا۔

———–000-————

کیمپس میں وہ چاروں الگ الگ انٹر ہوئیں تھیں
ثانیہ کا پہلا پیریڈ خالی تھا اس نے اندر آتے ہی فوراً لائبریری کی طرف قدم بڑھا دیے

وہ رملہ اور آیت کے پیچھے پیچھے مرے مرے قدموں سے کلاس میں داخل ہوئی اس نے یہ محسوس نہیں کیا تھا کہ کلاس کے کافی سارے سٹوڈنٹس اسے معنی خیزی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

اسے ثانیہ نے بتادیا تھا کہ انکی کلاس میں پہلا پیریڈ سر علی سبحان کا ہے جبھی وہ سب سے آخری لائن میں سر جھکائے شرمندہ شرمندہ سی بیٹھی تھی۔۔

علی سبحان کلاس میں انٹر ہوتے ہی اسے دیکھ چکا تھا لیکن اگنور کر گیا۔
اس نے کلاس کو اپنا تعارف کروایا پھر باقی کلاس کا تعارفی سلسلہ شروع ہوا اس سب کے دوران وہ غائب دماغی کی حالت میں بیٹھی رہی۔۔

ایک چالک اسکے جھکے سر سے آکر ٹکرایا تھا اسنے چونک کر سر اٹھایا پروفیسر سمیت ساری کلاس اسے دیکھ رہی تھی۔

یو سٹینڈ اپ اینڈ ایکسپلین سپاٹ لہجے میں سوال کیا گیا تھا۔

وہ سمجھ نہیں پائی کس چیز کو ایکسپلین کرنا ہے ۔

وہ سمجھنے کی کوشش کررہی جب دوبارہ سے علی سبحان کی سرد سی آواز گونجی
تو مس کیا آپ بتانا پسند کریں گی وہ صرف اتنا بولے تھے ۔

زلیخا نے انکی بات کاٹی اور نان سٹاپ بولنے لگی سر میری غلطی نہیں ہے ہم نے آپکے لیے رسہ نہیں بچھایا تھا اور قسم سے میں تو آپکو جانتی بھی نہیں تھی کہ آپ سر ہیں مجھے لگا وہ کمبخت میسی ہے
اور باہر جو کچھ میں نے آپ سے کہا
اگر مجھے پتا ہوتا آپ سر ہیں تو میں بلکل نا کہتی اور

علی سبحان بہت ضبط سے زلیخا کی بے وقوفی پر مبنی اوٹ پٹانگ باتیں سن رہا تھا اس نے ایک پل کو بھی نہین سوچا تھا اسکی ایسی بچگانہ باتیں کسی بھی سکینڈل کو جنم دے سکتی ہیں وہ اسی سوچ میں الجھا تھا جب کلاس میں سے کسی نے فقرہ کسا تھا

اور اور آپکے بجائے خود آگے بڑھ کر آپکو تھام لیتی
کلاس میں دبی دبی ہنسی گونجی تھی۔

آوٹ وہ زور ست دھاڑا تھا
ساری کلاس کو سانپ سونگھ گیا۔
مس آئی اے گیٹ آوٹ فرام مائی کلاس اس بار آواز کی شدت پہلے سے زیادہ تھی زلیخا کی آنکھیں بھر آئیں مس زلیخا علی کریم
اس بار علی سبحان نے اسکا پورا نام لیتے ہوئے باہر کی طرف انگلی کی وہ ٹپ تپ بہتے آنسوؤں کے ساتھ کلاس سے باہر چلی گئی تھی۔

————000———-

پاگل لڑکی تب عمر ہی کیا تھی تمہاری ہیں؟
اگر میں اس دن ایسا نا کرتا تو میرا کچھ نہیں جانا تھا مگر تمہاری پاکیزگی تمہاری شرافت اگلے چار سالوں کے لیے ساری یقنی کے سامنے سوالیہ نشان بن جاتی ۔

کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایک گنہگار مرد کو بھی پاکیزہ ہونے کے لیے صرف ایک غسل کافی ہوتا ہے
جبکہ عورت 😣😣 کو اپنی پارسائی ثابت کرنے میں عمریں بیت جاتی ہیں ۔

وہ نہر کے کنارے کنارے چلتا کھٹے میٹھے ماضی کو یاد کرتا شادی والے گھر کی طرف بڑھا جارہا تھا ۔
اسے اپنے کیے کسی بھی عمل پر شرمندگی نہیں تھی کیونکہ وہ جانتا تھا اسکا ہر عمل ہر بات زلیخا کی عزت اور پارسائی کی حفاظت کے لیے تھا۔۔

اب وہ تقریباً شادی والے گھر کے قریب پہنچ گیا تھا
ابھی وہ گھر سے تھوڑا دور تھا جب ڈھول کی تھاپ کو بانسری کی سریلی لہہ نے مات دی تھی. وہ ایک بار پھر سے ماضی میں گزری چاندنی رات میں کھونے لگا تھا ۔ جس رات وہ مری کے یخ بستہ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ماوتھ آرگن بجارہا تھا

لیکن بانسری
کی لہہ کے ساتھ ہی اٹھتی ایک سریلی سی زنانہ آواز کی گونج نے اسے ماضی سے واپس کھینچ لیا تھا

((پِپلاں دی چھاں وےےے))

وہ چونکا تھا
کوئی بہت سوز میں بہت سر میں بڑے جذب سے گا رہا تھا

((کدے بہہ جاں وےےےے))

اس جانی پہچانی آواز پر علی سبحان خان کا دل رک کر دھڑکا تھا۔

((جند تیرے ےےے ے ناں لاواں

اسے لگا اسکی جند کسی کے نام لگ ہی تو گئی ہے نجانے کب سے

فیر پاویں مر جاواں
ڈھولا))

اسکے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے اور دھڑکن بڑھنے لگی تھی اسکے قدم تھرتھرانے لگےتھے

بہہ جا کول ماہیا
وےےے کج بول ماہیا

اسنے جلدی سے آگے بڑھ کر گھر کا دروازہ پار کیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: