Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 24

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 24

–**–**–

بابا علی سبحان ہی وہ انسان ہیں جنکی وجہ سے شاہنواز مجھے چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔

اس وقت علی نے موقع کی مناسبت سے ہسپتال میں خود کو بڑی مشکل سے کمپوز کیا تھا اور زلیخا کو ڈسچارج کروا کر گھر لے آیا تھا۔۔

لیکن اب شام سے آدھی رات ہونے کو آئی تھی وہ کمرے میں اندھیرا کیے لیٹا تھا کھانے کا شام میں ہی اس نے ربنواز صاحب کو منع کردیا تھا جبھی کسی نے اسے ڈسٹرب نہیں کیا تھا
اور اب آدھی رات کے وقت زلیخا کے لفظوں کی بازگشت اسے عجیب سے احساس جرم میں مبتلا کیے ہوئے تھی اسے خود سے گھن آرہی تھی۔
وہ جو اس کے دل میں اپنی زندگی کو لے کر خوش کن مر چکے جزبے انگڑائی لے کر بے دار ہونے لگے تھے اب اسے منہ چڑھاتے ہوئے حقیقت کا آئینہ دکھا رہے تھے جس میں اسے اپنا آپ بہت بھیانک نظر آتا تھا۔۔

او میرے خدا. !!!!
وہ میری ساری بے وقوفی بھری باتیں جو میں خود سے ہی شاہو کو کہتا تھا
زلیخا بچاری تو جانتی تک نہیں میں کسی وقت میں اسے چاہتا تھا میری سوچ مجھ تک محدود تھی یا شاہو جانتا تھا۔

لیکن ایک غلطی ہوئی مجھ سے میں نے شاہو کو یہ کبھی نہیں کہا کہ میری سوچ یک طرفہ ہے؟؟

شاہنواز کے ساتھ ہوا مکالمہ اسکے کانوں مین گونجنے لگا تھا ۔

شاہو ویرے
مجھے پکا یقین ہے کہ سانولی سلونی سی حسینہ بھی تیرے بھائی پے مرمٹی ہے
ہاں تو میرے میسی بلوچ میں کس چیز کی کمی ہے بھلا
مرنا تو تھا ہی ویچاری نے
شاہنواز نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔

لیکن یار اک مسئلہ ہے۔
اظہار تو دور کی بات وہ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی۔
بس جب میرے آس پاس ہو تو سر جھکائے نیما نیما ہنستی رہتی ہے
ہاہاہاہا علی خان
مجھے لگتا ہے کچھ دن تک تم نے لاعلاج ہوجانا ہے
علی سبحان نے گھور کر اسے دیکھا تھا تو شاہنواز فوراً سے سنبھل کر بولا

او یار سیدھی سی بات ہے اسکی حیا اسکی اچھی تربیت اسے اظہار کرنے سے بے حیاؤں کی طرح نظریں ملانے سے روکے ہوئے ہوگی اور کیا

یہ چیز
یہی تو اسکا ڈھکا چھپا سا انداز ہے جس نے پوری یونی کو چھوڑ کر اس سانولی کا دیوانہ کیا
ورنہ تو کئی حسین ترین چہرے روز تیرے بھائی کی راہوں میں کھڑے ہوتے ہیں
علی سبحان کو اپنے بارے کچھ زیادہ ہی خوش فہمیاں تھیں

بس بس میرا ہاضمہ خراب ہوجانا ہے اور یہاں وزیرستان میں کوئی اچھا گیسٹرو بھی نہیں، ملنا ہاہاہاہاہاہاہا حسین ترین چہرے؟
بیٹا مجھے آنے دے زرا اپنی یونی دیکھوں گا کتنے حسین چہرے تیری راہ میں ٹکیں رہیں گے
فون کی دوسری جانب سے شاہنواز کی زندگی سے بھرپور مسکراتی آواز نے پہلے تو اسے تپ چڑھائی تھی لیکن بات کے اختتام تک وہ خود بھی ہنستے ہوئے گویا ہوا۔

شاہو خان
یار بھائی بن قصائی نا بن خبردار جو یونی آنے کا نام بھی لیا تو ایک تو اٹھائیس سالوں میں پہلی بار کوئی دل کو بھایا ہے جب تک میں اسے نا بھاء جاؤں ؟
میرے آس پاس بھی نا بھٹکنا
کمینے باقی چیزیں تو بعد کی ہیں تیری مسکراہٹ کے ساتھ یہ جو بلیوں جیسے ڈیلے مسکراتے ہیں نا
یہی آدھی یونی قتل کردیں گے۔

باقی آدھی تیری مونچھوں کی کمان اور ابرو کے ہلکے سے اشارے پر مر جانی اور میں؟
میں اب اسے دیکھنے کے بعد مزید کنوارہ نہیں رہ سکتا!!!
معاف کرو میجر صاحب کوئی ہور جگہ ویکھو سانوں معاف کرو

یہ سچ تھا علی سبحان بے شک جتنا بھی اچھی پرسنیلٹی کا مالک تھا لیکن جہاں میجر شاہنواز خان بلوچ کی انٹری ہو جاتی وہاں میسی بلوچ صاحب پانی بھرتے نظر آتے نظر آتے تھے۔۔

چل اوکے پھر تصویر سینڈ کرنا اپنی سانولی حسینہ کی ہم بھی تو دیکھیں کون ہے جس نے ہمارا میسی بلوچ کملا کردیا ہے
ہممم سہی
لیکن وہ سب تو میں شاہو کے سامنے بھرم دکھانے کو کہتا تھا
(( اسے شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے مزہب میں شیخی دکھانے اور جھوٹ بولنے کی ممانعت بلکل سہی کی گئی ہے))

تصویر؟؟
کن تصویروں کا ذکر کر رہی تھی زلیخا؟
تصویروں کے خیال نے اسے حال میں لایا تھا۔

اسکا ذہن ایک بار پھر سے ماضی میں دوڑنے لگا تھا
تو ایک دم سے اسکی نظروں کےعکس منے زلیخا کے ساتھ پہلی ملاقات کا سین گھوم گیا تھا۔
اسے وہم سا ہوا تھا کہ اس دن کافی سٹودنٹس نے انکی پکس لیں تھی ۔
ویسے بھی سٹوڈنٹس کے تصویر بنا لینے کا اسکا وہم ہی تھا کیوں کہ اس بارے کوئی ثبوت نہیں ملا تھا
اور بعد میں علی سبحان کا لہجہ بے لچک رہا تھا
وہ زلیخا کو نظر بھر کر دیکھتا تھا لیکن نظریں بچا کر دیکھتا تھا
پھر کیسے اور کس نے
یہ سوچ بار بار اس پر حملہ آور ہورہی تھی پھر اچانک اسکے ذہن مین جھماکا سا ہوا تھا

او میرے خدا تو کہیں زلیخا کی اس سینیئر نے تو ایسا نہیں کیا تھا؟؟

———————

اسے یونی جوائن کیے دو ہفتے ہی ہوئے تھے اور اسے بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ بچپن سے لے کر اب تک کی روٹین کے حساب سے آس پاس کے آدھے سے زیادہ لوگ اسکی پرسنیلٹی سے مرعوب ہوئے تھے اس میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسکے شکل مشہور انگلش فٹبالر میسی سے ملتی تھی ۔
بس فرق یہ تھا کہ میسی کی آنکھین براؤن تھی اور علی سبحان خان کی آنکھوں میں مشرق اپنی آب و تاب سے جھلکتا تھا ۔۔

علی سبحان کی آنکھوں کا رنگ گہرا سیاہ تھا اور آنکھوں کی پتلیاں جس طرف بھی نظر بھر کر دیکھتیں وہیں عجیب سی روشنیاں لٹاتی پھرتی تھیں
جیسے جیسے دور دیس کے کسی گھنے جنگل پر سیاہ آسمان کے درمیان چمکتے چاند کا عکس جو سحر سا کردیتا ہے
یا جیسے کسی کالی اندھیری غار میں پرنور روشنی کی جگمگاتی درزیں جو اندر تک اتر جاتی ہیں۔

ایک دن جب وہ سیکینڈ ائیر کی کلاس کے بعد اپنے آفس میں آیا تو بہت پیارے سے پھولوں کا بکے اسکا منتظر تھا ۔۔
خوش آمدید
کوئی تہہ دل سے آپکو اپنے دل میں خوش آمدید کہتا ہے ۔
بکے کے ساتھ لگے کارڈ کی تحریر نے اسے الجھایا تھا لیکن پھر اگنور کرکے اپنی سیٹ پر آ بیٹھا یہ عام سی بات تھی لیکن کارڈ کی تحریر اسے تھوری آکورڈ لگی تھی۔

پھر اسکے بعد تو جیسے معمول بن گیا اکثر اسکے آفس میں اور گھر میں پھول آنے لگے جنکے کارڈ پر پہلے دن والی تحریر لکھی ہوتی تھی ۔۔
وہ اگنور کرتا تھا لیکن اندر سے الجھتا جارہا تھا کیونکہ اس وقت تک زلیخا اسکی آنکھوں کے راستے دل میں اتر چکی تھی کچھ دن پہلے اسنے اپنے آفس کی ونڈو سے ایک سریلی سی روح کو گرماتی آواز سنی تھی اور اسکا وجدان کہتا تھا کہ یہ جادوئی آواز کی مالک بھی زلیخا ہی ہے ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: