Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 25

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 25

–**–**–

لیکن مسئلہ پھول بھیجنے والی کا تھا وہ اسے مسئلہ ہرگز نا گردانتا اور مزید اگنور کردیتا اگر ایک دن اسکے سیل پر آنے والا ٹیکسٹ اسے چونکا نا دیتا تو

“”صاحب ہمیں تو یہ زعم تھا کہ جو ہمیں ایک بار دیکھ لے ہمارا ہوجائے لیکن آپکی تو نظر کرم نے اب تک پہچانا ہی نہیں
نجانے اس گہرے رنگ کے چہرے میں ایسے کیا لعل جڑے ہیں جہاں سے آپکی نظر پلٹتی ہی نہیں
کسی کام کی نہیں وہ کالی بلا جو آہستہ آہستہ آپکے حواسوں پے چھانے لگی ہے۔””

علی سبحان چونکنے کے ساتھ ساتھ اچھا بھلا ٹھٹھک گیا تھا
آخر کون ہے وہ جو اتنا سب کچھ جانتا ہے حالانکہ کے اس نے اپنے دل کی خبر خود سے چھپا رکھی تھی
یہ سوچتے اسنے میسج کا ریپلائے کیا اور اس انجان انسان کو ملنے کا کہا

وہ جو سوچ رہا تھا کہ آگے سے ٹال مٹول کی جائے گی لیکن جواب اسکی توقع کے برعکس آیا تھا کیونکہ اسکے میسج کے رئیپلائے میں یک لفظی وقت اور جگہ کا بتایا گیا تھا۔

وہ ٹھیک وقت پر طے کی ہوئی جگہ پر پہنچا تھا اور وہاں موجود ہستی کو دیکھ کر اسے اچھی بھلی تپ چڑھی تھی
یہ سیکنڈ ائیر کی ثانیہ تھی جو کلاس میں اسےالٹی سیدھی باتیں کرکے کافی ٹف ٹائم دیا کرتی تھی اسکے ذہن میں ثانیہ وہ آخری لڑکی بھی نہیں تھی جس سے وہ یہ سب ایکسیپٹ کرتا ۔
جی تو مسٹر علی سبحان خان کیسا گا آپکو سرپرائز؟؟
یقیناً بہت خوبصورت اور بہت جان لیوا نہیں؟
ثانیہ نے ایک ادا سے آنکھ مارنے کے بعد سر جھٹکتے ہوئے کہا تھا وہ اسوقت ریڈ جرسی کی میکسی میں ملبوس تھی جو اسکے جسم کے خدوخال بہت سے زیادہ واضح کررہی تھی
میک ذدہ خوبصورت چہرے کی بدصورتی دیکھ کر علی سبحان کو اس سے کراہت سی آئی تھی۔

پروفیسر علی سبحان یا سر علی سبحان کہیں محترمہ یہ مت بھولیں کہ میں آپکا ٹیچر ہوں
وہ جو کچھ سخت بولنا چاہتا تھا بامشکل خود کو کنٹرول کر کے بولا تھا۔

ہائےئے یہ ادائے دلربانہ یہ انداز شریفانہ یہ لہجہ مہذبانا
پروفیسر صاحب یہی تو انفرادیت ہے آپکی ورنہ کیا رکھا ہے انکی کالی پھیکی آنکھوں میں
اور اس یورپی ایشیائی وجاہت میں؟ ثانیہ اسکے ہاتھ کو ٹچ کرتے ہوئے کہا تھا

ثانیہ اسکے اندازے سے زیادہ چیپ واقع ہوئی تھی جسکا اظہار وہ فوراً کرگیا تھا۔

محترمہ میں تو آپکو بگڑی ہوئی بچی سمجھا تھا مگر آپ تو انتہا سے زیادہ گری ہوئی بھی ہیں ثانیہ کے چہرے کا رنگ ایک دم بدلہ تھا جسے اس نے فوراً سے کمپوز کیا اور مسکراتے ہوئے بولی تھی
چلیں صاحب ایسا ہے تو ایسا سہی اپنےمن کی مراد پانے کے لیے اتنا تو برداشت کیا جاسکتا ہے۔

مس ثانیہ اب ایک اور لفظ مت کہیے گا اور سیدھے سادے مدعے پر آئیں پیچھلے دو ہفتوں سے کیا کھیل شروع کیا ہوا ہے آپ نے اور کیوں اور جو بھی بات کرنی ہے تمیز کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کریں؟؟

علی سبحان کا لہجہ سرد برف جیسا تھا جبھی ثانیہ تھوڑا سنبھل کر بولی تھی

اصل مدعہ یہ ہے کہ آپ مجھے اچھے لگتے ہیں مجھے لگتا ہے میں آپ سے محبت کرنے لگی ہوں میرا دل آپکی ہمراہی کے خیال سجانے لگا ہے میری آنکھیں آپکے خواب دیکھنے لگی ہیں اور ایک بار پھر سے ثانیہ نے اسکا ہاتھ چھوا تھا

ثانیہ نے تمیز تمیز میں بھی اچھی خاصی بدتمیزی کردی تھی
غصے کہ شدت سے علی سبحان کے بدن میں چنگاریاں دوڑنے لگیں ۔۔
اچھا اور جو فزکس ڈئپارٹمنٹ کے پروفیسر حسان قاضی کے ساتھ آپکو محبت تھی وہ کیا ہوئی؟
علی سبحان نے یونہی سٹاف میں اڑتی پھرتی خبر سنی تھی کہ فزکس کے حسان قاضی کا انگلش ڈیپارٹمنٹ کہ ثانیہ کے ساتھ افئیر چل رہا ہے
تب تو اسے یقین نہیں آیا تھا لیکن اس وقت اس نے ہوا میں تیر چھوڑا تھا

ثانیہ نے آنکھیں چندھیا کر اسے دیکھا پھرایک قہقہہ لگا کر بولی
ارے صاحب میری نہیں انکی محبت تھی میرے نزدیک تو وہ سب جسٹ ٹائم پاس تھا۔

علی سبحان کو عجیب سی گھٹن محسوس ہورہی تھی وہ سمجھا تھا ابھی ثانیہ اس بات کو جھٹلا دے گی لیکن اس نے تو بڑی دیدہ دلیری سے سب مان لیا تھا بلکہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے اس تعلق کو ٹائم پاس قرار دیا تھا۔

دیکھیں مس ثانیہ میرے پاس ان فضول گویوں اور ان چیپ باتوں کا بلکل ٹائم نہیں ہے آپکی پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں آ ئندہ کے بعد ایسا کچھ ہوا تو آپکو کلاس سے ایکسپل کروں گا ۔
کیا کمی ہے مجھ میں؟
ثانیہ نے ضبط سے کہا

کمی نہیں آپکے اندر ہر چیز کی زیادتی ہے اور میں ٹہرا مشرقی بندہ مجھے اتنی زیادہ چیزوں کی عادت نہیں ہے۔۔

لیکن؟؟
ثانیہ نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تھا جب علی سبحان نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے منع کردیا؟
پلیز مس ثانیہ کم از کم ایک عورت ہونے کے ناطے اپنی کچھ عزت رہنے دیں میری نظروں میں مزید نا گریں ؟
اور ایک بات مرد ایشائی ہو یا یورپی سب کی ایک بات مشترق ہوتی ہے پتا ہے کیا؟

ثانیہ نے آگ برساتی آنکھوں سے دیکھنے پر اکتفا کیا تھا۔
وہ یہ کہ مرد چاہے کسی بھی خطے کا ہو پکے پھل کی طرح گود میں آگرنے والی عورت کو اپنا آپ تو دیتا ہے مگر دل نہیں دیتا عزت نہیں دیتا
ایسی عورتیں صبح و شام کے ہیر پھیر کی طرح مرد کے دل پر چھڑتی اترتی رہتی ہیں جنہیں خود اپنے عورت ہونے کا احساس تک نا ہو؟

بھگو کر طمانچے مارتا علی سبحان جانے کے لیے پلٹا تھا جب ثانیہ نے بل کھائی ہوئی ناگن کیطرح اسے پیچھے سے للکارا ۔

میں بھی دیکھوں گی وہ بدصورت کالی بلا کب تک پارساء رہتی ہے اسی پارسائی نے دیوانہ کیا نا تمہیں اسکا؟
یہی پارسائی کا ڈراما اسکا جرم نا بنایا تو ثانیہ نام نہیں میرا
ثانیہ کے لہجے پر علی سبحان کو جھرجھری سی آئی تھی لیکن وہ اس وقت کوئی کمزوری نہیں دیکھا سکتا تھا جبھی پلٹے بغیر بولا

تم کس کا ذکر کر رہی ہوں اور کیوں میں نہیں جانتا اور تمہاری کسی بھی نیچ سوچ یا گھٹیا کام کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔

میں کس کا ذکر کر رہی ہوں یہ تم اچھی طرح جانتے ہو ۔
مجھے کچھ بھی نہیں کرنا بس صرف تمہارا ذکر کرنا ہے کیونکہ تمہارا ذکر ہی اسکی پارسائی کا ڈراما چاک کرے گا

علی سبحان نے دل میں پیچ وتاب کھاتے ہوئے ایک شانِ بے نیازی سے کندھے تھے

ہر انسان اپنے عمل کا ذمہ دار خود ہے اس لیے آئی ڈونٹ کئیر

وہاں سے آنے کے بعد کچھ دن سکون رہا تھا پھر اسکا کلاس ٹور ناردن ایریاز جانے کا پروگرام بنا تو وہ ٹال گیا اور دوستوں کے ساتھ بابوسر ٹاپ کی طرف شکار کے لیے نکل گیا تھا ۔
کیونکہ ٹور پر ثانیہ اور زلیخا بھی جارہیں تھیں اور وہ کم از کم زلیخا کے حوالے سے کوئی بھی ایشو افورڈ نہیں کرسکتا تھا۔۔

———————

تو مطلب اس معصوم کو میرے ذکر نے برباد کیا لیکن میں تو نہیں جانتا تھا نا پھر اتنے سال میں کیوں بے آباد رہا؟؟

اللہ ہو اکبر اللہ ہو اکبر

آذانوں کی آواز نے اسے ماضی سے نکالا تھا
منہ پر ہاتھ پھیر کر اس نے آذان کا جواب دیا تو کیا میں ساری رات جاگتا رہا ہوں

اور وہ ثانیہ نامی لڑکی نے اپنا کہا پورا کردیا؟
لیکن میں توکسی کو بھی بتائے بغیر بیچ سے چلا گیا تھا نا؟
پھر کیوں زلیخا سے اسکی کیا دشمنی تھی ؟

یہ وہ سوال تھے جنکا جاننا اب کوئی خاص ضروری نہیں تھا لیکن وہ پریشان تھا نادم تھا اپنے پیارے بھائی اور دوست کے ایک غلط فہمی کو لے کر دنیا سے جانے پر اسکا دل دکھی تھا۔

اس نے اٹھ کر وضو کیا نماز پڑھی دعا مانگتے ہوئے اسے پتا نہیں کیا ہوا کہ آنکھوں سے ایک آوارہ سا آنسو نکلا تھا اور ہونٹوں سے آپ ہی آپ نکلا تھا
زلی
زلیخا علی کریم

پھر اس پر ادراک ہوا کہ وہ آٹھ سالوں میں شاہنواز کے غم کو جس ایک نام سے ذائل کرتا آیا ہے وہ یہی تو اسم دل تھا جسکی گردان وہ ہر دکھ میں کرتا تھا جسکو پانے کے لیے اس نے خدا تعالیٰ کے سامنے کئی بار مناجات کریں تھیں ۔
ان مناجات کی یاد آتے ہی اسکے رونے ۔میں تیزی آتی گئی کیونکہ اس نے بڑے جذب سے بڑی شدت سے کبھی زلیخا کو مانگا تھا؟
کب؟
جب وہ بستر پر پڑا تھا معذور تھا اور اسے اپنے کسی ریفرنس سے پتا چلا تھا کہ زلیخا علی کریم نامی سٹوڈنٹ کی شادی ہوگئی ہے

تب اسے کسی نے کہا تھا بیماروں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں بشرطِ کہ سچے دل سے مانگی جائیں
اس نے دعا میں زلی کو مانگا تھا اور کسی کے لیے بدعا بھی مانگی تھی لیکن کس کے لئے؟
زلیخا علی کریم کے شوہر کے لیے کہ وہ مر جائے یا زلیخا کو چھوڑ دے
اسکی دعا تو نہیں لیکن بدعائیں دونوں قبول ہوئی تھیں کیونکہ زلیخا کے شوہر نے اسے چھوڑا بھی تھا اور مر بھی گیا تھا

اور زلیخا کا شوہر کون تھا
ایک درد سا اٹھا تھا علی سبحان کے کلیجے ۔میں
اسکا اپنا شاہو
میرا شاہ خان

کپکپاتے لبوں سے ٹوٹ ٹوٹ کرنکلا تھا
شاہو
اتنے سالوں کا گلٹ آج واضح ہوا تھا
بدعا تو کسی کے لیے بھی نہیں کرنی چاہئے اور وہ بدبخت اپنے شاہو کے لیے کرتا رہا تھا بار بار کرتا رہا تھا۔۔
پھر ایک چیخ دبی دبی سی دھاڑ کی صورت اسکے منہ سے نکلی تھی

شاہو

معافی

بھائی معافی

شاہو خان

معافی
——————-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: