Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 22

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 22

–**–**–

وہ رات کا سماں تھا کالی اندھیری رات کا سماں ہر طرف ہوکاعالم چھایا ہوا تھا ایسے میں وہ اس ویران سڑک پر بھاگا جارہا تھا دھونکنی کی طرح چلتی سانسوں اور بوجھل ہوتے وجود کے ساتھ کچھ دیر بعد وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا تھا۔

اسے لگتا تھا اندھیرے اسکے تعاقب میں ہیں اور اسے نگل لیں گے
واپس پلٹنے پر وہ اور تیز بھاگنے لگتا پھر اچانک سے اسے ٹھوکر لگی اور وہ سڑک کے ساتھ بنے ایک گڑھے میں جاگرا
آہ آہ
اسے چوٹیں آئی تھیں اسے لگ رہا تھا اسکے ہاتھ پاؤں جیسے بے جان ہورہے ہیں وہ کھڑا نہیں ہو پائے گا اپنی طرف سے بہت ہاتھ پیر چلانے کے بعد اندھیرے غالب آجانے کے خوف سے اس نے رونا اور چلانا شروع کردیا تھا ۔۔۔۔
بچاؤ
بچاؤ مجھے نکالو یہاں سے پلیز نکالو مجھے
اماں بابا بھایا جی
وہ روتے ہوئے چلاتا جارہا تھا۔

نجانے وہ کتنی ہی دیر وہاں روتا چلاتا رہا مدد کو کوئی نہیں آیا اب وہ تھکنے لگا تھا تو زبان خود بخود پکاری
اللہ
اللہ اللہ میرے
اندھیرے اسکے وجود کو نگلنے لگے تھے ختم ہوتی ہمت کے ساتھ وہ گڑھے میں ایک جانب بیٹھ گیا اور اندھیروں کو خود پر غالب ہونے دیا۔
علی
علی خان
او میرے میسی بلوچ

اس سے پہلے کے اندھیرے اسے ہمیشہ کے لیے نگل جاتے گڑھے کے سرے پر اسے روشنی سی محسوس ہوئی تھی ۔
اور اپنے نام کی بازگشت بھی
کون تھا یہ جو اسے
اوئے میرے میسی
شاہو
ذہن نے فوراً سے نام کلک کیا اور اس نے دیوانہ وار وہ نام پکارنا شروع کردیا تھا
شاہ
شاہو بھائی بچاؤ
شاہو بچا لو مجھے
اس نے چلاتے ہوئے اوپر دیکھا تو سامنے ہی میجر شاہنواز خان اسکا شاہو بھائی روشنیوں کا استعارہ بنے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔

کیا ابے دو نمبر میسی بچوں کی طرح چلا رہا ہے بلوچوں کے نام کو بٹہ لگانے کا ارادہ ہے کیا شاہنواز مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔

شاہو وہ میں گرا گیا تھا اماں بابا کو اتنی آوازیں دیں بھایا جی کو بھی بلایا کوئی آیا ہی نہیں پھر مجھے ڈر لگ رہا تھا دیکھو کتنا اندھیرا ہے اسوقت وہ چھوٹا سا بچہ بنا ہوا تھا۔

اور کسے بلایا؟ شاہنواز کا لہجہ متبسم تھا
اور علی سوچ میں پڑ گیا
اور اللہ کو اللہ کو بلایا تھا میں نے

شاہنواز کھل کر ہنس دیا
ہاہاہاہاہا او میرا کملا ویر
چل لا مجھے ہاتھ دے
علی سبحان کی طرف روشنیوں نے سفر کیا تھا اس نے جھٹ سے روشنیوں بھرا ہاتھ پکڑا لیا گویا شاہنواز کا وجود ہمیشہ سے اسکے لیے روشنی کا منبع ہی تو تھا۔

شاہنواز نے اسے اندھیروں سے کھینچ نکالا پھر مسکراتے ہوئے دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئے تھے۔

شاہو تم پہلے کیوں نہیں آئے؟ علی سبحان نے کسی چھوٹے بچے کی طرح منہ پھلا کر کہا

کیونکہ تم نے مجھے پہلے بلایا ہی نہیں۔
تو اب بھی تو ؟
علی کی بات بیچ میں رہ گئی تھی جب شاہنواز بولا
اب بھی تم نے مجھے نہیں بلایا لیکن
تم نے اللہ کو بلایا تھا نا؟
علی نے اثبات میں سر ہلایا

تو بیٹا جی مجھے اللہ میاں نے بھیجا ہے
شاہنواز نے ہنستے ہوئے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا ۔۔
علی سبحان نے ناسمجھی سے سر پھیرا پھر جب آس پاس دیکھا تو چونک گیا یہ وہی راستہ تھا جو کچھ دیر پہلے تنہا اندھیرے میں ڈوبا تھا اور اب شاہنواز کے ساتھ نے ہر سو روشنیاں بکھیر دی تھیں ۔

پھر تو ثابت ہوا نا کہ ہماری زندگی میں کسی نا کسی کا وجود روشنیاں لانے کا باعث بنتا ہے پھر چاہے وہ کوئی ولی کامل ہو نیک ہمسفر ہو یا شاہنواز خان جیسا بڑا بھائی دوست ہو پہلے قدم پر وہ رہنما بنتا ہے اور اسکے بعد ہم تاریکی کو پچھاڑتے روشنی کے سفر پر چل پڑتے ہیں۔۔۔

شاہو
علی نے اسکے ساتھ چلتے ہوئے یونہی اسے مخاطب کیا تھا۔

جی کرے شاہو
شاہنواز کے جواب میں ہمیشہ کی طرح شفقت تھی۔۔
مجھے لگا میں اکیلا ہوں میں بہت ڈر گیا تھا یار
علی خان اکیلے ہوجانے سے ڈرنا نہیں چاہئے یار بے شک ہمیں سب اکیلا چھوڑ دیں لیکن وہ جو رب کی ذات ہے نا وہ ہمیں کبھی کسی قیمت پر اکیلے نہیں چھوڑتی یہ تو ہم ہوتے ہیں کم عقل نا سمجھ جو اسے چھوڑ دیتے ہیں
شاہنواز نے بہت نرمی سے اسےسمجھایا تھا

پھر یار اگر تم نا آتے تو
علی پے اب تک اندھیروں کا خوف غالب تھا۔

وہ چل ہن بس کردے بھئی
ویسے میں آتا کیوں نہیں؟
بس ایویں ہی

ہاہاہاہاہ او کملے بس ایویں ہی علی سبحان کے کہنے پر شاینواز کھل کر مسکرایا تھا
تم جب جب بلاؤ گے تو آجاؤ گا۔

اب جاؤ گھر شاہنواز اسے بچوں کی طرح پچکارتے آگے بڑھنے لگا تھا جہاں دھند پھیلی تھی۔

تم میری اتنی ہیلپ کرتے ہو جب تم کہو گے تو میں بھی تمہاری ہیلپ کروں گا ٹھیک ہے نا بلکہ ابھی بتاؤ میں کیا کروں؟
علی نے اسکے ساتھ تقریباً بھاگتے ہوئے آفر کی تھی۔

شاہنواز کے چہرے نے رنگ بدلہ تھا روشنیاں ماند پڑ گئیں تھیں اور چہرے پر سختی سی جھلکی تھی لیکن وہ رکا نہیں

بتاؤ شاہو میں کیا کروں تمہارے لیے وہ شاہ کے تاثرات سے بے نیاز بولے جا رہا تھا۔

علی تم ایسا کرنا میرے بعد میری چیزوں کا خیال رکھنا

شاہنواز کی آواز کسی گہری کھائی سے آئی تھی
علی کا اور اسکا فاصلہ بڑھتا جارہا تھا۔

کیا مطلب تمہارے کہاں جانے کے بعد؟
اور تمہاری چیزوں کا دھیان میں کیوں رکھوں گا بھلا؟
تمہاری کون کون سی چیزیں شاہو؟

علی نے ایک سانس میں بہت سے سوال کر ڈالے تھے شاہنواز اب دھند میں گم ہونے لگا تھا۔

مطلب جب میں نہیں ہوؤں گا تو میری چیزوں کا دھیان رکھنا پاگل گدھے

اس لیے کہ تم مجھ سے زیادہ بہتر طریقے سے انکا دھیان رکھ سکو گے

میری ساری چیزیں جو مجھے عزیز ہیں مجھے جن کی چاہ ہے میرے بعد وہ سب تمہاری ہونگی علی انکا دھیان رکھنا۔
میری چیزوں کا دھیان رکھنا علی

اچھا شاہ بھائی
علی نے اسے بڑے لاڈ سے آواز دی تھی لیکن جواب نہیں آیا تھا
اسکے آس پاس ہرطرف دھند چھائی تھی ۔
شاہ وہ زور سے چلایا تھا۔
شاہو یار
یار شاہو

ایک جھٹکے سے اسکی آنکھ کھلی تھی صبح صادق کا وقت تھا اور وہ پسینے میں تر بتر تھا۔

نرس اسے زلیخا کے ہوش میں آجانے کا بتا رہی تھی۔
زلیخا کل دوپہر سے بے ہوش تھی بابا اور علی اسے ایمرجنسی ہسپتال لے آئے تھے اماں احمد کے پاس رکی تھیں ربنواز صاحب رات بھر اسکے ساتھ ہی رکے تھے اب شاید تہجد کے لیے گئے تھے جب علی کی آنکھ لگی تھی۔۔۔

یہ خواب پیچھلے پانچ سالوں سے اسے کئی بار آیا تھا اور ہر بار اسکی شدت پہلے سے زیادہ ہوتی تھی۔
پہلے پہل وہ اس خواب کو اپنے ایکسیڈنٹ اور اسکت بعد ہونے والی ڈپریشن سے جوڑتا تھا کیونکہ شاہنواز ہی کی وجہ سے وہ زندگی کی طرف لوٹا تھا لیکن پھر اس خواب کے تسلسل نے اسے پاکستان آنے پر مجبور کیا تھا ۔
اور یہاں آکر زلیخا کا سامنا کرتے اسے خواب شاہنواز کی خواہش کی سمجھ آگئی تھی ۔
لیکن ایک گھتی اسکا ذہن سلجھانے سے قاصر تھا
کیا شاہنواز کو معلوم ہوگیا تھا کہ میں جس لڑکی کو چاہتا ہوں وہ زلیخا ہے؟

ربنواز صاحب کو پرئیر حال سے اپنی طرف آتا دیکھ کر اس نے خود کو سنبھالہ اور اٹھ کر انکی طرف بڑھ گیا ۔۔

——————————

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: