Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 20

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 20

–**–**–

آج شاہنواز کی برسی تھی جس کی وجہ سے گھر میں قرآن خوانی رکھی گئی تھی۔

زلیخا قبرستان جانے سے پہلے کافی کام کرکے گئی تھی اور اب واپس آکر بھی کام والی کو ساتھ لگائے جلدی جلدی کام نبٹانے میں لگی تھی۔
پیچھلے صحن میں بابا نے رات کو ہی پانی چھڑک دیا تھا
اب اس نے چاندنیاں بچھا کر ان پر سفید چادریں بچھائیں درمیان میں چھوٹا ٹیبل رکھ کر سپارے اور یاسین شریف رکھیں خواتین آنا شروع ہوگئیں تو اماں کو باہر آنے کا کہہ کر وہ خود چینج کرنے چلی گئی تھی۔

اندر جاتے اس نے ایک طائرانہ سی نظر سے پیچھلے صحن کو دیکھا سب صاف ستھرا نکھرا نکھرا لگ رہا تھا ۔
انار کر پودوں پر لال نارنجی سے پھول لگے تھے انار کے ساتھ لگے سکھ چین کا گھنا درخت بھی جامنی رنگ کے پھولوں سے لدا اپنی ایک الگ ہی چھب دکھالا رہا تھا۔
سکھ چین اور انار کے پھولوں کی کھٹی میٹھی سی مہک اگربتیوں کی خوشبو کے ساتھ مل کر ماحول کو عجیب پرنور سی جلا بخشے ہوئے تھی اسے کافی عرصے بعد اپنے اندر ڈھیروں سکون
حسوس ہوا تھا
پھر سر جھٹک کر اندر کی طرف مڑ گئی

وہ چینج کرکے نکلی شیشے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی ۔
جب احمد کمرے میں داخل ہوا چہرے پر عجیب سا اشتیاق تھا زلیخا سمجھ گئی جناب احمد شاہنواز صاحب کچھ الٹا سیدھا کر کے آئے ہیں یا کرنے کا پلان دماغ میں لیے ہوئے ہیں اسی لیے اسے نظر انداز کیے اپنی چوٹی کو بل دینے لگی تھی

احمد شاہنواز خان کو بھلا کیسے منظور ہوتا کہ کوئی بھی اسے نظر انداز کرے یہاں تو معاملہ اسکی پیاری ماما جان کا تھا سو کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بول اٹھا

ماما ،
ماما جی

زلیخا نے پھر سے نظر انداز کیا کیونکہ احمد کو ایک بار بات کا موقع دینے کا مطلب تھا ایک گھنٹہ الٹی سیدھی بے سروپا باتیں سنتے جاؤ
اور کم از کم زلیخا کے پاس فلحال احمد کی الف لیلا سننے کا ٹائم بلکل بھی نہیں تھا باہر سب لوگ آچکے تھے اور پڑھائی تقریباً شروع ہوچکی تھی ۔۔

ماما وہ ایک با پھر سے بولا تھا
احمد بیٹا جو بات بھی ہے جلدی سے کہہ دیں اور پھر فوراً جاکر دادا کے پاس بیٹھو ماما کو ابھی بہت کام کرنے ہیں
اس نے نرمی سے احمد کو ہدایت کی پھر چوٹی کو آخری بل دے کر ڈوپٹہ اٹھایا اور اوڑھنے لگی

ارے میری ماما جیییییییی. 😊😊
یہ آخری حربہ تھا احمد کا دادا دادی یا ماں کی خاص توجہ حاصل کرنے کے لیے میری دادو جی یا میرے دادا جی کہتا تھا اور جواب میں اسے بھرپور توجہ ملتی تھی اب بھی ایسا ہی ہوا زلیخا ڈوپٹہ گلے میں ڈال کر مڑی پھر اسکے پاس بیٹھ کر بولی
جی میرا بیٹا جی!!
احمد صاحب کی بتیسی کھل گئی اور رازدانہ انداز میں بولا آپ دنیا کی سب سے اچھی ماما ہیں پتا ہے؟

احمد شاہنواز فوراً سے پہلے بات مکمل کریں اور یہ مکھن کسی اور وقت کے لیے رکھیں بیٹا جی
زلیخا مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی تھی ۔

ارے مسز شاہنواز ایک تو سمجھتی نہیں یار اب بندہ اپنی ماما کو گفٹ بھی نہیں دے سکتا کیا؟ زلیخا نے اب توجہ دی تھی کہ وہ دونوں ہاتھ پیچھے کیے کچھ چھپا رہا تھا ۔

زلیخا کو لفظ بندہ پر ہنسی تو بہت آئی تھی لیکن پھر اسی کے انداز میں بولی بھئی بندہ بلکل اپنی ماما کو گفٹ دے سکتا ہے لیکن آپ پلیز اس بندے سے کہیں جو بھی گفٹ ہے جلدی سے دے تاکہ ماما اور بھی کام کرسکیں اس نے اٹھ کر ڈوپٹہ سر پر اوڑتھے روانی میں کہا تھا

اوکے تو پھر جلدی سے آنکھیں بند کریں احمد جلدی سے کہتا اسکے سامنے آیا تھا اس نئی فرمائش پر وہ زچ ہوئی لیکن ماننے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا اسی لیے آنکھیں بند کرلیں

اب کھولیں کچھ سیکینڈ بعد احمد کے کہنے پر زلیخا نے آنکھیں کھولیں تو احمد کے ہاتھوں میں موجود چیز دیکھ کر اسکا رنگ فق ہوا تھا۔

لچھ دیر بعد گنگ سی لڑکھڑاتے لہجوے میں بولی
یہ
یہ کیا بیٹا؟
یہ کہاں سے لائے آپ؟
احمد کے ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے تھے

ارے ماما یہ میں خود لایا ہوں فلاور شاپ سے احمد نے فخریہ اپنا کارنامہ بیان کیا

لیکن کیوں بیٹا؟ زلیخا کی حیرت میں انجانا سا خوف تھا
وہ ماما لاسٹ ٹائم ابراہیم کے گھر بھی قرآن خوانی تھی نا!
احمد نے بیچ میں بات روک کر ماں سے تصدیق چاہی زلیخا نے اثبات میں سر ہلایا

وہاں ابراہیم کی ماما نے اسکی دادو نے سب نے یہ پہنے ہوئے تھے سب کیسے ایکشن مار رہے تھے آپکو تو یاد ہی نہیں رہتا دادو کو بھی پتا نہیں چلتا آپ پہنا کرو نا ماما ابراہیم کی ماما اتنی اچھی لگتی ہیں ۔
اور پہلے بھی قرآن خوانی پر آپ نہیں پہنتیں تھیں مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا ۔۔۔

اس بار میں اتنے دن سے پاکٹ جمع کر رہا آپکو اور دادو کو یہ فلاور بینگل گفٹ کرنے لے لیے دادو کو پہنا کر آیا ہوں آپ بھی جلدی سے پہن لیں نا یار
ابھی تو پیسے ہی کم تھے لیکن ماما آپ دیکھنا جب میں بڑا ہوجاؤں گا نا تو آپکے لیے وہ جو ریڈ گرین اورنج والی ہوتی ہیں نا رئیل بینگل وہ بھی لاؤں گا.

زلیخا بھری آنکھوں سے اپنے جگر گوشے کو دیکھ رہی تھی جو اتنی سی عمر میں اپنی ماں کی اُجاڑ ویران زندگی کو رنگوں سے مزین کرنا چاہتا تھا چوڑیوں کی کھنک سے سجانا چاہتا تھا

ارے ماما آپ احمد شاہنواز خان کی ماما ہیں یار میرا دل چاہتا ہے آپ ہر وقت بینگل پہنی رکھا کریں ۔۔
آپکی بینگلز کی آواز سے مجھے پتا چل جایا کرے گا کہ آپ میرے آس پاس ہیں احمد نے زلیخا کو آنکھ ماری تھی۔
اسی وقت زلیخا کے کانوں میں کسی نے مدہم سی سرگوشی کی تھی۔

(ارے یار تمہاری چوڑیوں کہ کھنک ہی تو مجھے زندگی کا احساس دلاتی ہے)
اس نے جلدی سے سر جھٹکا تھا

احمد میں یہ نہیں پہن سکتی بیٹا
زلیخا نے احمد کو لپٹاتے ہوئے دکھی سے لہجے میں کہا
کیوں ماما ابراہیم کی ماما بھی تو پہنتی ہیں نا؟
بیٹا اسکے پاپا لا کردیتے ہیں
او آئی سی تو جب میں پاپا کے پاس جاؤں گا نا تو انہیں کہوں گا آپکے لیے بینگل لے کردیں۔

زلیخا کے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا وہ فوراً سے چیخی تھی
احمددددد اس نے تڑپ کر اسے سینے سے لگایا تھا جو اپنی معصومیت میں اتنی بڑی بات کہہ گیا تھا ۔
ایسے نہیں کہتے بیٹا ۔
اللہ میاں ناراض ہوجاتے ہیں
لو اب اللہ میاں اپنے بابا کے پاس جانے پر کیوں ناراض ہوں گے بھلا؟
احمد شاہنواز خان اس بار زلیخا غصے ۔میں بولی تھی
اوکے نہیں کہتا پھر آپ یہ پہن لیں جلدی سے
لیکن بیٹا
دروازے پر دستک دے کر بابا آئے تھے ۔

لیکن ویکن کچھ نہیں دادا آپ بولیں ماما کو یہ پہن لیں ایک تو مجھے اتنا زیادہ پیار بھی نہیں کرتیں بات بھی نہیں مانتیں میں بھی شہید ہو کر بابا کے پاس چلا جاؤں گا۔۔

زلیخا کی سسکیاں نکل گئی تھیں اس نے تڑپ کر ربنواز صاحب کی طرف دیکھا انکی حالت بھی اس سے مختلف نا تھی لیکن وہ چپ تھے کیونکہ حقیقت جاننے کی نا تو احمد کی عمر تھی نا ہی اسکو بتایا گیا تھا اسے صرف اتنا پتا تھا کہ اسکے پاپا شہید ہوگئے ہیں ۔

شہید اللہ میاں کے پیارے مہمان ہوتے ہیں اور اللہ ان سے بہت پیار کرتا ہے ماما بابا سے بھی زیادہ دادا دادو سے بھی زیادہ

احمد آپ چلے جاؤ گے تو ماما دادا دادو کے پاس کون ہوگا بیٹا؟ انکا سہارا کون بنے گا بتائیں زرا؟
ربنواز صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اس سے بات شروع کی تھی ۔

ہاں تو میری بات تو کوئی مانتا نہیں ہے پھر میں کیسے بنو سہارا؟

ماما سے کہیں یہ پہن لیں پھر ماما کا سہارا بنو گا ادو وائز سوری
احمد نے منہ پھلا کر کہا تھا ربنواز صاحب کے چہرے پر دکھی سی مسکراہٹ آئی پھر وہ زلیخا سے بولے
زلی بیٹا پہن لو
زلیخا نے شکوے بھری نظر ان پر ڈال کر کہا
بابا لوگ کیا کہیں گے
وہ آنکھوں میں نرمی لیے بولے

بیٹا اب تمہیں کسی سے ڈرنے کہ ضرورت نہیں تمہارا سہارا کہہ رہا ہے کہ پہن لو تو پہن لو؟
اور یاد رکھنا شیروں کے بچے بھی شیر ہوتے ہیں اور جو مائیں شیروں کو جنم دیتی ہیں وہ عام نہیں ہوتیں انہیں لوگوں کی باتوں سے گھبرانا زیب نہیں دیتا

زلیخا نے گجرے پہن لیے تھے پھر چپ کر کے سر جھکاتی باہر نکل گئی تھی

————————-
قرآن پاک ختم ہوگیا تھا دعا سے پہلے محلہ کی عالمہ باجی نے چھوٹا سا بیان دیا تھا جسکا موضع حقوق العباد اور صلہ رحمی تھا سب سے آخر میں اسے نعت پڑھنے کا کہا گیا
وہ کھوئی کھوئی سی حالت میں بیان کے دوران سنی جانے والی احادیث میں الجھی ہوئی تھی جب عالمہ باجی کے دوسری بار پکارنے پر چونکی
زلیخا بچے موسم خراب ہورہا ہے آپ جلدی سے دو نعتیہ اشعار پڑھیں پھر دعا کے بعد سب اپنے اپنے گھر جائیں

اس نے آسمان پرنظر ڈالی اچھا بھلا دن شام کا منظر پیش کر رہا تھا پھر آنکھیں بند کیں اور نہایت عاجزی سے نعت پڑھنے لگی

((بن کے خیرالوارا آگئے مصطفیٰ
بن کے خیرالوارا آگئے مصطفیٰ))

اسکی آواز میں سوز تھا جذب تھا تمام خواتین جو خراب موسم کی وجہ سے گھر جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں ایک ٹرانس کی سی حالت میں بیٹھتی چلی گئیں

((ہم گناہگاروں کی بہتری کے لیے
بن کے خیرالوا آگئے مصطفیٰ))

ہلکی ہلکی چلتی ہوا تیز ہونے لگی تھی لیکن وہ مگن سی مداح سرائی میں مشغول تھی ۔۔

(اک طرف بخششیں اک طرف نعمتیں)

آواز، میں اتنا تسلسل تھا اتنا درد تھا کہ بہت سی خواتین کے آنسو نکل آئے تھے

گھر کے دروازے پر زور سے دستک ہوئی تھی ۔۔

((ہم گناہگاروں کی بہتری کے لیے
بن کے خیرالوارا آگئے مصطفیٰ))

نعت کے بعد باجی نے دعا کروائی پھر ایک ایک کرکے سب لوگ اٹھ کر جانے لگے تھے ہر بزرگ عورت جاتے جاتے زلیخا کو خود سے لپٹاتی اسکی پیشانی چوم کر دعا دیتی اور آگے بڑھ جاتی
وہ دروازہ بند کرنے آئی جب گلی میں داخل ہوتی کچھ عورتوں کا تبصرہ اسکے کان میں پڑا تھا

کیسی نیک سیرت بچی ہے روشن پیشانی تو دیکھو جیسے نور چھلک رہا ہو ۔
دوسری نے کہا ہاہ ہائے پر قسمت تو اچھی نہیں کہتے ہیں اٹھارہ سال کی تھی جب بیوہ ہوئی۔۔

نیک ماں باپ کی اولاد ہے جبھی اتنے سالوں سے بوڑھے ساس سسر کو سنبھالے بیوگی جھیل رہی ہے ورنہ تو اس عمر کی تو کئی لڑکیاں ابھی کنواری بیٹھی ہیں.۔۔

وہ دروازہ بند کرکے پلٹ آئی اب ایسی باتوں کی عادی ہوچکی تھی یہ باتیں وہ پیچھلے کئی سالوں سے سن رہی تھی ۔

وہ اندر کی طرف بڑھی اماں کسی محلے دار کے ساتھ ہی باہر نکلی تھیں ابا نجانے اندر کہاں غائب ہوگئے تھے ابھی وہ صحن میں ہی تھی کہ بارش کی بوچھاڑ شروع ہوگئی اس نے جلدی سے کام والی کو آواز دی
رشیدہ جلدی آؤ سامان سمیٹ لیں
اور پیچھلے صحن میں چلی گئی رشیدہ پہلے سے ہی وہاں تھی قرآن پاک وہ اندر رکھ آئی تھی اب جلدی جلدی چاندنیاں لپیٹ کر شیڈ کے نیچے رکھیں اور چادریں رشیدہ کو اندر لے جانے کا کہہ کر خود ٹیبل اٹھانے لگی
اسی وقت بجلی چمکی اور بادل گرجنے کے ساتھ بے اختیار ہی اسکی چیخ نکلی تھی اپنی دونوں بازؤں سے اس نے منہ چھپا لیا تھا

—————————

وہ زور زور سے دروازہ بجا رہا تھا کچھ دیر بعد ربنواز صاحب نے دروازہ کھولا تو اسے دیکھ کر حیران رہ گئے پھر آگے بڑھ کر اسے سینے کے ساتھ لگاتے اندر لے آئے

وہ جو آواز کے تعاقب میں جانا چاہتا تھا انکے سارتھ اندر کی طرف چل دیا وہ سریلی سی روح کے تانے بانے اُدھیڑتی آواز ابھی تک آرہی تھی ۔
ربنواز صاحب کوئی بات کر رہے تھے لیکن وہ آواز میں الجھا تھا
اسکا ذہن یہ تو مانتا تھا کہ یہ آواز اس نے بہت دل سے بڑے جذب سے سن رکھی ہے لیکن کہاں یہ یاد نہیں آرہا تھا۔

ارے میاں کہاں کھو گئے بھئی؟
ربنواز صاحب نے اسکی توجہ نا پاکر سوال کیا
کہیں نہیں چاچو بس میں سوچ رہا تھا چاچی کہاں ہیں؟
کچھ نا بن پڑا تو چاچی کا پوچھ لیا؟

آج شاہو کی برسی ہے اسی لیے قرآن خوانی کروائی ہے تمہاری چاچی اور زلی پیچھلے صحن میں ہیں

وہ زلی کا نام سن نہیں سکا تھا ۔
آواز آنا بند ہوگئی تھی ۔

اچھا تم اوپر روم میں جاکر فریش ہو جاؤ میں تمہاری چاچی کو بلاتا ہوں اور کھانا بنواتا ہوں
ربنواز صاحب نے اسکی غیر حاضر دماغی کو تھکاؤٹ کا نام دیا تھا

جی جی ٹھیک ہے علی نے اثبات میں سر ہلایا ربنواز صاحب باہر نکل گئے جبکہ وہ اوپر آگیا اسکے کمرے کی کھڑکی نیچے صحن میں کھلتی تھی اس نے کھڑکی سے دیکھا دو عورتیں جلدی جلدی نیچے صحن کا پھیلاوا سمیٹ رہی ہیں ۔

دل تھا کہ کسی کے ہونے کی گواہی دے رہا تھا لہو میں چنگاریاں تھی کہ بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھیں اگرچہ تھوڑی دیر پہلے والی حالت تو نہیں تھی لیکن بے قراری سی چھائی ہوئی تھی

یوں کھڑکی پر کھڑے ہونا اسے معیوب سا لگا جبھی کھڑکی سے ہٹ گیا لیکن کھڑکی سے ہٹتے اسکی نظر سکھ چین کی ایک شاخ پر پڑی جو تنے سے بلکل الگ ہونے والی تھی ہوا تیز تھی بارش بھی ہورہی تھی شاخ کا تنے سے الگ ہونا مطلب نیچے گرنا اور جو نیچے ہوتا اس خیال کے تحت اس نے کھڑ کی سے نچیے آواز دی تاکہ دونوں خواتین کو خبردار کرسکے لیکن دونوں ہی اپنے کام میں مگن تھیں سن نہیں سکی تھیں
———————-

وہ کھڑکی سے ہٹ گیا اور جلدی جلدی نیچے جانے لگا جب وہ پیچھلے صحن میں پہنچا تو وہ اکیلی تھی چہرہ تو نہیں لیکن سانولے ہاتھوں میں پہنے گجرے اسکا دل دھڑکا گئے تھے ۔

سانولے سلونے مہکتے ہاتھوں سے نظر اوپر شاخ کی طرف اٹھی تو اسکی طرف تیز قدموں سے بڑھنے لگا بھاگ وہ سکتا نہیں تھا اور آج کی مسلسل واک کی وجہ سے ٹانگ میں شدید درد ہورہا تھا۔
قریب تھا کہ وہ شاخ لڑکی پر گر پڑتی علی نے اسے زور سے آواز دی تھی

وہاں سے ہٹ جائیں پلیززز

وہ جو اپنے دھیان میں تھی یوں ایک انجان مردانہ آواز پر سہم سی گئی ٹھیک اسی وقت بجلی چمکنے کے ساتھ بادل گرجے تھے اور اس لڑکی نے دونوں کلائیاں چہرے کے آگے تانے چیخ ماری تھی۔

علی دکھتی ٹانگ کے ساتھ اسکی طرف تقریباً بھاگا تھا اس سے پہلے کہ علی اسکو دھکا دیتے سائڈ پر کرتا شاخ گر گئی تھی ۔

علی نے اپنے اور اس لڑکی کے بچاؤ کے لیے اپنے بازو دونوں کے سر پر تان لیے تھے۔

وہ شاخ گری نہیں تھی تنے میں ہی کہیں اٹک گئی تھی لیکن اس پر لگے خوشبودار جامنی پھول یکلخت دونوں پر برسے تھے زلیخا نے گجرے پہنی کلائیوں کی اوٹ سے اوپر دیکھا وہ کوئی جانا پہچانا سا مہربان تھا جو اس پر اپنی بانہوں کا سائبان کیے ہوئے تھا ۔

بارش کی بوندیں اسے بھگوتی زلیخا پر گر رہی تھیں
جامنی پھول اسکے وجود سے مس ہوتے زلیخا پر برس رہے تھے ۔

ٹھیک اسی وقت زلیخا پر اپنی بانہوں کا سائبان کیے شخص نے ذرا کی ذرا نظریں جھکا کر مہکتی کلائیوں سے جھانکتا سانولا سا چہرہ دیکھا تھا
اور وقت؟
وقت تو جیسے تھم گیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: