Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 28

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 28

–**–**–

ربنواز صاحب کی بات پر علی سبحان نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا تھا۔
وہ اسی کو دیکھ رہے تھے
چچا آپ
آپ یہ کیا؟
میں کیسے
علی کو کوئی بات سجھائی نہیں دے رہی تھی اسکی زبان گنگ تھی۔

ٹھٹکی تو وہ بھی تھی لیکن بروقت دیوار کو تھامنے کی وجہ سے گرنے سے بچ گئی تھی ۔
اسکا منہ حیرت اور دکھ کے ملے جلے تاثرات سے کھلا ہوا تھا۔
لیکن اسے اپنا آپ سنبھالنا پڑا کیونکہ علی سبحان کے جواب کی منتظر تھی۔

ربنواز صاحب نے علی کا کندھا تھپتھپایا
تم نے کہا شاہو تمیں ذمہ داری سونپ کر گیا تھا؟
ایسا ہی ہے نا؟
انہوں نے بات کے بیچ میں رک کر علی سبحان سے تصیح چاہی
جواباً وہ صرف سر ہلا سکا
تو میسی پتر سنبھال اپنی ذمہ داری اب میرے ساہ آخر پر ہیں اس بوڑھے بت میں اور ہمت نہیں زمہداریاں سنبھالنے کی
بابا باہر کوئی بے آواز چیخا تھا

نانا چچا ایسی باتیں نا کریں خدا واسطے
ایسا نا کہیں پلیز علی سبحان نے انکے ہاتھ تھام لیے تھے
پھر نا مت کریں پتر اوئے
میری زلیخا کو اپنا نام دے دے

نا نا بابا اتنا ہلکا نا کریں مجھے پلیز بابا
باہر دروازے کی اوٹ میں کھڑی زلیخا جیسے کرلائی تھی۔
بیٹیاں ہلکی نہیں ہوتیں بابا ماں باپ کا رویہ انہیں ہلکا اور بھارا بناتا ہے مجھے اس شخص کے سامنے ہلکا مت کریں پلیز بابا اسکا دل چیخ چیخ کر دہائی دے رہا تھا۔۔۔

میرا زلی خان لاکھوں میں ایک ہے ایسی بیٹی مقدر والوں کو ملتی ہے علی
زلی جس کسی کی زندگی میں جائے گی اسے جنت بنا دے گی
اس بار ربنواز صاحب کے لہجے کی شکستگی پر زلیخا کی گھٹی گھٹی چیخ نکلی تھی انکے لہجے میں ایک فکر مند محبت کرنے والے باپ کی سی بے قراری تھی

اسے اپنی کچھ دیر پہلے والی سوچ پر ندامت ہوئی ۔

علی سبحان نے ربنواز صاحب کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگائے
پھر گویا ہوا
بابا.واقع زلیخا جیسا کوئی نہیں وہ ایک اچھی لڑکی ہے بے شک جس کسی کی زندگی میں جائے گی روشنیاں بکھیر دے گی
مگر وہ جس کسی میں نہیں ہو سکتا بابا جان
ربنواز صاحب کے ہاتھ ڈھیلے پڑے تھے ۔۔

وہ اور بھی کوئی بات کررہا تھا لیکن زلیخا کو اپنی کم مائیگی کے احساس نے کچھ سننے نا دیا وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے واپس اہنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
————————–
علی سبحان کے جواب پر اسے کچھ محسوس نہیں ہوا تھا لیکن وہ اندر کہیں جو انا تھی وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔
کہا تھا نا مجھے خوشیاں نہیں چاہئے؟
میرے لیے آپ اماں اور احمد ہی خوشیوں کا باعث ہیں
پھر کیوں بابا کیوں اتنا ہلکا کردیا مجھے ؟
میں اس شخص کے سامنے کیسے جاؤں گی ؟
وہ روتے ہوئے خیالوں میں ربنواز صاھب سے مخاطب تھی .
جب ایک نحیف سا ہاتھ اسکے کندھے پر رکا اماں تھیں
اماں میں بھاری پڑی گئی تھی بابا ڈر گئے پر اماں مجھے ہششش چپ
اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی اماں، نے اسے چپ کرواتے اپنے ساتھ لگا لیا تھا

کملی ہوئی ہے جھلی ہوئی ہے
ایسا سوچا بھی کیوں زلی؟
تجھ میں احمد خان میں تو انکی جان بسی ہے
بیٹیاں بھاری نہیں ہوتیں زلیخا انکے نصیب بھاری ہوتے ہیں دنیا کا کوئی بھی باپ بیٹی سے نہیں ڈرتا اسکے نصیبوں سے ڈرتا ہے ۔۔

لیکن اماں؟
لیکن ویکن کر کے گناہگار نا ہوجائیں زلی پتر تیرے بابا نے جو بھی کہا جو بھی کیا کچھ سوچ کر ہی کیا ہوگا اپنے بابا سے بدگمان نا ہو بچے اور انکی بات کا مان رکھ

ایسے ہوتے ہیں سچے اور مخلص ہمسفر جو اپنے شریک حیات کی ذات کے تمام پہلوؤں سے آگاہی رکھتے ہیں
جو پیٹھ پیچھے کچھ نا جانتے ہوئے بھی انکی ڈھال بنتے ہیں
جیسے اماں نے کچھ بھی نا جانتے ہوئے زلیخا کو ربنواز صاحب سے بدگمان ہونے سے باز رکھا تھا

اماں اسے پیار سے پچکارتے ہوئے کہ رہی تھیں جبکہ وہ کسی نئی سوچ کے زیر اثر انکی بات غائب دماغی سے سن رہی تھی
—————
اماں کافی دیر اسے سمجھاتی رہیں پھر احمد کے ناشتے کا کہہ کر اٹھ گئیں وہ خود جانا چاہتی تھی مگر اماں نے اسے آرام کرنے کا کہا اور خود باہر نکل گئیں تھیں

وہ کچھ دیر لیٹی رہی پھر اٹھ کر دیوار پر لگی شاہنواز کی تصویر سے مخاطب ہوئی؟

کیا تھے آپ پہلا ہی سوال بڑاچبھتا ہوا تھا؟
بدلے میں تصویر میں موجود ہیارا سا بندہ پیارا سامسکرایا تھا۔
کیا چاہتے تھے آپ؟
تصویر ہنوز مسکراتی رہی
زلیخا کو مسکراتی تصویر تپا رہی تھی اس نے اتنے سالوں اس تصویر کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھا تھا لیکن آج
آج جب دیکھا تو اسے لگا جیسے وہ روشن آنکھیں وہ مسکراہٹ اسکے اندر تک اتر رہی ہوں۔

ایک بات کان کھول کر سن لیں آپ دنیا والوں کے لیے چاہے جو بھی ہوں بہادر شہید جنگجو جو بھی لیکن میرے لیے ایک بزدل انسان تھے آپ؟
جو مرد عورت کو بیچ منجدھار میں چھوڑ جائے اسے کون بہادر کہتا ہے؟
اور کوئی بھی عورت کسی بزدل انسان سے محبت نہیں کرتی سنا آپ نے؟
میں نے بھی نہیں کی آپ سے محبت بلکل نہیں کی؟
تو پھر جو تم پیچھلے آٹھ سالوں سے اسکی قبر پر دیے جلاتی پھول چڑھاتی آرہی ہو اسکا کیا؟
اسکے اندر سے کوئی بولا تھا۔

احسان چکا رہی ہوں جب انہوں نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا تھا تو میں کیسے اکیلا چھوڑ دیتی؟ میں نے انکی بات کا انکی خواہش کا پاس رکھا تھا آئی سمجھ کوئی محبت نہیں ہوئی تھی۔

چند دن ہی تو رکے تھے وہ میرے پاس مجھے میرے وجود کو سرائے سمجھ کر کوئی بھلا چند دن رکنے والوں سے بھی کوئی دل لگاتا ہے

دل لگانے کے لیے بعض اوقات لمحے ہی کافی ہوتے ہیں چند دن تو بہت بڑی بات ہے۔
اسکے اندر کی آوزیں بڑی عجیب سی تھیں چند لمحوں کی کوئی یاد چھیڑتی ہوئی سیں

ہاہاہاہا سو تو اب؟ تصویر اسے خود سے الجھتے دیکھ کر ہنسی تھی۔
اب اجازت چاہتی ہوں؟ رہائی چاہتی ہوں اس بے نام بے اعتبار تعلق سے جینا چاہتی ہوں
وہ اپنی ہی دھن میں بول گئی

اجازت ہے
رہا کیا
اعتبار کیا.
جاؤ جی لو اپنی زندگی تصویر نے مسکراتی آنکھوں سے کہا تھا
لیکن اس جھلی کو تصویر کا یوں اجازت دینا بھی بلکل نہیں بھایا تھا۔
———————
انکے ہاتھ ڈھیلے پڑے جنہیں علی سبحان نے دوبارہ مضبوطی سے پکڑ لیا
بابا. زلیخا بہت اچھی ہے میں چاہو بھی تو اسکا نصیب نہیں بن سکتا کیونکہ اسکے نصیب کو مکمل ہونا چاہئے۔
ربنواز صاحب نے ناسمجھی سے اسے دیکھا

بابا میں نامکمل ہوں زلیخا کا جوڑ کسی مکمل شخص کے ساتھ جڑنا چاہئے اور اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہی ہوگا اسے کوئی مکمل انسان ملے گا وہ افسردگی سے کہتے انکے پاوؤن میں بیٹھ گیا اور سر انکے گٹنے پر رکھ دیا۔

ربنواز صاحب حیرت سے گنگ اسے دیکھ رہے تھے انہیں ایک لمحہ لگا تھا یہ بات جاننے میں کہ علی سبحان اس وقت شدید قسم کے احساس کمتری اور خود ترسی کا شکار ہے ۔

لیکن پھر سنبھل کر بولے مکمل خدا کی ذات ہوتی ہے علی ہم انسانوں میں، کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی کمی کوتاہی ضرور ہوتی ہے۔
کہیں کسی کی روح تار تار ہوتی تو کہیں کسی کے جذبے پیوند لگے ہوتے ہیں۔
کوئی اھساسات سے عاری ہوتا ہے تو کسی میں زندگی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہوتی ہے
یہ جسمانی کمیاں تو کچھ بھی نہیں ہوتیں یار
وہ دوستانہ انداز میں کہتے اسکے سر میں ہاتھ چلانے لگے۔
ہم انسان بڑے جھلے ہوتے ہیں علی سبحان خان جسمانی کمزوریوں پر تو واویلا کرتے ہیں مگر روحانی کمزوریوں کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔
ہم یہ نہیں سوچتے کہ خدا کے حضور آدھا جسم تو قابل قبول ہے لیکن ادھوری روح بلکل بھی نہیں
ربنواز صاحب اسکا سرسہلاتے سمجھا رہے تھے وہ سمجھ رہا تھا یا نہیں، لیکن اسے سکون آنے لگا اور اسکی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔

تیری روح مکمل ہے میرے بچے تو ہی میری زلیخا کا نصیب ہے علی یہ بات شاہو آٹھ سال پہلے ہی جان گیا تھا
اسے لگ رہا تھا برسوں، کی پیاسی روح بابا کی باتوں سے سیراب ہوئی جارہی ہے یا جیسے اسکی روح مکمل ہوئی جارہی ہے ۔۔
مکمل نیند میں ڈوبتے ایک احساس اس پر حاوی تھا مکمل ہوچکنے کا احساس زلیخا کے قابل ہونے کا احساس
جسمانی نقص بہت پیچھے رہ گیا تھا کیونکہ اب بات روحوں تک آپہنچی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: