Tumhare Zikar Ne Mara Novel by Meerab Ali Baloch – Episode 3

0
تمہارے ذکر نے مارا از میرب علی بلوچ – قسط نمبر 3

–**–**–

زلیخا چپ چاپ آنسو بہاتی آنکھوں کے ساتھ کلاس سے باہر نکل آئی تھی وہ سارا اعتماد جو اس میں تھا ساری تیزی سارا غصہ یونی کے پہلے دن اور پہلی ہی کلاس میں اس قدر تذلیل پر کہیں دور جا سوئے تھے۔

پھر اسکے بعد زلیخا نے کم از کم علی سبحان کی کلاس میں خود کو ہمیشہ کنفیوز ڈری جھجکی ہی پایا اسی لیے وہ سارا وقت آخری رو کی آخری کرسی پر چپ چاپ سر جھکا کر بیٹھ جاتی
حالانکہ اس سارے عرصہ میں علی سبحان نے زلیخا کو مسلسل اگنور کیا تھا۔

وہ کلاس میں انٹر ہوتے سرسری سی نظر اس پر ڈالتا اور لیکچر شروع کردیتا اسائنمنٹ چیک کرنی ہوتی تو کسی بھی لڑکی یا لڑکےکے ذمہ لگا دیتا کہ سب کی کاپیاں اکھٹی کرکے اسکے آفس دے جائے
لیکن وہ جب کلاس سے باہر جانے لگتا تو ایک بہت گہری جزبوں بھری مگر محتاط سی نظر آخری رو کی آخری کرسی پر سر جھکائے وجود پر ضرور ڈالتا تھا۔

—————

سب کچھ تقریباً صحیح چل رہا تھا زلیخا ان چاروں میں سب سے چھوٹی تھی پھر بھی ایک بات جو اسکے علاوہ آیت اور رملہ نے بھی نوٹ کی وہ یہ کہ ثانیہ اب انکے ساتھ یونی میں گھومتی پھرتی نہیں تھی کینٹین ہمیشہ الگ جاتی تھی روم میں بھی رملہ اور آیت سے پھر بھی کوئی بات کرلیا کرتی لیکن زلیخا سے تو بلکل نا ہونے کے برابر بات کرتی اور بعض اوقات بڑی عجیب سی نظروں سے اسے دیکھتی رہتی لیکن زلیخا نے اپنی عادت اور عمر کے تحت زیادہ سوچنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔

نا رملہ چھوڑو پرے ایویں کوئی مسلہ نا ہوجائے۔
انکا دوسرا سمسٹر ختم ہوگیا تھا اور یونی میں سٹڈی ٹور کا پلان ہورہا تھا رملہ دل وجان سے جانا چاہتی تھی جبکہ آیت اور زلیخا جانا چاہتے ہوئے بھی ڈر رہیں تھیں

آیت ہمیشہ سے ڈرپوک تھی جبھی بار بار نفی کررہی تھی

رملہ نے اسے صرف گھورا
گھور کیا رہی ہو چوہدرانی جی سچ ہی تو کہہ رہی ہے نمانی بھئی وہاں پہاڑوں میں کہیں کوئی پیر شیر پھسل گیا تو؟
آجکل تو دریاؤں میں بھی طغیانی ہے بندہ گر گرا جائے تو؟

زلیخا نے آیت کی سائیڈ لی

او چپ کر جاو تم دونوں اور خاموشی سے میرا ساتھ دو ورنہ رملہ نے انگلی اٹھا کر وارن کیا؟

ورنہ پلیز اپنے شیر علی کی دھمکی نا دینا کم از کم اسے دیکھنے کہ بعد مجھے جنگل کے شیر پر ترس آرہا ہے اسے اگر پتا چل گیا نا کے تمہارے اس”” کدو کے منہ والے بینگن”‘
کا نام شیر ہے تو خودکشی کر لینی اس نے
زلیخا کے کہتے ہی آیت اور اسکا مشترکہ قہقہا گونجا تھا۔
رملہ غصے سے پیچ وتاب کھا کر رہ گئی بولی کچھ نہیں
ہاں تو انہیں تین مہینے پہلے( کالا پیلیا) ہوگیا تھا چٹا گورا رنگ جل کے کالا ہوگیا اتنی سوہنی سلمان خان جیسی باڈی تھی اب کمزور ہوگئے ہیں تو اس میں شیر علی جی کا کیا قصور ہے۔

رملہ ایک بار پھر سے سب کچھ بھول بھال اپنے شیر علی جی کے دفاع میں اتر آئی تھی۔

یہ تو بھلا ہو ثانیہ کا جسے آتے دیکھ آیت نے زلیخا کو ٹہوکا دیا تھا ورنہ وہ نیا محاز کھولنے کو تیار تھی۔

————————-

کل انہیں یونی سے آف ہوگیا تھا اور اب ان لوگوں کا سٹڈی ٹور اسی منگل کی رات جھیل سیف الملوک جا رہا تھا
وہ ساری پرجوش تھیں۔
یار ویسے یہ اپنے سر میسی کوئی وکھری ہی چیز نہیں ہیں؟
رملہ نے بیگ پیک کرتے ہوئے ناک چڑھا کر کہا تھا۔
سر میسی کے نام پر زلیخا کو تپ چڑھ گئے تھی پر بولی کچھ نہیں

کیوں تمہیں کیا کہہ دیا سر میسی نے آیت پر تجسس سا سوال کیا؟

خیر کہا تو کچھ نہیں نا ہی پر یار دیکھو نا ہمارے کلاس ٹیچر ہیں جہاں باقی سب ٹیچرز جارہے ہیں انکو بھی چلنا چاہئے تھا نا؟
اور وہ فائنل کی ریحانہ بتا رہی تھی انہوں نے پرنسپل کو صاف جواب دیا کہ وہ ایسے کسی بھی پروگرام میں اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے۔

زلیخا کا ضبط جواب دے گیا تھا جبھی بڑے تند لہجے میں بولی

مس رملہ چوہدری
رملہ نے فخر سے گردن اٹھا کر سے دیکھا جیسے کہتی ہو بولو کنیز؟

تمہیں کیوں اداسی ہورہی ہے انکے ما جانے سے اور اگر وہ جاتے تو میں لبھی نا جاتی حد ہے تمہاری ویسے تمہارے شیر علی جی کو پتا ہے کہ تم آجکل اس دونمبر میسی کا تذکرہ کرنے لگی ہو؟

اللہ اللہ زلی تم بھی نا جو منہ میں آئے بول دیتی ہو یار میں تو ایک آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھوں اپنے شیر علی جی کے سامنے اس میسی کو
زلیخا ٹاپک چینج کرنا چاہتی تھی جس میں وہ کسی حد تل کامیاب ٹہری تھی۔

———————-

وہ سویا ہوا تھا جب موبائل بجنے لگا
دوتین بیلز کے بعد اس نے مندی مندی آنکھوں سے کال پک کرکے ہیلو کہا

ہاں جی پروفیسر صاحب کیا حال ہیں آپکے؟
دوسری طرف اسکا بہترین دوست رانا بلال تھا وہ اٹھ کر سیدھا ہو تھا

کس بارے میں رانا جی اسکا موڈ کافی خوشگوارہوگیا تھا۔

یار کمال کرتے ہو تم یاد کرو ستمبر میں ہمارا کیا پلان تھابھلا؟
رانا بلال نے یاد دلانے کہ کوشش کیاسے کچھ بھی نہیں بھولا تھا لیکن وہ رانا جی کو تھوڑا چڑھانا چاہتا تھا۔
کون سا پلان یارا؟

حد ہے علی سبحان خان صاحب
قبلہ محترم اگر آپکو یاد ہو تو ہم نے اس بار دیوسائی جانا تھا بھورے ریچھ کے شکار پر اور وہاں سے واپسی میں آنسو جھیل سے ہوتے ہوئے سیف الملوک کا بھی چکر لگانا ہے؟
کیا خبر چودھویں رات میں کوئی پری مل ہ جائے؟
ہاہاہاہاہاہاہ رانا یار اب تو دو بچوں کے باپ ہو پریوں کا پیچھا چھوڑ دو اب
علی سبحان نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے جواب دیا تھا۔
وہ بھائی اپنے لیے نہیں تیرے لیے کہہ رہا ہوں۔
اپنے لیے پری کا سنتے ہی علی سبحان خان کے ذہن کے پردے پر سلونی سی پری لہرائی تھی جسکی آنکھیں گہرے نمکین رنگوں سے مزین تھیں

جو ہر وقت ڈری جھجکی رہتی تھیں
رانا بلال اور بھی کچھ کہہ رہا تھا وہ پل بھر میں سنبھل گیا پھر اس سے سارا پروگرام ڈسکس کرنے کے بعد کال منقطع کردی.
انہیں ہفتے کی رات کو دیوسائی نیشنل پارک بھورے ریچھ کے شکار کے لیے نکلنا تھا اور یونی میں جمعرات سے چھٹیاں ہو رہی تھیں

———————

یار یہ ضلع مانسہرہ کی سب سے مشہور اور خوبصورت جھیل ہے، اس جھیل کا نام یہاں کی ایک افسانوی داستان، قصہ سیف الملوک کی وجہ سے مشہور ہے۔

وہ پرسوں رات دو بجے ناران پہنچے تھے اور آج صبح کے دس بجے وہ لوگ جھیل کے لیے نکلے رملہ بی بی کو جھیل نامہ سنانے کا شوق سوار ہوا تھا اور وہ بولی جارہی تھی

ویسے زلیخا یہ جو قصہ ہے نا یہ ایک فارسی شہزادے اور ایک پری کی محبت کی داستان ہے۔

تو کیا خبر تم دونوں کو کوئی فارسی نا سہی پاکستانی سہی شہزادہ مل جائے ہیں ہیں؟
زلیخا کی بدقسمتی یہ تھی کہ اسے رملہ کے ساتھ والی سیٹ ملی تھی اور اب برائے مروت وہ سن رہی تھی۔

وہ لوگ ناران سے کافی آگے آگئے تھے پھر جب ناران سے جھیل سیف الملوک تک چودہ کلومیٹر کا سفر طے کر کے اس پر انکی پہلی نظر پڑی تو ایک جادو سا ہو جاگیاتھا

انہیں ایسا لگاتھا کہ اللہ نے جنت زمین پر اتار دی ہے
. بلند و بالا برف کی چادر اوڑھے ملکہ پربت،رنگ بدلتا سبز پانی ، فضا میں جا بجا اڑتی ارغوانی تتلیاں ، پیالہ نما جھیل کا پانی جس پر بھرپور دن میں بھی آسمان سے اترتے ستارے ایک ایسا دلفریب منظر پیش کر، رہے تھے کہ نگاہ ڈالتے ہی آنکھ ساکت ہوجائے۔۔
انکی آنکھیں ساکت ہوگئی تھیں
پلکوں نے جنبش سے انکار کردیا تھا،

پھر اس حسین نظارے کے ساتھ ہی تھوڑا پاس ہی کہیں اترائی کی جانب کسی نے ماوتھ آرگن میں اپنی سریلے خوشبودار سانسیں پھونکی تھیں ۔

سب ہی اس طرف کھنچے چلے گئے لیکن وہ جو کوئی بھی تھا نظر نہیں آرہا تھا زلیخا کو عجیب سا احساس ہوا تھا کیونکہ اس نے ایسی ہی آواز ایک دو بار یونی میں بھی سنی تھی۔
وہ اکیلی ہی اس آواز کے تعاقب میں سب سے االگ ہو کر اترائی اترنے لگی۔

ماوتھ آرگن کہ یہ روحوں کے تار چھیڑتی سریلی آواز اسے ہر بار کی طرح بے خود کر رہی تھی ۔
وقت تھمنے سا لگا تھا پھر اسے یوں محسوس ہو کہ دنیا رک سی گئی ہوں،۔۔۔

کائنات کی گردش تھم گئی ہو، کیونکہ وہ سامنے ہی تو تھا فارسی شہزادہ سا کوئی جسکی انکی طرف پشت تھی

کالے رنگ کا گاؤن پہنے سر پر عربی سنہری ڈلیوں والا رومال انکی طرف باندھے چوڑی پشت کیے کھڑا تھا اور بلا شبہ وہی بڑے جذب سے ماوتھ آرگن بج————-—–
—————

اس نے آگے بڑھ کر گھر کا گیٹ پار کیا تھا لیکن یہ کیا یہاں تو صرف مرد حضرات تھے
گانوں کی آواز شائد گھر کے پیچھے صحن سے آرہی تھی اس سے پہلے کہ وہ پیچھلے صحن کی طرف بڑھتا شاہنواز کے والد نے اسے نکاح کے لیے بلا لیا۔

نا چاہتے ہوئے بھی اسے وہاں جانا پڑا پھر نکاح کے ہوتے وہ غائب دماغی سے بیٹھا رہا ۔
آپکو زلیخا علی کریم سکہ رائج الوقت اپنے نکاح میں قبول ہے۔
نکاح خواں نے شاہنواز سے پوچھا تھا علی سبحان نے چونک کر مگر غائب دماغی سے شاہنواز کی طرف دیکھا جس کے وجیہہ چہرے پر بڑی من موہنی مسکان تھی اور اسی مسکان کے بھرے ہونٹوں سے اس نے کہا تھا ۔۔
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: