Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 27

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 27

–**–**–

وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو ربنواز صاحب واک پر جانے کے لیے تیار تھے انہیں دیکھ کر مسکرا دیے
کیوں ہنس رہے ہیں؟
بس یار وہ ایک اپنے زمانے کا شعر یاد آرہا ہے ربنواز صاحب پر دن کے اجالے نے نیک دل فیصلے نے اور ہمسفر کی رضامندی نے کافی مثبت اثر کیا تھا جبھی رات والے غمگین ماحول کا شائبہ تک نہیں تھا۔

اب اس عمر میں کون سا شعر یاد آگیا خان صاحب؟
جس طرح ایک غیرت مند اور محبت کرنے والے محبوب شوہر کا فرض ہوتا اپنی بیوی کی ہر جائز خواہش کو بوقت ضرورت پورا کرے خود موسموں کی شدید سرد گرم سہہ کر بھی گھروالی کو اپنے وجود کی سکھ بھری چھاؤں اور محبت کہ گرمی مہیہ کرے

ٹھیک اسی طرح ایک اچھی پیار کرنے والی محبوب بیوی کا فرض ہوتا ہے اپنے شوہر کے مزاج کو سمجھنا اسکے مطابق ڈھلنا اسکی خوشی میں اپنے بے ضرر غموں کو پس پشت ڈال کر خوش ہونا
وہ بھی گزری باتوں پرمٹی ڈال کر رب کے حضور پیش ہوکر کافی ہلکی پھلکی ہوگئی تھیں جبھی جائے نماز لپیٹتے انکے پاس آگئیں ۔۔

ساری رات کہ جاگی آنکھیں
کالج میں کیا پڑھتی ہوںگی

ربنواز صاحب کا لہک کر شعر پڑھنا تھا تو دوسری جانب بیگم صاحبہ کا منہ کھل گیا تھا

اللہ اللہ یہ مزاج کہ تیزی
خان صاحب خدا کا خوف کریں یہ عمر اللہ اللہ کرنے کی ہے نا کے ایسے سستے شعر پڑھنے کی وہ تو اچھی خاصی تپ گئیں تھیں

ہاہاہاہاہ ربنواز صاحب نے ہلکا سا قہقہہ لگایا
کہاں لکھا ہے اللہ اللہ کرنے والی عمر میں بیوی سے پیار بھری باتیں نہیں کی جاسکتیں؟
وہ اٹھ کر باہر جانے لگیں تاکہ زلیخا کا پتا کر سکیں۔

اور عمر کو کیا ہوا ہے بھلا؟
ابھی تو آتش جوان ہے

اچھا بھلا ہینڈسم ہوں ویسے بھی دل جوان ہونا چاہئے بیگم صاحبہ
وہ دروازے تک جاتے جاتے پلٹی اور ایک کہر آلود نظروں سے انہیں دیکھا تھا
آتش صاحب آسمانوں کہ سیر سے واپس آتے ہوئے دھی لے کر آئیے گا بچے نے رات بھی کھانا نہیں کھایا لسی بنا دوں گی اسے

اور ربنواز صاھب کہ منہ سے اتنی بے تکی بات پر
لاحولا ولا نکلا تھا
بس بیگم صاحبہ ثابت ہوا بیویاں ہر دور میں شوہروں کے معصوم جذبوں کاقتل کرتی آئی ہیں
کبھی سبزی انڈے دودھ
تو کبھی دھی پیمپر اور ڈائپر کے لیے

ہاہاہایاہاہا جہاں بات کے آخر تک وہ خودہنسے وہیں وہ بھی ہنستی باہر نکل گئیں

یہ شاہنواز کے جانے کے بعد پہلی صبح تھی جب صبح کا آغاز ربنواز صاحب کے چٹکلوں اور انکی بیگم کہ دبی دبی ہنسی سے ہوا تھا ورنہ یہ سب احمد خان کے اٹھنے کے بعد ہوتا تھا۔

—————————-
وہ رات بھر دوائیوں کے زیر اثر سکون سے سوئی تھی اب بھی اسکی آنکھ آذان کی آواز سے کھلی تھی چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی روم میں، اکیلی تھی مطلب احمد اماں بابا کے پاس تھا اور شاید اماں اسکے پاس رکی ہوں رات بھر اور اب نماز پڑھنے گئی ہوں

اپنے سوالوں کا خود ہی جواب دیتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی وضو کیا اور نماز پڑھ کر باہر نکل آئی اسکا رخ اماں بابا کے روم کی طرف تھا

لیکن روم تک جاتے اسکے پیر ٹھٹکے تھے کسی کی سسکیوں کی آواز نے اسکو منجمد کردیا تھا ایک زمانہ ہوا تھا احمد کے وجود نے اس گھر سے سسکیوں اور آہوں کی نحوست کو دور کردیا تھا پہلے تو وہ اور اماں کبھی کبھی شاہنوازکو یاد کرتے رو بھی لیا کرتے تھے لیکن احمد کے بڑے ہونے پر انہیں سمجھ آگئی تھی کہ رب کے دیے پر ہی خوش اور شکر گزار رہنا چاہئے جبھی تو وہ اور نوازتا ہے
سسکیوں کہ آواز مدھم سی تھی لیکن انکا جذب انکی شدت زلیخا کو خود بخود کھینچتی چلی جارہی تھیں

چلتے چلتے وہ علی سبحان کے کمرے تک آئی دل کی حالت بدلی تھی عجیب سی نفرت محسوس ہوئی تھی اسے جب ربنواز صاحب کی آواز اسکے کانوں مین گونجی

زلی پتر وہ بے قصور ہے اسے کچھ نہیں پتا ہم کسی بے گناہ کو بے حسی اور اپنے برے برتاؤ نفرت بھرے رویے سے سزا نہیں دے سکتے ویسے بھی جو ہم نہیں جانتے وہ اللہ جانتا ہے ۔

اس نے سکون سے کھڑے ہوکر خود کو اطمینان دلایا کے علی کو کچھ نہیں پتا لیکن پھر وہ رو کیوں رہا ہے
خود کو کمپوز کرتی وہ پلٹ گئی تاکہ بابا یا اماںکو بھیج سکے لیکن جیسے ہی وہ انکے کمرے تک پہنچی
اسے لگا مدتوں سے روٹھی باہر انکے آنگن میں اتر آئی ہے بابا ایک عرصے بعد مسکرا رہے تھے اسکے اندر بے پناہ سکون سا اترا خود کو پرسکون پاتے وہ کسی کا دکھ بھول ہی گئی تھی۔
ٹھیک اسی وقت اماں کمرے سے نکلی تھیں
زلی میری جان کیا ہوا
اماں نے تشویش سے پوچھا بابا بھی فوراً باہر آگئے تھے
زلی خان کیا ہوا پتر
پہلے اماں اور اب بابا کے لہجے پر زلیخا کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں کچھ نہیں بابا وہ میں احمد
آنسوؤں کو پیچھے دھکیلتے وہ بامشکل کہہ پائی
بابا اسکی بات پر مسکراتے اسے اندر جانے کا کہہ کر خود باہر کی طرف چل دیے جب کہ اماں نے اسے کمرے میں بیٹھنے کا کہا تھا تاکہ وہ اسکے لیے کچھ کھانے کو لے آئیں

پھر جب اماں اسکے لیے کھانے کو ساگودنے کی کھیر بنا کر لائیں
وہ احمد کے ساتھ پھر سے پرسکون ہوکر سو چکی تھی۔
—————————-
وہ باہر جاتے جاتے چونک کر رکے تھے علی سبحان کے کمرے سے رونے کی آوازین آرہی تھیں
وہ کچھ دیر سنتے رہے پھر آرام سے دروازہ کھولتے اندر کہ طرف بڑھ گئے
وہ جائے نماز پر جھکاروئے جارہا تھا
انکے دل کو کچھ ہوا انہیں اپنے اس پیارے بھتجے پر ترس آیا تھا
کچھ دیر اسے دیکھتے رہے پھر آہستہ سے اگے بڑھے اور اسکے جھکے کندھے پر ہاتھ رکھا

علی سبحان کا لرزتے جسم ساکت سا ہوا تھا پھر کچھ پل بعد اس نے سر اٹھا کر دیکھا. اور تڑپ کر بولا
تای
تایا با با
انہیں اس وقت وہ چونتیس پینیس سال کا جوان چھوٹا سا بچہ لگا تھا
تایا بابا
میں نے کچھ بھی نہیں کیا شاہو کو دھوکا نہیں دیا شاہو چلا گیا اسے کون بتائے میں ڈاکو نہیں ہوں؟
وہ تو میرا شاہو بھائی ہے نا

میں نے کچھ نہیں کہا تایابابا
ربنواز صاحب کو لگا انہیں کسی کندھ چھری نے کاٹ دیا ہوا
پھر گنگ زبان کے ساتھ بولے تھے

نانا علی خان
نا میرے پتر
مجھے پتا ہے تو محافظ ہے تو رہزن نہیں
یہ بات شاہو بھی جانتا تھا
ربنواز صاحب کے کہنے پر اس نے اچانک سے در اُٹھایا کر ربنواز صاحب کی طرف دیکھا

انہوں نے اسے آنکھوں میں بھرے نرم تاثر کے ساتھ دیکھتے سر ہلایا
علی خان شاہو جانتا تھا تھا تو محافظ ہے جبھی تو تمہیں اپنی من چاہی چیزوں کی حفاظت پر معمور کر کے گیا میرے بچے

علی انہیں حیرت سے دیکھ رہا تھا پھر بولا تو بس اتنا
آپ سے کہا تھا شاہو نے ؟
ربنواز صاحب نے دکھتے دل کے ساتھ سر ہاں میں ہلایا تھا۔
کیا کہا تھا شاہو نے؟
شاہو نے کہا تھا بابا اگر مجھے کچھ ہوگیا تو میرا میسی آپ لوگوں، کا خیال رکھے گا
اور زلی کا
علی پتا نہیں کس ترنگ میں بولا تھا۔
یا شاید دل میں کہیں دور چھپی محبت کا عنصر تھا۔

زلی کا بھی
اس نے ہم سب کا کہا تھا پتر ربنواز صاحب کو جھوٹ بولتے تکلیف تو ہوئی تھی لیکن وہ علی سبحان کو اسکے گلٹ سے نکالنا چاہتے تھے

انکا خیال تھا اتنے سالوں بعد کم از کم علی کی زلیخا کہ زندگی کچھ بہتر ہوجائے
وہ سوچتے تھے اگر شاہ نواز کو غلط فہمی ہوئی بھی تھی تو وہ ان دونوں کی خوشیاں ہی تو چاہتا تھا

اور اب اگر ان کو خوشیاں پہنچانے کے لیے میں جھوٹ بول بھی لوں تو میرا شاہ جوان اللہ سائیں کے پاس بیٹھا خوش ہورہا ہوگا

انکے چہرے پر کرب بھری مسکان آئی تھی پھر علی سبحان سے بولے

اب تیرا تایابابا. بوڑھا ہوگیا ہے علی خان
شاہو نے جو ذمہ داری تجھے سونپی تھی اب اسے پورا کردے میرے بچے؟
علی سبحان نے اچھنبے سے انکی طرف دیکھا تھا۔

شاہو کی من چاہی چیزوں کا محافظ بن جا علی
زلیخا سے شادی کر لے

علی سبحان کو ایک جھٹکا لگا تھا
جب کہ باہر ربنواز صاحب کو چائے کے لیے بلانے آئی زلیخا نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: