Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 26

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 26

–**–**–

شاہ بھائی
معافی
شاہو یار معافی
اسے شاہنواز کے ساتھ گزرا وقت اسکی باتیں ایک ایک کرکے یاد آرہی تھیں اور وہ مسلسل روئے جارہا تھا جسکی وجہ سے. آواز کافی بھاری ہوگئی تھی ایسا لگتا تھا اسکے ندامت بھرے آنسؤ سیلاب لا کر رہیں گے ۔۔۔
اتنا رونے کے بوجود بھی دل تھا کہ شاہنواز کی ہر بات پر ہر یاد پر پہلے سے زیادہ تڑپتا پہلے سے زیادہ دکھتا اور علی سبحان کی رگوں میں درد بڑھ جاتا تھا۔
کمرے کے دروازے پر کھٹکا ہوا تھا پھر کوئی تھکے تھکے سے قدموں، سے اندر داخل ہوا تھا علی سبحان ہر چیز سے بے نیاز اپنی کم عقلی میں کی گئی غلطیوں کی ندامت میں ڈوبا رو رہا تھا۔۔
میں غلط شاہو
میں جھوٹا شاہو
میں گندہ شاہو
معافی میرے ویر
وہ زارو زار. خود کوغلط کہتا شاہنواز سے مخاطب تھا جب اس کو جھکے کندھوں سے کسی نے تھاما تھا۔
————————–

زلیخا کی حالت بہت سے زیادہ بہتر ہوگئی تھی وجہ ربنواز صاحب کی تسلیاں اور دلاسے تھے جو وہ رات بھر اسکے سرہانے بیٹھ کر دیتے رہے تھے ۔
جب تک زلیخا سو نہیں گئی وہ اسے سمجھاتے رہے کہ جو کچھ بھی ہوا ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ یہی طے تھا اس لیے خود کو شاہنواز کو یا علی سبحان جو الزام دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔۔

انہوں نے زلیخا سے یہ بھی کہا تھا کہ علی سبحان ہر بات سے لاعلم ہے وہ تو شاید تمہیں، پہچانا بھی نا ہو اس لیے اسکو کسی بھی طرح سے قصوروار نہیں سمجھا جاسکتا

اور سچ بھی یہی تھا انہیں اتنے عرصے میں بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ علی سبحان زلیخا اور اسکے وجود سے قطعی لاعلم ہے اگر اسے کچھ پتا ہوتا یا اسکے دل میں چور ہوتا تو وہ کبھی بھی ربنواز صاحب کہ کہنے پر نا آتا ۔۔

انکا دل یہ ماننے سے انکاری تھا کہ علی سبحان خان
شاہو کا میسی بلوچ
اپنے شاہ بھائی کو اپنے شاہو کو دکھ دے سکتا ہے یا اسکی اذیت کا باعث بن سکتا ہے

ربنواز صاحب کمرے میں آئے تو احمد اپنی دادی کی گود ۔میں سو رہا تھا جبکہ وہ خود خلاؤں میں گھورنے لگی ہوئی تھیں انہیں دیکھ کر چونکی آنکھوں میں شکوہ سا تھا لیکن پھر ان دیکھے سے آنسو پونچھتے اٹھ کھڑی ہوئیں ۔

میں آج زلی کے پاس سو جاتی ہوں آپ احمد کا خیال رکھئیے گا ۔

وہ دروازہ تک پہنچ چکی تھیں جب ربنواز صاحب کی بھاری سی آواز نے انکے قدم برف ہوئے تھے۔

شاہو کہتا تھا بابا میری اماں دنیا کی سب سے اچھی اور ہمت والی اماں ہیں جیسے ایک فوجی کی ماں کو ہونا چاہئے آپکو انکی ہمت کی داد دینی چاہیے یارا

ایک درد کا بھالہ تھا جو شاہنواز کی اماں کے کلیجے میں اترا تھا ۔۔۔
لیکن حقیقت کا بے اعتباری کا مان ٹوٹنے کا زخم زیادہ گہرا تھا جبھی انہوں نے روتے ہوئے دل کے باوجود جانے کے لیے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تھا۔۔

میں نہیں چاہتا تھا اکلوتا بیٹا کھو کر غلط فہمی کے ہاتھوں بیٹیوں جیسی بہو کو بھی کھو دیں
وہ دروازہ کھول چکی تھیں ۔۔
اگر تم بیٹے کی محبت میں زلی کو گنہگار سمجھ لیتیں تو احمد خان کا کیا ہوتا؟؟

انہوں نے بغیر کسی تاثر کے دل میں اٹھتے درد کو چھپائے قدم باہر نکالا تھا جب انکے قدم ڈگمگائے تھے

تمہارے دکھوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا تھا یار
شاہو کہتا تھا میری اماں کو تنگ نا کیا کریں

انکے ہونٹوں سے ایک
آہ
نکلی اور لرزتے قدموں سے وہ وہیں چوکھٹ میں بیٹھتی چلی گئیں تھیں

ربنواز صاحب تڑپ کر انکے پاس آئے تھے اور ساتھ بیٹھتے انہیں اپنے ساتھ لگا لیا تھا جو بے آواز رو رہی تھیں

تم تکلیف میں ہوتی ہو تو میرا شاہو خوش نہیں ہوتا جب وہ خوش نہیں ہوتا تو میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں

ربنواز صاحب نے انکے گرد بازوں، لپٹا کر صفائی دینا چاہی تھی اور انہوں نے روتے ہوئے انکے سینے میں سر چھپا لیا تھا

جو بھی تھا اس عمر میں بھی انکا مضبوط ترین سہارا سائبان ربنواز صاحب ہی تھے ۔
ایک عورت کے لیے باپ کے بعد شوہر ہی ہوتا ہے جو خود گرمی سردی سہہ کر محنت مزدوری کرکے انہیں شہزادی بنا کر رکھتا ہے اسے دل سے لگا کر رکھتا ہے اپنی جان سے بڑھ کر اسکی حفاظت کرتا ہے
پھر وہ کیسے نا مانتیں ربنواز صاحب صرف انکے سائبان ہی نہیں انکی محبت بھی تھے

یہ بھی سچ ہے کہ عورت کو زندگی میں جو چیز سب سے مہنگی پتی ہے وہ محبت ہے اور جس چیز کے نام پر سب سے سستی بکتی ہے وہ بھی یہی کمبخت محبت ہے

انہوں نے بھی کوئی گلہ کوئی شکوہ نہیں کیا بس سر کو ربنواز صاحب کے سینے میں چھپائے بے آواز روتی رہیں تھیں

ربنواز صاحب انکا سر سہلاتے رہے اور ایک ایک کرکے ماضی کی ساری باتیں بتاتے چلے گئے تھے۔

آخر میں ربنواز صاحب نے التجائیہ لہجے میں ان سے کہا تھا۔

بیگم صاحبہ شاہو زلی کو بہت چاہتا تھا اس نے اپنے دل سے زیادہ زلیخا کی خوشی کو مقدم جانا تھا اور یہی وہ غلطی کرگیا تھا

(پتا نہیں کیوں نفرت میں تو ہوتا ہی ہے لیکن ہم شدید محبت میں بھی ہمیشہ اپنے دل کی سنتے ہیں صرف اسی کی تسکین چاہتے ہیں

دل نے کہا دیکھنا ہے
تو جی بھر کر فرصت سے دیکھ کیا
دل نے کہا چاہنا ہے
تو ہر حد تک جا کر چاہ لیا
دل نے کہا اسکی خوشی کے لیے نا دیکھو
تو آنکھین پھوڑ لیں
دل نے کہا اسکی خوشی کے لیے چھوڑ دو
تو ایک لمحہ لگایا اور خود کو بنجر دل کو بے آباد کر لیا
کاش ہم چاہت کے جنون میں محبوب کو خوش رکھنے کی لگن میں اپنے دل کی بجائے اسکے دل کی سنیں
بھئی یہ بھی تو ہوسکتا ہے نا کہ ٹھیک اس وقت جب ہم اپنے دل کی مان کر انہیں دیکھنا چھوڑیں
انکے دل کو انہیں ہماری آنکھوں کا دیکھنا اچھا لگنے لگا ہو؟؟

پھر جب پا لینے کے بعد کسی عام سے احساس کے تحت ہم اپنے دل کی مانتے انہیں خوش رکھنے کے لیے خود کو بے آباد کرنے کی سوچتے ہیں

کاش ایک پل کو یہ بھی سوچ لین کہ کیا خبر ہماری چند دنوں کی قربت محبت چاہت انکے وجود میں صدیوں کے لیے ڈیرے ڈال چکی ہوں اور ہم اپنے ساتھ ساتھ انہیں بھی صحرا میں دھکیلنے کا ارادہ کیے ہوئے ہوں؟ )

زلی کو خوشیاں دینا ہمارا فرض ہے اور یہی شاہو کی خواہش بھی تھی وعدہ کریں آپ اس خواہش کی تکمیل میں میرا ساتھ دیں گی

انہوں نے سر اٹھا کر اپنے مجازی خدا کو دیکھا تھا
علی سبحان کو میں نے بلوایا تھا میرا ارادہ تھا کہ زلی کی کسی اچھی جگہ شادی کرکے ہم دونوں علی کے ساتھ رہیں گے ۔۔۔
لیکن اب مجھے لگتا ہے علی میرے بلانے پر نہیں بلکہ قدرت کے طے کیے گئے ارادے پر آیا ہے ۔

مجھے لگتا ہے زلی کی خوشیاں کسی اچھی جگہ نہیں بلکہ علی سبحان خان سے جڑی ہیں۔۔

لیکن لوگ کہا کہیں گے؟
اور زلی یا علی؟

انہوں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا

ہمیں اپنی بیٹی کی شادی کرنے کے لیے لوگوں کی رائے کی ضرورت نہیں جو مرضی کہیں

علی خان سے میں بات کروں گا امید ہے اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

اور زلیخا بڑی پیاری بیٹی ہے وہ اپنے اماں بابا کے فیصلے کے خلاف کبھی نہیں جائے گی ربنواز صاحب نے بات مکمل کی تھی جب دور کہیں آذان کی صدا گونجی تو وہ دونوں چونکے تھے

رب کی رحمت کا بلاوا تھا اسکی نعمتوں کا اشارہ تھا

وہ جو دکھوں والی اندھیری رات تھی اسکے کٹنے کا وقت ہوا چاہتا تھا اور ربنواز صاحب کو یقین تھا کہ آنیوالا نیا دن بہت خوبصورت ہونے والا ہے انکے لیے علی سبحان کے لیے اور سب سے بڑھ کر انکے زلی خان کے لیے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: